سرحد پر تنائو مستقل مسئلہ بن گیا ہے

loc

پچھلے کچھ ہفتوںسے ایل او سی اور انٹرنیشنل بارڈر پر ہندوستان اور پاکستان کے بیچ ہو رہی بھاری گولہ باری سے پریشان لوگ تنگ آکر اب کہنے لگے ہیں کہ ’یا تو سیدھی جنگ لڑ لو یا پھر روز روز کی فائرنگ بند کرو‘۔ہر دوسرے دن بندوقوں کی گڑگڑاہٹ اور بھاری گولہ باری یہاں رہنے والے ہزاروں لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔2003 میں دونوں ملکوں کے بیچ ہوئی جنگ بندی کے بعد سے تازہ تنائو سے پہلے لوگ گھل مل کر پُرامن زندگی گزار رہے تھے لیکن یہ چیز اب گزشتہ دنوں کی بات بن گئی ہے۔
روزانہ ’جنگ بندی ‘ کی خلاف ورزی کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن جنگ بندی کی خبریں حقیقت سے دور لگتی ہیں۔ ایسا اس لئے کیونکہ زمینی سطح پر پچھلے دس برسوں میں کبھی بھی جنگ بندی رہی ہی نہیں۔ 2018 کی ابتدا میں فائرنگ اور گولہ باری میں بھاری اضافہ ہوا ہے جس کے سبب نہ صرف زمینی اور مالی نقصان ہوا ہے ،بلکہ ہزاروں لوگ بے گھر بھی ہوئے ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں کی صورت حال 2003 سے پہلے کی کہانی کہتی ہے۔ پاکستانی سائڈ میں سرکاری طور پر لائن آف کنٹرول کے پاس کے گائوں کو خالی کرنے کا اعلان لائوڈ اسپیکر سے کیا گیا۔
چونکہ ڈیوائڈنگ لائن دونوں طرف کے باشندوں کے بہت قریب ہیں،اس لئے کشمیر کی طرف کے لوگوں نے بھی پاکستانی سائڈ سے ہو رہے اعلان کو سنا اور فوری طور پر اپنے گھر سے باہر نکلنا شروع ہو گئے۔یہ منظر 2000 سے 2003 کے بیچ کی حالت کی یاد دلاتا ہے۔ اوری کے سرحدی علاقوں میں جا کر کوئی بھی وہاں کے لوگوں کے چہرے پر ڈر دیکھ سکتا ہے۔ جموں ڈویژن کے راجوری اور نوشیرا علاقوں میں بھی ایسا ہی ہے، جہاں پچھلے 10 مہینوں کی گولی باری میں 6 شہریوں کی موت ہو چکی ہے ۔دونوں فریقوں کے بیچ جھڑپ میں 105 ایم ایم لائٹ گن، بھاری 120 ایم ایم مورٹار اور اینٹی ٹینک گائڈیڈ میزائیل کا استعمال کیا جاتاہے۔

 

 

 

جن لوگوں نے دسمبر 2001 کے پارلیمنٹ کے حملے کے بعد سرحد پر تنائو کا تجزیہ کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ابھی تک کی سب سے خراب حالت ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں طرف سے فوج کے پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایسے میں سول ایریا میں گولے آکر گرتے ہیں۔ پچھلے دو مہینوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی ، سرکاری ذرائع کے مطابق 400 کا عدد پار کر چکی ہے۔
198 کلو میٹر کے جموں و کشمیر (پاکستان کے مطابق ورکنگ بائونڈری ) میں سیز فائر ، 778 کلو میٹر کے ایل او سی اور سیاچن میں 110 کلو میٹر گرائونڈ پوزیشن کی حالت 2008 تک بنا کر رکھی گئی تھی، جب ممبئی میں دہشت گردانہ حملے ہوئے۔ اس حملے میں کلی طورپر پیس پروسیس کو متاثر کیا گیا۔2017 میں سیز فائر کی خلاف ورزی کے 1000معاملے درج کئے گئے اور صورت حال سرجیکل اسٹرائک پر پہنچ گئی۔ ستمبر 2016 میں اوری میں بریگیڈ دفتر پر حملے کی وجہ سے ہندوستان کے ذریعہ ایل او سی میں گھس کر سرجیکل حملے ہوئے تھے۔
جموں و کشمیر کے لئے 2017 ایک خونی سال رہا۔ تشدد بڑھ گیا تھا اور یہاں تک کہ فوج اور نیم فوجی دستوں کو بھی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ لڑائی میں 124 مسلح دستوں، 217 دہشت گردوں، 108 شہریوں سمیت 450 سے زیادہ لوگ مارے گئے ۔ 2017 میں اگر ایل او سی کے پاس فوج کے 32جوان ہڑتال شہید و زخمی ہوئے، وہیں دہشت گردوں سے لڑنے کے دوران ہنٹر لینڈ میں بھی 30 جوان شہید ہوئے۔
ہندوستانی سرکار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کائونٹر اٹیک میں 2017 میں لگ بھگ 130 سے 140 پاکستانی فوجی مارے گئے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے معاملے میں بتدریج جنگ ہوئی ہے۔ 2014 میں بی جے پی سرکار آئی۔ دونوں ملکوں کے بیچ رشتوں میں ترشی بڑھی ۔سال 2017 سبھی طریقوں سے سب سے خراب تھا۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی میں 230 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ 19دسمبر 2017 کو لوک سبھا میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں عالمی سرحد پر 110 سیز فائر کی خلاف ورزی ہوئی جو چار سال میں سب سے کم تھی۔ اسی طرح پاکستان نے الزام لگایا کہ ہندوستان نے 1300 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔

 

 

 

 

یہ پیٹرن برے یا اچھے وقت میں برابر رہاہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ہیپی مان جیکب کے مطابق، اعدادو شمار واضح ہیں۔ سرحد پر امن اور تعمیری بات چیت کے درمیان واضح رشتے ہیں۔ 2017 میں یونائٹیڈ اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ فار پیس کو دی گئی اپنی رپورٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اولین وجہ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ کی سیاسی لڑائی ہے۔ دونوں ملکوں کو ایسے قدم اٹھانے چاہئے تاکہ ایسے معاملوں کا مینجمنٹ بہتر ڈھنگ سے کرنے کے لئے سسٹم بنایا جاسکے۔
2003بلا شبہ سرحد کے لئے سب سے پرامن سال تھا ۔کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک ہم آہنگی شروع ہوئی تھی۔یہ زمین پر بھی دکھائی دی۔ اس سال سیز فائر خلاف ورزی کی صرف دو اطلاع آئی لیکن 2002 سب سے خراب سال تھا جب دونوں طرف سے سیز فائر خلاف ورزی کے تقریباً 5800 معاملے سامنے آئے تھے۔ 2001 میں 4134، 2004 میں 4، 2005 میں 6، 2006 میں 3، 2007 میں 21 اور 2008 میں 86 سیز فائر کی خلاف ورزی کے معاملے آئے۔ پھر کچھ وجوہات سے 2009 میں 35 معاملوں کے ساتھ گراف نیچے آیا لیکن یہ پھر 2010 میں اوپر گیا۔ 2010 میں 70، 2011 میں 62 اور 2012 میں 114 سیز فائر خلاف ورزی کے معاملے سامنے آئے۔2013 میں یہ اضافہ جاری رہا اور 347 معاملے سامنے آئے۔اس میں 2014 میں 583، 2015 میں 405 اور 2016 میں 449 تک یہ معاملہ پہنچ گیا۔( ذرائع یو ایس آئی پی پیپر )۔
جیسے کہ صورت حال بد سے بدتر ہوتی گئی، ایسے میں دونوں ملکوں کے بیچ لگ بھگ کوئی رابطہ نہیں ہے۔یہ صورت حال لوگوں کا درد بڑھا رہی ہے۔اگرچہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر پچھلے سال دسمبر میں بینکاک میں ملے لیکن اس سے کوئی خاص پروگریس نہیں ہوا۔ سرحد پر تنائو ایک مستقل مسئلہ بن گیا ہے۔ اگر دونوں طرف سے اس پر پابندی نہیں لگائی جاتی ہے تو 2018 سرحد کے لئے اور بھی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *