اسٹیفن ہائو کنگ:رموز کائنات کے محقق سے دنیا محروم

Stephen-Hawking-Passed-Away

گزشتہ 14 مارچ 2018 کو 55 برس سے مستقل موٹر نیورون کے موذی مرض میں گرفتار اور وہیل چیئر پر زندگی گزار رہے موجودہ دنیاکے سب سے بڑے سائنس داں اسٹیفن ہائوکنگ کے انتقال سے سائنس بلا شک و شبہ یتیم ہوگئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نیوٹن اور آئنسٹائن کی طرح اپنے وقت کی سائنس کے بے تاج بادشاہ تھے۔ علم کائنات پر تفکر و تدبر کے لئے یہ جانے پہنچانے جاتے تھے۔ان کی کئی کتابیں ہیں جن میں ’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘ سب سے معرکۃ الآراء ہے جو کہ 35 زبانوں میں ترجمہ ہوکر ایک کروڑ سے زیادہ فروخت ہوچکی ہے۔ ان کی حیات و خدمات پر 2014 میں دو فلمیں بن چکی ہیں اور بہت مقبول ہوئی ہیں۔
رموز کائنات پر یہ ہر وقت اپنے وہیل چیئر پر سوچتے رہتے تھے اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کی یہ تمام تحقیق وہیل چیئر پر لیپ ٹاپ اور دور بین کے ذریعے ہوتی تھی۔ ان کی پہلی تحقیق یہ تھی کہ بلیک ہولز ریڈیئشن خارج کرتے ہیں۔ اس تحقیق نے علم کائنات میں انقلاب بپا کردیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی اس تحقیق کا نام ’ ہائوکنگ ریڈیئشن ‘ پڑ گیا۔ ان کی دوسری بڑی تحقیق یہ تھی کہ انہوں نے جارج گیموکے ’ بیگ بینگ ‘ ہائو پو تھیسس کی تصدیق کردی جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ موجودہ کائنات کبھی ’بڑے دھماکہ ‘سے وجود میں آئی ہے۔ان کی یہ تصدیق صرف جارج گیمو کی ہائیپو تھیسس کی تصدیق نہیں تھی بلکہ قرآن کریم کی اس آیت کی تصدیق تھی جس میں واضح طور پر کہا گیا تھاکہ یہ کائنات کن فیکن سے بڑے دھماکہ کے ساتھ وجود میں آئی ہے۔ کئی برسوں کے بعد انہوں نے اس پر نظر ثانی کی مگر آخری وقتوں میں پھر اس کے قائل ہوگئے۔
اسٹیفن ہائوکنگ کو صد فیصد یقین تھا کہ اس کائنات میں صرف کرہ ارض پر ہی انسان جیسی مخلوق نہیں ہے بلکہ ایسے متعدد کرہ ہیں جہاں انسان سے بھی زیادہ ذہین مخلوق پائی جاتی ہیں۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انہوں نے ابھی حال میں بنی نوع انسان کو خبردار کیا تھا کہ جس روز دوسرے کرہ کی مخلوق سے ان کا انکائونٹر ہوگا، وہ ان کے لئے زوال کا باعث بنے گا۔
اسٹیفن ہائوکنگ نے جنوری 2001 میں 16دنوں کا ہندوستان کا دورہ کیا تھا اور اپنے دورہ کے دوران ہندوستانیوں کی ان کی ریاضی اور فزکس میں مہارت کے لئے خوب تعریف کی۔یہ اس دوران دہلی اور ممبئی میں کئی اہم کانفرنسوں میں شریک ہوئے۔ دہلی میں17جنوری 2001 کو سیری فورٹ آڈیٹوریم میںپورا ہال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا اور ہال کے باہر درجنوں اسکرین لگے ہوئے تھے۔ کئی لاکھ لوگ اپنے زمانے کے سب سے بڑے سائنس داں کے دیدار کے لئے امڈ پڑے تھے۔سچ بھی یہی ہے کہ جس نے انہیں اس دوران دیکھا ،وہ خوش ہیں کہ اس نے اپنے دور کے نیوٹن یا آئنسٹائن کو دیکھ لیا۔
دورہ ہند کے دوران انہیں راشٹر پتی بھون بلایا گیا جہاں صدر جمہوریہ ہند نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ان تمام لوگوں کے لئے جو جسمانی طور پر کسی نہ کسی طرح معذور ہیں، امید اور انسپائریشن کے نشان ہیں‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *