بہار میں انتہائی پسماندوں پر سب کی نظر

بہار کی سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کو ریاست میں 2019 کی انتخابی آہٹ سنائی دینے لگی ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات کو دھیان میں رکھتے ہوئے سبھی پارٹیاں تیاریوں میں لگ گئی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو عوام کے نبض ٹٹولنے اور ووٹروں کے بیچ اپنی مقبولیت بڑھانے کے لئے ’’نیائے یاترا ‘‘ کررہے ہیں۔ جنتا دل یو میں بھی تنظیم کا کام تیزی سے چل رہاہے اور بوتھ سطح پر کارکنوں کی ٹیم بنانے کا کام جاری ہے۔ بی جے پی تو ہمیشہ انتخابی موڈ میں ہی رہتی ہے اور ان کے پروگرام چل رہے ہیں۔ کانگریس کا حالانکہ ایک بار عوام کے بیچ جانے کا پروگرام رد ہو گیا ہے لیکن ایک بار پھر پارٹی میں سگبگاہٹ شروع ہو گئی ہے۔
مخصوص حکمت عملی
ریاست میں چل رہی ان سیاسی سرگرمیوں کے بیچ ایک اور بھی اہم سیاسی حساب کتاب میں سیاست داں اپنا دماغ لگائے ہوئے ہیں۔ یہ دماغ اس لئے لگایا جارہاہے کہ ووٹ بینک کا اوسط اتنا بڑھا لیا جائے کہ ہر حال میں جیت کی گارنٹی رہے۔ راشٹریہ جنتا دل اور بی جے پی کے بیس ووٹ کو سبھی جانتے ہیں اور اس بیس ووٹ میں فی الحال بدلائو کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جنتا دل یو اور بی جے پی کے اتحاد نے این ڈی اے کا حوصلہ بڑھایا ہے۔ لیکن راشٹریہ جنتا دل اور بی جے پی کی چاہت یہ ہے کہ بیس ووٹ کے علاوہ ایک ایسا ووٹ اس میں شامل ہو جائے جو ہر حال میں جیت دلوا دے۔ اسی جیت کی خواہش نے راشٹریہ جنتا دل اور بی جے پی کو انتہائی پسماندہ ووٹ بینک کی طرف مائل کر دیاہے۔
تاریخ کے صفحات کو پلٹیں تو صاف ہوگا کہ لالو پرساد کے ابھار میں اسی انتہائی پسماندوں نے کافی اہم کردار ادا کیا تھا لالو برابر کہتے تھے کہ ووٹ بکس سے جن نکلے گا۔ دراصل لالو کا جن یہی انتہائی پسماندہ ووٹ تھا جو انہیں سیاست کی بلندیوں پر لے گیااور ایک وقت انہیں شاہ گر اور سیاست کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔لوگ بول چال میں کہنے لگے کہ لالو پرساد ٹیبل کرسی کو بھی ٹکٹ دے گا تو وہ بھی ایم ایل اے اور ممبر پارلیمنٹ ہو جائے گا اور ایساہوا بھی۔
لالو پرساد نے ایسے نامعلوم چہروں کو سیاست کی بلندی پر پہنچا دیاجسے لوگ ٹھیک سے جانتے تک نہیں تھے۔ دراصل مائے یعنی کی یادو و مسلمانوں کی اتحادی طاقت میں جیسے ہی کچھ اعلیٰ ذات اور انتہائی پسماندوں کے ووٹ جٹ گئے ویسے ہی لالو پرساد قابل اعتماد ہوگئے ۔لالو کا اشارہ ہی امیدواروں کی جیت کی گارنٹی ہو گئی لیکن دھیرے دھیرے اعلیٰ ذاتوں اور انتہائی پسمانوں کا اتحاد راشٹریہ جنتا دل سے کم ہوتا چلا گیا۔
نتیش کمار نے سوشل انجینئرنگ کا ایسا پانسا پھینکا کہ لالو پرساد چت ہو گئے۔ لگ بھگ 120 برادریوں کے گروپ انتہائی پسماندہ طبقہ پر آج کسی ایک پارٹی کا دبدبہ نہیں رہ گیاہے۔یہ ووٹ اب سبھی پارٹیوں میں بٹ گیا ہے اور انتخاب در انتخاب انتہائی پسماندوں کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کون فائدے میں ؟
جانکار کہتے ہیں کہ اس ووٹ بینک کا زیادہ حصہ ابھی بھی نتیش کمار کے پاس ہے۔ بی جے پی کے ساتھ تال میل ہو جانے کے بعد این ڈی اے کے پاس اس کی 75 فیصد حصہ داری مانی جارہی ہے ۔ انتہای پسماندہ ووٹوں کا یہی جھکائو راشٹریہ جنتا دل کے پالیسی سازوںکو ستا رہاہے۔ راشٹریہ جنتا دل چاہتاہے کہ ایک بار پھر انتہائی پسماندہ ووٹر پارٹی سے جڑ جائے۔ ا س سے این ڈی اے کمزور ہوگا اور گٹھ بندھن میں نتیس کمار کی حیثیت کم ہوگی۔ سب سے بڑی بات یہ ہوگی کہ راشٹریہ جنتا دل کے پاس ایک مشت ایک بڑا ووٹ بینک جمع ہو جائے گا لیکن راشٹریہ جنتا دل کے لئے یہ کوئی آسان ٹاسک نہیں ہے۔ لیکن راشٹریہ جنتا دل نے ایک خاص منصوبہ بنا کر اس کام کو پورا کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس کی پہلی کڑی میں پٹنہ میں کامیاب’ دھانک سمینار ‘ کیاگیا۔ اس سمینار کی ذمہ داری سابق لیجسلیٹو کونسلر رام بدن رائے کو سونپی گئی تھی۔ پٹنہ میں منعقد اس سمینار میں بہار بھر سے دھانک سماج کے لوگ آئے اور راشٹریہ جنتا دل کو مدد کرنے کا بھروسہ تیجسوی یادو کو دلا گئے۔ دھانکوں کی امڈی بھیڑ سے تیجسوی یادو کا حوصلہ بڑھا ہے اور انہیں لگنے لگا ہے کہ اس طرح کے پروگرام سے انتہائی پسماندوں کو اپنے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔
غور طلب ہے کہ بہار میں مونگیر ،بیگو سرائے، جھنجھارپور اور بھاگل پور پارلیمانی حلقے میں دھانک ووٹر فیصلہ کن رول نبھاتے ہیں۔اسی طرح اسمبلی کی لگ بھگ پانچ درجن سیٹوں پر دھانکوں کی اچھی آبادی ہے۔ اس لئے سیاسی طور پر دھانکوں کی اہمیت کو کوئی بھی پارٹی نظر انداز کرنے کی حیثیت میں نہیں ہے۔
انتہائی پسماندہ میں دھانکوں کو اپنے قریب کرنے کا مطلب ہے کہ دیگر برادریوں کا بھی فطری جھکائو اسی طرف ہو جائے گا۔انتہائی پسماندوں کے سینئر لیڈر رام بدن رائے کہتے ہیں کہ آج ہمارے ملک میں برسراقتدار پارٹی کی قیادت میںدلتوں ، پسماندوں اور اقلیتوںکو مایوس کیا جارہاہے۔ ذات برادری کے خلاف آواز اٹھنے والی ہر آواز کو کچل ڈالنے کی سازش ہو رہی ہے۔ بہار کی زمین پر دھانک سماج کی اپنی قابل فخر روایت رہی ہے۔ دھانک ذات کی تاریخ انتہائی ہی قدیم ہے۔یہ یہاںکے بنیادی باشندہ ہیں۔ ڈاکٹر آرشی وادی لال شریواستو نے قرون وسطیٰ تاریخ میں لکھا ہے کہ یہ ذات انتہائی ہی حوصلہ مند ہوتی تھی اور مگدھ فوج میں دھنش سینک کی شکل میں جانے جاتے تھے۔ لیکن آج اتنی آبادی کے باوجود اقتدار اور سیاست کے حاشئے پر دھکیل دیئے گئے ہیں۔
آزادی کے 70 سالوں کے بعد بھی ان کی سماجی اور تعلیمی حالت انتہائی ہی قابل رحم ہے۔ تعلیمی اداوں، یونیورسٹیز سروسز، ایڈمنسٹریشن سروسز ، پولیس سروسز میں ان کی موجودگی صفر کے برابر ہے۔ یہ برادری بہار میں انتہائی پسماندہ برادریوں میں شامل ہے۔ 1978 کے بعد انتہائی پسماندہ برادریوں کے درجے میں لگ بھگ 113 برادریوں کو شامل کیا جاچکا ہے لیکن ریزرویشن کا اوسط وہی ہے۔ نتیش کمار کی سرکار کے ذریعہ معاشی طور سے خوشحال پسماندہ برادریوں میں شامل کرکے انتہائی پسماندوںکو پہلے دیئے ریزرویشن کو ختم کردیا ہے۔ دھانک سمینار میں تیسجوی یادو کی موجودگی میں کچھ تجوایز بھی پاس کئے گئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

دھانک سمینار کی قرار دادیں
1۔ دھانک سماج اپنی سیاسی و سماجی اور تعلیمی پسماندگی کی وجہ سے 19 ریاستوں میں جیسے مغربی بنگال، اترپردیش، اڑیسہ میں شیڈول کاسٹ میںشامل ہے۔ ٹھیک اسی طرز پر بہار میں بھی دھانک کو شیڈولڈ کاسٹ میں شامل کیا جائے ۔
2۔ بہار سرکار کے ٹھیکہ داری روایت میں دیئے گئے ریزرویشن 15 لاکھ کی حد بڑھا کر 5کروڑ کیا جائے اور بینک کی گارنٹی خود برداشت کریں ۔
3 ۔ مرکزی سرکار کی نوکریوں میں منڈل کمیشن کے تحت ادا کردہ ریزرویشن کی حد 27فیصد میں سے 18فیصد انتہائی پسماندوں کے لئے کیا جائے۔
4۔ بہار سرکار کی نوکریوں میں دیئے گئے ریزرویشن 18فیصد کو بڑھا کر 25 فیصد کیا جائے کیونکہ نتیش سرکار کے ذریعہ درجن بھر برادریوں کو انتہائی پسماندہ طبقہ میں شامل کیا گیا ہے ان میں دھانک کو محروم رکھا گیا ہے ۔
5۔ آزادی کی جدو جہد میں شہید آنجہانی رام پھل منڈل کا آدم قد مجسمہ پٹنہ کے کسی چوراہے پر لگایا جائے۔ان تجاویز کے ذریعہ سے راشٹریہ جنتا دل دھانکوں میں یہ پیغام دینا چاہتاہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کے اچھے دن آجائیںگے۔ رام بدن رائے کہتے ہیں کہ وہ پورے بہار میں گھوم گھوم کر انتہائی پسماندوں کو راشٹریہ جنتا دل کے حق میں گول بند کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انتہائی پسماندہ کے تیر سے ہی نتیش کمار سیاسی طور پر شکست خوردہ ہوںگے ۔ راشٹریہ جنتا دل کی ان تیاریوں کو دیکھتے ہوئے بی جے پی بھی محتاط ہو گئی ہے۔ اس نے بھی انتہائی پسماندوں کو گول بند کرنے کے لئے پروگراموں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
بی جے پی ’انتہائی پسماندہ ورگ مورچہ‘ کی طرف سے پٹنہ میں ’ابھار سماروہ‘ کا پروگرام کیا گیا۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی نے کہا کہ انتہائی پسماندہ طبقہ پوری طرح سے راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں انتہائی پسماندہ سماج کے اتحاد کی وجہ سے نریندر مودی وزیر اعظم بنے تھے۔ میں اپیل کرتا ہوںکہ ایک بار پھر انتہائی پسماندہ طبقہ 2019 میں ووٹ دے کر وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کے وکاس کا موقع دے۔ بقول مودی، مرکزی سروسز میں ریزرویشن کے لئے پسماندہ طبقوں کی مرکز کی لسٹ کے’ ورگی کرن‘ کے لئے مرکز ی سرکار نے کمیشن کی تشکیل کی ہے۔
راجیہ سبھامیں اکثریت ہونے پر مرکزی سرکار پچھڑا ورگ آیوگ کو آئینی درجہ دلائے گی۔ بہار میں جب 2005 میں راشٹریہ جنتا دل کی سرکار بنی تب جاکر لوکل باڈی کے انتخاب میں انتہائی پسماندوں کو ریزرو یشن دیا گیا جبکہ راشٹریہ جنتاد و کانگریس نے تو 17 برسوں بعد 2002 میں ریزرویشن کا پروویژن کئے بنا پنچایت کا انتخاب کرا دیاتھا۔ سشیل مودی کہتے ہیں کہ ملک میں لگاتار 40برسوں تک حکومت کرنے والی کانگریس اور بہار میں 15 سالوں تک سرکار چلانے والا راشٹریہ جنتا دل نے کبھی پسماندوں کی فکر نہیں کی۔
بی جے پی چاہتی ہے کہ نتیش کمار کے ساتھ ، پسماندہ برادریوں کو پورا فائدہ ملے اور اس لئے ارریہ لوک سبھاکے ضمنی انتخاب کے امیدوار کے انتخاب میں بھی انتہائی پسماندہ ووٹوں کا پورا خیال رکھا گیا۔ بی جے پی کی طرح جنتا دل یو نے بھی انتہائی پسماندوںکے لئے اپنا مشن چھیڑ رکھا ہے۔ بتایا جارہاہے کہ لیجسلیٹو کے لئے امیدواروں کے انتخاب میں جنتا دل یو انتہائی پسماندوں کا خاص خیال رکھنے والا ہے ۔ کہا جائے تو گول بندی دونوں طرف سے ہو رہی ہے اور جس کی پالیسی میں دم ہوگا، وہی اگلے انتخابات میں انتہائی پسماندوں کا ووٹ لے جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *