سماجی ہم آہنگی ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے

harmony

مودی سرکار 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی بات کرتی ہے۔ اب تو نیتی آیوگ نے بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا ہے۔ 2022بھی بہت دور نہیں ہے۔ اگر کسانوں کے لئے کچھ کرنا ہے تو سرکار کو سب سے پہلے ان کے حق میں کچھ قدم اٹھانا چاہئے۔ لیکن مرکزی سرکار نہ تو کسانوں کو پیسہ دے رہی ہے اور نہ ہی ان کی پیداوار کے لئے بازار فراہم کرا رہی ہے۔
سرکار ان کے لئے ہر چیز مہنگی کرتی جارہی ہے۔ اگر کوئی آدمی شہر میں ایک کلو آٹا خریدتا ہے ،تب آدھے سے زیادہ پیسہ تو ٹیکس، بچولئے اور پلاسٹک کی تھیلی میں ہی چلا جاتا ہے۔ اگر شہر میں آٹا 60روپے کلو ملتا ہے تو اس میں کسان کو پندرہ روپے بھی نہیں مل پاتے ہیں۔ اس معاملے میں ہم صرف امریکہ کی نقل کررہے ہیں۔ امریکہ کے لوگ پہلے ہندوستان کی ہنسی اڑاتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ ہندوستان میں اشیائے خوردنی میں بہت زیادہ ملاوٹ ہے۔ اس پر میں ان سے کہتا تھا کہ ہمارے یہاں کیا ملاوٹ ہے؟ایک آدمی صبح گوالے کے یہاں سے دودھ لے کر آتا ہے۔ گوالے نے تھوڑا پیسہ کمانے کے لئے زیادہ سے زیادہ دودھ میں پانی ملا دیا ہوگا۔ دودھ میں پانی ملانے سے دودھ کا کوئی نقصان تو نہیں ہوگا اور نہ ہی صحت پر کوئی اثر پڑے گا۔لیکن امریکہ میں جو دودھ سپر مارکیٹ میں ملتا ہے، وہ پتہ نہیں ہے کہ گائے سے کب نکالا گیا ہے؟کم سے کم پندرہ دن پہلے تو ضرور نکالا گیا ہوگا۔ گائے کا دودھ بغیر ملاوٹ کئے پندرہ دن چل ہینہیں سکتا ہے۔

 

 

 

 

امریکہ میں زیادہ ملاوٹ ہے۔ امریکہ صحت کے لئے زیادہ نقصان دہ چیزیں بیچ رہاہے۔ ہمارے یہاں تو اتنا احساس ہے کہ لوگ سوچتے ہیں جو چیز مغرب سے آتی ہے، وہی اچھی ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ بی جے پی یا آر ایس ایس کم سے کم اپنی پرانی روایت کو سجائے گی۔ لیکن یہ لوگ بھی امریکہ سے متاثر نظر آتے ہیں۔ پلاسٹک کی تھیلی میں آٹا بکنا اسی کی دین ہے۔ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ کسانوں کے حقیقی مسائل پر دھیان دینا ہوگا۔
مرکزی سرکار کو سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشوں کو بھی لاگو کرنا ہے لیکن کسانوںکے لئے آج کیا کرنا ہے، اس پر سرکار کو دھیان دینا چاہئے۔ نیتی آیوگ سرکار کو صلاح دے سکتا ہے کہ کسانوں کے لئے فوری طور پر کیا قدم اٹھانے ہیں؟کسانوں کے ساتھ جانوروں کے پالنے کا بندوبست بھی جڑا ہوا ہے لیکن سرکار نے اس معاملے میں مخالف سمت پکڑ لی۔گائے نہ کٹے، اس کے لئے سرکار اب کسانوں کوبھی قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔ سرکار کسانوں کی روزی روٹی بھی بند کرنے کے لئے تیار ہے۔ سرکار کو ایسی پالیسی لانی چاہئے جس سے یہ لگے کہ گئو رکشا اور گئو مانس کھانے میں کوئی تضاد نہیں ہے۔دونوں چیزیں ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔
ساورکر نے بھی گئو رکشا کے بارے میں کبھی کہا تھا کہ جب تک گائے قابل استعمال جانور ہے ،تبھی تک اسے اپنے پاس رکھنا چاہئے۔یہ بہت ہی عملی بات ہے۔ سرکار کا موقف ہے کہ لوگ گئو شالہ کھولیں، لیکن کوئی کتنی گئو شالہ کھول لے گا؟میں خود اپنی گئو شالہ میں 500 گایوں کو تحفظ دیتا ہوں۔ ہم لوگ بھی نیکی کا کام کرتے ہیں۔ نیشنل پالیسی کے طور پر گائے کے لئے بھی ایک پالیسی بننی چاہئے۔ہماری یہ ایک پالیسی بننی چاہئے۔ آج گائے کو لے کر ہماری نیشنل پالیسی کیا ہے۔ ہماری یہ پالیسی نہیں ہو سکتی کہ لوگ گائے کی دیسی بریڈ گر یا تھاپرکر کے تحٖفظ دینے کے باوجود ڈرا ہوا محسوس کریں۔ اگر گجرات سے راجستھان کے نول گڑھ میں کوئی گائے مانگتا ہے تو وہ ڈرا رہتا ہے کہ کہیں راستے میں اس کے آدمیوں کو مار نہ دیا جائے۔ لوگوں میں خوف پیدا ہو گیا ہے۔ اب تو لوگ گئو شالہ میں بھی گائے لینے کو تیار نہیں ہیں۔ سرکار جو کام کرنے جارہی ہے یا جو قدم اٹھاتی ہے، اگر اس کے نتائج اہداف کے برعکس ہوں تو وہ پالیسی صحیح نہیں ہے۔
سماجی اور سیاسی شعبے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ سماجی ہم آہنگی ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ بی جے پی یا آر ایس ایس کو ہندو -مسلم سے زیادہ کچھ دکھتا نہیں ہے۔ مسئلہ ہندو سماج میں ہے۔ اتنا بڑا ہندو سماج ہے کہ یہاں الگ الگ رسم و رواج ، زبان اورکھانا پینا ہے۔ مسلمان تو بہت کم ہیں۔ اگر ہندو آپس میں ٹھیک ہو جائیں تو مسلمان ٹھیک ہو ہی جائیں گے۔ ہم آہنگی بی جے پی کے لوگ بگاڑ رہے ہیں، اس لئے بگاڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں ہر چیز میں سیاست کرنی ہے۔ ہر چیز کو وہ ہندو -مسلم کے چشمے سے دیکھتے ہیں۔ کبھی لو جہاد، تو کبھی کچھ اور۔ ملک میں صدیوںسے جو ماحول بنا ہوا ہے،یہ کسی کی دین نہیں ہے۔ بی جے پی کے لوگ غلط فہمی میں نہ رہیں کہ یہ ماحول جواہر لعل نہرو نے پیدا کیا ہے۔ جواہر لعل نہرو نے پہچانا کہ یہی ہندوستان ہے۔ یہ ہندوستان کسی کا بنایا ہوا نہیں ے۔ یہ ایشور کی شفقت ہے ۔یہاں ہزاروں سالوں سے پالیسیاں ، رواج، برائیاں سب چل رہی ہیں۔
ورداون میں بانکے بہاری کا مندر ہے۔ وہاں جنم اشٹمی کے دن بہت بھیڑ جمع ہوتی ہے۔ وہاں بانکے بہاری کی پوشاک کافی وقت سے مسلمان درزی ہی سلتے ہیں۔ کل اگر یوگی آدتیہ ناتھ بول دیں گے کہ اسے ہندو درزی سلے گا تو لوگ انہیں بھی ہٹا دیں گے۔ ہم لوگ ہندو ہیں، ہندوتوا نہیں ہیں۔ سرکار تو آج ہے، کل نہیں رہے گی ،لیکن ملک میں روایات کبھی نہیں بدلتی ہیں۔ وہاں پجاریوں کو اس سے کوئی پریشانی نہیں ہے کہ بانکے بہاری کی پوشاک کوئی مسلمان سلے۔یہ ان کا پشتینی کام ہے۔ ان کے آباء و اجداد عرصہ سے یہ کام کرتے آرہے ہیں۔
یہ ہندوستان ہے۔ سرکار ہندوستان کے سماجی ڈھانچے میں چاہتے ہوئے بھی بدلائو نہیں کرسکتی ہے۔یہ سوچنا اپنے آپ میں اُتائولا پن ہے کہ جو چیز ہزاروں سالوں سے چلی آرہی ہے، پانچ سال کی سرکار اسے بدل دے گی۔ کیا بی جے پی نے سماجی ڈھانچے میں بدلائو کرنے کا منڈیٹ لیا ہے؟بی جے پی نے الیکشن کے دوران عوام کے سامنے اپنا مینی فیسٹو رکھا، اس کی بنیاد پر وہ چن لئے گئے۔ کیا ا س میں کہیں لکھا ہے کہ بی جے پی کرشن کے عقائد یا روایات بدل دے گی۔ بی جے پی کے لوگ عوامی اسٹیجوں سے سماجی ڈھانچے میں بدلائو کی بات کرتے ہیں، یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ سرکار کو اپنے کام پر دھیان دینا چاہئے۔ لاء اینڈ آرڈر درست کیجئے ،قیمتیں ٹھیک رکھئے۔

 

 

 

 

ایک وزیر ہیگڑے بیان دیتے ہیں کہ ہم لوگ کانسٹی ٹیوشن بدلنے آئے ہیں۔ لوک سبھا میں 282 سیٹ اور راجیہ سبھا میں آدھے سے بھی کم ہوکر بی جے پی کانسٹی ٹیوشن بدلنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ کل کو بی جے پی کے لیڈر یہ بھی بیان دے سکتے ہیں کہ ہم بھگوان کو بدل دیں گے۔ سب سے طاقتور آدمی وہ ہوتا ہے ،جو اپنی حدوں کو سمجھے۔ سرکار کی بھی حد ہے، لوگوں کی تعلیم ہی ان کی حد ہوتی ہے۔ اگر کوئی ایم پی، ایم ایل اے اور منسٹر ہے تو اس کے جو اختیارات ہیں، وہی اس کی حد ہے۔ اس سے زیادہ کسی کی اوقات نہیں ہے ۔ یہ بات کرنا ہی مضحکہ خیز ہے۔ ایک دوسرے وزیر کہتے ہیں کہ ڈارون کی تھیوری غلط ہے۔ ہمارے آباء و اجداد کبھی بندر نہیں تھے۔ بی جے پی کے لیڈر اب سائنس میں بھی دخل دے رہے ہیں۔یہ ہمت بڑھتی ہے،کیونکہ وزیر اعظم خود کہہ چکے ہیں کہ ہاتھی کی پلاسٹک سرجری کر کے گنیش جی کا سر جوڑا گیا تھا۔ کم سے کم اس طرح کا مذاق مت بنائیے۔ ہندو دھرم کا مذاق اڑانا بند کیجئے۔ ہندو دھرم وسیع ہے، اسے سمجھنا کافی مشکل ہے۔ جو نہیں سمجھیں گے، صرف وہی بول سکتے ہیں کہ پلاسٹک سرجری کی گئی۔ ہندو دھرم کو سمجھنے کے لئے ایک زندگی بہت کم ہے۔ جو سماجی ہم آہنگی کا ماحول ہے، اسے مت بگاڑیئے، ملک میں 6 لاکھ گائوں ہیں۔ سب جگہ ہندو -مسلم رہتے ہیں۔ ہمارے یہاں شیخاوتی اور نول گڑھ میں تو ایک تہائی آبادی مسلم ہے۔ کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ان کے رسم و رواج الگ ہیں، ہندوئوں کے الگ ہیں۔ یہاں کے لوگوں میں تنائو کا کوئی سبب نہیں ہے۔ آپس میں کوئی دوری نہیں ہے۔ سرکار اگر ہم آہنگی نہیں بڑھا سکتی ہے تو کم سے کم دوری تو نہ پیدا کرے۔
6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد منہدم کرکے مسلمانوں کے سینے میں خنجر بھونک دیا گیا۔ وہاں رام کا مندر تو ہے نہیں۔ رام سب کے دل میں ہیں۔ رام مندر کے محتاج نہیں ہیں۔ بی جے پی صرف ووٹ کے لئے یا اپنی طاقت دکھانے کے لئے وہاں مندر بنانا چاہتی ہے۔ ملک میں لاکھوں مندر ہیں۔ ہندو کوئی مذہب یا دھرم نہیں،بلکہ ایک طریقہ زندگی ہے۔ ہماری زندگی میں پتھر کے ٹکڑوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے، لیکن اہمیت جذبات کی ہے۔ ہم مورتی پوجا میں یقین رکھتے ہیں ۔ایسا اس لئے کیونکہ کرشن بھگوان اگر سامنے ہیں تو اس سے دھیان مرتکز کرنے میں آسانی ہوتی ہے کہ یہ کس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔اگر رام کی مورتی ہے تو سعادت مند بیٹا ہوگا۔ مذہب ماننے والا راجا ہوگا۔ انصاف پسند راجا ہوگا۔ ہنومان ہوگا،سیوک ہوگا۔یہ ہماری ہندو روایت ہے۔یہی ہمارا ہندو درشن ہے۔ ہر چیز کو ہندو -مسلم کے نظریئے سے دیکھیں گے تو یہ مناسب نہیں ہے۔ سرکار کو سماجی ہم آہنگی بڑھانے پر دھیان دینا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *