سماج میں توازن کی خاطر جنسی تفریق ختم ہونا لازمی

ابھی حال میںنیتی آیوگ کی ہندوستان کی 21بڑ ی ریاستوں میںپیدائش کے وقت جنسی شرح کی جو رپورٹ آئی ہے، اس کے مطابق 17 ریاستوں میںمزید گراوٹ آئی ہے۔ یہ یقینا سخت تشویش کی بات ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ ریاستوںمیں10 پائینٹس یا اس سے بھی زیادہ بچوں اور بچیوں کی پیدائش کی شرح میںفرق پڑا ہے۔ یہ جنسی گراوٹ سب سے زیادہ ریاست گجرات میں ہے جہاں بیس ایئر 2012-14 سے ریفرنس ایئر 2013-15 میںاس رجحان میں53 پائینٹس کا ڈراپ ہوا ہے۔ یعنی ایک ہزار بچوںکے بالمقابل صرف 854 بچیاںپیدا ہوئیں جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 907 تھی۔
ریاست گجرات کے بعد نمبر ہریانہ کا آتا ہے جہاں 35 پائینٹس کا ڈراپ ہوا ہے۔ راجستھان میںگراوٹ کی یہ شرح 32 پائینٹس، اتراکھنڈ میں27 پائینٹس، مہاراشٹر میں18 پائینٹس، ہماچل پردیش میں 14 پائینٹس، چھتیس گڑھ میں12 پائینٹس اور کرناٹک میں11 پائینٹس ہیں۔ ان ریاستوں کے مقابلے پنجاب ، اترپردیش اور بہار میںصورت حال نسبتاً بہتر ہے۔ پنجاب میںیہ شرح کم ہوکر 19پائینٹس، اترپردیش میں10 پائینٹس اور بہارمیں 9 پائینٹس تک پہنچی ہیں۔ ان ریاستوںمیںبہتر ہوتا ہوا یہ رجحان قابل ستائش ہے۔ مذکورہ بالا 17 ریاستوں کو ان تین ریاستوں سے یہ سبق لینا چاہیے کہ انھوں نے کس طرح بہتری کی۔ نیتی آیوگ نے واضح طور پر جنس کی بنیاد پراسقاط حمل پر چپک لگانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ جنس کی بنیاد پر اسقاط حمل ہی بچیوںکی شرح پیدائش میںبڑھتی ہوئی کمی کی وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیتی آیوگ نے یہ مشورہ دیا ہے کہ ہندوستانی ریاستوںکو حمل ہونے اور پیدائش سے قبل کے قانون پری کنسپشن اینڈ پری نیٹل ڈائیگنوسٹک ٹیکنکس (پی سی پی این ڈی ٹی) ایکٹ، 1994 کو سختی سے نافذ کرنا چاہیے اور اسی کے ساتھ ساتھ بچیوں کی قدر و منزلت اور اہمیت کو بتاتے ہوئے مناسب اقدامات اٹھانے چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *