شیعہ اور صوفی سنّی اتحاد دہشت گردی کے خلاف صف آراء

شیعہ رہنما مولانا سید کلب جواد نقوی کو دی گئی خطرناک دھمکی کے مدنظر 25 مارچ کو لکھنؤ میںبڑے پیمانے پر منعقد ہورہی بین الاقوامی شیعہ اور صوفی سنّی اتحاد کانفرنس اترپردیش سرکار اور انتظامیہ کے لیے بے حد حساس ہوگئی ہے۔ شیعہ رہنما کو کانفرنس میں شریک نہ ہونے اور وہابیوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جب مولانا جواد نے فون پر دھمکی دینے والے سے کہا کہ تم ہی لوگ پوری دنیا میںدہشت گردی پھیلا رہے ہو اور خود کو اللہ سے اوپر سمجھتے ہو تو ادھر سے کہا گیا کہ صوفی کانفرنس میںوہابیوں کے خلاف کچھ بھی بولا تو دکھائیںگے کہ دہشت گردی کیا ہے؟ دہشت گرد کے ذریعہ مولانا کلب جواد کو دی گئی دھمکی کی پوری آڈیو ریکارڈنگ ’چوتھی دنیا‘ کے پاس بھی ہے۔ آپ چاہیں تو ہوبہو chauthiduniya.comپر سن سکتے ہیں۔
ٹیلی فون پر دی گئی دھمکی میںآپ صاف صاف سن سکتے ہیںکہ مولانا کو کانفرنس میںدہشت گرد اور وہابیوں کے خلاف ایک لفظ نہیںبولنے کی وارننگ دی جارہی ہے۔ دھمکی کے بعد مولانا نے لکھنؤ کے چوک تھانے میںرسمی طور پر شکایت درج کرادی ہے۔ پولیس کو وہ آڈیو ریکارڈنگ بھی دی گئی ہے۔ کانفرنس کے انعقاد میں مولانا کلب جواد کافی سرگرم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس کانفرنس میںدہشت گردی اور بنیاد پرستی پر بحث ہونی ہے۔ لہٰذا اسے روکنے کے لیے انھیں فون پر دھمکی دی گئی اور تاکید کی گئی کہ دہشت گردی اور وہابیوں کے خلاف کچھ بھی بولا تو دہشت گردی کیا ہوتی ہے، اسے دکھا دیا جائے گا۔ مولانا کلب جواد نے ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ان کی جنگ جاری رہے گی اور دہشت گردی کے خلاف ہونے جارہی صوفی کانفرنس کسی بھی حالت میںملتوی نہیں ہوگی۔ مولانا نے کہا کہ ایسی دھمکیوںسے ان پر کوئی فرق نہیںپڑتا۔
مولانا جواد کے پاس جس نمبر سے فون کیا گیا تھا ، اس کا نمبر لے کر پولیس اس کی چھان بین کررہی ہے۔ دھمکی دینے والے کی آواز بھی پہچاننے کی کوشش کی جارہی ہے، جس میںوہ کہہ رہا ہے،’اگر آپ نے کانفرنس میںوہابیت کے خلاف کچھ بھی بولا تو بتائیںگے کہ دہشت گردی کیا ہوتی ہے۔‘دھمکی دینے والا خود ہی ڈرا ہوا شخص لگ رہا ہے اوراپنی آواز بدل کر بولنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس بنیاد پر پولیس کو اس کے مقامی ہونے کا زیادہ خدشہ ہے۔ مولانا کو دی گئی اس دھمکی کو دیکھتے ہوئے شیعہ و صوفی سنی اتحاد کانفرنس کا انعقاد کافی دلچسپ ہوگیا ہے اور اس میںبھاری تعداد میںلوگوںکے آنے کی خبریں مل رہی ہیں۔ کانفرنس کے لیے مولانا کلب جواد نقوی نے عوامی رابطہ کی مہم تیز کردی ہے۔ وہ شیعہ اور صوفی سنّی علماء کے ساتھ مختلف خانقاہوں کا دورہ کر رہے ہیں، تاکہ علماء اور صوفیوں کے ساتھ عام شہری بھی بڑی تعداد میںکانفرنس میںموجود ہوسکیں۔ اس سلسلے میںمولانا نے فرخ آباد کی مختلف خانقاہوں کا دورہ کرکے سجادہ نشینوں اور عام لوگوں سے بھی رابطہ کیاہے۔ فرخ آباد کے علاوہ مولانا نے مکن پور شریف خانقاہ سے بھی رابطہ کیا۔ مکن پور خانقاہ کے صوفی سید شجر مداری نے مولانا کی پہل کے تئیں حمایت کااعلان کیا۔ سید محضر مداری ، سید ہلال میاں، سید معین علوی سمیت کئی لوگ اس موقع پر موجود تھے۔ خانقاہ حسینیہ مجیبیہ میںمولانا جواد کا زبردست استقبال کیا گیا۔ سجادہ نشین شاہ فصیح مجیب نے لوگوں کی طرف سے حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ شیعہ اور صوفی سنیوں کے اتحاد کے لیے وہ کسی بھی قربانی کے لیے نہیں جھجکیں گے۔ اس دوران بلال شفیقی ، بلال مجیبی، آفتاب حسین، نفیس حسین اور دیگر لوگ موجود تھے۔ مولانا حبیب حیدر، مولانا فیروز حسین، صوفی شاہ سید حسنین بقائی سمیت کئی لوگ مولانا کلب جواد نقوی کے ساتھ شامل تھے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مولانا کلب جواد نے ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ صوفیوں نے ہمیشہ امن اور اتحاد کا پیغام پھیلانے کا کام کیا ہے۔ آج کی موجودہ صورت حال میںاتحاد کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے، تاکہ یہ پیغام ہندوستان کے ہر شہری تک پہنچے اور آپس کی دوریاں ختم ہوسکیں اور دنیا اسلام کی صحیح تصویر دیکھ سکے۔ مولانا نے کہا کہ طالبان، القاعدہ اور آئی ایس جیسی دہشت گرد تنظیموں کا سہارا لے کر مسلمانوںکو بدنام کیا جارہا ہے۔ ایسی دہشت گرد تنظیموںکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہی لوگوںکو اسلام کے نام پر دہشت گردی کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ لکھنؤ میںمنعقد ہورہی کانفرنس سے خانقاہوں اور امام باڑوں کے بیچ اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ مسلمانوں کا قومی سطح پر اتحاد سامنے آئے۔ قابل ذکر ہے کہ اسلام کے نام پر دنیا بھر میںپھیلائی جارہی دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموںکو سعوی عرب سے ہورہی فنڈنگ کے خلاف مولانا کلب جواد لگاتار مہم چلاتے رہے ہیں اور عوامی فورم سے بولتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ذریعہ مسلمانوںکے قتل کیے جانے کے دنیا بھر میں ہورہے واقعات کی مولانا لگاتار مذمت کررہے ہیں۔
مولانا جواد صاف صاف کہتے ہیںکہ دہشت گرد تنظیموں کی سب سے زیادہ فنڈنگ سعودی عرب کررہا ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ دہشت گرد سرغنہ ابو بکر البغدادی کو ہندوستان میں بیٹھے آئی ایس آئی ایس حامی محبت نامہ لکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ مولانا کلب جواد فلسطین ، شام اور عراق میںمسلمانوںکے قتل عام کو گڈ ٹیررزم کہے جانے اور پیرس، امریکہ، لندن اور اسرائیل پر حملے کو بیڈ ٹیررزم کہے جانے پر لگاتار حملے کرتے رہے ہیں۔ اسلام کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والی تنظیموں کو قرآن، اسلام اور اللہ کو بدنام کرنے والا عنصر بتاتے ہوئے مولانا کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے وہابی ایجنٹوں کے ذریعہ اپنے نظریہ کو پوری دنیا میں پھیلانا شروع کیا۔ وہابیت کا سنیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہابیت دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے، لہٰذا مسلم نوجوانوںکے سامنے اسلام کی صحیح شکل پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی کا بیج سعودی عرب بوتا ہے اور اس کی کھیتی پاکستان جیسے ملک میں ہوتی ہے اوردہشت گردی کی اس فصل کے لئے کھاد اور پانی اسرائیل اور امریکہ دیتے ہیں۔
مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا کہ وہابیت اس وقت ہر جگہ انسانیت پر ظلم کررہی ہے۔ ہر مذہب اور ہر قوم ان کی پھیلائی ہوئی دہشت گردی کا شکار ہے۔یہ لوگ شیعہ اور سنی دونوں کو قتل کررہے ہیں۔اس لئے دونوں طبقوں کو چاہئے کہ سعودی عرب کے خلاف متحد ہوکر مخالفت کریں، اس کا سماجی بائیکاٹ کریں۔ مولانا کلب جواد کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردی پھیلانے والے ملک سعودی عرب کے بارے میں ہندوستانی سرکار کو یہ سوچنا چاہئے کہ ایسے ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہئے یا نہیں؟ ذاکر نائک جیسے شدت پسندوں کی گرفتاری کو مولانا جواد ضروری بتاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک جیسے آدمی کے پکڑے جانے سے کئی دہشت گردانہ سرگرمیاں سامنے آئیں گی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

لکھنو میں جمع ہوں گی صوفی ہستیاں، کانپور صوفی کانفرنس بھی چرچا میں
عالمی شیعہ اور صوفی سنی اتحاد کانفرنس میں ملک و بیرون ملک کے بڑے صوفی اور شیعہ علماء کی شرکت کرنے کا امکان ہے۔ مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد نے بتایا کہ اکیلے ہندوستان میں 22 لاکھ خانقاہیں ہیں۔ اگر اجلاس میں ہر خانقاہ سے ایک آدمی بھی شامل ہو تو 22 لاکھ لوگ ایک جگہ اکٹھا ہو سکتے ہیں۔ اس کے پہلے کنوج میں بھی عالمی صوفی کانفرنس ہوئی تھی، جس میں کئی ملکوں کے صوفی سنت اور دانشور شریک ہوئے تھے۔ کنوج سمینار میں پہنچنے پر سمینار کی صدارت کلب جواد کو سونپ دی گئی تھی۔ مولانا جواد اسے شیعہ سنی طبقے کے بیچ کی محبت مانتے ہیں۔
کانپور سے 70کلو میٹر دور حضرت زندہ شاہ کی درگاہ پر پچھلے دنوں ہوئی عالمی صوفی کانفرنس میں تشریف لائے صوفی سنتوں نے بھی دہشت گردی کو اسلام مخالف قرارد دیا۔ صوفی سنتوں نے کہا کہ صوفی سماج تشدد کے خلاف ہے۔ صوفی کانفرنس میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ جہاد کے نام پر ہونے والے قتل کو روکنے کے لئے صوفی ازم کو بڑھاوا دیا جانا ضروری ہے۔ کانفرنس میں دنیا بھر کے صوفی سنتوں نے ہندوستان آکر دہشت گردی کو اسلام کے خلاف بتایا اور سبھی ملکوں کے امن پسند لوگوں کو اس کے خلاف اٹھ کھرے ہونے کا درس دیا ۔ افغانستان سے آئے صوفی ولی ظریف چشتی نے کہا کہ حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ میزائیل سے نہیں بلکہ انسانی اقدار کے تحفظ سے دنیا جیتی جاسکتی ہے۔ جب ایک ایشیائی ملک کا تانا شاہ انسانیت کے لئے خطرہ بن جائے تو صوفی سنتوں کا کردار اور بھی متعلقہ ہو جاتا ہے۔ دنیا کو بدلنے کا کام نوجوانوں کو کرنا ہوگا اور ان کی رہنمائی مدرسوں اور روحانی جگہوں سے ہونی چاہئے ،چاہے وہ کسی بھی مذہب کے کیوں نہ ہوں۔ ظریف چشتی نے سب سے بڑی تشویش شدت پسندی کو لے کر ظاہر کی۔ کچھ مذہبی پیشوائوں کی شدت پسندی کی طرف چل پڑنے کے بارے میں کانفرنس میں اٹھے سوالوں پر چشتی نے کہا کہ ایسے مذہبی پیشوا انسانیت کے لئے خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ کچھ نام نہاد مذہبی پیشوا اپنی دکان چلانے کے لئے مذہب کی غلط تشریح کررہے ہیں اور شدت پسندی پھیلا رہے ہیں۔ صوفی سماج شدت پسندی کے خلاف ہے، بھلے ہی یہ اسلام کے نام پر ہو یا کسی اور مذہب کے نام پر۔ صوفی کانفرنس میں ایک سُر میں مختلف نظریات کے صوفی سماج کو شدت پسندی کے خلاف کھڑے ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔
صوفی کانفرنس میں کشمیر کے حالات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ صوفی سنتوں نے کہا کہ کشمیر صوفی تحریک سے جڑا رہا ہے۔ یہاں کی تاریخ میں اجمیر کے حضرت چشتی کے ذریعہ امن کا پیغام دیئے جانے کا ذکر ملتا ہے لیکن آج وہاں پتھر بازوں نے امن چین برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ کشمیریوں کو صوفی سنتوں کی بات سننی چاہئے نہ کہ امن کے دشمن دہشت گردوں کی۔ عالمی صوفی کانفرنس نے ملکوں کی سرحدیں، مذہب کی دیواریں اور زبانوں کی رکاوٹیں توڑیں۔کانفرس میں صوفیانہ انداز میں مذہب کی تشہیر کرنے والے تمام مذاہب، ملک اور زبان کے سادھو سنت اور اولیاء نے شرکت کرکے دنیا کو دکھایا کہ جہاد وہ نہیں جو شدت پسند سکھاتے ہیں۔ اندر کے شیطان کو مارنا ہی اصلی جہاد ہے اور انسانیت کو قائم کرنا ہی اصلی مذہب ہے۔ صوفی درشن کے ماہر اور اسے ماننے والوں کے درمیان لکھنو کے عالمی شیعہ اور صوفی سنی کانفرنس کو لے کر بھی کافی امیدیں ہیں۔
باکس
سیاسی پارٹیوں کو بھی اپنی طاقت دکھائے گی صوفی کانفرنس
صوفی کانفرنس کے انعقاد کے پیچھے کے سیاسی ارادوں کو درکنار نہیں کیا جاسکتا ۔ پہلے دہلی،پھر کنوج،پھر کانپور اور اب لکھنو میں ہونے جارہی عالمی صوفی کانفرنس کو سیاست سے بھی جوڑ کر دیکھا جارہاہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2016 میں دہلی میں عظیم صوفی کانفرنس کے ذریعہ بی جے پی ا حکومت اور مسلمانوں کے لبرل کلاس کی نزدیکیوں کا پپلائزیشن ہوا تھا ۔لکھنو میں مولانا کلب جواد کی پہل پر جو شیعہ اور صوفی سنی کانفرنس منعقد ہورہی ہے، اس کے پیچھے بھی سیاسی پارٹیوں کی اپنی طاقت دکھانے کے ساتھ ساتھ سیاسی خواہشات بھی ظاہر ہورہی ہیں۔ مولانا کلب جواد کے خلاف سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خاں کے لگاتار حملے نے مولانا کے حامیوں کو صاف طور پر سماج وادی پارٹی سے دور کر دیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو نے جواد بنام اعظم جنگ میں اعظم کا کھلا ساتھ دیا، اس سے شیعہ طبقہ بھڑکا ہوا ہے۔ لہٰذا سنی طبقے کے لوگوں کو ساتھ لے کر سماج وادی پارٹی یا اعظم کے مساوی بڑی ریکھا کھینچنے کی شیعہ مذہبی پیشوا کی صوفیانہ پہل کے پیچھے کی سیاست بھی آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لکھنو کے روشن خیال صوفیانہ پروگرام ملک و سماج کے لئے لازم ہیں۔ بھلے ہی اس کے پیچھے سیاسی مفاد جوڑنے کا ہدف بھی شامل کیوں نہ ہو۔
باکس
صوفی کانفرنس میں شرکت کے لئے سنگھ چیف کو بھی دعوت
لکھنو میں ہو رہے شیعہ و صوفی سنی عالمی کانفرنس میں شامل ہونے کے لئے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس )کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کو بھی دعوت نامہ بھیجا جارہا ہے۔ مولانا کلب جواد کے چیف ایڈوائزروں میں شریک علامہ ضمیر نقوی نے کہا کہ صوفی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد دہشت گردی کے خلاف سوچ رکھنے والے تمام مسلکوں کے بیچ بڑا اتحاد قائم کرنا ہے۔ اسی لئے سنگھ چیف موہن بھاگوت کو بھی دعوت نامہ بھیجا جارہاہے۔ سنگھ پر مذہبی شدت پسندی کے جو الزام لگتے ہیں، اس روشنی میں ان کا کانفرنس میں آنا کیا بہت زیادہ مخالفانہ نہیں لگتا کیونکہ صوفی کانفرنس مذہبی شدت پسندی کے خلاف بھی کھڑا ہونے کی بات کررہی ہے؟اس سوال پر علامہ نے کہا کہ صوفی کانفرنس کا مقصد سیاست نہیں ہے۔ جو لوگ بھی دہشت گردی اورمذہبی شدت پسندی کے خلاف کھڑے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کانفرنس انہیں ایک جگہ اکٹھا ہونے کے لئے اسٹیج دے رہی ہے۔ شیعہ مذہبی پیشوا مولانا کلب جواد نے بھی اس کی باضابطہ توثیق کی اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ایک عظیم تحریک کھڑا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ الگ الگ مذاہب کے مساوی نظریات کے لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوں۔ اسی ارادے سے سنگھ چیف کو بھی دعوت نامہ بھیجا جارہاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *