پاسبان سوتے رہے اور ملک کی دولت باہر چلی گئی

پنجاب نیشنل بینک گھوٹالے پر اخباروں میں، نیوز چینلوں پر اور سوشل میڈیا پر بہت کچھ لکھا ،دکھایا اور کہا جاچکا ۔لیکن باتیں ادھر ادھر پھیلی و بکھری ہوئی رہ گئیں۔ کوئی سرا کہیں گیا تو کوئی سرا کہیں اور۔ پنجاب نیشنل بینک گھوٹالہ کہیں یا نیرومودی تکڑی گھوٹالہ، اس میں کئی اکائیوں کو ایک ساتھ ملا کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی مخالف سیاسی خیمہ اسے نریندر مودی سرکار سے جوڑ رہا ہے تو کانگریس مخالف سیاسی پارٹی اسے کانگریس سے جوڑ رہی ہے،لیکن اس جوڑا جوڑی کی سیاست سے الگ حقائق کی بنیاد پر ہمیں بکھرے ہوئے تمام سرے سامنے رکھ کر انہیں کلی طور پر دیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
برسراقتدار پارٹی ہی ذمہ دار
مرکز میں سرکاربی جے پی کی ہے تو کسی بھی گھوٹالے کے ہونے یا کسی بھی گھوٹالے باز کے فرار ہونے کی ذمہ داری مرکزی سرکار پر ہی آئے گی۔ اس ذمہ داری سے وزیراعظم نریندر مودی بھاگ نہیں سکتے، بھلے ہی ان کے چہیتے وزیر خزانہ ارون جیٹلی سچائی کی سطح پر آنے سے ڈر کر منہ چھپائے بیٹھے ہوں۔ سوشل میڈیا پر اس گھوٹالے کے معاملے میں نریندر مودی کے کئی پرانے بیان وائرل ہوئے، مثلاً’بھائیوں و بہنوں آپ مجھے وزیر اعظم مت بنائیں، مجھے چوکیدار بنائیں۔ میں دہلی جاکر چوکیدار کی طرح بیٹھوں گا، آپ میرے جیسا چوکیدار بیٹھائوگے تو ہندوستان کی تجوری پر کوئی پنجہ نہیں پڑنے دوں گا۔‘‘
’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ چاہے کوئی نیا قانون بنانا پڑے یا کسی دیگر ملک کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑے، میں کالا دھن ہندوستان واپس لائوں گا اور ملک کا پیسہ ہندوستان سے باہر نہیں جانے دوں گا۔ جن لوگوں نے ملک کو لوٹاہے ،وہ چاہے جتنے بھی طاقتور ہوں، انہیں ملک کے لوگوں کو جواب دینا ہی ہوگا۔ میں نے جو راستہ چنا ہے، ہو سکتاہے، اس کے لئے مجھے سیاسی قیمت چکانی پڑے، لیکن میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ میں اس کے لئے کوئی بھی سیاسی قیمت چکانے کو تیار ہوں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
وزیراعظم نریندر مودی کے ان بیانوں کا یہاں سیاق و سباق بنتا ہے ، تاکہ وہ اپنے بیانوں سے یا تو انکار کر سکیں یا اب تک فیل ثابت ہوئے اپنے بیانوں پر آگے کھرا اترنے کا پھر سے عہد کرسکیں۔اقتدار میں آنے کے بعد سے جو حالات سامنے آئے ہیں ،اس میں مودی کے بیانوں کے خلاف ہی ملک کے سامنے پیش ہوا ہے۔ للت مودی ،وجے مالیا ، پنامہ گیٹ، نیرو مودی اور ایسے کئی ذرائع کے ذریعہ ملک کی خطیر رقم غیر ملک چلی گئی اور ملک کے شہری وزیر اعظم نریندر مودی کے ان سخت بیانوں کی اصلیت ہی ٹٹولتے رہ گئے ۔ کسی آدمی کے غیر ملک بھاگ جانے اور اسے پھر سے پکڑ کر واپس لانے کا مسئلہ اتنا اہم نہیں ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ جو پیسہ بیرون ملک چلا گیاہے، اسے واپس کیسے لایا جائے۔
مرکزی سرکار ایکشن میں آئے
مرکزی سرکار کو غیر ملک گیا پیسہ واپس لانے اور مستقبل میں ہندوستان کا پیسہ بیرون نہ جانے پائے اس کے راستے بند کرنے کے انتظام پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہئے۔ اقتصادیات اور بینکنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی ناسمجھ پالیسیوں کی وجہ سے ملک کا بینکنگ سسٹم برباد ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، لیکن وزیراعظم اس طرف کوئی دھیان نہیںدے رہے ہیں۔ بڑے بڑے مالی گھوٹالے بینکوں کے ذریعہ سے ہو رہے ہیں، لیکن بینکوں کی اعلیٰ سطحی سانٹھ گانٹھ اور ملی بھگت پر اتنی چرچا نہیں ہو رہی ،جتنی ہونی چاہئے۔ میڈیا بھی وجے مالیہ اور نیرو مودی کے فرار ہونے پر تابڑتوڑ لگا ہوا ہے، لیکن ان بینکوں اور بینک افسروں کے ملوث ہونے پر کچھ نہیں بول رہا، جو گھوٹالوں میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ وزیراعظم مودی یا وزیر خزانہ جیٹلی بھی بینکوں کی بدعنوانی پر خاموش ہیں اور بد عنوانی کی وجہ بینکوں میں ہو رہے خساروں کی بھرپائی کرنے کے لئے ملک میں نوٹ بندی لاگو کر دیتے ہیں۔ بڑی بدعنوانی اور گھوٹالوں میں بینکوں کے مجرمانہ کردار پر وزیراعظم یا وزیر خزانہ کی خاموشی یا تو ملی بھگت ہے یا کوئی خوف۔ ان دونوں صورت حال کے علاوہ کوئی تیسری صورت ہو ہی نہیں سکتی۔ لہٰذا وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو ملک کے سامنے آکر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔
اخباروں اور نیوز چینلوں پر تو نہیں لیکن سوشل میڈیا پر نیرو مودی کے بھائی نیشل مودی کی مکیش اور انیل امبانی سے نزدیکی رشتہ داری ، نیرو مودی کی ایک طرف وزیراعظم مودی اور ارون جیٹلی سے نزدیکی تو دوسری طرف کانگریس لیڈر کپل سبل ، پی چدمبرم اور سونیا کے داماد رابرٹ واڈرا سے قریبی کے چرچے سرگرم ہیں۔ ان ایشوز پر متعلقہ لوگوںکو پبلک فورم پر آکر صفائی پیش کرنی ہی چاہئے، لیکن وہ بھی خاموش ہیں۔ مکیش امبانی اور انیل امبانی کو بھی سماج کے سامنے آکر یہ بتانا چاہئے کہ نیشل مودی ان کی بھانجی ایشیتا (دھیرو بھائی امبانی کی بیٹی سپتی سلگائنکر کی بیٹی ) کا شوہر ہے کہ نہیں۔ پنجاب نیشنل بینک کے ممبئی زونل آفس سے سی بی آئی کو دی گئی تحریر میں بھی اور سی بی آئی کی طرف سے درج ایف آئی آر میں بھی نیرو مودی کے ساتھ ساتھ اس کا بھائی نیشنل مودی نامزد ملزم ہے۔ایسے میں امبانی پریوار سے تعلقات کو لے کر اختیار کی گئی خاموشی پُراسرار ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کیسے ہڑپا گیا اربوں روپے؟
آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ نیرو مودی ، اس کی بیوی امی نیرو مودی، بھائی نیشل مودی اور ماما مہول چینو بھائی چوکسی کی شراکت داری کی تین کمپنیوں ’’ڈائمنڈ آر یو ایس ‘‘ ’سولر ایکسپرٹ‘ اور ’اسٹیلر ڈائمنڈ‘ نے پنجاب نیشنل بینک کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرکے ’لیٹر آف انڈر ٹیکنگ ‘ (ایل او یو ) کے ذریعہ اربوں روپے ہڑپ لیے ۔ رقم ہڑپنے کا چکر پچھلے 6-7 سال سے چل رہا تھا ۔ دھیرے دھیرے اس کی رفتار بڑھتی گئی۔ ملک کا پیسہ ہڑپنے کی رفتار کا عالم یہ رہا کہ محض تین دن میں اربوں روپے ’سوکھ ‘ لئے گئے۔ اس میں پنجاب نیشنل بینک کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر بینکوں کی ملی بھگت رہی۔
پنجاب نیشنل بینک سے سی بی آئی کو ملے دستاویز بتاتے ہیں کہ 9فروری 2017 کو ’ڈائمنڈ ‘ آریو ایس ‘ کے لئے 4415791.96 امریکی ڈالر کا ایل او یو الٰہ آباد بینک کی ہانگ کانگ برانچ کے نام جاری ہوا۔ پھر 9فروری 2017 کو ہی ’سولر ایکسپورٹس ‘کے لئے 4335319.38 یو ایس ڈالر کا ایل او یو الٰہ آباد بینک کی ہانگ کانگ برانچ کے نام جاری ہو گیا۔ 10 فروری 2017 کو ’ڈائمنڈ ‘ آر یو ایس ‘ کے لئے 5942017.70 یو ایس ڈالر کا ایل او یو پھر الہ آباد بینک کی ہانگ کانگ برانچ کے نام جاری ہوا۔ 10 فروری 2017 کو ہی ’سولر ایکسپورٹس کے لئے بھی 5843161.93 یو ایس ڈالر کا ایل او یو الٰہ آباد بینک کی ہانگ کانگ برانچ کے نام جاری ہوا۔ پھر اسی دن یعنی 10فروری 2017 کو ہی ’اسٹیلر ڈائمنڈ ‘ کے لئے 6093321.10 یو ایس ڈالر کا ایل او یو الٰہ آباد بینک کی ہانگ کانگ برانچ کے نام جاری کر دیا گیا۔
14فروری 2017 کو ’ڈائمنڈ آر یو ایس ‘ کے لئے 5856885.00 یو ایس ڈالر کا ایل او یو ایکسیس بینک کی ہانگ کانگ برانچ کے نام جاری ہوا۔ 14فروری 2017 کو ہی ’سولر ایکسپورٹس ‘ کے لئے 5862251.03 یو ایس ڈالر کا ایل او یو پھرسے ایکسیس بینک کی ہانگ کانگ برانچ کے نام جاری ہوا۔ اسی دن یعنی 14 فروری 2017 کو ہی ’اسٹیلر ڈائمنڈ ‘ کے لئے 5877064.00 یو ایس ڈالر کا ایل او یو ایکسیس بینک کی ہانگ کانگ برانچ کے نام جاری ہوا۔ یہ سارے ایل اویو پنجاب نیشنل بینک کے ممبئی زون کے تحت بڑیڈی ہائوس میں مڈ کارپوریٹ برانچ سے جار ی ہوئے۔
فروری 2017 کے محض تین دنوں میں نیرو مودی ’گروہ ‘ کے لئے پنجاب نیشنل بینک نے الٰہ آباد اور ایکسیس بینک کی ہانگ کانگ برانچ کے نام 44225812.10 امریکی ڈالر کا ایل او یو جاری کیا۔ ایل او یو جاری ہوتے وقت ایک یو ایس ڈالر کی قیمت قریب 70 روپے تھی۔ یعنی ہندوستانی کرنسی میں 3095806847 روپے۔ ان سبھی لیٹر آف انڈر ٹیکنگ (ایل او یو ) کی ادائیگی بیرون ملک سے آپریٹ کر رہی ایکسپورٹس کمپنیوں ’اورا جیم کمپنی لمیٹیڈ ‘ ، ’ سائنو ٹریڈرس لمیٹیڈ، ٹرائی کلر جیمس ایف زیڈ ای ‘ ، سن شائن جیمس لمیٹید، یونیٹی ٹریڈنگ ایف زید ای ، اور پیسفک ڈائمنڈس ایف زید ای ‘ نے اٹھا لیا ۔
گھوٹالے کے تمام ذمہ دار فرار
نیرو مودی گروہ کی کمپنیوں کو ’لیٹر آف انڈر ٹیکنگ ‘ کی ساری رقم 25جنوری 2018 تک کلیئر کر دینی تھی لیکن اس کے پہلے ہی گھپلے کے سارے کرتا دھرتا ملک چھوڑ کرجاتے رہے ۔نیرو مودی کی بیوی امی نیرو مودی پہلے سے امریکی شہری ہیں۔ امی نے 6 جنوری کو ہی ہندوستان چھوڑ دیا۔ نیرو کا ماما چوکسی 4 جنوری کو ملک چھوڑ کر بھاگ گیاتھا۔ نیرو مودی کا بھائی نیشل مودی بیلجیم کا شہری ہے۔ نیشل نے امریکہ کو بھی اپنا ٹھکانہ بنایا ہوا ہے۔ نیشل مودی یکم جنوری کو ہی ہندوستان چھوڑ کر بھاگ گیاتھا۔ شاطر نیرو مودی کھیلتا رہا۔اس بیچ وہ وزیراعظم نریندر مودی کے ڈائوس دورے میں صنعتکاروں کے وفد میں بھی شامل رہا اور اس نے پنجاب نیشنل بینک سے اور لیٹر آف انڈرٹیکنگ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس درمیان پنجاب نیشنل بینک کے ممبئی زون کے ڈپٹی جنرل منیجر اونیش نیپالیہ نے گھوٹالے کا بھنڈا پھوڑ دیا۔ اندرونی جانچ کے بعد نیپالیا نے 29جنوری کو اپنا تحریری خط سی بی آئی کو دیا۔ سی بی آئی ممبئی کی بینک اسکیم اینڈ فائننشیل کرائم سیل کے ایس پی شاردا رائوت نے 31 جنوری 2018 کو ایف آئی آر درج کر کے باضابطہ چھان بین شروع کر دی۔
ایف آئی آر درج کرنے کے بعد 31 جنوری کو ہی سی بی آئی نے ملزموں کے خلاف لوک آئوٹ نوٹس جاری کیا لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔ گھوٹالے کی آخری اہم کڑی نیرو مودی بھی ملک سے فرار ہو چکا تھا۔ سی بی آئی نے اپنی پہلی ایف آئی آر میں 280 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا معاملہ درج کیا۔ پی این بی کے ڈپٹی زونل منیجر اونیش نیپالیہ نے بھی اپنی تحریر میں 280.70کروڑ کے گھپلے کا ہیذکر کیا تھا۔
خفیہ حقائق
اب آپ کو ان حقائق کی جانکاری دیں جس کے بارے میں عام جانکاری نہیں ہے۔ نیرو مودی گروپ سے جڑی وہ کمپنیاںجو بیرون ملکوں سے آپریٹ کررہی ہیں، ان میں ہانگ کانگ سے آپریٹ کرنے والی ’’ آرا جیم کمپنی لمیٹیڈ‘ اہم ہے۔یہ اس لئے اہم ہے کہ اس کے تار پنامہ گیٹ کانڈ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ’ آرا جیم کمپنی لمیٹیڈ‘ کی کنٹرولنگ کمپنی ’ اٹلانٹک سینسر لمیٹیڈ ‘ نے ہی ’ آرا جیم ‘ کو ہانگ کانگ میں رجسٹرار آف کمپنیز کے یہاں 28 مئی 2010 کورجسٹر کرایا تھا۔ ’ اٹلانٹک سینسر‘ٹیکس چوروں کی جنت برٹش ورزن آئس لینڈ اور پنامہ پیپرس منی لانڈرنگ معاملے سے سیدھے متعلق رہے ہیں۔ اٹلانٹک سینسر نے 2012 میں ’آرا جیم ‘ کی مکمل شیئر ہولڈنگ دبئی کے سونو شیلیش مہتا کے نام ٹرانسفر کر دیاتھا۔
وہی مہتا 2016 تک ’ آرا جیم ‘ کا اکلوتا ڈائریکٹر تھا۔ بعد میں ہانگ کانگ کے دیو یش کمار گاندھی کو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ نیرو مودی گروپ کے ایل او یو کا بیرون ملک میں پے منٹ اٹھانے والی کمپنیوں میں ’سائنو ٹریڈرس لمیٹیڈ ‘ بھی شامل ہے۔یہ کمپنی ہانگ کانگ میں 22فروری 2013 کو رجسٹر (نمبر 1865307)ہوئی تھی۔ اسی طرح ’ سن شائن جیم لمیٹیڈ‘ بھی ہانگ کانگ کے کوئولون سے آپریٹ کرتی ہے۔ ’ ٹرائی کلر جیمس ایف زیڈ ای ‘ متحدہ عرب امارات کے شارجہ سے، ’ یونیٹی ٹریڈنگ ایف زیڈ ای ‘ دبئی سے اور ’پیسفک ڈائمنڈس ایف زیڈ ای ‘ اجمان سے آپریٹ کرتی ہے۔ غیر ملکوں سے آپریٹ کررہی انہی کمپنیوںنے نیرو مودی گروپ کی ہندوستان کی تین کمپنیوں کے لئے جاری ہوئے 44225812.10 امریکی ڈالر کے ایل او یو پر بھگتان لے لی۔
پی این بی نے ایل او یو جاری نہیں کیا
یہ بھگتان اٹھانے کے بعد بھی نیرو مودی نے پنجاب نیشنل بینک سے اور ایل او یو جاری کرنے کی درخواست دی۔لیکن پی این بی ممبئی ڈپٹی زونل منیجر نے اسے پکڑا اور جانچ کے لئے بھیج دیا۔ حالانکہ جانکار بتاتے ہیں کہ بدعنوانی میں شریک پی این بی کے افسروں نے ایل او یو جاری کرنے کے لئے زیادہ رشوت دینے کی مانگ شروع کردی تھی ۔ زیادہ رشوت دینے سے نیرو مودی کے منع کرنے پر پی این بی نے ایل او یو جاری نہیں کیا اور برسوں سے چل رہا یہ چکر اچانک تھم گیا۔ اس کے تھمتے ہی ایک غیر ملکی بینک نے ہانگ کانگ کی مشہور ایجنسی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی ریزرو بینک کو بھی اس کی اطلاع بھیج دی۔
اس طرح معاملہ کھل گیا اور ریزرو بینک کے ذریعہ پوچھنے پر پنجاب نیشنل بینک کو معاملے کی اندرونی جانچ کرانے اور سی بی آئی میں ایف آئی آر درج کرانے پر مجبور ہونا پڑا۔ تب یہ بھی راز کھلا کہ ایل او یو کانڈ میں پنجاب نیشنل بینک کے ساتھ ساتھ انڈین اسٹیٹ بینک، الٰہ آبادبینک، ایکسیس بینک، یونین بینک بھی ملوث ہیں۔انڈین اسٹیٹ بینک کے بعد پنجاب نیشنل بینک ہی ملک کا دوسرا سب سے بڑا رجسٹرڈ بینک ہے۔ سرکاری طور پر جو رقم گھوٹالے کی بتائی جارہی ہے وہ 11,330 کروڑ روپے یعنی 1.8 ارب ڈالر ہے۔
سال 2017 میں پنجاب نیشنل بینک کی کل آمدنی 1320 کروڑ روپے تھی۔ یہ بات صاف ہے کہ گھوٹالے کی رقم پی این بی کی سالانہ آمدنی سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھوٹالہ اجاگر ہوتے ہی شیئر بازار میں پنجاب نیشنل بینک کا شیئر دھڑام سے نیچے گر گیا اور دوسرے بینکوں کے شیئرز بھی معلق رہے۔ جانکار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں ہیرے اور ہیرے کے زیورات کا کاروبار 70ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا ہے۔ اس کاروبار کا اہم مرکز گجرات کا شہر سورت اور مہاراشٹر کا ممبئی ہے۔
6بڑی ہستیاں ملوث
سرمائے پر مرکوز اس کاروبار میں ملک کی 6 بڑی ہستیوں کے نام ہیں۔ جن میں سے دو نیرو مودی اور میہول چوکسی کے چہرے سے پردہ ہٹ چکا ہے۔ کچھ دیگر کی باری بھی آنے والی ہے۔ نیرو مودی جویلری ڈیزائنر بھی تھا اور ڈھائی ارب ڈالر کی کمپنی فائر اسٹار ڈائمنڈ کا مالک بھی۔ نیرو مودی کا نام 2013 میں فوبرس کی ہندوستانی ارب پتیوں کی لسٹ میںشامل ہو گیا تھا اور اسے ملک کے سب سے رئیس لوگوں کی قطار میں 46 واں مقام حاصل ہوا تھا۔ ایل او یو گھوٹالے کے دوسرے ملزم نیرو مودی کا شکونی ماما میہو چینو بھائی چوکسی ، سنگینی رشمی جیسے زیور بنانے والی کمپنی ’گیتانجلی جیمس ‘ کا مالک ہے جو کہ چوکسی گھپلے بازی میں ماسٹر مائنڈ رہاہے۔ سیبی نے بھی اس کی کمپنی کے خلاف کارروائی کی تھی۔ جنوری 2017 میں انکم ٹیکس محکمہ نے نیرو مودی کے گھر اور اس کے قریب 50ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی تھی۔ انہی دنوں نیرو کے چوکسی ماما کے بھی ٹھکانوں پر انکم ٹیکس کا چھاپہ پڑا تھا۔ لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ انکم ٹیکس محکمہ کی اس کارروائی کے اگلے ہی مہینے اس تکڑی نے پنجاب نیشنل بینک کے ذریعہ اربوں روپے اڑا لئے۔ ایل او یو کا کھیل بی جے پی کے لئے بھی جانا بوجھا ہوا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کے بیٹے غیر متوقع کثیر جائیداد کے مالک جے شاہ کو بھی ایک پرائیویٹ فنانس کمپنی نے لیٹر آف کریڈٹ جاری کیا تھا۔
چند سوالا ت جواب طلب
بہر حال نیرو مودی گھوٹالہ معاملہ میں کچھ سوالات تذکرہ سے رہ گئے۔ کسی بھی بینک کے ذریعہ جاری ہونے والے ’لیٹر آف انڈر ٹیکنگ ‘ کی جانکاری ریزرو بینک آف انڈیا کو دی جاتی ہے۔ 2011 میں ہی پنجاب نیشنل بینک کی طرف سے پہلا ایل او یو جاری ہوا، لیکن اسے ’کور بینکنگ سسٹم (سی بی ایس ) میںدرج کیوں نہیں کیا گیا؟پی این بی کے سینئر مینجمنٹ نے اس سنگین خامی پر دھیان کیوں نہیں دیا؟ہندوستانی ریزرو بینک نے اس مجرمانہ کوتاہی پر کارروائی کیوں نہیں کی؟سوسائٹی فار دی ورلڈ وائڈ انٹر بینک فائننشیل ٹیلی کمیونیکیشن ( سویفٹ ) کوڈ کے ذریعہ غیر ملکی بینکوں سے سے ہو رہے لین دین کو مانیٹر کیوں نہیں کیا جارہاتھا۔
پنجاب نیشنل بینک کے غیر ملکی کرنسی فارن ایکسچنج ڈپارٹمنٹ نے اعلیٰ افسروں کو اس بارے میں فوری طور پر الرٹ کیوں نہیں کیا؟کہیں ایسا تو نہیں کہ پی این بی کے اعلیٰ مینجمنٹ سطح سے ہی اس مسئلے پر خاموشی لگائے رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔پنجاب نیشنل بینک مینجمنٹ اب یہ کہہ رہا ہے کہ بینک کے کچھ بدعنوان افسروں نے غیر قانونی طور سے سویفٹ کوڈ کے ذریعہ ساڑھے گیارہ ہزار کروڑ روپے غیر ملک بھیج دیئے۔ بینک کے اعلیٰ مینجمنٹ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے کہ ایسے مشکوک ٹرانزکشن پر الرٹ میسیج جاری کرنے اور کور بینکنگ سسٹم میں اسے درج کرنے کے لازمی قانون کی تعمیل کیوں نہیں کی گئی؟ نصف دہائی سے بھی زیادہ وقت سے ہو رہی گھپلے بازی کے تئیں مجرمانہ اندیکھی کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟پنجاب نیشنل بینک کی طرف سے جاری اربوں ڈالر کے ایل او یو حاصل کرنے والے الٰہ آباد بینک یا ایکسیس بینک کے غیر ملکی برانچوں نے جاری ایل او یو کی توثیق کے لئے لیٹر آف کنفرمیشن بھیجا تھا کہ نہیں؟اگر بھیجا تھا تب پی این بی مینجمنٹ نے کیا کارروائی کی؟ اگر نہیں بھیجا تب پی این بی مینجمنٹ نے اس پر کیا کارروائی کی۔ صاف ہے کہ نیرو مودی گروہ کا گھوٹالہ پنجاب نیشنل بینک مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ بینکوں کی ملی بھگت سے چل رہا تھا۔
ناکارہ ثابت ہوا سرکاری سسٹم
مرکزی سرکار کا سسٹم گھوٹالے بازوں پر چوکسی برتنے میں فیل ہو گیااور سارے ملزم بڑے آرام سے فرار ہوگئے ۔ ملزموں کے غیر ملک بھاگ جانے کے سبب قانونی کاروائیوں کی ادائیگی بالکل آدھی رہ گئی۔ سرکاری سسٹم کے ناکارہ پن کی حالت اب یہ ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سمن جاری کرتاہے اور ملزم اسے انکار کرکے واپس بھیج دیتا ہے۔ نیرو مودی گروپ نے بھی انفورسمنٹ کے حاضر ہونے سے انکار کردیا ہے۔یہی حال وزارت خارجہ کا بھی ہے۔ وزارت خارجہ نے بھی نیرو مودی گروپ کو نوٹس بھیجنے کی رسم نبھائی ہے اور جواب کا انتظار ہے۔ وزارت خارجہ نے بھگوڑے ملزموں کا ب تک پاسپورٹ بھی رد نہیں کیا ہے۔ وزارت کی عجیب و غریب دلیل ہے کہ نیرو مودی گروپ کی طرف سے جواب ملنے کے بعد اس حساب سے کاررروائی کی جائے گی۔ وزارت جواب سے مطمئن نہیں ہوئی تب اس کا پاسپورٹ رد کیا جائے گا۔ وزارت خارجہ کا یہ رخ بتاتاہے کہ وہ جواب ملنے کے پہلے سے ہی مطمئن ہے۔ ادھر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ نیرو مودی گھوٹالہ معاملے میں اب تک 5, 826 کروڑ روپے کی جائیدا اور دیگر قیمتی سامان ضبط کئے گئے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے نیرو مودی اور میہول چوکسی کے 94.52 کروڑ روپے قیمت کے میوچوئل فنڈ اور شیئر بھی ضبط کئے ہیں۔ ان میں سے 86.72 کروڑ روپے کے میوچول فنڈس اور شیئر چوکسی کے اور 7.80 کروڑ روپے فنڈس اور شیئر نیرو مودی کے ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے نیرو مودی کی 9لگژری کاریں بھی ضبط کی ہیں۔ ان کاروں میں ایف رائلس گھوسٹ، ایک مرسڈیز بینج، ایک پوش پنامیرا، ہونڈا کی تین کاریں، ایک ٹویوٹا فارچونر اور ایک اینوا شامل ہیں۔ سی بی آئی اس معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ سی بی آئی کی دوسری ایف آئی آر میں گیتانجلی گروپ کی تین کمپنیوں کے نام شامل کئے گئے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کئی لیڈر ہیں نیرو مودی گروہ کے منی ٹریپ میں
پی این پی گھوٹالے سے جیسے جیسے پردے ہٹ رہے ہیں، ویسے ویسے کئی سیاسی پارٹیوں کے لوگوں سے نیرو مودی ’گروہ‘ کے جڑے ہونے کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔لیکن دونوں طرف سے ترجمانوں کی الزام تراشیوں کی آڑ لے کر ریفرنسڈ لیڈر شاطرانہ خاموشی لگائے ہوئے ہیں۔نیرو مودی ’گروہ‘ کی جن ڈیڑھ سو شیل کمپنیوں کا پتہ چل رہاہے ،ان میں سے کئی کمپنیاں ایک نئی حکمراں سیاسی پارٹی سے جڑی بتائی گئی ہیں۔ جانکار بتاتے ہیں کہ شیل کمپنیوں کا استعمال کالے دھن کو کھپانے کے لئے کیا جاتاہے۔ 2010سے 2014 کے بیچ پی این بی اور کینرا بینک نے مل کر ایسی ہی ایک کمپنی کو 5,86,50,00,000 روپے کا لون دیا تھا۔ اس کمپنی کے ڈائریکٹر نئی حکمراں سیاسی پارٹی کو دو کروڑ روپے کا چندہ دینے کے معاملے میں سرخیوں میں آئے تھے۔ دو سو کروڑ میں ایک سینئر کانگریسی لیڈر کے لئے عالی شان گھر خریدنے میں نیرو مودی کا نام پہلے سے انکم ٹیکس نیٹ پر ہے ۔
بدنام ہتھیار ڈیلر عدنان خشوگی کے خاص حسن علی خان سے نیرو مودی کی نزدیکیوں اور سوئٹزر لینڈ کے بینک اکائونٹ میں جمع کرائے گئے 48کروڑ روپے کے راز بھی اب کھلنے ہی والے ہیں ۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ ایک سینئر کانگریسی لیڈر کے دبئی کے بینک کھاتے میں جمع کرائے گئے 14.5 کروڑ روپے کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ایک لیڈر کی بیوی تو نیرو مودی کی کمپنی میں ڈائریکٹر تک رہی ہیں۔
آر بی آئی کا فرمان
پنجاب نیشنل بینک مہا گھوٹالے کے بعد اس کی بھرپائی کرنے میں پی این بی سمیت سبھی متعلقہ بینکوں کی حالت خراب ہو جائے گی۔ اگر مرکزی سرکار نے ’بیل آئوٹ پیکج‘ دینے سے منع کر دیا تو بینکوں میں جمع عام گراہکوں کے پیسے پر آفت آسکتی ہے۔ ہندوستانی ریزرو بینک کا نیا قانون بھی کہتا ہے کہ بینک ڈوب گیا تو اس میں جمع آپ کا پیسہ بھی ڈوب گیا۔ بینک میں آپ کا کروڑ روپے بھی جمع ہو اور اگر بینک ڈوب جائے تو آپ کو صرف ایک لاکھ روپے ہی حاصل ہوں گے۔ باقی رقم ڈوب جائے گی۔ اسی اندھیر گردی کی طرف ہم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ریزرو بینک نے جمع کنندہ کو ان کے جمع پیسے پر ملنے والے انشورنس کور کو لے کر کچھ ضابطے بنائے ہیں۔ ڈپازٹ انشورینس اینڈ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن ( ڈی آئی سی جی سی ) کے نام سے بنے اس قانون کے مطابق بینکوں میں آپ کے ذریعہ جمع کی گئی رقم میں سے صرف ایک لاکھ روپے کا انشورنس کور ہے۔یہ کور سبھی طرح کے کھاتوں پر لاگو ہوگا۔ آر بی آئی کی ویب سائٹ پر بھی ضاطبہ موجود ہے۔
نیرو مودی کی فرار والا اشتہار
ہزاروں کروڑ روپے کا گھوٹالہ کرنے والے نیرو مودی گروہ کا ایک اشتہار آج کل چرچا میںہے۔ اس اشتہار میںفلم اداکارہ پرینکا چوپڑہ اور اداکار سدھارتھ ملہوترہ ہیں۔ ا س اشتہار کے ذریعہ کافی پہلے ہی مفرور کی داستان رچے جانے کا اشارہ دے دیا گیا تھا۔ ہیرے کے زیورات سے متعلق اشتہار میںپرینکا چوپڑہ سدھارتھ ملہوترہ کو بتا رہی ہیں کہ ان کا ایک جاننے والا شخص بینک سے بڑا لون لے کر ملک چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔ یہ اشتہار سوشل میڈیا میںخوب وائرل ہو رہا ہے۔ کہتے ہیںکہ نیرو مودی نے اس اشتہار کو خود ہی یو- ٹیوب پر بھی اَپ لوڈ کیا تھا۔
دوسری طرف کچھ فلم اداکاراؤں نے نیرو مودی ’گروہ‘ پر دھوکا دھڑی کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ فلم اداکارہ کنگنا راناوت اور بپاشا بسو نے نیرو مودی کے رشتہ دار اور جیولری برانڈ کے مالک میہل چوکسی پر بقایا ادائیگی نہ کرنے اور کنٹریکٹ توڑنے کا الزام لگایا ہے۔ کنگنا راناوت کو میہل کی کمپنی سے پیسے ملنے باقی تھے جبکہ بونڈ پورا ہو چکا تھا۔ بپاشا بسو نے کہا ہے کہ وہ چوکسی سے جڑے ایک برانڈ کو پروموٹ کرنے کا کام کرتی تھیں۔ قرار کی مدت پوری ہونے کے بعد بپاشا کے منیجر نے چوکسی کو بپاشا کے فوٹو کا استعمال بند کرنے کی صلاح دی لیکن چوکسی بپاشا کی تصویر اپنے برانڈ پروموشن کے لیے استعمال کرتے رہے لیکن انھیں دوسرا کنٹریکٹ نہیںدیا۔
بینکوں کے این پی اے گھوٹالے
بینکنگ سیکٹر سے جڑی تنظیمیں بینکوں کے ڈوبے ہوئے قرض یعنی ’نان پرفارمنگ ایسیٹ‘(این پی اے) کے خلاف لگاتار آندولن چلا رہی ہیں۔ انتنظیموں اور بینکنگ ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ یہ این پی اے بینکوںکے گھوٹالوں میں ملوث ہونے کا نتیجہ ہے لیکن مرکزی سرکار ا س گھوٹالے کولگاتار نظر انداز کر رہی ہے۔ وجے مالیا سے لے کر نیرو مودی سمیت تمام پونجی جانوروں کے لون لے کر بھاگ جانے کے واقعات سیدھے طور پر بینکوں کی ملی بھگت کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن سرکار بینکوںکے خلاف کارروائی کرنے سے کنّی کاٹ رہی ہے ۔ اگر ٹھیک سے جانچ ہو جائے تو بینکوںکا این پی اے گھوٹالہ ہی اکیلے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ ثابت ہوسکتا ہے۔
بینک ہیں گھوٹالے باز
بدعنوانی اور مالیاتی گھوٹالوں میںبینکوںکے ملوث ہونے کے نتائج سرکار کے ہاتھ میں ہیں لیکن سرکار کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔ سرکار میںشامل وزرائ، لیڈران اور نوکرشاہوں کے اس میںملوث ہونے کے سبب کارروائی کرنا ممکن نہیں۔ اس ضمن میں آپ کو یہ بتا دیں کہ نوٹ بندی لاگو ہونے سے ایک مہینے پہلے یہ سرکاری طور پر خلاصہ ہوا تھا کہ مختلف بینکوںکے ذریعہ بہت بڑی تعداد میںکروڑوں اور اربوں روپے کے لین دین ہورہے ہیں۔
اس طرح کے سات لاکھ بڑے اور اجتماعی لین دین سے متعلق لوگوںکو نوٹس بھیجے گئے تھے لیکن ان میں سے چھ لاکھ 90 ہزار نوٹس ’ایڈریسی ناٹ فاؤنڈ‘ لکھ کر واپس آگئے۔ یعنی سات لاکھ بڑے ٹرانزیکشن میںجو پتے لکھے گئے تھے، ان پتوں پر کوئی ملا ہی نہیں۔ نہ نام کا پتہ چلا، نہ پتے پر کوئی پایا گیا اور نہ ہی ان کے کے وائی سی (نو یور کسٹمر) کا کوئی بیورا ملا۔ 90 لاکھ بینک ٹرانزیکشن پین نمبر کے بغیر ہوئے، جن میں14 لاکھ بڑے (ہائی ویلیو) ٹرانزیکشن ہیں اور سات لاکھ بڑے جوکھم والے (ہائی رسک) ٹرانزیکشن ہیں۔ ان ہی سات لاکھ ٹرانزیکشن کے سلسلے میں نوٹس جاری ہوئے تھے جو لوٹ کر واپس آگئے۔ یہ بینکوں کے گھوٹالے میںشامل ہونے کا سرکاری ثبوت تھا لیکن مرکزی سرکار نے بینکوںپر کارروائی کرنے کے بجائے اس خلیج کو پاٹنے کے لیے نوٹ بندی کا فرمان جاری کردیا۔
سرکار کو سرکاری طور پر پتہ چل گیا ہے کہ مختلف بینکوںکے ذریعہ کالے دھن کا ٹرانزیکشن دھڑلے سے ہو رہا ہے لیکن مرکزی سرکار بینکوںکی کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کا کام کررہی ہے۔ وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ کروڑوں اور اربوںروپے کے لین دین میں بینکوںکے ذریعہ پین نمبر کی لازمیت کا دھیان نہیںرکھا جانا اور کے وائی سی نارمس پر عمل نہیں کیا جانا صاف طور پر گھوٹالوںمیںبینکوںکی ملی بھگت کا ثبوت ہے۔
تکنیکی سسٹم ہے کہ ایک سال کی مدت میں بھی اگر10 لاکھ روپے ڈپازٹ ہوئے یا لین دین ہوا تو وہ فنانشیل انٹیلی جنس یونٹ کے سامنے خود بخود فلیش کرنے لگے گا لیکن وہ فلیش نہیں ہوا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ بینک کے وائی سی کے ضابطوں اور پین نمبر انٹری کے ضابطوں پر عمل نہیں کررہا ہے۔
انکم ٹیکس محکمہ کے ریسرچ آفیسر کہتے ہیں کہ بینک کے ذریعہ سے ہورہا نان پین ٹرانزکشن کالے دھن کو سفید کرنے کے دھندے (منی لانڈرنگ) کا اہم ذریعہ بنا ہوا ہے۔ پین نمبر درج کیے بغیر ہونے والے لین دین کے لیے سیدھے طور پر بینک قصوروار ہیں پھر بھی کچھ معمولی افسروں کی گردن ناپنے کے علاوہ بینکوںکے ٹاپ مینجمنٹ پر اس کی کوئی ذمہ داری طے نہیں ہوتی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایک افسر نے کہا کہ غیر ملکی بینکوں میں جمع کالا دھن واپس لانا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس میںبڑے لیڈر، بڑے نوکرشاہ، بڑے صنعت کاراور بڑے طاقتور دلال شامل ہیں۔
کالا دھن جمع کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ سویٹزر لینڈ کے بینکوںمیںکھاتا کھولنے کی کم سے کم رقم ہی 50 کروڑ ڈالر ہوتی ہے۔ اس سے ہندوستان سے کالا دھن لے جانے والوںکی اوقات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ حوالہ کے ذریعہ ملک کی دولت بے تحاشا دوسرے ممالک میںجا رہی ہے۔ فیما (فارن ایکسچینج مینٹیننس ایکٹ) آنے سے حوالہ کا دھندہ کرنے والوںپر فیرا (فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ) جیسے سخت قانون کا بھی خوف نہیں رہا۔ شروعاتی دور میںسویس بینک ایسوسی ایشن نے کہا تھا کہ خفیہ کھاتوں میں ہندوستان کے لوگوںکی 1,456 ارب ڈالر کی رقم جمع ہے لیکن حکومت ہند نے اسے حاصل کرنے کی کوئی کارگر پہل نہیں کی۔
بتایا جاتا ہے کہ ہندوستانی کرنسی میں 300 لاکھ کروڑ روپے کا کالا دھن اکیلے سویس بینکوں میں جمع ہے۔ ا س وقت ایک تخمینہ بھی آیا تھا کہ مذکورہ رقم ہندوستان کو واپس مل جائے تو ملک کے ہر ایک ضلع کو 50,000 کروڑ روپے مل جائیں گے۔ لیکن وجے مالیا سے مل کر نیرو مودی معاملے نے عام لوگوں کی اس امید کو دھواں دھواں کردیا۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے اعلیٰ افسرنے بتایا کہ نوٹ بندی کے بعد بینکوںکے افسروں نے کالا دھن سفید کرنے کے عوض میںاندھا دھند کمائی کی۔ بینک کے افسران بھی مالامال ہو گئے اور کالا دھن کے جمع خور بھی 30فیصد کمیشن دے کر روپے بٹور لے گئے۔ عام شہری اے ٹی ایم اور بینک کاؤنٹر کی لمبی قطارمیںلگ کر اپنی ایمانداری سے کمائی رقم لینے کے لیے کوششیں کرتا رہا اور بے عزت ہوتا رہا۔
وکرم کوٹھاری و دیگر گرفتار
پنجاب نیشنل بینک گھوٹالے کے اجاگر ہونے کے درمیان ہی یوپی کے کانپور میں پانچ ہزار کروڑ روپے کا بینکنگ گھوٹالہ سامنے آگیا۔ اس گھوٹالے کے تار کانپور کے مشہور ’پان پراگ سے جانے والے صنعت کار وکرم کوٹھاری سے جڑے ہیں۔ حالانکہ خاندانی بٹوارے کے بعد وکرم کوٹھاری کے حصے میںروٹومیک گلوبل کمپنی آئی لیکن اس کے بعد بھی کوٹھاری پان پراگ سے ہی مشہور ہیں۔ روٹومیک کمپنی کی وسعت کے لیے وکرم کوٹھاری نے پانچ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کابینک لون لیا تھا۔ بینکوں نے روٹومیک کے خسارے کو نظر انداز کرکے کوٹھاری کو اندھا دھند لون دیا لیکن ادائیگی کے وقت کوٹھاری بھاگ کھڑے ہوئے۔ اب وکرم کوٹھاری کی کمپنی پر تالا لگاہوا ہے۔ بینکوںنے کوٹھاری پر مقدمہ کررکھا ہے اور کوٹھاری نے بینکوں پر۔ اس گتھی کو قانونی پیچوںمیںالجھاکر کوٹھاری دینداری سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔
وکرم کوٹھاری کو لون دینے والے پانچ بڑے بینکوں میں انڈین اوورسیز بینک، بینک آف انڈیا، بینک آف بڑودہ، یونین بینک اور الہ آباد بینک کے نام سامنے آچکے ہیں۔ اس میںانڈین اوورسیز بینک نے کوٹھاری کی بیمار کمپنی کو 1400 کروڑ روپے کا لون دیا۔ بینک آف انڈیا نے 1395 کروڑ روپے کا لون دیا۔ بینک آف بڑودہ نے 600 کروڑ روپے کا لون دیا۔ یونین بینک نے 485 کروڑ روپے کا لون دیا اور الہ آباد بینک نے 352 کروڑ روپے کا لون دیا۔
کانپور کے مشہور بزنس مین وکرم کوٹھاری پان پراگ گروپ سے جڑے رہے ہیں۔ 18 اگست 1973کو من سکھ بھائی کوٹھاری نے پان پراگ کا پروڈکشن شروع کیا تھا۔ 1983 سے 1987 کے بیچ پان پراگ اشتہار دینے والی سب سے بڑی کمپنی بن گئی۔ من سکھ بھائی کوٹھاری کی موت کے بعد ان کے بیٹے دیپک کوٹھاری اور وکرم کوٹھاری میںبٹوارہ ہوگیا۔ وکرم کوٹھاری کے حصے میںقلم بنانے والی کمپنی روٹومیک آئی۔
مشہور فلم اداکار سلمان خان کبھی ’روٹومیک‘ کمپنی کے برانڈ ایمبیسڈر ہوا کرتے تھے۔ سلمان نے روٹومیک پین کے لیے کافی اشتہار بھی کیے۔ کبھی اس کمپنی نے کافی منافع کمایا لیکن آ ج یہ خسارے کی وجہ سے بند ہونے کے دہانے پر ہے۔ وکرم کوٹھاری کو ڈیفالٹر ڈکلیئر کیا جاچکا ہے۔ ان پر 600 کروڑ روپے کا چیک باؤنس ہونے کا بھی کیس درج ہے۔ لیکن تمام خدشات کے باوجود وکرم کوٹھاری ملک چھوڑ کر نہیںبھاگے او رآخرکار وکرم کوٹھاری اور ان کے بیٹے راہل کوٹھاری کو سی بی آئی نے گرفتار کرلیا۔ کوٹھاری خاندان پر کل 3700کروڑ روپے کا لون ہڑپ کرنے کا الزام ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *