یوپی ضمنی انتخابات:یوگی اورموریہ کونظراندازکرنا بی جے پی کومہنگاپڑا

yogi-moriya

جیت کے نشہ میں چور بی جے پی کے علمبردار جب تنظیم کے کارکنوں کی توہین کرنے لگیں اور سینئر لیڈروں کی پسند و ناپسند کی بھی بالکل اندیکھی کرنے لگیں ،تب وہی ہوتاہے جو اترپردیش کے ضمنی انتخاب میں ہوا۔ اقتدار اور جیت سے بدمست ہوچکے بی جے پی لیڈر جب اپنی بولی کی مریادہ کھونے لگے تب وہی ہوتا ہے جو اترپردیش کے ضمنی انتخاب میں ہوا۔ ہار سے پریشان بی جے پی لیڈر اب تجزیہ کرنے کی بات کہہ کر اپنی جھینپ مٹا رہے ہیں،لیکن اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے مزاج کے مطابق بغیر لائی لپیٹ کے کہہ ہی دیا کہ ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی ہار اُور کنفیڈنس کے سبب ہوئی ہے۔یہ اوور کنفیڈنس کس کا تھا؟بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کا یا ریاستی تنظیم کے کرتا دھرتا سنیل بنسل کا؟وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا یا نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کا؟اسے سمجھنے کے لئے آپ کو الگ سے سیاست کے کسی ماہر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کسی بھی عام شہری سے پوچھیں، آپ کو ان سوالوں کاجواب فوراً مل جائے گا۔

 

 

 

 

 

گورکھپور اور پھولپور کا جھٹکا

بی جے پی کو لگاتار ملی کئی ریاستوں کی جیت سے قومی صدر امیت شاہ اور اترپردیش اسمبلی انتخابات میں ملی جیت سے سنگٹھن منتری سنیل بنسل بدمست ہو گئے۔ ان لیڈروں کو یہ خیال ہونے لگا کہ مرکز یا ریاست کے اقتدار تو وہ ہی چلا رہے ہیں۔ اسی رویے کا نتیجہ تھا کہ گورکھپور اور پھولپور لوک سبھاکے لئے ہونے والے ضمنی انتخاب میں امیدوار کون ہوگا، اس بارے میں وزیر اعلیٰ یا نائب وزیراعلیٰ کی پسند کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا جبکہ گورکھپور پارلیمانی سیٹ یوگی آدتیہ ناتھ کی تھی اور پھولپور پارلیمانی سیٹ کیشو پرساد موریہ کی۔ دونوں کے ریاست میں آنے کے بعد دونوں پارلیمانی سیٹیں خالی ہوئی تھیں۔ ایسے میں جمہوری اخلاق کیا تھا؟دونوں پارلیمانی سیٹوں سے انہی لوگوںکو امیدوار بنایا جاتا جو سبکدوش ہونے والے اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ طے ہوتا۔ لیکن امیت شاہ اور سنیل بنسل نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اس بد مستی کا کیا نتیجہ نکلا،وہ سامنے ہے۔ بی جے پی اعلیٰ کمان کی اس بات کا کیا ایماندار تجزیہ کرے گی؟اور اس تجزیہ کا جرمانہ کیا ہوگا؟آپ یہ سمجھ کر چلئے کہ ان دونوں سوالوں کا کوئی جواب نہیں ملنا ہے۔اُور کنفیڈنس کا حوالہ دینے والے یوگی آدتیہ نے تجزیہ کی بات کہتے ہوئے اس میں اپنی اس بولی پر کوئی تجزیہ نہیں کیا جب انہوں نے سماج وادی پارٹی-بہو جن سماج پارٹی تال میل کو سانپ چھچھندر کا میل بتا دیا تھا۔ یوگی نے اپنے کابینی وزیر نند گوپال نندی کے اس بیان پر بھی کوئی تیور نہیں دکھایا جب نندی نے عوامی اسٹیج سے مایا وتی کو سُرپنکھا کہا تھا۔ اس طرح کے غیر جمہوری بیان جمہوریت میں کیا اثر دکھاتے ہیں، انتخابی نتیجے آنے کے بعد بی جے پی والوں کو یہ سمجھ میں آجانا چاہئے ۔
اب یہ صاف ہے کہ تمام اصول اور ضروری مسئلے طاق پر رکھ کر بی جے پی نے اسی طرح کا طریقہ اختیار کر لیا ہے جو دیگر پارٹیاں کرتی رہی ہیں۔ اقتدار کے مزید لالچ میں بی جے پی لیڈروں نے اپنی پارٹی کو آئی پی ایل کی ’’جھال موڑھی ‘‘ ٹیم بنا دیا۔ ادھر سے ادھر سے لا لاکر لوگ بھر دیئے۔ پھر کارکنوں نے اپنا وقت اور اپنی پوری عمر پارٹی کے لئے کیوں قربان کیا؟۔جو بی جے پی کارکن زندگی بھر بہو جن سماج پارٹی یا سماج وادی پارٹی کے خلاف سیاست کرتے رہے، سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی کے ہاتھوں پریشان ہوتے رہے،مرتے رہے، گرفتار ہوتے رہے،انہی کارکنوں کو آج بہو جن سماج پارٹی یا سماج وادی پارٹی کے لیڈروں کے آگے جھکنا پڑ رہا ہے۔ خود ستائی کے لئے لپکنے والے امیت شاہ اور سنیل بنسل کے لوگوں نے پارٹی کے کارکنوں کی اس طرح توہین کیوں کی؟بی جے پی کے سینئر لیڈروں کے ان طریقوں کا جائزہ کون لے گا اور غیر جانبدار تجزیہ کی گارنٹی کون کرے گا؟
راجیہ سبھاکے لئے جب امیدوار طے کئے جارہے تھے، اس عمل میں بی جے پی کے لئے وقف کارکنوں ، لیڈروں کو ترجیحات دینے کے بجائے سماج وادی پارٹی سے آئے ڈاکٹر اشوک باجپئی یا ان جیسے دیگر لوگوں کو امیدوار کیوں بنایا گیا؟پھر پرانے کارکنوں کو مکمل عزت کب ملے گی؟ جب پارٹی پھر اپنی کرتوتوں سے دھول میں مل جائے گی ،تب؟بی جے پی کے کارکن ہردوئی کی مثال دیتے ہوئے کھلے عام کہتے ملے، ’جس نریش اگروال نے سماج وادی پارٹی کی حکومت کو ہماری پریشانی کے لئے استعمال کیا،ہمیں پٹوایا،ہمیں گرفتار کرایا،ہمیں ساری سرکاری سہولتوںسے محروم کروایا،اسی نریش اگروال کو بی جے پی میں کیوں شامل کیا گیا؟کیا ایسی توہین کے بعد امیت شاہ اور سنیل بنسل جیسے لیڈروںکی عزت میں ہم لڈو کھلائیں گے؟کارکنوں کا یہ سوال اب سوال نہیں بلکہ مستقبل کا اعلان ہے۔ جن سے بی جے پی کو آمنے سامنے ہونا ہے۔
تجزیہ
’’چوتھی دنیا ‘‘نے اپنے پچھلے شمارہ میں بھی لکھا کہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ اپنے گھر میں بھی تکڑم کرنے سے باز نہیں آرہے ۔ امیت شاہ نے گجرات سے لے کر شمال مشرق تک الیکشن جیتنے کے لئے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کا بھرپور استعمال کیا، لیکن گورکھپور لوک سبھا کے لئے ہونے والے ضمنی انتخاب میں یوگی کی پسند کا امیدوار نہیں دیا۔ ایودھیا کے ایک سنیاسی نے بی جے پی سینئر لیڈر کی اس شبیہ پر اس بچھو کی کہانی سنائی تھی جو اس کی جان کی حفاظت کرنے والے سادھو کی ہتھیلی پر بیٹھا تھا اور انہیں ہی لہو لہان بھی کررہا تھا۔ گورکھپور سے یوگی آدتیہ ناتھ کی پسند کا امیدوار نہیں دینے کا فیصلہ کرنے والے لیڈر کی سادھو کے ہاتھ میں بیٹھے بچھو سے موازنہ بالکل درست ہے۔ گورکھپور پارلیمانی سیٹ کے لئے اوپندر شکلا کو ٹکٹ دیئے جانے کا فیصلہ یوگی کو ڈنک مارنے جیسا ہی تھا۔ امیت شاہ نے اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے سامنے ایسی شاطرانہ بساط بچھائی تھی کہ یوگی جیتے تب بھی گئے اور ہارے تب بھی گئے۔

 

 

 

 

گورکھپور لوک سبھا سیٹ یوگی آدتیہ ناتھ کی روایتی سیٹ رہی ہے۔ وہاں سے یوگی کی پکڑ کو کمزور کرنے میں بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ اور ریاستی سنگٹھن منتری سنیل بنسل دونوں نے کردار ادا کیا اور اوپندر شکلا کو امیدوار بنا کر تھوپ دیا۔ امیت شاہ نے اس امیدوار کے ذریعہ گورکھپور پارلیمانی سیٹ پر یوگی کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ سیاست کی ساری ریس جیت لینے کا دم بھرنے والے بی جے پی لیڈر نے ایسا کرکے اپنے ہی ٹائر میں سوئی چبھو لی، اس کا احساس انہیں انتخابی نتیجے آنے کے بعد ہو رہا ہوگا۔
اب ذرا گورکھپور اور پھولپور لوک سبھا سیٹوں کے لئے ہوئے ضمنی الیکشن کے نتائج پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ گورکھپور لوک سبھاسیٹ کے لئے ہوئے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے امیدوار اوپندر شکلا ،سماج وادی پارٹی امیدوار پروین نشاد سے 21961 ووٹوں سے انتخاب ہار گئے۔ اسی طرح پھولپور سے سماج وادی پارٹی کے امیدوار ناگیندر پٹیل نے بی جے پی کے کوشلیندر پٹیل کو 59213 ووٹوں سے ہرا دیا۔ گورکھپور میں سماج وادی پارٹی کو 456437 ووٹ اور بی جے پی امیدوار کو 434476 ووٹ ملے۔پھولپور میں سماج وادی پارٹی امیدوار ناگیندر سنگھ پٹیل کو 342796 ووٹ اور بی جے پی کو 283183 ووٹ ملے۔ گورکھپور سے جیتے سماج وادی پارٹی کے امیدوار پروین نشاد انجینئر ہیں۔ پروین راشٹریہ نشاد پارٹی کے بانی ڈاکٹر سنجے نشاد کے بیٹے ہیں۔ راشٹریہ نشاد پارٹی 2013 میں بنی ۔2015 میں یہ پارٹی تب سرخیوں میں آئی جب نشادوں کے ریزرویشن کی مانگ پر گورکھپور کے پاس ٹرینیں روکی گئی تھیں اور پولیس فائرنگ میں ایک آدمی کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اس آندولن نے بڑے تشدد کی شکل لے لی تھی۔ جس سنجے نشاد پر اس وقت سماج ودی پارٹی کی سرکار نے ڈھیروں مقدمے لاد دیئے تھے،اسی نشاد لیڈر کے بیٹے کو سماج وادی پارٹی نے اپنا مہرا بنا کر سیاست کے میدان پر لا کھڑ اکیا اور میدان مار لیا۔ سنجے نشاد نے بھی گورکھپور دیہی اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑا تھا لیکن ہار گئے تھے۔

 

 

 

 

 

 

 

بی جے پی کارکنان کا اعتراض

بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے جس طرح گورکھپور اور پھولپور ضمنی انتخاب کے لئے امیدوار کو چنا، اس پر اب بی جے پی کارکن عوامی طور سے انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس بار امیدوار کے انتخاب میں نہ تو اہلیت اور پس منظر دیکھا گیا اور نہ ذاتی سمیکرن۔ جیت کے گمان میں مودی اور شاہ کا ضمنی انتخاب کی تشہیر میں نہ آنا بھی عام ووٹروں پر ناگوار گزرا۔ سنگھ کی اس اندرونی رپورٹ سے شاہ اور مودی پوری طرح واقف تھے، جس میں یہ بتا یا گیا تھا کہ گورکھپور پارلیمانی سیٹ سے یوگی کی پسند کا آدمی اور گئو رکھشک پیٹھ سے جڑا آدمی ہی جیت سکتا ہے لیکن پارٹی کی مرکزی قیادت نے سنگھ کی زمینی رپورٹ پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ گورکھپور پارلیمانی سیٹ چھوڑ کر آس پاس کی دیگر سبھی لوک سبھا سیٹوں پر برہمن رکن پارلیمنٹ ہیں، لہٰذا گورکھپور سے برہمن امیدوار کا انتخاب شاہ کی غیر دور اندیشی اور تکڑم بازی کا نتیجہ ثابت ہوا۔ شاہ کی اس کمی نے سماج وادی پارٹی-بہو جن سماج پارٹی کو پچھڑے، دلت اور مسلمانوں کو متحد کرنے کا موقع دے دیا۔ شاہ کی چال سے ناراض بی جے پی حامی ووٹنگ کرنے نکلے ہی نہیں۔ شاہ نے یہی کام پھولپور میں بھی کیا۔ وہاں سے رکن پارلیمنٹ رہے کیشو موریہ اپنی بیوی راج کماری دیوی کو ٹکٹ دلانا چاہتے تھے لیکن شاہ اس کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ شاہ نے باہری امیدوار کوشلیندر سنگھ پٹیل کو ٹکٹ دے کر کیشو موریہ سمیت موریہ طبقے کے لوگوں کو ناراض کر دیا۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے تین لیڈروں نند گوپال نندی، سدھارتھ ناتھ سنگھ اور کیشو موریہ کی آپسی کڑواہٹ بھی انتخاب پر اثر ڈال رہی تھی۔اس کا بھی چرچا عام ہے۔

 

 

 

 

 

ایس پی – بی ایس پی جیت وجہ ؟

سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی کے تامل میل کی وجہ سے بی جے پی دونوں جگہ ہار گئی، یہ کہنا مناسب نہیں ہے۔ اس کے لئے وہ پچھلے انتخابات کے کچھ اعدادو شمار پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پچھلے انتخابات میں ان دونوں پارٹیوں کو جتنے بھی ووٹ ملے، انہیں اگر جوڑ لیا جائے تب بھی وہ تعداد اتنی نہیں ہوتی کہ بی جے پی امیدوار کو ہرا پائے۔2009 کے لوک سبھا الیکشن میں منوج تیواری سماج وادی پارٹی کے امیدوار تھے۔ تب انہیں 11 فیصد ووٹ ملے تھے۔ تب وہاں سے بہو جن سماج پارٹی کے امیدوار وِنے شنکر تیواری کو 24.4 فیصد ووٹ ملے تھے۔ دونوں امیدوار مل کر بھی یوگی آدتیہ ناتھ کو ہرا نہیں پاتے کیونکہ یوگی کو 54 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ اب 2014 کا لوک سبھا الیکشن دیکھتے ہیں۔ اس الیکشن میں حالانکہ یوگی کو کچھ کم ووٹ (فیصد میں ) ملے ،لیکن سماج وادی پارٹی امیدوار کو ملے 22 فیصد ووٹ اور بہو جن سماج پارٹی امیدوار کو ملے 17 فیصد ووٹ ملا کر بھی یہ تعداد یوگی کو ہرانے کے لئے ناکافی تھی۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *