ممبئی کے مسلمانوں نے لانگ مارچ میں کسانوں کا دل جیت لیا

muslims-of-mumbai

گذشتہ ہفتہ7دنوں میں 200کیلو میٹر کا ریاست مہاراشٹرمیں ناسک سے لانگ مارچ کرتے ہوئے انقلابی کسان جب ممبئی پہنچے تواس کا جس طرح مختلف طبقات نے خیرمقدم کیا، وہ تاریخ میں ایک مثال پیداکر گیا۔ مذہب وملت اورفارورڈ وبیک ورڈ سے اوپر اٹھ کر عام عوام نے انہیں لبیک کہا۔یہ سب کچھ تحریک آزادی کی یاد تازہ کرگیا۔ سب سے خاص بات یہ رہی کہ مسلمان جن سے یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ صرف اپنے مسائل سے ہی دلچسپی رکھتے ہیں، انہیں قومی وعوامی ایشوزسے کوئی مطلب نہیں ہے، وہ بھی سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی لانگ مارچ کرنے والوں کی خوب آؤ بھگت کی۔

 

 

کہاجاتاہے کہ جس طرح 28 دسمبر 1885کوانڈین نیشنل کانگریس کی قومی تحریک شروع ہوتے وقت سرسید جیسے بھاری بھرکم شخص کی بائیکاٹ کی کال کی وجہ سے یہ مانا جارہا تھا کہ مسلمان اس کا ساتھ نہیں دیں گے مگربدرالدین طیب جی جیسی انقلابی شخصیت کی کوششوں سے مسلمانوں نے اس کا کھل کرساتھ دیا اوران کی قابل ذکر تعداد اس میں صرف شریک ہی نہیں ہوئی بلکہ کانگریس کے اولین اجلاس کے مندوبین کا قافلہ ممبئی میں جہاں سے بھی گذرا وہاں مسلمانوں کے ذریعہ بھی پھول برسائے گئے اوران کی تواضع کی گئی۔ ٹھیک اسی طرح 12مارچ 2018کو جب انقلابی کسانوں کا لانگ مارچ ممبئی پہنچا تووہاں دیگر لوگوں کی طرح مسلمانوں نے بھی ان کا والہانہ استقبال کیا، پھول برسائے، پھلوں کی ٹوکریاں سڑ کوں کے کنارے لگادیں اور ٹھنڈے پانی وشربت اورکھانے کے پیکٹ سے ان کی میزبانی کی۔جس نے بھی یہ منظردیکھا یاسنا، اسے 133برس قبل تحریک آزادی کے وقت کے تاریخی لمحات یاد آگئے۔ ’چوتھی دنیا‘ کو ممبئی سے اس تاریخی احتجاج کے ایک چشم دید گواہ نے بتایاکہ ’’جب کسان لانگ مارچ کرتے ہوئے ساؤ تھ ممبئی میں بائیکولا اوربھینڈی بازار پہنچے تو متعدد مسلم این جی اوز اورتنظیموں کے افراد لانگ مارچ کرتے کسانوں کیلئے فوڈ پیکٹ اورمیڈیکل سہولیات ودواؤں کولیکر آدھی رات کوموجود تھے۔ پھلوں ، فوڈ پیکٹ ، ناشتے کے سامان، بسکٹ اورپینے کے پانی وشربت کے ساتھ یہ لوک جے جے فلائی اوور برج کے نزدیک گھنٹوں کسانوں کا انتظار کر تے رہے تاکہ ان کی مددکرسکیں اورپھر وہ کسان وکھرولی سے ممبئی سی ایس ٹی کے نزدیک آزاد میدان جاسکیں۔ مسلم والنٹیروں کے درمیان ڈاکٹروں کی بھی ایک ٹیم تھی اورایمبولینس گاڑیاں کسانوں کوفوری طور مدد پہنچانے کیلئے تیارتھیں کیونکہ گذشتہ تقریباً ایک ہفتہ سے کسان سخت دھوپ میں پیدل چلنے کے سبب بہت تھک گئے تھے۔

 

 

 

 

مسلم تنظیموں ، اداروں ودیگر این جی اوز کا کہنا تھاکہ کسان ہمارے محسن ہیں ۔ لہٰذا جب یہ ہمارے لئے جائز مانگوں کولیکر ناسک سے ممبئی تک کا پیدل سفرکرکے لانگ مارچ کررہے ہیں توہم صرف تماشہ بین بنے نہیں رہ سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہاکہ کسانوں کا استقبال کرنے والوں میں کوئی ایک مسلم گروپ نہیں بلکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، جمعیۃ علماء ہند کے دونوں دھڑے ، جماعت اسلامی ہند، علماء کونسل ابراہیم تائی کی مسلم کونسل ٹرسٹ اورفرید شیخ کی ممبئی امن کمیٹی ودیگرتنظیمیں بھی شامل تھے۔ علاوہ ازیں ناسک سے چلے کسانوں کے لانگ مارچ میں بھی مسلمان کسانوں کودیکھا گیا۔
آل انڈیا کسان سبھا کی قیادت میں 6مارچ 2018کو ناسک سے چلے اس پیدل مارچ میں خواتین اوربچے بھی شامل تھے۔ بلا تفریق مذہب وملت اورذات وپات نیز طبقات ، یہ لانگ مارچ ہراعتبار سے مثالی تھا۔ ریاستی حکومت بھی اس کی قوت دیکھ کر خوفزدہ ہوگئی اوربات چیت کرکے 6ماہ کی مہلت مانگی۔توقع ہے کہ اس درمیان کسانوں کا جذبہ اورمضبوط ہوگا اوروہ اپنے آپ کومزید منظم کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گے اور 6ماہ کی مہلت کو اپنے لئے مزید تیاری کا غنیمت موقع سمجھیں گے۔اسی میں ان کی بھلائی ہے اور ان کے کازاور مشن کا مفاد پوشیدہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو1753کسان جوکہ مجبور ہوکر خود کشی کرچکے ہیں، ان کی کوششیں ضروررنگ لائیں گی۔

 

 

 

اس حقیقت سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ جب اس ملک میں ہندو، مسلم ، سکھ ، ودیگر مذاہب کے حاملین آپس میں مل کر کسی تحریک یا مشن کو لیکر اٹھے ہیں، یہ ملک کے مفاد میں صحیح ثابت ہوا ہے۔ ماضی میں تحریک آزادی کی پوری جدوجہد اس کی گواہ ہے۔ 1975تا 1977 ایمرجنسی کے زمانے میں بھی بلا تفریق مذہب وملت اورفارورڈ وبیک ورڈ جمہوریت کی ازسرنو بحالی کیلئے جوجنگگ لڑی گئی، وہ بھی اسی ضمن کی مثال ہے۔ کسانوں کی یہ تحریک ہر حال میں کامیاب ہوکر رہے گی کیونکہ اسے ملک میں سبھی طبقات کی حمایت حاصل ہے خواہ میڈیا اسے کوئی اہمیت دے یانہ دے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *