عزت کے ساتھ اپنی مرضی سے موت کی سپریم کورٹ نے دی مشروط اجازت

euthanasia
سپریم کورٹ نے آج 9مارچ کواپنی مرضی سے موت کو لیکر کافی وقت سے چل رہے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے اہم فیصلہ سنایاہے۔سپریم کورٹ نے کچھ شرطوں کے ساتھ اپنی مرضی سے موت کی اجازت دے دی ہے۔پانچ ججوں کی بنچ نے یہ فیصلہ دیاہے۔سپریم کورٹ کی آئین بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ کومامیں جاچکے یاموت کی دہلیزپرپہنچ چکے لوگوں کووصیت(لونگ ول)کی بنیادپراپنی مرضی سے مرنے کاحق ہوگا۔کورٹ نے کہاکہ انسان کوعزت کے ساتھ جینے کا حق ہے توعزت کے ساتھ مرنے کا بھی حق ہے۔عیاں رہے کہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ ججوں کی بنچ نے گزشتہ سال 11اکتوبر کو اس عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔آخری سماعت میں مرکزنے اپنی مرضی موت مانگنے والے کاحق دینے کی مخالفت کرتے ہوئے اس کاغلط استعمال ہونے کی خدشہ ظاہرکیاتھا۔
اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے صاف کیاہے کہ لونگ ول پربھی مریض کے خاندان کی اجازت ضروری ہوگی۔ ساتھ ہی ایکسپرٹ ڈاکٹروں کی ٹیم بھی اجازت دے گی، جویہ طے کرے گی کہ مریض کا اب ٹھیک ہوپاناناممکن ہے۔ این جی اوکامن کاج نے لونگ ول کا حق دینے کی مانگ کولیکر2005میں پٹیشن لگائی تھی اس میں کہاگیاتھاکہ سنگین بیماری سے پریشان رہے لوگوں کواپنی مرضی سے موت کا حق دیناچاہئے۔عرضی گذارکاکہناتھاکہ انسان کوعزت سے جینے کا حق ہے تواسے عزت سے مرنے کا بھی حق ہوناچاہئے۔لونگ ول ایک تحریری دستاویزہوتی ہے ، جس میں متعلقہ شخص یہ بتاسکے گا کہ جب وہ ایسی حالت میں پہنچ جائے، جہاں اس کے ٹھیک ہونے کی امیدنہ ہو، تب اسے جبراً لائف سپورٹ سسٹم پرنہ رکھاجائے۔

 

کورٹ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس دوران اپنی مرضی سے موت مانگنے والے کی عزت کا خیال رکھنا بھی بیحد ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ وصیت کی پیروی کون کرے گا اور اس طرح کی اپنی مرضی سے موت کیلئے میڈیکل بورڈ کس طرح حمایت کرے گا۔اس متعلق میں وہ پہلے ہی ہدایات جاری کر چکا ہے۔کورٹ نے کہا کہ لاعلاج بیماری سے متاثر شخص نے اگر تحریری وصیت میں کہا ہے کہ کسی چیز کے سہارے زندہ نہ رکھا جائے تو یہ درست ہوگا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *