پاکستان- ہندوستان کا پیپلز فورم کا بھوبنیشور میںدسواں کنونشن جنگ کے ماحول میں امن کی کوشش

دارالحکومت نئی دہلی کی سیاسی گہماگہمی سے دور مشرقی ساحلی ریاست اڑیسہ (جس کا نام اب بدل کر اڑیشہ کردیا گیا ہے) کی دارالحکومت بھوبنیشور میں پاکستان ۔ انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی نے پانچ سال بعد 10-11فروری 2018 کو دو روزہ دسواں قومی کنونشن منعقد کیا ۔ یہ تنظیم ، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان عوامی سطح سے تعلقات بحال کرنے کے لئے نوے کی دہائی سے سرگرم ہے ۔ اس نے یہ کنونشن ایک ایسے وقت میں منعقد کیا جب جوہری اسلحہ سے لیس دونوں ہمسایوں کے درمیان سرد مہری اپنے انتہا کو پہنچ چکی ہے نیز لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ایک معمول بن گیا ہے نیز ملک میں فرقہ پرستی اور فسطائیت کا ننگا ناچ بام عروج پر پہنچ چکا ہے۔
گو اس تنظیم کا اصل مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے لئے عوامی دبائو بنانا ہے، تاہم اس نے اس مرتبہ اپنے کنونشن میں کشمیر اور دیگر تنازعات کے علاوہ ہندوستان میں فرقہ پرستی ، اقلیتوں اور دلت و کمزور طبقات پر پرتشدد حملے ، ہندتو ، اور جمہوری اور آئینی اداروں کو کمزور کرنے وغیرہ امور کو بھی موضوع بحث بنایا تھا۔ چنانچہ یہ کنونشن اس اعتبارسے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ ہندوستان میں بر سر اقتدار گروہ نے اپنے سیاسی اغراض کے خاطر ایک ایسا ہیجان انگیز ماحول برپا کردیا ہے کہ اس میں پاکستان اور مسئلہ کشمیر کا نام لینا ’’ جرم ‘‘ بن گیا ہے ۔اس تناظر میں کنونشن کا انعقاد ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہے۔ جس کا عنوان بھی بڑا موزوں تھا: ’’جنگ کے ماحول میں امن کی کوشش‘‘ (Weaving Peace Amidst War) ۔
ہندو پاک تعلقات و فسطائیت موضوع بحث
یہ دوروزہ کنونشن بھوبنیشور میں واقع رام منوہر لوہیا اکیڈمی میں 10 اور 11 فروری کو منعقد کیا گیا جس میں ملک بھر سے سو سے زائد مندوبین نے شرکت کی جس میںہند ۔پاک تعلقات، مسئلہ کشمیر اور بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی و فسطائیت جیسے موضوعات چھائے رہے۔ مقررین نے بی جے پی کے زیر قیادت حکومت کو خاص طور سے سخت نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی جماعتی سیاست کے لئے خارجہ پالیسی کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے ۔ اس کے تحت مودی حکومت نے نہ صرف پاکستان سے اعلی سطح کے رابطے معطل کر دیئے ہیں بلکہ کشمیریوں سے بھی مذاکرات کا سلسلہ منقطع کردیا ہے۔فورم نے باہمی مذاکر ات کا سلسلہ تمام فریقوں ( بشمول کشمیری عوام) سے دوبارہ فوری شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر ’’بنیادی اور مرکزی ‘‘ مسئلہ ہے اور اسے حل کئے بغیر پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔مندوبین نے سیاسی مقاصد کی غرض میں ملک میں جنگ کا ہیجان پیدا کرنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تدارک کے لئے ایک حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
متعدد مقررین نے اس بات پر زوردیا کہ برصغیر میں دیرپا قیام امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا ’’ منصفانہ اور جمہوری طریقہ ‘‘سے حل کیا جانا ضروری ہے جو کشمیر ی عوام کی خواہشات کے مطابق ہو کیونکہ یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ’’زمین کا تنازع‘‘ نہیں ہے ۔ معروف دستاویزی فلم ساز اور امن کے کارکن اور فورم کے بانی رکن تپن بوس نے India Pakistan:The Coming War” ” کے موضوع پر ایک بیک گرائنڈ نوٹ پیش کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ہند ۔پاک تعلقات کو عملاً سپاہیوں کی سطح پر پہنچا دیا ہے جہاں ایل او سی پر ایک فوجی دوسرے فوجی پر گولے برسا رہا ہے ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

این ڈی اے حکومت کو نکتہ چینی کا ہدف بناتے ہوئے بوس نے کہا کہ ’’ وزیراعظم مودی اس کے لئے ذمہ دار ہیں جنہوں نے ــ’’ پاکستان سے اعلی سطح پر تمام تعلقات منجمد کرلئے ہیں اور اسوقت تک اسے بحال نہ کرنے کا عزم کیا ہے کہ جب تک پاکستان کشمیر میں جاری ہندوستان مخالف شورش کو مدد دینا بند نہیں کرتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکمراں جماعت کی پاکستان او ر کشمیر کے بارے میں جو پالیسی ہے اس کے پیش نظر اس بات کی کوئی امید نظر نہیں آتی کہ مودی اپنے موقف میں مستقبل میں کوئی تبدیلی کریں گے۔
اس پالیسی کے نتائج بد کا ذکر کرتے ہوئے بوس نے کہا کہ گزشتہ چھ مہینوں سے ہندوستان نے کسی پاکستانی شہری کو کوئی ویزا جاری نہیں کیا۔ اور’’ قومی سلامتی کے نام پر مخاصمانہ پالیسیوں کو فروغ دیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں ملک کو عملاً ایک مستقل جنگ میں جھونکا جارہا ہے۔‘‘ انہوں نے انکشاف کیا کہ سفیر کو حاصل پانچ چھ ویزاکا اختیاری کوٹہ بھی استعمال کرنے نہیں دیا جارہا ہے۔ ایل او سی پر جاری کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے بوس نے کہا کہ پاکستان کی زبردست گولہ باری کے باعث چالیس ہزار سے زا ئد سرحدی باشندوں کو اپنے آبائی مقامات چھوڑ کر جانا پڑا ہے۔ اس کے جواب نے میں محض چند دنوں کے اندربی ایس ایف نے جموں سیکٹر میں توپ کے گولے نوہزار مرتبہ داغے ہیں ۔ جیسے کو تیسا یا ٹٹ فار ٹیاٹ کی پالیسی میں دونوں طرف فوجی اور عام شہری موت کا نوالہ بن رہے ہیں۔
فورم کی شریک چیئرپرسن اور کشمیر ٹائمز کی مدیر محترمہ انورادھا بھسین نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہیں۔ انہوں نے اپنی ریاست کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے لوگوں کو کبھی اپنے مقدر کا فیصلہ کرنے نہیں دیا گیا۔
’’ کسے وزیر اعظم مقرر کر نا اور کسے وزیراعلی بنانا ہے یہ سب اوپر سے طے ہوا کرتا ہے‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ اب کشمیر کے حالات اس قدر بگڑ گئے ہیں لیکن حکومت اس کا ادارک کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور اقتصادی مفادارت کے زیر اثر جنگ کا ماحول تیار کیا جارہا ہے اس کے نتیجہ میں لا محالہ نقصان عوام کا ہی ہورہا ہے۔ کنونشن میں پاکستان کی جانب سے کوئی شرکت نہیں کرسکا کیونکہ حکومت ہند نے کسی پاکستانی کو ویزا نہیں دیا تھا ۔ تاہم فورم کے پاکستانی چیپٹر کے شریک چیئر مین آئی اے رحمان نے فیس بک کے توسط سے کہا کہ یہ کنونشن ایک بہت ہی نازک دور میں ہورہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ کشمیر کو تنازع کی اصل جڑ بتاتے ہوئے رحمن نے کہا کہ فورم کو اس پر اپنا اصولی موقف بھولنا نہیں چاہیے کہ یہ مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق جمہوری طریقہ سے حل کیا جائے۔ یہ پیغام پورے جنوبی ایشیا میں پہنچنا چاہیے ۔ ایک دوسری پاکستانی کارکن بینا سرور نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ ایسے عوامی اجلاسوں کی ضرورت ہے تاکہ دونوں حکومتوں پر دبائو بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کوئی زمینی ملکیت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ کشمیریوں کی تقدیر کا مسئلہ ہے اور انہیں اس معاملہ میں شامل کیا جانا چاہیے۔
ملک میں فرقہ پرستی کے زور کا ذکر کرتے ہوئے اڑیہ زبان کے نامور صحافی اور ’’انویشا ‘‘ میگزین کے مدیر سروج نے کہا کہ آج ماحول یہ ہے کہ پاکستان کا نام لینا بھی ایک ’’ پاپ‘‘ ہو گیا ہے۔ انہوںنے گزشتہ سال کشمیر کے دورہ میں نوجوانوں سے ہوئی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستانی میڈیا کشمیریوں کو پاکستان کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ مجھے وہاں کشمیرجاکر صحیح حقائق کا پتہ چلا کیونکہ میڈیا یہاں یکطرفہ طور پر وہاں رونما واقعات کی رپورٹنگ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آ ر ایس ایس اور اس کا ہمنوا میڈیا کشمیروں کا جب بھی تذکرہ کرتا ہے وہ پاکستان کے حوالے سے کرتا ہے جبکہ یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی
کنونشن میں کشمیر کے علاوہ ایک پورا اجلاس جنوبی ایشیاء میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی پر بھی منعقد کیا گیا ۔ پلاننگ کمیشن کی سابق رکن محترمہ ڈاکٹر سید ہ سعیدین حمید نے کہا کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے ملک میں فرقہ پرستی کا بول بالا ہوگیا ہے ۔ یہاں تک کہ پدماوت جیسی مسلم مخالف فلم بھی فرقہ پرستوں کو برداشت نہیں ہے جس میں سلطان علائو الدین خلجی کی کردار کشی کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کامسئلہ بھی ہندوستان میں فرقہ پرستی کو تقویت پہنچانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔اس مسئلہ کو حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ معروف صحافی ریتا منچندا نے کہا کہ بر سر اقتدار گروہ پاکستان اور مسئلہ کشمیر کو اپنی سیاسی ضروریات کے استعمال کررہا ہے ۔مقررین نے جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے تھا،آر ایس ایس اور اسکی ذیلی تنظیموں کی فرقہ وارانہ سر گرمیوں کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہی ہے اس وجہ سے ان کے حوصلے بلند ہیں اور انہیں قانون کا ڈر نہیں ہے۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ متعدد معاملات میں خود بی جے پی کی ریاستی حکومتیں ملوث ہیں۔
قراردادیں
ملک کی صورت حال پر قرارداد میں کہا گیا کہ ’’ اقلیتوں پر پرتشدد حملوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس میں سرکاری ادارے اور سیاسی مقتدرہ علانیہ طور پر ملوث ہیں۔ـ‘‘ ایک دوسری قرارداد میں جمہوری اور آئینی اداروں کو کمزور کرنے کی منظم کوششوں پر تشویش کا اظہا ر کیا گیا کہ جمہوری ادروں کو منظم انداز میں کمزور کیا جارہا ہے نیز تکثیریت سیکولرزم اور شمولیاتی قدروں کو بھی کمزور کیا جارہا ہے جس کے کمزور طبقات بشمول اقلیتوں، قبائل، دلت طبقات ، خواتین اور مزدوروں کے حقوق کی حفاظت پر سنگین خطرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
کنونشن کے آخری اجلاس میں ایک ڈکلیریشن بھی جاری کیا گیا جس میں :ـ’’دونوں حکومتوں سے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ فوراً شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور کشمیر کی بگڑتی صورت حال اور اس پر قابو پانے کے لئے فوجی طاقت پر مکمل طور پر تکیہ کرنے کی پالیسی پرگہری تشویش کا اظہا ر کیا گیا ‘‘۔’’ کشمیر کے حالات سنگین سے سنگین تر ہوگئے ہیں ، حکومت کی کشمیر کے مسئلہ کو ’’ سیاسی مسئلہ نہ سمجھنے کی پالیسی کے نتیجہ میں نوجوانوں اور شہریوں میں بیگانگی بڑھ گئی ہے نیز اس میں شہریوں کے احتجاج کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی روش نے مزید اضافہ کردیا ہے ۔ــ‘‘
شرکا نے کہا کہ یہ اجلاس ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی خراب ہوگئے ہیں کہ جوہری اسلحہ سے لیس دونوں ہمسایوں کے درمیان واقع سرحد لائن آف کنٹرول اس وقت انتہائی پرتشدد بن گئی ہے اور جنگی جنون کو ہوا دی جارہی ہے وہیں فوجی سربراہان اپنے بیانوں کے ذریعہ ایٹمی اسلحہ کے استعمال کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
خیال رہے فورم نے یہ کنونشن پانچ سال بعد منعقد کیا۔ اس سے پہلے یہ ستمبر 2013میں نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا۔ یہ دسواں کنونشن تھا ۔ پاکستان انڈیا فورم کی دوسری شریک چیئر پرسن پروفیسر آشا ہنس کے مطابق رکنیت پر مبنی تنظیم کا قیام 1993 کے آخر میں عمل میں آیا اور پہلا مشترکہ اعلانیہ لاہور میں ستمبر 1994 میں جاری کیاگیا۔ یہ فورم پانچ اہم اور بڑے موضوعات پر اجتماعی طور پر کام کرتا ہے ان میں: جنگ ، فوج ہٹانے de-militarisation، امن اور امن کے ثمرات؛کشمیر مسئلہ کو جمہوری طریقہ سے حل تلاش کرنا؛ جمہوری حکمرانی ؛ ہندوستان اور پاکستان میں مذہبی عدم رواداری نیز عالمگیریت اور علاقائی تعاون شامل ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *