جے این یو : پروفیسر پر جنسی زیادتی کا الزام،طلبانے مظاہرہ کرکے گرفتاری کامطالبہ کیا

protest-at-jnu
جے این یوکے پروفیسراتل جوہری کی گرفتاری کی مانگ کولیکریونیورسٹی کے طلبا نے وسنت کنج تھانہ کے بارجمعہ اورہفتے کی درمیانی شب میں ہنگامہ ومظاہرہ کیا۔ طلبا کا مطالبہ ہے کہ اتل جوہری کوفوراً گرفتارکیا جائے۔پروفیسرجوہری کی گرفتاری کی مانگ کولیکرطلبانے یونیورسٹی سے وسنت گنج پولس تھانے تک ریلی نکالی ہے۔جس کے بعد تھانے کے سامنے پولس اورطلباکے بیچ زورداردھکامکی ہوئی۔طلبانے تھانے کے سامنے نیلسن منڈیلاروڈ کوجام کردیاہے۔
عیاں رہے کہ جواہرلال نہرو یونیورسٹی ( جے این یو) میں کچھ طلباء4 نے ایک پروفیسر پر کلاس کے دوران فحش باتیں کرنے اور چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان طالبات نے پروفیسر اتل جوہری کے خلاف وسنت کنج نارتھ تھانے میں معاملہ درج کروایا ہے۔ معاملے میں پولس جلد ہی پروفیسر سے پوچھ گچھ کرسکتی ہے۔
اسکول آف لائف سائنس کی ان طالبات نے اپنے پروفیسر کے خلاف ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ پروفیسر اکثر فحش تبصرہ کیا کرتا تھا۔ طالبات پر نازیبہ تبصرہ اور ان سے سیکس کا مطالبہ کرتا تھا۔ اگر کوئی طالبہ اعتراض کرتی تھی تو وہ اسے پریشان کرتا تھا۔
پولس کے مطابق گزشتہ10مارچ کو مشتبہ حالت میں جے این یو سے پی ایچ ڈی کی ایک طالبہ لاپتہ ہوگئی تھی۔ چار دن بعد طالبہ اپنے گھر لوٹ آئی۔ اس کے بعد اس کا ایک ای میل سامنے آیا جس میں اس نے اپنا استعفیٰ انہی پروفیسر کو بھیجا تھا۔ اس میں اس نے پروفیسر پر بدسلوکی اور بدچلن ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے بعد کچھ دیگر طالبات نے بھی ایسے ہی اطلاع پولس کو دی تھی۔ پولس کے سامنے اب تک 9لڑکیاں آئی ہیں، جو تین چار دنوں سے کیمپس میں مظاہرہ کررہی تھیں۔ ان میں سے7طالبات نے تحریری شکایت دی ہے۔ اس کے بعد آئی پی سی کی دفعہ354اور509کے تحت پولس نے معاملہ درج کرلیا ہے۔
ڈی سی پی ملند ڈومرے نے معاملہ درج ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں الزام بے حد سنگین ہے۔ سچائی جاننے کے لئے جلد ہی پروفیسر سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی پولس ان طالبات سے بھی رابطہ میں ہے جنہوں نے الزام لگائے ہیں۔ اس معاملے میں پروفیسر جوہری کا کہنا ہے کہ وہ جے این یو میں لازمی موجودگی کے مدعے پر حمایت کررہے ہیں۔ اس لئے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *