یو پی بجٹ میں اقلیتی امپاورمنٹ اصل ایشو نہیں

اترپردیش کا حالیہ بجٹ یوں اقلیتوں کے نام پر بڑی رقم دینے کے باوجود ان کے لئے کوئی بڑی راحت لے کر نہیں آیا ہے۔بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ بجٹ تھوڑا مایوس کن ہے۔اس میں خاص بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ یوگی ناتھ نے مدرسہ کی جدید کاری کے نام پر کئی مدوں میں کروڑوں روپے جاری کئے ہیں۔ اقلیتی فلاح و بہبود کے لئے دو ہزار 757 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔اسی طرح عربی فارسی مدارس کی جدید کاری کے لئے 404 کروڑ روپے، عربیہ مدارس کے لئے 486 کروڑ روپے اور منظور شدہ عالیہ سطح کے 246 عربی و فارسی مدارس کے لئے 215 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال وزیر اعلی یوگی نے مدرسہ جدید کاری کیلئے 394 کروڑ روپے دئے تھے جبکہ اس سال اس میں اضافہ کرتے ہوئے 404 کروڑ رپے کا بجٹ دیا ہے۔
اقلیتی بہبود کے بجٹ میں کمی
مدارس کی جدید کاری کے بجٹ میں تو اضافہ کردیا گیاہے مگر عام اقلیتی بہبود کے بجٹ میںسابقہ حکومت کے بالمقابل کمی کردی گئی ہے۔گزشتہ سال اقلیتی فلاح و بہبود کیلئے وزیر اعلی یوگی نے 2475.61 کروڑ روپے کا بجٹ جاری کیا تھا ۔ جبکہ اکھلیش حکومت کے سال 2016-17 کے بجٹ پر نظر ڈالی جائے تو 3055.98 کروڑ روپے اقلیتی فلاح و بہبود محکمہ کی اسکیموں کیلئے دئے گئے تھے۔ 2015-16 میں بھی اس محکمہ کو 2776 کروڑ روپے کا بجٹ دیا گیا تھا۔
مسلمانوں کو ترقی دینے کا خود کو پابند بتانے والی اتر پردیش کی حکومت عام مسلمانوں کو روزگار، تعلیم اور ہنر سے جوڑنے پر خصوصی توجہ دینے کے بجائے اپنی تمام توانائی مدارس کی جدید کاری پر ہی لگا رہی ہے ۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مدارس کی جدید کاری وقت کا تقاضہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ’’ چوتھی دنیا ‘‘اپنے کئی شماروں میں مدارس کے بچوں کو مین اسٹریم سے جوڑنے کے لئے جدید کاری کی باتیں کرتا رہا ہے ۔مگر اس کے ساتھ ہی بقیہ 96 فیصد مسلم بچوں کو تعلیم، روزگار اور ہنر میں آگے بڑھانے پر دھیان دینے کی بھی ضرورت ہے ،جس پر حکومت کی پیش رفت مایوس کن ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اقلیتی بہبود کی مد میں سابقہ حکومت کی بہ نسبت یوگی حکومت نے خاطر خواہ کمی کردی ہے ۔ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت کی نظر عام مسلمانوں کے بجائے صرف اورصرف مدارس پر ٹکی ہوئی ہے ۔
یہاں پر ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق مدارس میں صرف چار فیصد بچے زیر تعلیم ہیں۔آخر حکومت کو ان چار فیصد بچوں کو مین اسٹریم سے جوڑنے کی اتنی فکر کیوں ہے ؟جبکہ 96 فیصد بچے ابھی بھی پسماندگی کے شکار ہیں اور سچر کمیٹی رپورٹ میں مسلمانوں کی جس پسماندگی کی باتیں کہی گئی ہیں،مسلمان اب بھی اس سے ابھر نہیں سکے ہیں۔ سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مسلمانوں کی معاشی حالت دلتوں سے بھی بد تر ہے۔
جہاں تک دیگر سماجی طبقوں کی بات ہے تو وہاں بھی کچھ خاص پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے ۔دراصل یوگی حکومت مدارس پر ہمدردی دکھا کر جہاں ایک طرف مسلمانوں کی ہمدردی پانا چاہتی ہے ،وہیں اس دور رس نتیجے کو پانا چاہتی ہے کہ مدارس میںاتنی جدید کاری کی جائے کہ وہ اپنی ہیئت اصلیہ پر باقی ہی نہ رہے اور پھر یوگی سرکار اپنے ووٹروں میں یہ میسیج دے کہ یہ مدارس جن پر دہشت گردوں کو پیدا کرنے کا الزام لگتا رہا ہے ،انہیں ان کی اصلی حالت سے ہٹا دیا گیا ہے اور اب وہاں ایسی تعلیم نہیں ہورہی ہے جس سے دہشت گردی کو جنم لینے کا شبہ پیدا ہو۔یہی وجہ ہے کہ اس بجٹ کے پیچھے کے چھپے مقصد کو دیکھتے ہوئے بہت سے لوگوں نے بجٹ کی نوعیت پر سخت اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ بجٹ میں جن مستحقین کی حصہ داری ہونی چاہئے انہیں نظر انداز کیا گیا ہے اور جس پر معمولی نظر کی ضرورت تھی، اس پر بھرپور دھیان دیا گیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

مختلف آراء
سماج وادی پارٹی کے مالیاتی امور کے مشیر عبدالحفیظ گاندھی کا کہنا ہے کہ یوگی حکومت سابقہ بجٹ سے ابھی ایک تہائی حصہ خرچ ہی نہیں کرپائی اور دوسرا بجٹ پیش کردیا گیا۔اس بجٹ میں نہ صرف مسلم طبقہ کو محروم رکھا گیا ہے بلکہ ان کی بہبود کے لئے کچھ بھی اعلان نہیں ہوا ہے ۔ سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر قاری راؤ ساجد کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کا یہ بجٹ غریبوں، کسانوں اور مزدور طبقے کے ساتھ ایک دھوکہ ہے۔ یو پی حکومت نے بجٹ کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگلے سال لوک سبھا انتخابات کے مدنظر بجٹ بناکر متوسط طبقہ میں بھرم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کسانوں مزدوروں ، بیروزگار نوجوانوں اور خواتین کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔یوگی حکومت نوجوانوں کی بیروزگاری کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہی۔ کمبھ میلے پر حکومت 15سو کروڑ روپے خرچ کررہی ہے اور بیروزگاری دور کرنے کے لئے نوجوانوں کی مد میں وہ صرف100 کروڑ روپے دے رہی ہے۔ اگر اس100 کروڑ کو بیروزگار نوجوانوں کی تعداد سے تقسیم کردیا جائے تو ہر بے روزگار نوجوان کے حق میں صرف 32 روپے آئیں گے جو کہ ایک مذاق ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ جس طرح سے اس بجٹ میں مسلم نوجوانوںکے لئے کچھ بھی نہیں ہے، اسی طرح سے آلو اور گنا کسانوں کے لیے کچھ بھی نہیں۔اس سے قبل بھی یوگی حکومت نے کاشت کاروں کو راحت دینے اور ان کی فصل کی قیمت دگنا کرنے کا اعلان کیا تھا، اسی لئے کسان قرض کے بوجھ سے دب کر خود کشی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش حکومت نے اسمبلی میں رواں مالی برس19۔2018 کیلئے 428384.52 کروڑ روپے کا بجٹ متعارف کرایاہے۔ بجٹ کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ یہ 2019 کے عام انتخابات کو نظر میں رکھ کر تیا ر کیا گیا ہے۔
اس بجٹ کو وزیرخزانہ راجیش اگروال نے وزیراعلیٰ یو گی آدتیہ ناتھ کی موجودگی میںپیش کیا۔ گزشتہ مالی برس کے مقابلے اس برس بجٹ 60 ہزار کروڑ ر زائد روپیوں کا انتظام کیا گیا ہے۔بجٹ کے لئے کل رقم 420899.46 کروڑروپے بتائی گئی ہے۔پچھلے بجٹ کے مقابلے میں یہ 60 ہزار کروڑ روپے زیادہ ہے۔ جبکہ 06 7485 کروڑروپے کا نقضان بتایا گیا ہے، تاہم پبلک اکاؤنٹ سے نقصان کی تکمیل ہو جانے کی امید کی گئی ہے۔بجٹ میں نوجوان فلاح وبہبود اور بنیادی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری پر زور دیا گیا ہے۔ بجٹ میں نئی اسکیموں کے لئے89.14341 کروڑروپیوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ نئے منصوبوں کو نئے مالی برس میں شروع کر نا ہو گا۔ منصوبوں میں پانچ نئے میٹرو شہروں میں نئی میٹرو خدمات،نوجوانوں کے لئے وزیراعظم روزگار اسکیم اور ایک ضلع ،ایک پروڈکٹ اسکیم کا شروع کیا جانا شامل ہے۔لیکن اس میں نہ تو کسانوںکے لئے کسی پرکشش اعلان کا حصہ کہیں نظر آرہا ہے اور نہ ہی مسلم طبقہ کے لئے۔ جبکہ مدارس کی جدید کاری کو بطور خاص ذکر میں لایا گیاہے ۔
اب سے پہلے وزیر اقلیتی فلاحی بہبود محسن رضا بار رہا یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ اقلیتی نوجوانوں کو سیلف ایمپلائڈ کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی دی جائے گی۔ انہیں جہاں’ کوشل وکاس مشن ‘ کے تحت کسی ہنر سے منسلک کیا جائے گا وہیں انہیں ’مدرا یوجنا‘ کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔ بجٹ سے پہلے انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ریاستی حکومت اقلیتی بچیوں کی تعلیم کو بھی مؤثر بنانے جا رہی ہے۔ انہیں سماجی پابندی سے نکالا جائے گا۔ اس کے تحت ان این جی او کی مدد بھی لی جائے گی جو خواتین چلاتی ہیں اور لڑکیوں کی تعلیم میں کام کر رہی ہیں۔ اس کے تحت اشتہارات نکال کر پڑھنے کی خواہشمند بچیوں کو ان کے تحفظ کا بھروسہ دلا کر پہلے آگے لائیں گے، ان کی تعلیم کا بندوبست بہتر بنا کر ہی دیگر لڑکیوں کو اس اسکیم سے جوڑیں گے۔ ایسی لڑکیوں کی تعلیم کا بندوبست سرکاری گرلز اسکولوں یا دیگر سرکاری اسکولوں میں علیحدہ سے کیا جائے گا۔ مگر ان منصوبوں کے لئے بجٹ میں کوئی اعلان نہیں ہے۔ جہاں تک فلاحی بہبود کے لئے مختص رقم کی بات ہے تو یہ پہلے سے ہی کم تھا اور اس رقم سے گزشتہ ایک سال میں کوئی کام نہیں ہوسکا تو پر اب جبکہ مجموعی رقم میں کمی کردی گئی ہے، ان منصوبوں کو کیسے پورا کیا جاسکے گا؟بہر کیف یوگی حکومت کا یہ بجٹ کسی نئی پرکشش اسکیم کو تو متعارف نہیں کراسکی ۔البتہ مدارس کی جدید کاری پر خوب دھیان دیا گیا ہے جبکہ مدارس میں صر ف چار فیصد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور بقیہ دیگر اداروں میں۔ ایسے میں چار فیصد پر اتنی توجہ دینا اور 96 فیصد کو نظر انداز کردینا شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *