دہلی کے درپر کسان

دہلی کی سرحد پر کسان۔انہیں دہلی میںداخل نہ ہونے دینے کے لئے تعینات جوان۔ یہی تصویر ہے آج ’جے جوان، جے کسان ‘والے ملک کی۔ان سب کے بیچ دہلی کے رائے سینا ہلس پر سرکار اور جمہوریت کے چوتھا ستون ان سب سے بے خبر ہیں۔ کسانوں پر لاٹھیاں چل رہی ہیں، گولیاںبرسائی جارہی ہیں، گرفتاریاں ہو رہی ہیں لیکن انہی کسانوں کے پید ا کئے ہوئے اناج کو کھاکر دہلی چین کی نیند سو رہا ہے۔ کیا اس نیند کو توڑنے کے لئے ملک کے کسانوں کو بھی وہی راستہ اختیار کرنا ہوگا جسے قانون کی کتاب میں غیر قانونی مانا جاتا ہے۔
پنجاب ،راجستھان ،ہریانہ ،اترپردیش ،مدھیہ پردیش سے نکلے ہزاروں کی تعداد میں کسان دہلی کے دروازے پر دستک دے چکے ہیں۔ دوسری طرف چھتیس گڑھ ، جے پور سیکر نیشنل ہائی وے، جنوبی ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں کسان لگاتار کئی دنوںسے احتجاج و مظاہرے کررہے ہیں۔ ہریانہ کے یمنا نگر اور فرید آباد میں جہاں کسانوںکو آگے بڑھنے سے روک دیا گیاہے، وہیں کسانوں نے جے پور سیکر روڈ جام کر دیا ہے۔ ان کسانوں میں 54سال کے معمر شخص سے لے کر 25سال تک کے نوجوان بھی شامل ہیں۔ عورتیں بھی جوش و خروش سے ’پد یاترا‘ کررہی ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ سے ٹریکٹروں کا قافلہ دہلی کی طرف کوچ کر چکا ہے جسے دہلی سے پہلے ہی روک دیا گیا ہے۔ ’’راشٹریہ کسان مہا سبھا ‘‘ کے بینر تلے لاکھوں کسان پورے ملک میں اپنی صرف دو مانگوں کے لئے 22 فروری سے دھرنا دے رہے ہیں ۔کسانوں کی مانگ صرف اتنی ہے کہ پورے ملک کے کسانوں کا قرض معاف کیا جائے اور انہیں سبھی فصلوں پر سوامی ناتھن کمیٹی کی سفارش کے مطابق لاگت کا 50 فیصد زیادہ ایم ایس پی دیا جائے۔
مدھیہ پردیش، ہریانہ ، راجستھان اور پنجاب سے ہزاروں ٹریکٹر سے اور پیدل مارچ کرتے ہوئے آرہے کسانوں کو فرید آباد اور یمنا نگر میں سیکورٹی دستوں نے روک دیا ہے۔ اپنی پالیسی کے تحت کسان وہیں پر غیر معینہ مدت کے لئے دھرنا پر بیٹھ گئے ہیںجہاں انہیں روکا جارہاہے۔ اس سے پہلے 21اور 22 فروری کو ہریانہ ، پنجاب اور راجستھان سے بھاری تعداد میں کسان لیڈروںکو گرفتار بھی کیا گیا تاکہ وہ دہلی کی طرف کوچ نہ کرسکیں۔ ہاتھوں میں پیلے رنگ کے جھنڈے لے کر پیدل یاترا کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے کسان جب فرید آباد اناج منڈی پہنچے تو انہیں وہاں سے آگے نہیں بڑھنے دیا گیا۔پولیس نے اناج منڈی میں ہی کسان لیڈر شیو کمار شرما کو گرفتار کرلیا۔ اس کے بعد کسان اناج منڈی میں ہی جم گئے اور اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شیو کمار شرما کہتے ہیں کہ دہلی پولیس محکمہ نے ہمیں پہلے کہہ دیا تھا کہ کسانوںکو دہلی کے سریتا وہار تک آنے دیا جائے گا لیکن اب انہیں فرید آباد اناج منڈی میںروک دیا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہریانہ پولیس دہلی کی مرکزی سرکار کے اشارے پر کام کر رہی ہے؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہریانہ اور راجستھان سے دہلی آنے والی سڑک پر کسانوں کے ٹریکٹر سے جام لگ چکا ہے۔ ہریانہ کے ’بھارتیہ کسان یونین‘ کے لیڈر گرنام سنگھ کے مطابق کسانوں کی پالیسی یہ تھی کہ ہریانہ کے کسانوں کا ایک گروپ گنّور سے اور دوسرا مورچہ بہادر گڑھ سے دہلی میں داخل ہو گا۔وہیں مدھیہ پردیش سے ہزاروں کی تعداد میں کسان پلول کے راستے دہلی کی طرف جائیں گے۔لیکن کسانوں کو دہلی نہیں آنے دیا گیا۔ ہریانہ سرکار نے کسانوں کو ڈرانے کے لئے نوٹس جاری کیا، گرفتاریاں کی، لاٹھی چارج کروائے اور ربر کی گولیاں تک چلوائی ۔سوال ہے کہ سرکار کسانوں سے کیوں ڈرتی ہے؟مرکزی سرکا ر 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنی کرنے کے لئے اگر کوئی پالیسی بناتی ہے تو کیا اسے کسانوں سے بات کرنے میں کوئی مسئلہ ہے؟الٹے ہریانہ سرکار نے’ راشٹریہ مہا سنگھ‘ کے کور کمیٹی ممبر سردار گرنام سنگھ کے گھر پر قریب تین درجن پولیس والے بھیج کر انہیں ڈرانے کی کوشش کی تاکہ وہ دہلی گھیرائو کے لئے یاترا نہ کر سکیں۔ 23فروری کو دہلی کوچ کے لئے مدھیہ پردیش سے ہزاروں کسان ہریانہ کے سرحدی اضلاع میں پہنچنے شروع ہو چکے تھے۔ اس لئے سرکار نے ہریانہ میں نیم فوجی دستوں کی 25 کمپنیاں تعینات کر دی۔
دوسری طرف راجستھان کے شیخاوٹی علاقے میں بھی کسان مشتعل ہیں۔ راجستھان اسمبلی کا گھیرائو کرنے جارہے سیکر سمیت دیگر اضلاع کے کسانوں نے جے پور سیکر ہائی وے پر سیکر کے نزدیک سڑک کو جام کر دیا۔ جام کے سبب جے پور ، سیکر ، بیکانیر، چورو اور جھنجھنو ضلع کے ہزاروں مسافر جام سے متاثر ہوئے۔ ہزاروں کسان اسمبلی گھیرائو کے لئے جے پور جارہے تھے لیکن انہیں پولیس نے راستے میں ہی روک دیا۔ ’راشٹریہ کسان مہا سنگھ ‘کے بینر تلے اس کسان آندولن کی تیاری پچھلے کئی مہینوں سے چل رہی تھی۔ ہزاروں کسانوں کی اس ’پد یاترا ‘میں آنے والے خرچ کا انتظام بھی انوکھے طریقے سے کیا گیا۔ پیسہ گرام سمیتی سے اکٹھا کیا گیا۔کسانوں نے خود گائوں گائوں جاکر لوگوں سے چاول آٹا ،دال ،تیل ،کپڑے ،ٹریکٹر وغیرہ کا انتظام کیا۔یہ کسان خود اپنا کھانا ،کپڑا ور لنگر لے کر چل رہے ہیں اور ٹریکٹر کے ڈیزل کے لئے کسانوں نے گائوں گائوں سے چندہ اکٹھا کیا۔ سوال ہے کہ سرکار ان کسانوں کے پُر امن آندولن پر دھیان کیوں نہیں دے رہی ہے؟کیا سرکار پُرامن آندولن کو برداشت کرنا بھول چکی ہے؟ کیا سرکار کسانوں کے صبر کا امتحان لے رہی ہے؟اگر سرکار نے اس پر امن آندولن پر دھیان نہیںدیا تو کسانوںکے بیچ تو یہی پیغام جائے گا کہ انہیں جاٹ اور گوجر آندولن کی طرح ریل پٹری پر آندولن کرنا چاہئے تاکہ سرکار اور میڈیا ان کے آندولن پر دھیان دے،ان کی باتیں سنے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *