سری لنکا میں مسلم – سنہالہ فساد سخت افسوسناک

srilanka

ابھی حال ہی میں سری لنکا کے کینڈی میں مسلمانوں اور بودھسٹوں کے درمیان فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا۔ اس فساد کی باقاعدہ تفتیش شروع کرنے کا اعلان سری لنکائی صدر میتھری پالا سری سینا کے دفتر سے کیا گیا ہے۔ ان فسادات میں ملوث ہونے کے شبہ میں 150مشتبہ افراد حراست میں لیے جا چکے ہیں۔دریں اثنا کولمبو میں بودھ مذہبی رہنماؤں سمیت سیکڑوں کارکنوں نے مسلم مخالف کارروائیوں اور 3 افراد کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی۔سری لنکا کے عوام کی اکثریت نے سوشل میڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور کئی مذہبی رہنماں نے اظہار یک جہتی کے لیے مسجدوں کا دورہ کیا۔کولمبو میں ہی ایک روز قبل مقالی سنہالی تنظیموں کے علاوہ مسلم سول سوسائٹی گروپس نے بھی ان کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔
میانمار میں روہنگیاں مسلمانوں کا تصور کر تے ہی ظلم و ستم، جبروتشدد کی چکی میں پستی ہو ئی تا ریخ کی انتہا ئی مظلوم و مفلوک الحال قوم کا نقشہ پورے ذہن و دماغ پر چھا جاتا ہے۔بدھسٹوں کی جانب سے ان پر غیر انسانی ظلم و جبر کی لا متناہی داستان کا خیال آتے ہی پورے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، کلیجہ منھ کو آنے لگتا ہے، کیونکہ سفاکیت کی ایسی داستان ان پر دہرائی جارہی ہے جو ایک عام سلیم الفطرت انسان کے تصور سے بالا تر ہے۔بدھسٹوں کی جانب سے کچھ ایسا ہی نظارہ گزشتہ دنوں سے جاری سری لنکا کے مشہور شہرکینڈی میں دیکھنے کو ملا جہاں گزشتہ چند دنوں سے ہورہے مسلمانوں پر ظلم و بر بریت کے جو منا ظر سامنے آئے ہیں، اس سے پوری انسانیت شرمسار ہوکر رہ گئی ہے۔

 

 

 

میانمار میں مسلمانوں پر ہورہے بدھسٹو ں کے مظالم کی تصویریں سری لنکائی مسلمانوں کے سامنے ہیں، اس لئے وہاں کے فرزندان توحید خوف و دہشت میں رات دن کی زندگی گزاررہے ہیں۔ وہ خوفناک منظر جس کو پیدا کرنے والے وہ لوگ ہیں جنکا مذہب دنیائے انسانیت کو عدم تشدد اور امن وشانتی کا درس دیتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو چھو ٹے سے چھوٹے جانوروں اور پرندوں کے قتل کو جرم عظیم سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، عدم تشدد پر ان کا سو فیصد یقین ہے، آج اسی بدھزم کے پیروکار کے ذریعہ انہی کے ملک میں یہ ننگا ناچ ناچا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سری لنکا کے شہر کینڈی میں مسلم مخالف فسادات کے دوران چار دنوں میں کم ازکم3 افراد ہلاک ہوئے جبکہ بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی دکانوں اور کاروبار کو نقصان پہنچایا گیا ۔چشم دید کے مطابق بودھ پیروکاروں نے مسلمانوں کے 200 سے زائد گھر اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا ہے۔ لیکن ایک طرف جہاں حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وہاں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا گیا،وہیں مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے صدر سری لنکا میتھری پالا سری سینا نے 3رکنی کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا اور میانمار کے بودھ پیروکاروں کے برعکس سری لنکا کے دیگر اضلاع میں رہنے والے بدھسٹوں نے تشدد کے خلاف دارالحکومت کولمبو میں بودھ مذہبی رہنماؤں سمیت سینکڑوں کارکنوں نے مسلم مخالف کارروائیوں اور تین افراد کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی۔

 

 

نیشنل بھیکو فرنٹ کا کہنا تھا کہ خاموش مظاہرے کا مقصد تصادم اور مذہبی منافرت کے ذریعہ قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی مذمت اور حوصلہ شکنی کرنا ہے۔سری لنکائی عوام کی اکثریت نے سوشیل میڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور کئی مذہبی رہنماؤں نے اظہار یک جہتی کے لئے مسجدوں کا دورہ کیا۔ کولمبو میں ہی ایک روز قبل مقالی سنہالی تنظیموں کے علاوہ مسلم سول سوسائٹی گروپس نے بھی ان کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
سری لنکا کے شہر کینڈی میں رواں اس وقت حالات کشیدہ ہوئے تھے جب ایک ایک مقامی شخص کو مبینہ طور پر 4مسلمانوں نے ہلاک کردیا تھا جس کے بعد ایک مسلم نوجوان کی جلی ہوئی حالت میں لاش برآمد ہوئی تھی۔بعد ازاں بودھ انتہا پسند گروپوں نے مساجد کو نذر آتش کرنے کے علاوہ مسلمانوں کے کاروبار کو نقصان بھی پہنچایا تھا اور کینڈی میں ہی مسلمانوں کے گھروں اور ان کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔ سری لنکا کی حکومت نے حالات کشیدہ ہونے کے سبب کرفیو نافذ کرکے فوج کو طلب کرلیا تھا اور پولیس کی پیٹرولنگ میں اضافہ کردیا تھا۔یاد رہے کہ 2014 میں بھی بودھ انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے تھے اس وقت 4افراد جاں بحق ہوئے تھے۔بہر کیف فساد کے بعد بودھ تنظیموں کی طرف سے اظہار یکجہتی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہاںکے بدھسٹ میانمار کی طرح سخت دل نہیںہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *