سیرت نبویؐ مکمل ضابطہ حیات:مفتی خالد سیف اللہ رحمانی

mufti-khalid-saifullah
دارالعلوم وقف دیوبند کا شعبۂ بحث و تحقیق حجۃ الاسلام اکیڈمی کے زیر اہتمام دو اہم عناوین پر علمی محاضرہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے پرمغز علمی محاضرہ پیش کیا۔ پہلا عنوان ’’اختلاف اور ادب اختلاف‘‘ تھا جس میں انہوں نے اختلاف کی بنیادیں، وجوہات اور اسباب ذکر کرتے ہوئے اختلاف کی حدود بھی احادیث اور اقوال سلف کی روشنی میں ذکر کیں۔ نیز انہوں نے کہا کہ آراء، افکار کا اختلاف فطری ہے اور اختلاف زندہ قوم کی علامت ہے لیکن اختلاف اپنے دائرے میں اور شرعی حدود و دوائر میں رہ کر ہو تو وہ مفید، مستحسن اور باعث رحمت ہے، لیکن اگر وہ اختلاف اپنے حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ ناپسندیدہ اور مذموم ہے۔ شریعت میں اعتدال پر مبنی اختلاف کے دوائر موجود ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں    کل ہند رابطۂ مدارس کے اجلاس میں مدارس کو حکومتی امداد نہ لینے کی اپیل

 

اس دوران انہوں نے عقائد اور فقہی اختلافات کے حدود و اصول کے بیان کے ساتھ ساتھ مختلف فرق اسلامیہ کا تعارف اور ان کے مابین اختلافات اور وجوہ اختلافات ذکر کرتے ہوئے اختلاف کے دائرہ کار کیا ہوں اور کن صورتوں میں انسان راہِ اعتدال کو پاسکتا ہے، وہ تمام صورتیں تفصیل سے بیان فرمائیں۔ ساتھ ہی اس باب میں اقوال و اعمال سلف ذکر کرتے ہوئے موجودہ احوال کے تناظر میں راہِ صواب کیا ہو انہیں بھی وضاحت سے بیان فرمایا۔ محاضرے کا دوسرا عنوان ’’فقہ الاقلیات ہندوستان کے تناظر میں‘‘ تھا، جس میں انہوں نے آنحضور ﷺ کی تکثیری و تقلیلی معاشرے پر مبنی مکی و مدنی ادوار کے اختصاصات و امتیازات ذکر فرماتے ہوئے خصوصاً آں حضورؐ کا مکی دور جو کہ اقلیت پر مبنی ہے اس سے اخذ ہونے والے مسائل پیغام اور تعلیمات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمان اقلیت میں ہو یا اکثریت میں، کبھی اس نے اپنے اسلامی تعلیمات سے روگردانی نہیں کی۔اس وقت بھی جب مسلمان اکثریت میں تھے تو معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق کی رعایت کرتے ہوئے ان کو زندگی کے تمام مواقع یکساں فراہم کئے۔ خود آں حضورؐ نے فتح مکہ کے وقت عفو و درگذر اور رحم و کرم کی جو عظیم الشان مثال پیش فرمائی ہے تاریخ آج تک ویسی مثال پیش کرنے وے عاجز ہے۔ آج جب کہ موجودہ ملکی تناظر میں مسلمان بہت سے مسائل سے دوچار ہے ایسے میں سیرت نبویؐ ایک مسلمان کے لئے مکمل آئیڈیل اور رہنما ہے۔ دورانِ محاضرہ انہوں نے بحیثیت انسان نسل انسانی کی وحدت، اکثریت کے تقاضے اور اقلیت کی خصوصیت، اقلیتوں کو درپیش مسائل، اقلیت تسلیم کرنے کا مفہوم، حقوق اور آزادی کا حصول جیسے مباحث پر گفتگو کرتے ہوئے ان کے حقوق، تعارف اور مسائل تفصیل سے بیان فرمائے۔

 

یہ بھی پڑھیں    نریش اگروال بی جے پی میں شامل،سماجوادی پارٹی کوبڑاجھٹکا

 

انہوں نے کہا کہ اعتدال علماء دیوبند کا طرۂ امتیاز رہا ہے اور یہی اسلاف کا نشان امتیاز بھی ہے۔ آپ علماء دیوبند کے علمی وارث و امین ہیں۔ ان کی علمی وراثت کی حفاظت کے ساتھ ان کے خصائل و اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنا بھی آپ کا لازمی فریضہ ہے۔ محاضرے کے آغاز میں حجۃ الاسلام اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی نے دونوں عناوین کا تعارف پیش کراتے ہوئے کہا کہ اختلاف ایک ایسا عمل ہے جو فطرت کے عین مطابق اور شریعت میں عین مطلوب ہے۔ ہاں اس کے لئے شریعت نے جو معتدل راہ بتلائی ہے ہمیں انہیں اختیار کرنا ہے۔ موجودہ دور میں اختلافات افراط و تفریط کا شکار ہو کر اپنے حدود سے تجاوز کرچکے ہیں، ایسے میں ادب الخلاف کو سمجھنا ناگزیر ہوجاتا ہے، وہیں موجودہ ہندوستان میں جب کہ مسلمان اقلیت کی زندگی گزار رہے ہیں ایسے میں ایک مسلمان کے لئے شریعت اسلامیہ میں کیا راہنما خطوط ملتے ہیں۔ ہمیں آج کے محاضرے میں از روئے شرع انہیں سمجھنا ہے۔بعد ازاں انہوں نے حجۃ الاسلام اکیڈمی کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ دارالعلوم وقف دیوبند کے طلبۂ تخصصات کی ذہنی، فکری و علمی پرداخت کی غرض سے حجۃ الاسلام اکیڈمی اس طرح کے اہم عناوین پر محاضرات کا انعقاد کراتا رہا ہے،آخر میں صدر مجلس مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے محاضر محترم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گوناگوں مصروفیات کے باوجود اس تشریف پر ہم محاضر محترم کے بے حد ممنون ہیں۔اس موقع پر حجۃ الاسلام اکیڈمی سے متعلقہ جملہ اساتذہ کرام موجود رہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *