ملک کواچھی سرکاراورمؤثرقیادت چاہئے

Manmohan-Singh-Narendra-Modi

میں ہندوستان کے تحفظ سے جڑے ایک گمبھیرموضوع پر قارئین کے ذہن کومتوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ مسئلہ ہندوستان کی پارلیمنٹ، حکومت ہند، خودوزیر اعظم، وزیرخزانہ اوروزیر دفاع سے متعلق ہے۔لیفٹیننٹ جنرل شرت چندرنے کہاہے کہ اگردشمن کے ساتھ مکمل جنگ لڑنے کی نوبت آئے، توہندوستانی فوج کے پاس صرف دس دن تک جنگ لڑنے کے جنگی سامان یعنی گولابارود ہے۔شرت چندر اگلے فوجی سربراہ ہونے والے ہیں اور ہندوستانی فوج کے سب سے سینئر افسرہیں۔انہو ںنے جنرل راوت کی طرح یہ بیان اخبار میں نہیں دیاہے، بلکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے کہا ہے ۔
اب آئیے اس کے بیک گراؤنڈ پربھی نظر ڈالتے ہیں، کیونکہ اگرمجرموں کو نہیں تلاشا گیا، تویہ لوگ ملک کوبیچ دیں گے۔ یہ لوگ دیش بھکتی کا نام لیتے ہے، لیکن دیش کوبیچنے کیلئے۔اس سے پہلے ہندوستانی فوجیسربراہ نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کوایک خط لکھا تھاکہ فوجکی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ہندوستان کی فوج کے پاس صرف دس دن تک لڑنے کیلئے گولہ بارود ہے۔ اگرہمارے اوپر پاکستان حملہ کردیتاہے ، تب ہم گیارہویں دن جنگ نہیں لڑپائیں گے۔ موجودہ فوجی سربراہ نے بیحدخفیہ خط لکھاتھا، جسے پریس میں لیک کردیاگیا اور پار لیمنٹ میں ارکان زور زورسے چلا رہے تھے کہ فوجیسربراہ دیش دروہی ہے۔ اس نے وزیراعظم سے دیش کی کمزوری کی بات کی۔ فوجی سربراہ اگر وزیراعظم کوخط نہیں لکھے گا، توکسے لکھے گا؟ کیا یواین اوکے جنرل سیکریٹری کولکھے گا؟ وزیراعظم دفترنے جان بوجھ کراس خط کو لیک کردیا۔اس وقت کے فوجی کے خلاف پارلیمنٹ میں الزام لگے۔

 

 

 

اس کے بعدجنرل وکرم سنگھ آئے۔ انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔ایسا جنرل ہندوستانی فوج کوبہت کم ملاہے، جس کے گھرمیں پاکستانی آریجین کی خاتون بہوبن کر بیٹھی ہوئی ہے۔ کبھی ایسے شخص کوفوجی سربراہ نہیں بنایاجاتا، لیکن وہ منموہن سنگھ کی بیوی کی رشتے دارتھی، اسلئے ان کوفوجیسربراہ بنا دیا گیا ۔اس کے بعدجنرل دلبیرسنگھ سہاگ آئے، جن کے اوپر نارتھ -ایسٹ میں لوٹ اورقتل کاالزام تھا۔ یہ سب منموہن سنگھ کے دورمیںہوا۔اس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکارآئی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار ان چیزوں سے واقف تھی، کیونکہ یہ سبھی جانکا ریاں ارون جیٹلی اورنریندرمودی جی کے پاس تھیں۔
ہم نے اپنے اخبار ’چوتھی دنیا‘ میں یہ اسٹوری کی کہ ہندوستانی فوجکے پاس دس دن سے زیادہ جنگ لڑنے کی صلا حیت نہیں ہے،گولہ بارود نہیں ہے۔ اگر گولہ -بارود نہیں خریداگیا توہم صرف اپنے سپاہیوں کا سرہی کٹائیں گے ۔اس سرکار نے رافیل خریدا، اسرائیل سے بڑے بڑے ہتھیار خریدے، لیکن گولہ بارود نہیں خریدا، جوآمنے سامنے کی لڑائی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس میں کمیشن کم تھا، اس میں کمیشن زیادہ ہے۔ میں جان بوجھ کرالزام لگا رہا ہوں، نہیں تویہ کیسے ہوسکتاہے کہ مارچ 2018میں لیفٹیننٹ جنرل شرت چندر، جوفوجکے سب سے ایماندار اوراچھے افسروں میں جانے جاتے ہیں، نے بیباکی سے پارلیمانی کمیٹی سے کہاکہ ہمارے پاس دس دن سے زیادہ جنگ لڑنے کے جنگی سامان نہیں ہیں۔

 

 

 

 

 

 

ایک طرف منموہن سنگھ کواس وقت کے فوجیسربراہ لکھتے ہیں کہ دس دن سے زیادہ ہمارے پاس جنگی سامان نہیں ہیں۔منموہن سنگھ کا دفترفوج سربراہ کے خلاف اس خط کولیک کردیتاہے ۔ یہ توملک کی مخالفت کامعاملہ تھا۔ 2019میں بی جے پی پھرسے الیکشن لڑنے جارہی ہے۔اس وقت بھی وہی حالت ہے کہ دس دن سے زیادہ لڑنے کے لائق گولہ بارود نہیں ہے۔ اس کا مطلب وہ کونسی طاقت ہے، جو پاکستان اورچین کے حق میں ہے؟ ہندوستان کی طاقتکے ساتھ کھلواڑکرنا چاہتی ہے۔ برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی سے جڑے ہوئے لوگ بیوقوں کی طرح صرف بھارت ماتاکی جئے ، بھارت ماتا کی جئے چلاتے ہیں۔ صرف بھارت ماتا کی جئے چلانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ بھارت ماتا کی جئے تبھی ہوگا جب دیش کی فوج طاقتور ہوگی، گولہ بارود ہوگا، جنگ لڑنے کی صلاحیت ہوگی۔ ٹیلی ویزن چینل پر چلاتے ہیں کہ پاکستان کے اوپر حملہ کردو، پاکستان سے کب بدلا لوگے؟ معاف کیجئے گا، اب ان کو کس قسم کا ٹیلی ویزن چینل کہوں؟ٹیلی ویزن چینل کے اینکرس ملک کی حالت نہیں سمجھ سکتے ہیں۔ ان کے پاس انویسٹی گیشن کی صلاحیت بھی نہیں ہے۔ انہیں بس کسی طرح ہندوستان کی میڈیا کا ’سرمور‘بننے کا موقع مل گیاہے۔ وہ ٹیلی ویزن پر چلاتے ہیں کہ پاکستان کے اوپر حملہ کردو۔ سیناکے پاس 10 دن سے زیادہ لڑنے کا گولہ بارود نہیں ہے اورہم پاکستان سے جنگ لڑنے کی بات کرتے ہیں۔ چین سے لڑنے کی ہمت نہیں ہوتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

ملک کواچھی سرکار اورمؤثر قیادت چاہئے ۔ معاف کیجئے گا، منموہن سنگھ اور نریندرمودی جیسا وزیراعظم نہیں چاہئے، جواپنی فوجی کولڑنے کیلئے دس دن سے زیادہ گولہ بارود دینے میں ہچکچا رہا ہے ۔ یہ سرکار چین اورپاکستان کے ہاتھوں دیش کی سالمیت کا سودا کررہی ہے۔ دیش کے فخر کا سودا کررہی ہے۔ ہم بھی راشٹربھکت ، دیش بھکت اورگئو بھکت ہیں، لیکن ہمیں ہندوستان کا دشمن بتایا جاتاہے ۔لیکن اصلی دیش دروہیوں کولیفٹیننٹ جنرل شرت چندر کا بیان پڑھ کر بھی شرم نہیں آتی ۔ ارکان پارلیمنٹ کو اتنی فرصت نہیں کہ وہ یہ دیکھیں کہ فوج کو کس چیزکی ضرورت ہے۔ فوج کوکپڑوں کی ضرورت ہے۔ گولہ بارود کی ضرورت ہے، اچھے کھانے کے سامان کی ضرورت ہے، جس سے جوان بیمارنہ پڑیں۔ دوائیوں کی ضرورت ہے، تاکہ ان کی بیماری کا خاتمہ ہوسکے ۔ فوج کو رافیل نہیں چاہئے، لیکن سرکا رکئی گنا زائد قیمت دے کر رافیل خرید تی ہے اور ملک کوبیوقوف بناتی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل شرت چندر کا بیان ہمارے سرکو شرم سے جھکا دیتا ہے ۔ میڈیا کے منہ پرطمانچہ مارتاہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ میڈیا کے لوگوں کوکوئی عقل ہی نہیں ہے کہ وہ سمجھ سکیں کہ دیش کیاہے؟ اس دیش کی فوج کا درد کیا ہے؟ سینا سیاست نہیں کرتی ، اسلئے کبھی کبھی حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ اگرارکان پارلیمنٹ میں ذرا بھی خودمیں احترام ہے، سمجھ ہے، دیش کے تئیں احترام ہے، توانہیں فوراً جے پی سی کی تشکیل کی مانگ کرنی چاہئے۔ جے پی سی یہ پتہ لگائے کہ یہ کیسے ہوا؟ منموہن سنگھ کے دورمیں بھی دس دن کا گولہ بارود تھا اورآج بھی لیفٹیننٹ جنرل ارکان پارلیمنٹ کی کمیٹی کے سامنے کہتے ہیں کہ صرف دس دن کا ہتھیارہے۔ ہمارے پاس جانکاری آرہی تھی اورہم نے اس پررپورٹ بھی کی تھی۔ باقی لوگوں کی آنکھیں بند ہوگئی تھیں، کیونکہ وہ چمچے ہیں، جوصرف دیش بھکتی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ایسے لوگ ہی ملک مخالف ہیں۔ صرف گلا پھاڑنے سے دیش کی حفاظت نہیں ہوتی۔

 

 

 

 

جن حقائق کا خلاصہ ہواہے، وہ اتنے خطرناک ہیں کہ ہمیں لگتاہے کہ حفاظتی تعلقات کیلئے کئے گئے سبھی وعدے کھوکھلے ہیں۔لیفٹیننٹ شرت جنرل نے کہا تھا کہ فوجی کے لئے مختص کردہ 21388کروڑروپے کا بجٹ ناکافی ہے۔ اس بجٹ سے سینا کا جدیدیت تودور، فوج کے چل رہے 135 پروجیکٹوں کو پورا کر پانا بھی مشکل ہوگا۔ وزیردفاع، وزیرخزانہ اوروزیر اعظم کوفوجکی باتوں پرشرم کرنی چاہئے۔ فوجکے پروجیکٹ میں میک ان انڈیا پروگرام کے تحت ایڈوانس بختربندگاڑیوں کے پیداوار کا پرو جیکٹ بھی شامل ہے۔ یہ بات ایک لیفٹیننٹ جنرل ذمہ داری کے ساتھ ارکان پارلیمنٹ سے کہہ رہا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کے رپورٹ میں یہ خلاصہ ہوا ہے کہ ہندوستانی فوج کے پاس مہیا68فیصد ہتھیار پرانی تکنیک کے ہیں، جبکہ پرانی ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں کا اوسط 33فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہئے۔ اتنے پرانے اور گھسے پٹے ہتھیاروں کے بوتے ہندوستانی سینا اپنی کتنی اورکیسی حفاظت کرے گی؟
اس کا مطلب ہے کہ سرکار میں کچھ ایسی طاقتیں ہیں، جو چین اورپاکستان سے پیسہ لے رہی ہیں۔ یہ لوگ دیش کومضبوط بنانے کی جگہ سارا پیسہ ان پروجیکٹوں پر خرچ کررہے ہیں، جن سے جنگ نہیں لڑسکتے۔ یہ لوگ زیادہ قیمت دیکر رافیل خرید رہے ہیں، جبکہ رافیل کمپنی سعودی عرب اور قطر کوبہت کم قیمت پر رافیل بیچ رہی ہے۔ سرکار سیناکیلئے سب سے ضروری چیز گولہ بارود نہیں خرید رہی ہے۔ یہ لوگ فوجکے جوانوں کیلئے جوتے اورکپڑے نہیں خرید رہے ہیں۔ جوانوں کواچھا کھانا نہ دیکر رافیل خرید رہے ہیں۔ مبارک ہیں، دیش بھکت ، دیش کوبدلنے والی اوراچھے دن لانے والی سرکار کا سینا کے ساتھ ے سلوک۔ سینا کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والی سرکار کوشرم آنی چاہئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *