سپریم کورٹ نے ملک میں دو بچوں کی پالیسی سے متعلق داخل عرضی کوخارج کیا

ٹوچائلڈپالیسی کولیکرداخل عرضی پرسماعت کرنے سے سپریم کورٹ نے انکار کردیاہے۔یعنی سپریم کورٹ نے ملک کی بڑھتی آبادی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے دو بچے کی پالیسی اپنانے کے لئے رہنما ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کرنیو الی عرضی خارج کردی ہے ۔سپریم کورٹ نے عرضی کوخارج کرتے ہوئے کہاکہ ایک پالیسی معاملہ ہے۔اسے کورٹ طے نہیں کرسکتا۔ عرضی جیون بچاؤ آندولن کے قومی کنوینر انوپم واجپئی نے اپنے وکیل شیو کمار ترپاٹھی کے ذریعہ دائر کی تھی ۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ ملک میں ہر پریوار میں بچوں کی تعداد دو تک محدود کرنے کی تجویز پیش کرنا چاہئے۔
عرضی میں کہا گیاتھا کہ سرکار کو مختلف فلاحی منصوبوں کا فائدہ صرف انہیں لوگوں کودینا چاہئے جو دو بچوں کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ چین کے بعد بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ۔ اس لئے ملک میں قدرتی وسائل جیسے کہ پانی ،ہوا اور غلہ وغیرہ کا شدید دباؤ ہے ۔ غریبی اور بھک مری میں اضافہ ہو رہا ہے اور جنگلاتی میدانوں میں کمی ہو رہی ہے ۔ بھارت میں دنیا کا صرف دو فیصد جنگلی علاقہ ہے جبکہ اس کی آبادی دنیا کی کل آبادی کی 18فیصد ہے ۔ عرضی میں چین کے ذریعہ آبادی کم کرنے کے لئے بچے کی تعداد کم کرنے کے عمل کو اپنانے کی مثال دی گئی تھی ۔

 

یہ بھی پڑھیں  عزت کے ساتھ اپنی مرضی سے موت کی سپریم کورٹ نے دی مشروط اجازت

 

عرضی میں کہا گیا تھا کہ چین پچھلے بیس سال میں تقریباً 300 ملین آبادی میں اضافے کو روکنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ وہاں اس کے لئے مختلف طریقوں کو اپنایا گیا ہے ۔ چین میں پیدائش پر کنٹرول کے طور پر نسبندی اور اسقاط حمل شامل ہیں۔عرضی میں ملک کے ہر پریوار کے لئے دو بچے کے ماڈل کو اپنانے کیلئے ایک قابل عمل قانون بنانے کا مرکز کو رہنما ہدایات جاری کرنے کامطالبہ کیا گیا تھا ۔ عرضی گزار نے کہا تھا کہ آندھر پردیش ،راجستھان،اڑیشہ،مہاراشٹر اور راجستھان میں پہلے سے ہی دو بچوں کی پالیسی اپنائی جا چکی ہے اور یہاں اس کا فائدہ بھی ملا ہے ۔ اسی پالیسی کوملک بھر کے لئے بڑھایا جانا چاہئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *