پاکستان کی زمین مسلم بنگالیوں کے لئے تنگ

پاکستان میں بسنے والے بنگالیوں کو سقوط ڈھاکہ کے بعد سے اپنی قومی شناخت کے حوالے سے بحران کا سامنا ہے۔ مشرقی پاکستان سے علیحدگی کے بعد انھیں پاکستان کے شہری کی حیثیت سے تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود کہ کراچی اور ملک کے مختلف حصوں میں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔2004 کے بعد جب سے پاکستان نے شناختی کارڈ سے متعلق تمام ڈیٹا کو کمپیوٹرائز کیا ہے، پاکستانی بنگالیوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ایک گائوں ابراہیم حیدری تک جانے کے لیے گاڑی میں تقریباً ایک گھنٹہ کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ابراہیم حیدری کبھی مچھیروں کا ماڈل گاؤں ہوتا تھا لیکن اب یہ سب سے زیادہ بدبو دار جگہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔آپ جیسے ہی سمندر کے قریب ہوتے جاتے ہیں، یہاں کا ماحول، بو، مقامات اور آوازیں تبدیل ہوتی جاتی ہیں۔اس گائوں میں سے تقریباً 15 لاکھ بنگالی تقسیم کے بعد سے یہاں رہتے تھے۔1971 میں مشرقی پاکستان کی جانب سے آزادی کے اعلان اور بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد دیگر بنگالی اپنے گھروں کو چھوڑ کر کراچی منتقل ہو گئے۔لیکن پاکستان نے انھیں اپنا شہری تسلیم نہیں کیا۔ یہ بظاہر ان کی قومیت کے لیے ایک پیچیدہ تاریخ کا خمار ہے۔
یہاں کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔یہ ان کی تیسری نسل ہے جو پاکستان میں پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی ہے۔ تنگ گلیوں میں یہ آبادی اپنا وجود کیسے برقرار رکھتی ہے؟پاکستان میںشدت پسندی اور دہشت گردی بڑھنے سے سب کچھ بدل چکا ہے۔ پہلے وہ حکام کو رشوت کی مد میں تھوڑی سی رقم دے کر قومی شناختی کارڈ حاصل کر لیتے تھے، زندگی آسان تھی۔لیکن شدت پسندی اور دہشت گردی بڑھنے سے سب کچھ بدل چکا ہے۔ اب جعلی پاکستانی قومی شناختی کارڈ کا حصول تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔حکومت نے اپنے شہریوں کی ڈیٹا بیس رجسٹریشن کے لیے بے پناہ وسائل استعمال کیے ہیں جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں رہنے والی بنگالیوں کے لیے قانون یا ضابطے سے بچنے کے تمام راستے اب بند ہو چکے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

پاکستان میں ہر سال ہزاروں بنگالی بچے کالج چھوڑ کر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے درجنوں بچوں کو سبزی فروخت کرتے، چائے کے سٹالوں پر کام کرتے اور کریانے کی دکانوں پر کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔پاکستان میں کسی بھی شہری کے لیے شناختی کارڈ ایک بہت ضروری دستاویز ہے۔ آپ کو نوکری یا پڑھائی کے لیے شناختی کارڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ شادی کی رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ درکار ہوتا ہے۔ ووٹ ڈالنے، جائیداد خریدنے یا بیچنے کے علاوہ اندورن ملک سفر کے لیے بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بنگالی مسلمان ان تمام سہولتوں سے محروم ہیں۔ایک قالین بنانے والی خاتونسیمہ جن کا تعلق بنگالی نسل ہے ،کہتی ہیں کہ انہیںقالین بنانے میں چار سے چھ ہفتے لگتے ہیں۔ انھیں ایک قالین بنانے کے لیے 6 ہزار پاکستانی روپے ملتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ان کا ایک بھائی ہے مگر وہ شناختی کاڈر کے بغیر نوکری حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کے والد اور بھائی پولیس کی جانب سے روکے جانے کے خوف سے باہر نہیں جا سکتے۔
پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین اسد اقبال بٹ کا کہنا ہے کہ ایک عام ورکر 12 ہزار پاکستانی روپے تنخواہ لے رہا ہے جبکہ ایک بنگالی ورکر اس کا نصف وصول کر رہا ہے۔خواتین فیکٹریوں اور گھروں میں کام کرتی ہیں۔ انھیں نہ صرف کم اجرت دی جاتی ہے بلکہ انھیں ان کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی جاتی ہے۔
کمیونٹی ایکٹوسٹ زین العابدین کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ یہ لوگ پاکستان چھوڑ کر چلے جائیں کیونکہ وہ سستے مزدور ہیں۔ تاہم انھیں پاکستان کی شہریت دینے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔زین العابدین کے مطابق پاکستان میں رہنے والے بنگالی نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ان لوگوں کے مطابق ’یہ وہ ملک ہے ان بنگالیوں کے باپ دادا نے اپنی جان قربانی کی اور اپنے گھروں کو چھوڑ دیا۔‘اس کے بعد کیا ہوا؟’پاکستان میں رہنے والے بنگالیوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد نفرت کا شکار ہو گئے ہیں۔ کچھ الگ ہو چکے ہیں اور جو پیچھے بچے ہیں انھیں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور غدار سمجھا جاتا ہے۔یہ فرق واضح طور پر بتاتا ہے کہ کسی بھی حکومت یا سیاسی جماعت نے ان لوگوں کی حمایت کرنے کی کوشش اس لیے نہیں کی کیونکہ یہ لوگ ان کے ووٹر نہیں ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *