موت کے بعد مقبول بٹ اور افضل گرو زیادہ خطرناک ہوگئے

افضل گرو کی پھانسی کی پانچویں سال گرہ سے ایک دن بعد جموں کے سنجوان میں واقع انتہائی سیکورٹی والے فوجی کیمپ پر حملہ ہوا۔ فوج کے مطابق یہ حملہ جیش محمد نے کیا تھا۔ جیش وہ ملی ٹینٹ تنظیم ہے جسے 2000 میںتشکیل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی یہ تنظیم اپنے فدائین حملوںکے لیے جانی جاتی ہے۔ سنجوان حملے ملی ٹینٹ دستے کا نام افضل گرو کے نام پر رکھا گیا تھا۔ افضل گرو کی پھانسی کے بعد سے ایسے کئی حملوں کے لیے افضل گرو دستے کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
سنجوان کیمپ پر حملے کی تاریخ کا انتخاب بھی علامتی ہے۔ بہرحال جس طرح افضل کا استعمال نوجوان کشمیریوں کو ملی ٹینسی کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک تحریک کے طور پر کیا جارہا ہے، اس پر بحث کی گنجائش ہے۔ دراصل ماضی میںاس طرح کے زیادہ تر حملے غیر ملکیوںکے ذریعہ انجام دیے جاتے تھے لیکن پچھلے کچھ سالوں میںمقامی کشمیری بھی ان میں حصہ لینے لگے ہیں۔ گزشتہ سال 31 دسمبر کو دو کشمیریوں، فردین کھانڈے اور منظور بابانے جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میںسی آر پی ایف ٹریننگ سینٹر پر حملہ کیاتھا اور جیش نے اس حملے کی ذمہ داری لی تھی۔
سنجوان کیمپ میںحملہ آوروں نے بھاری نقصان پہنچایا۔ مہلوکین اور مجروحین میںشہری بھی شامل تھے کیونکہ یہاں فیملی کوارٹرز بھی بنے ہوئے ہیں۔ حملے کے لیے 10 فروری کا انتخاب محض اتفاق نہیں تھا کیونکہ 10 فروری سے ایک دن قبل اور ایک دن بعد کشمیر میںبند کا اہتمام کیا جاتا ہے۔جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے بانی مقبول بٹ کو 11 فروری 1984 کو پھانسی دی گئی تھی۔ بٹ کی پھانسی کارول جے کے ایل ایف کے ذریعہ ہندوستانی ڈپلومیٹ رویندر مہاترے کے قتل نے تیار کیا تھا۔ وہیںافضل گرو کو دسمبر 2001 میںپارلیمنٹ پر حملے کے لیے 9 فروری کو پھانسی دی گئی تھی۔ ان دونوں کو تہاڑ جیل میںدفنایا گیا تھا۔
حالانکہ بٹ کی پھانسی کے بعد کشمیر میں معمولی مظاہرہ ہوا تھالیکن 1980 کی دہائی کے آخر میںشروع ہونے والی مسلح بغاوت کے لیے اسے ایک بڑا محرک مانا جاتا ہے۔ دراصل جے کے ایل ایف نے جموں و کشمیر کوہندوستانی حکومت سے آزاد کرانے کے لیے مسلح لڑائی کی تھی۔ شروعات میںاس تنظیم کو پاکستان کی حمایت حاصل تھی لیکن حزب المجاہدین اور دوسری پاکستان نواز تنظیموں کے وجود میں آجانے کے بعد پاکستان نے جے کے ایل ایف سے کنارہکشی اختیار کرلی تھی۔ اس کے باوجود بٹ کی پہچان ’آزاد کشمیر‘ کے غیر متنازع لیڈر اور سورس آف انسپائریشن کے طور پر ہمیشہ بنی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 30 سال کے بعد بھی بٹ کی پھانسی کی سال گرہ کے موقع پر وادی میںبند کرنے کی اپیل کی گئی اور آج بھی سری نگر کے شہیدوں کے قبرستان میںاس کے لیے ایک قبر محفوظ رکھی گئی ہے۔
اسی طرح افضل گرو کی پھانسی کے بعد بھی کشمیر میںہندوستانی ریاست کے خلاف غصے میں اضافہ ہوا تھا۔ پھانسی پائے قیدیوںمیںگرو کا نمبر 28 واں تھاپھر بھی کانگریس قیادت والی یو پی اے سرکار نے اسے سب سے پہلے پھانسی پر چڑھا دیا۔ کشمیر میں اس کی پھانسی کو کشمیریوں کو جان بوجھ کر نیچا دکھانے کے لیے اٹھائے گئے قدم کے طور پر دیکھا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

سیکورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ گرو کی پھانسی نے مقامی ملی ٹینسی کو مضبوطی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان کشمیریوں کے غصے کو بھڑکا یااور انھیںملی ٹینسی میں شامل ہونے کے لیے بھی آمادہ کیا۔ اس رجحان میں2016 میںاس وقت تیزی آئی جب حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی سیکورٹی فورسیز کے ساتھ مڈبھیڑ میںمارا گیا۔ بہرحال، 6 فروری کو وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر ودھان سبھا کو بتایا کہ 2016 کے 88 کے مقابلے میں2017 میں 126 کشمیری ملی ٹینسی میںشامل ہوئے یعنی ان کی تعداد میں 44 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ودھان سبھا میںدیے گئے اعداد وشمار کے مطابق 2010 میں54کشمیری نوجوان ملی ٹینسی میںشامل ہوئے جبکہ2011 میں23، 2012میں21، 2013 میں 16، 2014 میں 53 اور 2015 میں66 کشمیری ملی ٹینسی میں شامل ہوئے۔
جیش محمد نے افضل گرو کی پھانسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ایک دستے کا نام افضل گرو کے نام پر رکھ دیا ہے۔ اس دستے نے اپنا پہلا حملہ 5 دسمبر 2014 کو کیا تھا۔ یہ تاریخ بابری مسجد کے انہدام کے ساتھ بھی ملتی تھی۔ اس حملے میں چھ ملی ٹینٹوں نے اری کے موہارا کیمپ پرحملہ کرکے 10 فوجیوں کو مار دیا تھا۔ اس کے بعد کئی اور حملے بھی ہوئے۔ افضل کے نام کا استعمال کرکے جیش چیف مسعود اظہر کو اسلام اور کشمیر کے نام پر جان دینے کو تیار نوجوانوں کو ملی ٹینسی کی طرف راغب کرنے میںمدد ملی۔ ایسا لگتا ہے کہ جیش کی یہ ترکیب کارگر ثابت ہورہی ہے کیونکہ اس دستے نے تنگدھار (کپواڑہ میں کنٹرول لائن کے پاس) پٹھان کوٹ اور اب جموں کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ اس سے پہلے 2017 میںشمالی کشمیر کی فوج، نیم فوجی دستے اور پولیس ادارے ان کے نشانے پر تھے۔ اظہر نے قندھار کے اغوا کیس کے نتیجے میںہوئی اپنی رہائی کے فوراً بعد حرکت الانصار سے الگ ہوکر جیش محمد قائم کیا تھا۔
گزشتہ کچھ سالوںمیں اظہر کو اپنی تنظیم کی شکل بدلنے اور مقامی کشمیریوںکو بھرتی کرنے میںکامیابی ملی ہے ۔ 1994 میں اس کی گرفتاری کے بعد سری نگر کے آرمی ہیڈ کوارٹر میںاس کے ساتھ ہوئی ہماری مختصر بات چیت میںاظہر نے اپنی پہچان ایک پرچارک کے طور پر کرائی تھی۔
حالانکہ گرو اور بٹ جب تک زندہ رہے انھیں عام حمایت نہیںملی لیکن ان کی موت کے بعد انھیں علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ حریت لیڈر عبد الغنی لون، جن کا بعد میںقتل کردیا گیا تھا، اس وقت مین اسٹریم میںشامل تھے۔ وہ شاید واحد سیاستداں تھے جنھوںنے بٹ کی پھانسی کی مخالفت کی تھی۔ سینئر علیحدگی پسند لیڈر اعظم انقلابی کہتے ہیںکہ جماعت اسلامی نے (جموں و کشمیر) بارہمولہ میںبٹ کی پھانسی کی مخالفت کرنے والے اپنے سینئر ارکان کو نکال دیا تھا۔ دراصل بٹ ایک سیکولر اور آزاد جموںو کشمیر کا ایک مضبوط حمایتی تھا۔ یہ چیز کشمیر پر پاکستان کی صورت حال اور اسلام پسند ملی ٹینٹ تنظیموں کے رخ سے الگ تھی۔ لیکن آج ان کی شناخت کشمیر کے لیے اپنی جان قربان کردینے والے شخص کے روپ میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) بھی بٹ کو مسلح لڑائی کے نقیب کے طور پر دیکھتا ہے۔ اپنے حالیہ بیان میںایل ای ٹی کے ترجمان نے بٹ کو کشمیر کی سودیشی جنگ آزادی کا نقیب کا نام دیا تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

آج ان دونوں کو کشمیر میں لوگوںنے اپنا لیا ہے۔ حالانکہ نئی دہلی نے ان دونوں کو پھانسی پر چڑھانے میںجلد بازی سے کام لیا تھا لیکن موت کے بعد وہ زیادہ خطرناک ہوگئے۔ کشمیر مسئلے کے حل کے لیے سیاسی پہل کو روک کر حکومت ہند نے خود ہی ایسی صورت حال پیدا کردی ہے جہاںبٹ اور گرو جیسے نام مسلح لڑائی کے لیے تحریک بن رہے ہیں۔
کشمیر کے حل کے لیے سیاسی نقطہ نظر نہ اپنانے کی وجہ سے مسئلہ بڑھا ہے۔ مقامی ملی ٹینسی کو پنپنے کا موقع ملا ہے۔ اس معاملے میںپچھلے پانچ سالوںمیںغیر ملکی اور مقامی کا تناسب الٹ گیا ہے۔ بھلے ہی ہندوستان نے گرو کی پھانسی پر خوشی منائی لیکن کشمیر میں اسے ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے کشمیری مسلم ہونے کی قیمت ادا کی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *