بہار کے ضمنی انتخابات سیاسی ہوا کے رُخ کو بتائیں گے

بہار میں ضمنی انتخابات کی سرگرمی اب زور پکڑنے لگی ہے۔ ریاست کے ارریہ پارلیمانی انتخاب کے ساتھ ساتھ جہان آباد اور بھبھوا اسمبلی انتخابی حلقوںکے لئے اگلے مہینے کی 11 تاریخ کو ووٹنگ ہونی ہے۔ ان حلقوں کے ووٹوں کی گنتی 13مارچ کو ہوگی۔ ان ضمنی انتخابات کے لئے امیدواروں کے ساتھ ساتھ دیگر سبھی دعویدار میدان میں تال ٹھونک رہے ہیں۔ برسراقتدار گٹھ بندھن میں ارریہ اور بھبھوا بی جے پی کے حصے میں ہیں تو جہان آباد سیٹ جنتا دل یو کے کھاتے میں دی گئی ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں ارریہ اور جہان آباد سے راشٹریہ جنتا دل نے اپنے امیدوار دیئے ہیں اور بھبھوا میں کانگریس اپنی قسمت آزما رہی ہے۔ ان کے علاوہ بائیں محاذ ور دیگر پارٹیوں کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔
حالانکہ تینوں ضمنی انتخابات میں برسراقتدار اور اپوزیشن کے گٹھ بندھن ہی آمنے سامنے کی ٹکر میں ہیں ۔ برسراقتدار گٹھ بندھن میں جہان آباد سیٹ کو لے کر کافی دلچسپ سیاسی کھیل چل رہا تھا۔ کس پارٹی نے اپنے امیدوار میدان میں اتارے، فیصلہ نامزدگی کی مقررہ تاریخ سے کچھ ہی پہلے ہو سکا۔ برسراقتدار گٹھ بندھن میںجہان آباد کا مسئلہ’’ آپ لیں ،نہیں آپ لیں ‘‘ جیسا بن گیا ہے اور ضمنی انتخاب میں حصہ نہ لینے کے عوامی اعلان ہونے کے باوجود یہ جنتا دل یو کو تھما دیا گیا ۔ حالانکہ بھبھوا سیٹ کو لے کر اپوزیشن اتحاد میں بھی ہلکا تنائو بنا تھا۔ لیکن اسکے لیڈروںنے تنازع کی ہوا بننے سے پہلے ہی آسانی سے مسئلے کو سلجھا لیا۔ یہ سیٹ کانگریس کے حصے میں دے دی گئی۔
تسلیم کے بیٹے کی دل بدلی
ارریہ پارلیمانی حلقہ سے راشٹریہ جنتا دل نے آنجہانی ممبر پارلیمنٹ محمد تسلیم الدین کے ایم ایل اے بیٹے سرفراز عالم کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ سرفراز جنتا دل یو کے امیدوار کے طور پر سوا دو سال پہلے ایم ایل اے بنے تھے ۔ راجدھانی ایکسپریس میں غیر مجاز طور پر سفر کرنے اور خاتون مسافر سے بدسلوکی کے الزام میں جنتا دل یو نے انہیں پارٹی سے برخاست کر دیا تھا۔ اب پارٹی اور اسمبلی کی ممبر شپ سے استعفیٰ دے کر وہ اپنے والد کے ادھورے کاموں کو پورا کرنے راشٹریہ جنتا دل میں آگئے ہیں۔یہاں ان کا مقابلہ بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ سے ہے جو پچھلے پارلیمانی انتخاب (2014کی مودی لہر)میں تیسرے مقام پر رہے تھے۔ جہان آباد اسمبلی حلقہ سے راشٹریہ جنتا دل نے آنجہانی مندریکا سنگھ یادو کے بیٹے سودَے یادو کو ٹکٹ دیا ہے۔ مندریکا سنگھ یادو کی موت کے سبب ہی یہاں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ یہاں جنتا دل یو نے سابق ایم ایل اے ابھیرام شرما کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ پچھلے الیکشن میں ابھیرام شرما سے یہ سیٹ لے کر نتیش کمار نے راشٹریہ جنتا دل کو دے دی تھی۔ بھبھوا میں بی جے پی نے آنجہانی ایم ایل اے کی بیوہ رنکی رانی پانڈے کو امیدواربنایا ہے۔ محترمہ پانڈے کا مقابلہ کانگریس کے شمبھو سنگھ پٹیل سے ہے۔ امیدواربنانے میں راشٹریہ جنتا دل ہو یا بی جے پی ،دونوں پارٹیوں نے ہمدردی کے فیکٹر کو مرکز میں رکھا ہے۔ تسلیم الدین کی سیاسی شبیہ سیمانچل کے علاقے میں قدآور لیڈر کے طور پر رہی۔ اس علاقے کے کچھ سماجی گروپوں پر ان کی گہری پکڑ رہی تھی۔ اسے بھنانے کے لئے ہی راشٹریہ جنتا دل نے سرفراز پر ڈورے ڈالے اور انہیں جنتا دل یو سے اپنے پالے میں جھٹک لیا۔ جہان آباد میں بھی سودے یادو کی امیدواری کا یہی سبب تھا۔ بھبوا میں بھی بی جے پی نے ہمدردی فیکٹر کا فائدہ حاصل کرنے کی پالیسی کے تحت ہی ایک گھریلو عورت کو میدان میں اتار دیا۔
اس ضمنی انتخاب کو لے کر برسراقتدار جنتادل یو ، بی جے پی (این ڈی اے ) کے کئی اندرونی تنازع سامنے آئے۔ جنتا دل یو نے ضمنی انتخاب کی تاریخ کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی اعلان کر دیا کہ اس میں وہ اپنے امیدوار نہیں اتارے گا۔ سرکاری طور پر یہ کہا گیا کہ ان تینوں میں سے کوئی سیٹ جنتا دل یو کی نہیں ہے، لہٰذا یہ ساری سیٹیں وہ اپنے این ڈی اے اتحادیوں کے لئے چھوڑ رہا ہے۔ پارٹی کی اس دلیل کو ریاست کے سیاسی حلقوں میں ضمنی انتخابات سے کنارہ کرنے کی پالیسی کے طور پر لیا گیا۔ ایسی سیاسی جوابدہی کے اصلی کیا سبب تھے؟یہ بہتر تو نتیشکمار یا پارٹی کے ریاستی صدر وششتھ نارائن سنگھ یا کچھ خاص جنتا دل یو لیڈر ہی بتا سکتے ہیں ۔لیکن پارٹی کے گلے جہان آباد کی سیٹ ڈال دی گئی اور اس نے قبول بھی کرلیاہے۔اس واضح منظوری کا بھی بہتر خلاصہ یہ لیڈر ہی کر سکتے ہیں۔ اس پورے معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے جو بہار کی سیاست کے جانکار کو پتہ ہے۔ جہان آباد کے جنتا دل یو امیدوار ابھی رام شرما بہار کی سیاست کے کس گروپ سے جڑے رہے ہیں، یہ لگ بھگ سبھی جانتے ہیں۔یہ گروپ جنتا دل یو کی اعلیٰ قیادت کا خاص مانا جاتاہے۔ جو بھی ہو، اب جنتا دل یو جہان آباد اسمبلی انتخابی حلقہ سے میدان میں ہے اور اسکے لیڈر ،کارکن اپنے امیدوار کے حق میں اتر گئے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جہان آباد سیٹ
جہان آباد اسمبلی سیٹ جنتا دل یو کو اس لئے ملی کہ این ڈی اے میں بی جے پی کی حیثیت بڑے بھائی کی ہے جس کی اندیکھی این ڈی اے کا کوئی اتحادی نہیں کرسکتاہے۔ این ڈی اے میں یہ سیٹ عموما ً راشٹریہ لوک سمتا پارٹی ( رالوسپا ) کی بنتی تھی، پچھلے اسمبلی الیکشن میں اس کے کھاتے میں ہی یہ آئی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ دو پریشانی تھی۔ پہلی پریشانی اس کی اپنی رہی، تو دوسری بی جے پی کی غیر اعلانیہ پالیسی۔ رالوسپا گزشتہ اسمبلی انتخابات کے کچھ مہینوں بعد انا کی لڑائی میں دو دھڑے میں بٹ گئی ہے۔ ایک دھڑا مرکزی وزیر مملکت اوپندر کشواہا کے ساتھ ہے، تو دوسرا دھڑا جہان آباد رکن پارلیمنٹ ارون کمار کے ساتھ۔ اب دونوں میں کوئی تال میل نہیں رہا ہے اور دونوں سیاسی فائدہ کے مواقع پر اپنے اپنے دعوے پیش کرتے رہے ہیں۔ بی جے پی کی بڑے بھائی کی حیثیت کو اس سے طاقت ملی اور اس نے دونوں کو چھوڑ کر سابق وزیراعلیٰ جیتن رام مانجھی کی ہندوستانی عوام مورچہ (ہم ) کو غیر سرکاری طور پر انتخاب لرنے کے لئے ہوا دے دی، مانجھی تیار بھی ہو گئے لیکن ذرائع پر بھروسہ کریں تو ان کے ساتھ نیابحران پیدا ہو گیا۔
رالوسپا کے جہان آباد رکن پارلیمنٹ ارون کمار نے پہلے تو اپنے دھڑے کے لئے سیٹ پر دعویٰ ٹھونک دیا لیکن بی جے پی کے رخ کو بھانپ کر بعد میں ’’ہم ‘‘کے لئے دعویٰ واپس لے لیا۔ لیکن ان کی غیر اعلانیہ شرط تھی کہ’’ ہم‘‘ سے اگر ان کے بھائی انیل کمار کو امیدوار بنایا جائے تو وہ حمایت دیںگے۔ ارون کمار جس سماجی گروپ سے آتے ہیں، اس کی وقعت بڑی ہے۔ حالانکہ یہ کہنامشکل ہے کہ اس گروپ پر ان کی پکڑ کتنی مضبوط اور کس سطح کی ہے لیکن انتخابی دعویدار ی کے لئے غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کے خیال سے یہ کافی تھا۔
اس سیاسی ماحول میں جیتن رام مانجھی نے اپنے دعوے کو مستحکم کرنا ہی بہتر سمجھا۔ انہوں نے بی جے پی کو صاف منع کر دیا۔ حالانکہ بی جے پی نے مانجھی کو منانے کی کوشش کی، ریاستی بی جے پی کے صدر نتیا نند رائے ان کے گھر تک گئے لیکن مانجھی نہیںپگھلے ۔ جہان آباد کے سماجی اتحاد میں اس دبنگ سماجی سوچ کے عدم اطمینان کو جھیل پانے میں وہ خود کو بے بس پارہے تھے جس کی نمائندگی کرنے کا رکن پارلیمنٹ ارون کمار دعویٰ کرتے ہیں۔اس صورت حال کا غیر اعلانیہ انتظار بی جے پی کے بڑے اور اہم لیڈروں کو تھا۔ یہ بات کسی سے بھی چھپی نہیں ہے کہ مرکزی وزیر مملکت اوپندر کشواہا کی سیاسی سرگرمی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہی نہیں ،بی جے پی سمیت این ڈی اے کے متعدد لیڈروں کو بھی راس نہیں آرہا ہے۔ کشواہا کے مقابلے وہ جیتن رام مانجھی ہی نہیں ،رالوسپا کے دوسرے دھڑے ، مطلب رکن پارلیمٹ ارون کمار کی قیادت کو زیادہ ترجیح دیتے دکھتے ہیں۔ کسی دور میں نتیش کمار کے انتہائی پیارے اوپندر کشواہا کو جنتا دل یو سے بڑے بے آبرو ہوکر نکلنا پڑا تھا۔ لگ بھگ یہی حالت رالوسپا کے رکن پارلیمنٹ ارون کمار کی بھی ہوئی تھی۔ دونوں نے مل کر رالوسپا کی تشکیل کی تھی اور گزشتہ پارلیمانی انتخاب سے پہلے بی جے پی کے انہی لیڈروں کی پہل پررلوسپا کو این ڈی اے میں شامل کیا گیا تھا جو َاب کشواہا سے نجات کی خواہش کرتے ہیں۔ رالوسپاکو این ڈی اے میں شامل کرنے کے سیاسی فائدے پارلیمانی الیکشن میں ملنے کا دعویٰ کیا گیا۔ لیکن اسمبلی الیکشن میں کشواہا کی پارٹی کوئی جلوہ نہیں دکھا سکی۔ این ڈی اے کی علاقائی قیادت مایوس ہوئی۔ اس کے بعد سے بی جے پی ہی نہیں، این ڈی اے کی دیگر اتحادی پارٹیوں کے لیڈروں نے بھی اوپندر کشواہا سے کنارا کرنا شروع کر دیا اور نتیش کمار کے ساتھ بی جے پی اور این ڈی اے کے جڑنے کے بعد تو حالات زیادہ ہی بگڑ گئے۔ بہار کے برسراقتدار اتحاد کی قیادت اوپندر کشواہاکے سیاسی رویے کو محتاط ہوکر دیکھ رہی ہے ۔ یہ انہیں کوئی ایسا فائدہ نہیں دینا چاہتی جس سے ان کی خواہش بڑھ جائے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ حقیقت کیا ہے، لیکن برسراقتدار اتحاد کی قیادت کے سیاسی رویے سے تو کئی بار لگتا ہے کہ وہ اوپندر کشواہا سے نجات چاہتاہے ،لہٰذا جہان آباد کو لے کر حالات ایسے بن گئے تھے کہ بی جے پی یا خود امیدوار دیتے یا جنتا دل یو کے پالے میںگیند ڈال دیتے۔ اس نے دوسرا متبادل ہی چننا بہتر سمجھا ۔ وزیراعلیٰ کی پارٹی الیکشن نہ لڑے ۔بی جے پی اس تہمت سے بھی بچ گئی کہ اس نے ساری سیٹیں ہتھیا لی اور نتیش کمار کو ان کے اعلان سے بھی پیچھے ہٹا لیا۔ایک تیر سے دو شکار۔
ؓتینوں ضمنی انتخابات کی سیاسی تشریح
بہار کے ان تینوں ضمنی انتخاب کی سیاسی تشریح گہری ہے۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ و جنتا دل یو سپریمو نتیش کمار نے کوئی دو ہفتہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ضمنی انتخاب کے نتائج سے اگلے الیکشن کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتاہے۔ ان کا یہ ریمارکس راجستھان ضمنی الیکشن میں بی جے پی کی سخت ہار کو لے کر تھا۔ لیکن بہار میں یہ ضمنی الیکشن کچھ زیادہ ہی سیاسی معنی رکھتے ہیں۔ ریاست میں 2015 میں اسمبلی انتخابات نتیش کمار نے لالو پرساد اور کانگریس کے ساتھ مل کر بی جے پی اور نریندر مودی کے خلاف سیاسی گٹھ بندھن بنایا تھا۔ گٹھ بندھن کو بڑی مقبولیت ملی تھی۔ نتیش کمار کی کرسی بچی رہ گئی تھی لیکن کوئی ڈیرھ سال بعد گزشتہ جولائی میں لالو پرساد کی بدعنوانی کے سوال پر وہ اور ان کی پارٹی مہاگٹھ بندھن سے الگ ہو گئی۔ لیکن اس علاحدگی کے گھنٹے بھر کے اندر ہی بی جے پی (این ڈی اے ) کے ساتھ انہوں نے نئے سرے سے وزیراعلیٰ عہدہ کا حلف لے لیا۔ ریاست میں نتیش راج برقرار رہ گیا۔ اس تاریخی سیاسی اتھل پتھل اور اقتدار کی منتقلی کے بعد بہار کی سیاست کا یہ پہلا بڑا واقعہ ہوگا۔ ریاست کے ووٹر، تنظیمی دائرے میں ہی صحیح اپنی رائے کا اظہار کریںگے۔ اس لحاظ سے یہ ضمنی انتخاب نتیشکمار ، بی جے پی کے ساتھ ساتھ راشٹریہ جنتا دل، کانگریس کے مہا گٹھ بندھن کے لئے بھی اگنی پرکشا ہے۔یہ اس لئے بھی یہ تینوں ضمنی انتخاب ریاست کے تین حصے میں ہیں۔ ارریہ ریاست کے شمال مشرقی حصے میں ہے تو بھبوا مغربی بہار میں اور جہان آباد وسط بہار میں۔یہ صحیح ہے کہ ایک علاقہ کے ووٹر کا رخ بڑی رائے شماری کا عام پیمانہ نہیں ہوتا لیکن یہ کوئی اشارہ تو ضرور دیتاہے۔ مہا گٹھ بندھن کے بکھرائو اور شکست خوردہ این ڈی اے کے سیاسی فائدے کے ماحول میں برسراقتدار بن جانے کو لے کر ان ضمنی انتخابات میں کوئی رائے تو ضرور سامنے آئے گی۔ ہمیں اس کا انتظار رہے گا۔شاید آپ کو بھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *