جھارکھنڈ میں قانون ساز ونگہبان قانون شکن بن گئے

ڈر، بھوک اور بدعنوانی کے خلاف نعرہ دے کر بی جے پی لیڈر عوام میں اپنی شبیہ کو صاف بنانے میںکامیاب ضرور رہے لیکن جھارکھنڈ میں سب سے زیادہ داغی ایم ایل اے اور ایم پی اور 1353 ایم ایل ایز پر 13680 مقدمے چل ر ہے ہیں ان عوامی نمائندوں کے معاملوں میںجھارکھنڈ پورے ملک میں اول ہے۔ ویسے جھارکھنڈ کی پہچان پورے ملک میں بدعنوانی اور جرائم کی وجہ سے ہی ہے۔
انتخابی حلف ناموں میں اعتراف
جھارکھنڈ کے64 فیصداراکین اسمبلی نے انتخابی حلف نامے میںدرج معا ملوں کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کے 37 اراکین اسمبلی میں 22 ار اکین اسمبلی پر مجرمانہ معاملے درج ہیں جبکہ 15اراکین اسمبلی پر سنگین مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ بھی بی جے پی سے کم نہیں ہے۔ اس کے 19 میںسے 13 اراکین اسمبلی پر مجرمانہ معاملے درج ہیں جبکہ ان میں 12 پر توسنگین مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ اگر سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہوا تو جھارکھنڈ ودھان سبھا کے 81 میںسے 52 اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم ہوسکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے داغی اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے خلاف زیر التوا مجرمانہ معاملوں کو جلد نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتوں کی تشکیل کا حکم دیا ہے۔ ان معاملوں کو ایک سال میں نمٹانے کے لیے عدالت نے اہم احکامات دیے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو جھارکھنڈ ودھان سبھا کے زیادہ تر اراکین کی رکنیت رد ہوسکتی ہے۔ داغی اراکین اسمبلی کے توہوش ہی ا ڑ گئے ہیں۔ ان کی گردن پر سپریم کورٹ نے تلوار لٹکا دی ہے۔
جھارکھنڈ کے 14 اراکین پارلیمنٹ میںسے 5 ار اکین پر بھی مجرمانہ معاملے درج ہیں، ان میں چار اراکین پار لیمنٹ بی جے پی کے ہی ہیں۔ 2 بی جے پی اراکین پارلیمنٹ پر تو سنگین معاملے درج ہیں۔ جھارکھنڈ میںتو سیاستدانوں نے عوامی نمائندوں کی تعریف ہی بدل دی ہے۔
جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد یہاںکے وزراء اور اراکین اسمبلی نے ترقی کے نام پر لوٹنے کا ہی کام کیاہے۔ جن کے پاس لاکھ روپے بھی نہیںتھے، وہ آج اربوں روپے کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ الیکشن جیتنے کے لیے مجرموں اور نکسلیوں کو تحفظ دینا تو معمولی بات ہے۔ جھارکھنڈ کے دو سابق وزراء اعلیٰ شیبو سورین اور مدھو کوڑا پر بدعنوانی کے سنگین الزام تو ہیں ہی، وہیں شیبو سورین تو اپنے سکریٹری ششی ناتھ جھا قتل کیس کے معاملے میں ملزم ہیں اور اس معاملے میں جیل بھی جاچکے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ مدھو کوڑا بھی بدعنوانی کے الزام میںسزایافتہ ہیں۔ مدھو کوڑا پر 6 ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ ترقی کے نام پر سرکاری رقم کی لوٹ کا الزام ہے۔ جھارکھنڈ کے آدھا درجن سابق وزراء پر بھی قتل اور بدعنوانی جیسے سنگین معاملے درج ہیں اور ان معاملوںمیںیہ سابق وزراء جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سپریم کورٹ کے فیصلوںپر عمل
ادھر اگر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل ہوا تو اب عوامی نمائندے بندوقوں کے ساتھ نظر نہیں آئیں گے بلکہ مہاتماگاندھی کے زمانے کی طرح سادگی والے عوامی نمائندے لوگوںکو ملیںگے جو لوٹ کی تعریف کو بھول کر عوام کی خدمت کے لیے وقف ہوںگے۔ یہ معقول پہل کتنا رنگ لائے گی، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ اے ڈی آر کے شریک بانی جگدیپ چھوکر کا ماننا ہے کہ ہمارے سیاسی طبقے نے خود کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے پچھلے بیس سال سے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
گزشتہ بیس سالوںمیںاگر سیاست کو پاک کرنے کے لیے کسی نے کچھ کرنے کی کوشش کی تو اس کی سیاسی جماعتوں نے نہ صرف جم کر مخالفت کی بلکہ اسے ہر طرح سے پریشان کرنے کا کام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ ملک کے عوام اور سپریم کورٹ دونوںمل کر سیاست کو پاک کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس معقول پہل میںہماری سیاسی پارٹیاںاور لیڈر کتنا تعاون کرتے ہیں، یہ دیکھنا ہے کیونکہ اس مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن دونوںہی متحد ہوجاتے ہیں۔
جھارکھنڈ میںہائی کورٹ کے حکم پر زیر التوا معاملوں کی کارروائی کو لے کر تشکیل کیے گئے اسپیڈی ٹرائل نے اپنے نام کے مطابق نتیجہ دینا شروع کردیا ہے۔ اسپیڈی ٹرائل کے تحت پہلے مرحلے میں لیے گئے آدھے سے زیادہ معاملوں کا نمٹارہ کر دیا گیا ہے اور باقی بچے معا ملوں کے لیے 15 مارچ تک کی مدت مقرر کی گئی ہے۔، اتنا ہی نہیں اب اسپیڈی ٹرائل کے تحت دوسرے فیس کے لیے 500 کیس لینے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ دوسرے فیس کا ٹرائل مارچ کے آخری ہفتے سے شروع ہوگا۔
عوامی مسائل ٹھنڈے بستے میں
عوامی نمائندوںسے جڑ ے معاملے جو طویل عرصے تک ٹھنڈے بستے میںپڑے رہتے ہیں، ان لوگوںکے معاملے طے شدہ مدت میںنمٹانے کی جانکاری ملتے ہی داغی اراکین اسمبلی اور وزراء کی نینداڑ گئی ہے۔ کوئلہ چوری کے معاملے میں ملزم یوگیندر پرساد پرتو الزم بھی طے ہوچکا ہے اور ودھان سبھا کی رکنیت ختم کرنے کی بھی کارروائی ہو رہی ہے جبکہ بڑکا گاؤں کی کانگریس کی رکن اسمبلی نرملا دیوی پر بھی جلد ہی فیصلہ آنے والا ہے ۔ ان کے شوہر سابق وزیر یوگیندر ساؤ کو سزا ہوچکی ہے اور ان کے الیکشن لڑنے پر روک لگی ہوئی ہے۔ ایک درجن اراکین اسمبلی کے معاملے میںبھی فیصلہ جلد آنے والا ہے۔ اس سے پہلے لوہر دگا کے رکن اسمبلی کشوربھگت کی رکنیت ختم کی جاچکی ہے۔ بھگت پر رانچی کے معروف ڈاکٹر کے کے سنہا کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور رنگ داری مانگنے کا الزام ہے۔
فی الحال فاسٹ ٹریک کورٹ میں52 اراکین اسمبلی کے معاملوں میںسماعت ہونی ہے۔ 52 اراکین اسمبلی میںسے 41 اراکین اسمبلی پر سنگین جرم کا معاملہ درج ہے۔ اس میںبی جے پی کے سب سے زیادہ اراکین اسمبلی ہیں۔ بی جے پی کے 37 میںسے 22 پر مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ جھارکھنڈ وکاس مورچہ سے جیتے پانچ اراکین اسمبلی اور کانگریس کے 7 میں سے 4 اراکین اسمبلی پر مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے اراکین اسمبلی اس معاملے میںخاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ نہیںچاہتے کہ سیاستدانوںکے خلاف درج معاملوں کی سنوائی اسپیڈی ٹرائل سے ہو۔
حکومت اور اپوزیشن کے جن اراکین اسمبلی کے خلاف سنگینجرم کے معاملے درج ہیں، ان میںپردیپ یادو، امت کمار، راجکمار یادو کشواہا، شیو پوجن، پھول چند منڈل، پالوس سرین، گنیش گنجھو،بھانو پرتاپ شاہی ، اینوس ایکا، ڈھولو مہتو،دشرتھ گگرائی اور چمرا لنڈا ہم ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اسپیڈی ٹرائل کو لے کر پورے کا پورا سرکاری محکمہ سنجیدہ ہے۔ چیف سکریٹری کی سطح سے ہر ہفتہ معاملوں کی باقاعدگی سے جانچ کی جارہی ہے۔ کل ملا کر اسپیڈی ٹرائل میںپورا تنتر ایک سسٹم کے تحت کام کررہا ہے اوریہی وجہ ہے کہ اتنے کم وقت میںنتیجہ بھی سامنے آرہا ہے۔
دراصل ہم اس کہاوت کو جھٹلا نہیں سکتے ہیںجب پاپ کا گھڑا بھرتا ہے تو وہ پھر پھوٹتا ہی ہے اور کچھ یہی سب سیاستدانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ پہلے سیاستداں مجرموں کو تحفظ اس لیے دیتے تھے تاکہ الیکشن کے وقت ان مجرموں کی مدد سے الیکشن جیتا سکے لیکن جب مجرموں کو اپنی طاقت کا احساس ہوا تو وہ خود انتخابی میدان میںکودنے لگے۔ ایک طرح سے سیاست کا ہی کرمنلائزیشن ہوگیا۔ سیاسی جماعتوں نے بھی ملزموں کو پال پوس کرپالیسی ساز بننے کا موقع فراہم کیا۔ اس وجہ سے اب آدھے سے زیادہ عوامی نمائندے داغی ہی بننے لگے۔ الیکشن میںدولت، طاقت اور جرم کا اہم رول ہوگیا۔
الیکشن میںامیدواری پیش کرنے والوں کی ڈکلیئر کی گئی اوسط پراپرٹی 1.37 کروڑ تھی جبکہ تیسرے نمبر پر رہنے والے امیدواروں کی پراپرٹی 2.03 کروڑ تھی۔ دوسرے نمبر پر رہنے والوںکی 2.47 کروڑ اور جیتنے والوں کی 3.8 کروڑ اوسط پراپرٹی تھی یعنی دولت مند امیدوار الیکشن جیتنے میں زیادہ کامیاب رہے۔ پچھلے دس سالوںکے اعداد و شمار کو دیکھیںتو مجرمانہ معاملوں والے فاتح امیدواروں کی اوسط پراپرٹی 4.27 کرورڑ تھی جبکہ سنگین جرم والے فاتح امیدواروں کی اوسط پراپرٹی 4.38 کروڑ تھی جبکہ داغی امیدواروں کے اعداد و شمار تو اور چونکانے والے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 62,800 سے زائد امیدواروں میںسے 11030 پر 27 ہزار سے زائد مجرمانہ معاملے درج تھے جبکہ 5238 امیدواروں پر تو سنگین مجرمانہ معاملے درج تھے۔ الیکشن جیتنے والوں میںسے 28.4 فیصد پر مجرمانہ معاملے زیر التوا تھے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مجموعی صورت حال بھیانک
جھارکھنڈ کی صورت حال تو اور بھی خوفناک ہے۔ جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد یہاں کے لیڈروںنے جم کر جھارکھنڈ کو لوٹنے کا کام کیا اور بے شمار پراپرٹی حاصل کی۔ یہاں کے سیاستدانوں کی اوسط پراپرٹی میں اضافہ ایک دو سو فیصد نہیں بلکہ لاکھ فیصد سے زیادہ ہوا۔ اس پیسے کو اب لیڈران الیکشن جیتنے میںلگا رہے ہیں۔ ایک ودھان سبھا امیدوار کروڑوںروپے خرچ کرکے الیکشن جیتتا ہے۔ کچھ علاقوں میںلیڈر الیکشن جیتنے کے لیے مجرموں اور نکسلیوںکا بھی سہارا لیتے ہیں۔ زیادہ تر داغی اور مجرمانہ شبیہ کے لیڈر ہی الیکشن جیتنے میںکامیاب ہوتے رہے ہیں۔
اب سپریم کورٹ نے ایک معقول پہل کی ہے اور داغی لیڈروں کے خلاف اسپیڈی ٹرائل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ سیاسی اصلاح کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ سیاسی جماعتوں نے تو اس طرف کچھ قدم نہیںاٹھایا اور داغی امیدواروں کو ہی تحفظ دینے کا کام کیا۔ اب ملک کے عوام اور سپریم کورٹ مل کر سیاست کو پاک کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں اور اب صحیح معنی میںخدمت کرنے والا عوامی نمائندہ ملتا ہے یا نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *