تین طلاق بل مخالف تحریک 2کروڑ 80 لاکھ مسلم خواتین نے بل کے خلاف دستخط کئے

اس وقت ملک کی مختلف ریاستوں میں جو احتجاج ہورہے ہیں، اس سے یہی اندازہ ہورہا ہے کہ سرکار کے اس بل سے مسلم خواتین کافی رنجیدہ اور برہم ہیں اوروہ شریعت کے خلاف حکومت کے اقدامات کی نہ صرف مذمت کررہی ہیں بلکہ دوٹوک انداز میں آواز بھی بلند کررہی ہیں کہ سرکار تین طلاق بل واپس لے اور شرعی قوانین میں مداخلت نہ کرے۔
تین طلاق مسلم خواتین کا مسئلہ ہونے کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی خواتین ونگ کی صدر ڈاکٹر اسماء زہرہ نے جے پور کی ایک زبردست خاتون ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کا مسئلہ تین طلاق نہیں بلکہ تعلیم، روزگاراورتحفظ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے یہاں شادی بیا ہ جنم جنم کا بندھن نہیں ہے بلکہ سول کنٹریکٹ ہے ، کوئی بھی مسلم خاتون شوہر سے الگ ہوسکتی ہے اور دوسری شادی کرسکتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت تین طلاق بل کے ذریعہ مسلم خواتین پر ظلم کر رہی ہے۔آخر یہ کون طے کرے گا کہ مرد نے تین طلاق دی ہے یا ایک طلاق۔ جب تک عدالت تین طلاق کے بارے میں فیصلہ کرے گی، اس وقت تک عورت کی زندگی برباد ہوچکی ہوگی۔
تین طلاق بل کو خامیوں سے پر قرار دیتے ہوئے کہااسماء زہرہ نے کہا کہ کسی بھی ماہر قانون نے اسے ا چھا نہیں کہا ہے بلکہ اسے تضادات سے بھرپور قرار دیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بل کو تاریخی بل اور مسلم خواتین کو بااختیار بنانے والا بل قرار دیا جارہا ہے جب کہ صحیح صورت حال یہ ہے کہ جب مرد تین سال کے لئے جیل چلا جائے گا تو خواتین بااختیار کیسے ہوجائیں گی اور جیل جانے والا شوہر اور اس کے خاندان والے عورت کو قبول کریں گے؟۔
ڈاکٹراسماء زہرہ نے کہاکہ تین سو خواتین کے کہنے پر حکومت تین طلاق بل لے آئی جب کہ اس کے خلاف کروڑوں خواتین ہیں مگر ان کی بات نہیں سنی جارہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس وقت دو کروڑ 80لاکھ مسلم خواتین اس بل کے خلاف دستخط کرچکی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لوک سبھا میں اس بل پر بھرپور طریقے سے بحث نہیں ہوئی اورنہ ہی پیش کی گئی 17ترمیموں کو منظور کیا گیا۔لہٰذا راجیہ سبھا میں اس بل کو ہرگز پاس نہیں کیا جاناچاہئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری اور مسلم پرسنل سوشل میڈیا کے انچارج مولانا عمرین رحمانی نے تین طلاق بل کی خامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ بل شریعت سے ٹکرانے والااور آئین کے خلاف اور مسلم مردوں کو دشواری میں ڈالنے والا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس بل میں جو التزامات کئے گئے ہیں، اس سے طلاق کو کالعدم قرار دیا گیا ہے لیکن تین سال کی سزا اور جرمانہ کا نظم ہے۔ شق تین کے تحت جس میں تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے مگر اس میں سزا کا التزام ہے۔ حکومت نے اس بل کو پیش کرنے سے پہلے مسلمانوں سے کوئی مشورہ نہیں کیاہے جب کہ دنیا کے کسی ملک میں جب کسی طبقے کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے تو اس سے مشورہ کیا جاتا ہے۔ مگر حکومت نے اس سلسلے میں کوئی مشورہ نہیں کیا اور جب مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی نے اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر خامیوں کی نشاندہی بھی کی۔ لیکن انہیں اب تک کوئی جوا ب موصول نہیں ہوا.۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کی رکن اور سماجی کارکن فاطمہ مظفر مسلمانوں میں طلاق کی زیادہ شرح سے انکار کرتے ہوئے کہتی ہیںکہ کسی بھی مذہب کے مقابلے میں مسلمانوں کی طلاق کی شرح بہت کم ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہاں طلاق کا مسئلہ شاذ و نادر ہی پیش آتاہے اور مسلمان خوشگوار ازدواجی زندگی گزارتے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کا مسئلہ جہالت اور پسماندگی ہے اور انہیں تعلیم یافتہ اور بااختیار بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ تین طلاق بل کی۔انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ تین طلاق بل لاکر حکومت نے جمہوری تانے بانے کوبرباد کرنے کی کوشش کی ہے جب کہ جمہوریت، متنوع معاشرہ اور کثیر رنگارنگی ہندوستان کی شناخت ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کی رکن اور جے پور مسلم خواتین ریلی کی کنوینر یاسمین فاروقی کا کہنا ہے کہ ہمیں طلاق پر کسی قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ الگ ہونے کا ہتھیار ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔ انہوں نے تین طلاق بل کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہاکہ آئین میں تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ بل آئین کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگا یاکہ مسلمانوں کو کمزور کڑی سمجھتے ہوئے حکومت تین طلاق بل پیش کیا ہے جب کہ لاکھوں خواتین کہہ رہی ہیںکہ یہ بل مسلم خواتین کے خلاف ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت ملک کو ایک رنگ میں رنگناچاہ رہی ہے جس سے اس کا تنوع ختم ہوجائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *