سرکار کسانوں کو دیا گیا وچن پورا کرے

22 اور 23 فروری کو ملک کے زیادہ تر حصوںمیںکسانوںنے پُرامن آندولن کیا۔ پُرامن آندولن کرنے والے ان کسانوں پر بہت ساری جگہوںپر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ انھیںگرفتار کیا اور ہر طرح سے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ یہ کسان دہلی کے رام لیلا میدان میںسرکار کو اپنی تکلیف بتانے آرہے تھے۔ زیادہ تر کے پاس ٹریکٹر اور ٹرالیاں تھیں۔ ان ہی ٹرالیوںمیںان کے کھانے اور پانی کے پینے کے سامان تھے۔ پولیس نے انھیں بھی بہت ساری جگہ برباد کردیا۔
دراصل یہ کسان کسی بھی سیاسی جماعت سے جڑے ہوئے نہیںہیں۔ یہ صرف کسان ہیں، شاید اسی لیے کسی سیاسی پارٹی نے نہ تو ان کی مانگوں پر دھیان دیا اور نہ ہی حمایت کی۔ یہ کسان صرف وزیر اعظم کو یہ یاد دلانے آنا چاہتے تھے کہ انھیںدیا گیا وچن پورا کیا جائے۔ ایک ہی وچن تھا کہ مرکز میںبی جے پی سرکار بننے کے بعد کسانوںکی فصل میںآنے والی لاگت میں50 فیصد ملا کر انھیں فصل کی قیمت یقینیبنائی جائے گی۔ اگر بازار میںانھیںیہ قیمت نہیں ملتی تو سرکار ان کی فصل خود خرید لے گی۔ تقریباً چار سال بعد بھی سرکار کو یہ وعدہ یاد نہیںرہا۔ کسانوںکا کہنا ہے کہ جیسے دشینت ،شکنتلا کو بھول گئے تھے اور جب انھیںشکنتلا کو دی ہوئی انگوٹھی دکھائی گئی تب انھیں شکنتلا کی یاد آئی۔ اسی طرح کسانوںکو لگ رہا ہے کہ جب وہ بار بار وزیر اعظم مودی کو ان کا وچن یاد دلانے دہلی آئیں گے تو شاید انھیں اپنا وچن یاد آجائے۔ لیکن مرکزی سرکار کے اشارے پر ریاستی سرکار کسی بھی قیمت پر کسانوںکو دہلی نہیں آنے دینا چاہتی۔ جن ریاستوں میں کسانوںکو دہلی آنے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج ، جیل ، راستہ روکو وغیرہ قدم اٹھائے گئے، وہ سبھی ریاستیںبی جے پی کے زیر انتظام ہیں۔
بی جے پی کبھی بھی کسان حامی پارٹی نہیں رہی۔ اسے ہمیشہ تاجروںکی پارٹی مانا گیا لیکن اب تو تاجر بھی بی جے پی کے مکمل حامی نہیں ہیں۔ عام تاجروں کو بھی لگتا ہے کہ یہ سرکار عام کاروباریوں کی نہیں، بلکہ کچھ بڑے صنعت کاروں کے لیے کام کرنے والی سرکار ہے۔ شاید اسی لیے بی جے پی نے کسانوں کے مسائل کو ترجیح کی آخری فہرست میں رکھا ہے جس کا نمبر کبھی نہیں آنے والا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم آپ کو گھاگھ اور بھتری ہری کی یاد دلاتے ہیں۔ یہ دیہی مسائل کو سمجھنے والے ایسے سائنٹسٹ تھے جنھوں نے عام زبان میں آنے والے موسم، آنے والی مصیبت اور مستقبل میںکسانوں کے لیے پیدا ہونے والے مسائل کو آسان دوہوں میں لکھ دیا تھا۔ اب بھی گاؤ ں کے لوگ آنے والی آندھی اور طوفان کا علم آسمان میںبادلوںکو دیکھ کر اور بدلتے رنگ کو دیکھ کر اندازہ لگا دلیتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے؟
لیکن مرکزی سرکار میںآنے والے طوفان کو سمجھنے والے لوگ نہیں ہیں۔ شاید اسی لیے وہ آسمان پر لکھی وارننگ نہیں سمجھ رہے ہیں۔ بغیر کسی سیاسی مدد کے، بغیر کسی سیاسی پارٹی کی حمایت کے متحد ہونا، آندولن کرنا، دہلی کی طرف کوچ کرنا ایک بڑا اشارہ ہے کہ کسان اب لڑ ائی کے لیے اپنے آپ کھڑا ہورہا ہے۔ جہاں جہاں کسانوں کو روکنے کی کوشش ہوئی، وہیںو ہ دھرنے پربیٹھ گئے۔ وہیںروٹی بنانے لگے اور آس پاس کے گاؤںسے ان کے لیے روٹیاںبن کر آنے لگیں۔ اگر سرکار اس اشارے کو نہیںسمجھے گی تو بہت بڑی بھول کرے گی۔
سرکار یا سرکاریں یہ بتانا چاہتی ہیں کہ وہ پُرامن آندولن کو آندولن نہیں مانتی ہیں۔ وہ شاید دوسرے طریقے کو آندولن مانتی ہیں۔ جیسے گوجر سماج نے راجستھان میں دہلی – ممبئی ریل مارگ کو ہفتوں تک روک دیا تھا یا پھر جاٹ سماج نے اپنی مانگیں منوانے کے لیے افراتفری پھیلا دی تھی۔ جیسے اوڈیشہ میںنکسلیوں نے ضلع کے ضلع افسر کو اغوا کرکے اپنی مانگیںمنوا لی تھیں۔ سرکار کسانوںکو ایسے ہی قدموںکے لیے مجبور کررہی ہے۔ اس لیے میری سرکار سے درخواست ہے کہ وہ کسا نوں کے مسائل کو سنے اور انھیں فوری طور پر اپنے وچن کے مطابق لاگت میں 50 فیصد قیمت جوڑ کر قیمت دے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اسی کے ساتھ سرکار سارے ملک کے ہر بلاک میںلوگوںکو تھرمل کنٹرولڈ اسٹوریج ہاؤس بنانے کی اجازت دے تاکہ کسان اپنی فصل وہاںرکھ سکیں۔ اس اسٹوریج ہاؤس کو عوام بنائیں لیکن اس کا معیار سرکار طے کرے اور اس کا کرایہ اسٹوریج ہاؤس بنانے والے کو دے۔ اس کے ساتھ ہی سرکار ہر بلاک میں وہاں کی اہم پیداورا کو پروسیس کرنے والی صنعتی اکائی بنانے کی اجازت مقامی عوام کو دے ، تاکہ وہ بلاک میںہی اپنی فصل کے لیے بازار تلاش کرسکیں۔ ایسی حالت میںبڑا کاروبار کرنے والے لوگ بلاک تک پہنچیںگے۔
سرکار فوج، پولیس، سیکورٹی فورسیز اور اپنی سماجی اسکیموں کے لیے ٹھیکیداروں سے سامان خریدتی ہے۔ ا س کی جگہ سرکار سیدھے صنعتی اکائیوں سے اگر خرید کرتی ہے تو کروڑوںلوگوں کو روزگار مل جائیںگے اور لاکھوں صنعتیں کھڑی ہو جائیں گی۔ اس سے ملک کا صنعتی نقشہ بھی بدل جائے گا۔ اس کے لیے بازار نوازی یا نیو لبرل اکانومی والے راستے سے ہٹنا پڑے گا۔
اگر سرکار اب بھی کسانوں کے نقطہ نظر سے پوری معیشت کا تجزیہ نہیں کرتی تو اسے مستقبل میںبڑے بحرانوںکا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ دراصل یہی آسمان پر لکھا ہے۔
جتنا ہو سکے اتنا کسانوں کے اس غیر سیاسی آندولن کی حمایت کرنی چاہیے لیکن ہمارے نام نہاد نیشنل نیوز چینلز کو کسانوںکا یہ درد، کسانوں کا یہ آندولن، کسانوں کا یہ غصہ دکھائی نہیں دیتا ہے ۔ انھیں بھی مستقبل کے آسمان پر لکھی وارننگ یا آنے والے کسان طوفان کا اندیشہ نہیں ہے لیکن یہ ان کا مسئلہ ہے۔ کسان تو اپنے گھر سے دہلی کی طرف نکلنے کے لیے تیار ہوچکا ہے۔ اس کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اب کسانوںکے گھر کے نوجوان بچے اس آندولن کی قیادت کرنے کے لیے آگے آچکے ہیں۔ 22 اور 23 فروری کے کسان آندولن نے تو یہی دکھایا ہے۔ دیکھنا یہی ہے کہ کب سرکار آنے والے طوفان کے اشاروں کو سمجھ پاتی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *