کیجریوال سرکارکا’گرین بجٹ‘پیش

manish-sisodiya

دہلی سرکار نے آج 2018-19کا بجٹ پیش کردیاہے۔ریاستی وزیرخزانہ منیش سسودیانے اسمبلی میں کہاکہ کل بجٹ 53ہزارکروڑروپے کا ہے۔انہوں نے کہاکہ سال 2014-15کا بجٹ 30ہزار940کروڑروپے جبکہ 2011-12کا بجٹ 26ہزار402کروڑروپے کا تھا۔بہرکیفسال 2018-19 کے 53000 کروڑ روپے کے بجٹ میں تعلیم، ماحولیات، صحت، اور پانی کے انتظام پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے آج اسمبلی میں عام آدمی پارٹی حکومت کا چوتھا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد دارالحکومت میں رہنے والے غریبوں اور متوسط طبقہ کے لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ 18۔2017 کیترمیمی تخمینہ 44370 کروڑ روپیے کے مقابلہ میں 19.45 فیصد زیادہ ہے۔

 

 

 

 

 

سسودیا نے اس بجٹ کو پہلا گرین بجٹ قرار دیاہے۔انہو ں نے کہا کہ حکومت کا زور دہلی میں آلودگی پر قابو پانے پر ہوگا۔ آلودگی پر قابو پانے کے لئے 26 پروگراموں اور منصوبوں کو ٹرانسپورٹ، توانائی، ماحولیات اور محکمہ تعمیرات عامہ میں منظم طور پر نافذ کیا جائے گا تاکہ مختلف طریقوں کی آلودگی کی سطح کو نیچے لایا جا سکے۔ کل بجٹ کی 13 فیصد رقم تینوں کارپوریشنوں کے لئے مختص کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ بجٹ کا 26 فیصد یعنی 13997 کروڑ روپیے شعبہ تعلیم کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اسکولوں میں ایک لاکھ 20 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہر اسکول میں 150 سے 200 سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے۔گارجین انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنے بچوں کودیکھ سکیں گے۔ تیس نئے اسکول اور موجودہ اسکولوں میں 12748 اضافی کمرے بنانے کی تجویز ہے۔ سرکاری اسکولوں میں والدین کے لئے ورکشاپ شروع کئے جانے کا منصوبہ بھی ہے۔ اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو کتابوں، تربیت، جدت طرازی اور چھوٹے موٹے کاموں کے لئے پانچ لاکھ روپیے دینے کی تجویز ہے۔دہلی کے امبیڈکرنگراوردوارکامیں نئے سرکاری اسپتال، تین سطحی صحت ڈھانچے کے تحت 164محلہ کلینک بنے، 520کیلئے نئی جگہ کا انتخاب ہوا۔محلہ کلینک کیلئے 403کروڑروپے کا بجٹ تجویزہے۔

 

 

 

 

 

سڑک ٹرانسپورٹ اور دیگر کے لئے 5145 کروڑ روپے مختص کرتے ہوئے دارالحکومت میں آلودگی کو کم کرنے کے لئے ایک ہزار الیکٹرک بسیں فراہم کی جائیں گی۔ آخری منزل تک گاڑی کی سہولت کے لئے 905 الیکٹرک فیڈر گاڑیاں دستیاب کرائی جائیں گی۔ دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو 1000 اسٹینڈرڈ سائز کی بسیں دی جائیں گی۔ فیکٹری میں ہی سی این جی نصب شدہ ذاتی گاڑیوں پر رجسٹریشن فیس میں 50 فیصد کی رعایت دی جائے گی۔
توانائی کے لئے 2190 کروڑ روپیے کا انتظام کیا گیا ہے جس میں 1720 کروڑ روپیے کی رقم بجلی سبسڈی کے لئے مختص کی گئی ہے۔ مفت وائی فائی کے منصوبہ کے لئے 100 کروڑ روپیے اور اسمارٹ زراعتی اسکیم کی مد میں 10 کروڑ روپیے رکھے گئے ہیں۔ غیر منظور شدہ کالونیوں میں بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے لئے 1500 کروڑ روپیہ مختص کیا گیا ہے۔ پانی کی فراہمی اور سیور کے لئے 2777 کروڑ روپیے مختص کئے گئے ہیں۔ پانی سپلائی کی اسی کلومیٹر پرانی لائنوں کوبدلا جائے گا۔دہلی میں سی این جی فٹ گاڑیاں سستی ہوں گی، کمپنی فٹ سی این جی والی گاڑیوں کے رجسٹریشن فیس میں پچاس فیصدچھوٹ کی تجویزہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *