مزاح کی بھی ایک حد ہوتی ہے

سیاسی پہلو ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ جب سے آئین بنا، تب سے ملک میں ایک سیاسی نظام چلا آرہا ہے۔ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگا کر 19 مہینے گڑبڑ کر دی تھی۔ اسے ہٹاکر پھر واپس ٹریک پر بھی لے آئیں۔ 1977 کے بعد سے سب ٹھیک چل رہا تھا۔ 1991 میںنرسمہا راؤ سرکار میںوزیر خزانہ منموہن سنگھ نے اقتصادیوں پالیسیوںمیںاچانک تبدیلی کردی، جس سے معاملہ تھوڑا ہلا۔ ایسا اس لیے، کیونکہ آپ نے غریبوںکی طرف دھیان دینا کم کردیا۔2004 کے بعد سرکار نے منریگا اور آدھار اسکیم شروع کی، تاکہ غریبوںکو روپیہ ملے ، بچولیے چوری نہ کریں۔ سرکار نے غریبوںکے تئیں ہمدردی دکھانی شروع کی لیکن 2014 کے بعد کیا ہورہا ہے؟ بی جے پی جن اسکیموں کی مخالفت کر رہی تھی آج ان ہی کو زور شور سے نافذ کررہی ہے۔ بی جے پی کے لوگوںکا ان اسکیموں میں کوئی یقین نہیں ہے۔ بی جے پی کا کوئی آدمی منر یگا کو سپورٹ نہیںکرتا ہے۔ اب بی جے پی کی سرکار ہے تو ان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ آپ سیاسی حالات دیکھ لیجئے۔
دہلی میںایک جمہوری سرکار ہے۔ دہلی مکمل ریاست نہیںہے۔ دہلی سرکار کے ماتحت زمین نہیں ہے۔ پولیس بھی دہلی سرکار کے ماتحت نہیںہے۔ اس کی محدود پاور ہے۔ اس کے باوجود دہلی کے وزیر اعلیٰ کو روز ذلیل کرنا کیونکہ وہ 70 میں سے 67 سیٹ جیت گئے اور آپ 3 سیٹ ہی جیت پائے۔ آپ کے وزیر اعظم رہنے کے دوران یہ الیکشن ہواتو کیا آج اسے ذلیل کرنا ضروری ہے؟ ایک چیف سکریٹری ہیں۔ لوگوںکو لگتا ہے کہ ہماری کالونی میںراشن نہیںآرہا ہے تو وہ پُرجوش ہو جاتے ہیں۔ آپ کا سسٹم ہی وہی ہے۔ اگر سب کام چیف سکریٹری ، کلکٹر اور کیبنٹ سکریڑی کرلیںگے تو پھر پارلیمنٹ اور اسمبلی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ان کی ضرورت یہ ہے کہ عام آدمی ان تک نہیں پہنچ پاتا ہے۔ عام آدمی کے جو نمائندے ہیں، ایم ایل اے ہیں، لوگ ان تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔ اب ایم ایل اے کا کام ہے عوام کے مسائل کو وزیر تک پہنچانا۔ وزیر کا کام ہے اس بات کو افسر تک پہنچانا۔ کیا آپ اس سسٹم کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟ آپ چاہتے ہیں کہ کلکٹر اور پولیس والے پاورفل ہوجائیں تب ایسے میںآئین نہیںبچے گا۔ سرکار کے چار سال ہوگئے۔ اس کے بعدآپ کیا کریںگے؟ آپ نے غلط روایت ڈال دی۔ ابھی الیکشن کمیشن آپ سے ڈر رہا ہے کیونکہ آپ نے اسے دبا دیا ہے۔ الیکشن آتے ہی وہ سوچے گا کہ ہم مالک ہیں۔ اگر ای وی ایم گڑبڑ ہوسکتی ہے تو آپ کے حق میںہی کیوںکرے گا؟ پھر یہ سب پاکستان جیسا ہو جائے گا۔ فوج جس دن سمجھتی ہے کہ سرکار ہمارے بھروسے راج کررہی ہے تو وہ خود ہی کیوں نہیںراج کرنے لگے گی؟ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ آپ ایسا مت کریے۔ آپ ابھی سرکار میںہیں۔ اگر آپ چاہیںگے تو پانچ سال کے لیے پھر الیکٹ ہوجائیںگے لیکن اس سے بات نہیں بنے گی۔ یہ سسٹم طویل مدت سے ہے، اسے بنائے رکھئے۔ ایک کہاوت ہے، قانون سے سرکار چلنی چاہیے، آدمی کی شکل دیکھ کر نہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ آپ کو پسند نہیںہے، ٹھیک ہے لیکن وہ وزیر اعلیٰ تو ہے۔ جب تک وزیر اعلیٰ ہے، تب تک اس کا احترام کرنا پڑے گا۔ آپ اسے اگلے الیکشن میںہرا دیجئے۔لیکن اگر عہدے کا وقار گھٹا دیں گے تو اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیںہوگا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

المیہ یہ ہے کہ بی جے پی کے لوگوں میںآج بھی یہ بحث ہے کہ 70 سالوں سے کانگریس ملک پر راج کررہی تھی۔ یہ تو اپنے آپ میںجھوٹ ہے۔ پہلے 1947 سے 1977 تک کانگریس نے راج کیا۔ پھر ڈھائی سال کانگریس کا راج نہیںتھا۔ مرارجی دیسائی وزیر اعظم تھے۔ اس دوران اٹل بہاری واجپئی وزیر خارجہ اور اڈوانی وزیر برائے اطلاعات تھے۔ پھر نو سال کانگریس آئی۔ 1989 میں وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے۔ پھر پانچ سال نرسمہا راؤ رہے ، پھر دیوگوڑا آگئے، پھر گجرال آگئے۔ یہ تو ایک سسٹم ہے۔ سسٹم کا جوڑ توڑ چلتا رہے گا۔ حساب جس کے حق میںبیٹھے گا، وہی وزیر اعظم بنے گا۔ 2019 کا الیکشن آنے والا ہے۔ آپ بھی کوشش کیجئے، باقی پارٹی بھی کوشش کریں گی۔ لیکن سسٹم سب سے افضل ہے۔ آپ سسٹم سے کھلواڑ کریںگے تو سب محنت بیکار ہو جائے گی۔ آپ جتنا کانگریس کے خلاف بولیںگے، وہ سب گھڑا آپ کے سر پر پھوٹے گا۔ آپ سسٹم کو بچائیے۔ آپ کو دوبارہ الیکشن جیتنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ آپ اپنے اچھے کاموں کی وجہ سے دوبارہ چنے جائیںگے، دادا گیری سے یا لاٹھی دکھاکر نہیں۔
بی جے پی نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی اچانک لاگو کردی۔ آپ ایسے سلوک کر رہے ہیں جیسے مغل بادشاہ ہوں۔ صبح اٹھے۔ آپ نے طے کیا کہ آج اس کا گلا اڑا دو۔ اس کے بعد بھی آپ ان پالیسیوں کو کریٹیسائز کر رہے ہیں۔ آپ اورنگ زیب کی ساری پالیسیوں پر عمل کر رہے ہیں۔ کچھ تو جمہوری بنئے۔ اورنگ زیب نہیںتو کم سے کم اکبر ہی بننے کی کوشش کیجئے۔ وہ بھی مغل بادشاہ تھا۔ کچھ لوگوں سے صلاح تو کریے۔ آپ کے پاس پارلیمنٹ ہے۔ پارلیمنٹ کی کمیٹیاں ہیں، جن میں ہر پارٹی کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اپوزیشن بھی ہے لیکن آپ کے لوگ تو نشے میںچور ہیں۔ پہلے ہی دن دہلی کی ایک رکن پارلیمنٹ ٹی وی پر کہتی ہیں کہ اپوزیشن کو ہم ریکوگنائز ہی نہیں کریںگے۔ اتنے ناخواندہ لوگوں کو ٹی وی پر مت بلائیے۔ واضح رہے کہ 1952 سے 1969 تک پہلے سترہ سال کسی کے پاس پچاس سیٹ نہیںتھیں۔ کسی کے پاس دس، بارہ، چھ، دوسیٹ، لیکن وہ ایک دم بڑھیا اپوزیشن تھا۔ مدھو لمیے کی پارٹی میںصرف چار لوگ تھے لیکن جب وہ ایوان میںکاغذ لے کر جس ڈھنگ سے آتے تھے، تب لوگ تھر تھر کانپنے لگتے تھے کہ آج کچھ ہونے والا ہے۔ پریس بھی پورا بیدار رہتا تھا۔ نمبر ضروری ہے لیکن صرف نمبر سے کیا ہوگا؟ آپ سرکار میںآگئے لیکن دماغ میںبھی تو کچھ ہونا چاہیے۔ آپ کی کابینہ اتنی کمزور ہے کہ ایک وزیر بولتا ہے ، ہم آئین بدلنے آئے ہیں۔ دوسرا کہتا ہے کہ ڈارون کی تھیوری غلط ہے۔ یہ ہم لوگ کہاں آگئے؟ بحث کو اتنے نچلے درجے پر لے کر کیوں جارہے ہیں؟ وزیر اعظم سے میری درخواست ہے کہ وہ اس پر دھیان دیں۔
کرناٹک میںآپ نے بھاشن دے دیا کہ سدھا رمیا نہیں، سیدھا روپیاہیں۔ یہ الیکشن کے دوران کی جملے بازی ہے۔ میںاس کے خلاف نہیںہوں لیکن آپ وزیر اعظم ہیں۔ آپ بھاشن دینے پارٹی کی طرف سے جاتے ہیں، تب بھی آپ وزیر اعظم ہیں۔ آپ کے منہ سے کیا الفاظ نکلتے ہیں، لوگ اس پر دھیان دیتے ہیں۔ ہر اخبار اسے رپورٹ کرتا ہے۔ آپ وزیر اعظم کے عہدے کے وقار کو کیوں گھٹاتے ہیں؟ آج آپ ہیں، کل کوئی اور آئے گا۔ آپ اگر دوبارہ آئیں گے تو اور زیادہ ضروری ہے کہ اس کے وقارکو آپ بڑھا کررکھیں۔ ابھی کناڈا کے وزیر اعظم یہاںآئے تھے۔ حکومت ہند نے ان کے ساتھ ٹھیک سلوک نہیںکیا۔ وہاںسکھ لوگ ہیں۔ خالصتان کا مسئلہ تو ہمارے ملک کا مسئلہ ہے۔ ہم لوگ اسے دوسرے پر نہیںتھوپ سکتے ہیں لیکن آپ نے ان کے ساتھ فارمیلٹی نہیںنبھائی۔ ان کو ایسا دکھا دیا گیا کہ آپ آرہے ہیں تو ٹھیک ہے۔ ان کا ہلکے پھلکے انداز میںخیر مقدم کیا گیا۔ یہ سب ٹھیک نہیںہے۔ میںآپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

نہرو کی تنقید کرنا بہت آسان ہے۔ ہر لڑکا اپنے پردادا کو کریٹیسائز کرتا ہے۔ پنڈت نہرو کے دور میںونود راج صاحب جیسے کوئی سی اے جی تھے۔ ان کا ایک آدمی پی ایم ہاؤس تری مورتی بھون کا آڈٹ کرنے چلا گیا۔ آڈٹ کے دوران اس نے وہاںکے مالی سے پوچھا کہ یہاں پیڑوں پر اتنے پھل لگے ہیں، ان کا کیا کرتے ہو؟ مالی بولا، صاحب کھاتے ہیں۔ اس نے پوچھا، کیا وزیر اعظم کھاتے ہیں؟ اس کا پیسہ کون دیتا ہے؟ مالی کی سمجھ میںنہیںآیا کہ کیا پوچھ رہے ہیں؟ اس نے فائل پر لکھ دیا کہ یہ سرکاری پیسے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کی بھی اکاؤنٹنگ ہونی چاہیے۔ اس کے سینئر افسر نے بھی کہا کہ تم کیا بچکانی بات کر رہے ہو۔ اتنے پر بات ختم نہیںہوئی۔ بالآخر وہ فائل خود وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے پاس گئی۔ جواہر لعل نہرو نے فائل سائن کرکے پانچ ہزار روپے کا اپنا پرسنل چیک فائل کے ساتھ بھیج دیا۔ مودی جی آپ دھیان دیجئے۔ کیا آج کسی وزیر میںاتنی ہمت ہے؟حالانکہ وہ کافی بچکانی بات تھی کہ وزیر اعظم کے گھر میںپیڑ پر لگے پھل کی اکاؤنٹنگ کی جائے لیکن ان کو یہ بات بہت پسند آئی۔ نہرو کی تنقید کرنا آسان ہے لیکن جو طریقے، جو روایتیں انھوں نے ڈالیں، کم سے کم انھیں نبھانے کی کوشش تو کیجئے۔ آج تو کوئی وزیر یہ سوچے گا کہ اس نے میرے سے یہ سوال کیسے پوچھ لیا؟ نہرو نے یہ نہیںکہا کہ سی اے جی کے افسر پر ایکشن لیا جائے، اپنا کریکشن کردیا۔ روایتیں بنانے میںسالوںلگتے ہیں، تباہ تو ایک منٹ میںہوجاتی ہیں۔ اب ایک وزیر اعظم اپنے منہ سے بولے کہ یہ سدھا رمیا نہیںسیدھا روپیا ہیں۔ یہ کیا بچکانی بات ہے؟ یہ تو پانچویںکلاس کے بچوںکے لیول کا مذاق ہے۔ مزاح کی بھی ایک سطح ہوتی ہے۔
لب لباب یہ ہے کہ آج ملک کی اقتصادی حالت سنگین ہے۔ سماجی حالت چرمرا رہی ہے اور آپ سیاسی سطح کو بھی گرا رہے ہیں۔ اس کو کم سے کم اور تو مت گرنے دیجئے۔ ابھی آپ کے پاس ایک سال ہے۔ آپ دوبارہ الیکٹ ہوںگے یا کوئی اور ہوگا لیکن کم سے کم سطح تو ٹھیک رہے۔ کم سے کم لوگوں کو بھروسہ تو رہے کہ ملک کا مستقبل محفوظ رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *