غیر ذمہ دار اور بے حس ہوگیا ہے عام میڈیا

شری دیوی کے جسد خاکی کو ممبئی میں آخری دیدار کے لئے ان کے گھر کے پاس ایک اسپورٹس کلب میں رکھا گیا تھا۔ سیاسی لیڈران اور فلموں کے تقریباً سبھی بڑے اسٹارس انہیں خراج عقیدت پیش کرنے پہنچے۔عوام بھی ان کے آخری دیدار کے لئے ممبئی کی سڑکوں سے لے کر ولے پارلے کے شمشان سائٹ تک کھڑی تھی۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ شری دیوی کی خبر کو لے کر ہمارے ذرائع بہت صحیح تھے ،لیکن بہت سارے ٹیلی ویژن چینلس کے رپورٹروں سے زیادہ اچھے ضرور تھے۔ہم نے اپنی رپورٹ میں جن چیزوں کے بارے میں کہا تھا، وہ سو فیصد صحیح ہیں۔ ہم نے تخیل کو صحافت بنانے کی کوشش کرنے والے اپنے ساتھیوں پر تھوڑی ناراضگی بھی ظاہر کی۔چینلوں کی رپورٹنگ دیکھ کر مجھے کافی دُکھ ہوا۔
باتھ ٹب میں ہی رہ گئی صحافت کی لاش
جب آج میں نے سوشل میڈیا پر دیکھا کہ شری دیوی کو تو ہم واپس لے آئے، لیکن صحافت کی لاش دبئی میں ہوٹل کے اس ٹب میں ہی چھوڑ آئے۔ کسی نے بہت صحیح کمنٹ کیا ہے۔ ہم نے لاشیں تو کئی چھوڑی ہیں۔ عوام نے بھی اپنے جذبات کی لاش چھوڑی ہیں۔ ابھی شری دیوی جی کی بات پر لوٹتے ہیں۔شری دیوی جی سے میرا بھی آمنا سامناہوا تھا۔ میں دو تین واقعات کو یہاں یاد کرنا چاہوں گا۔ ان دنوں میں ’’رویوار ‘‘ کا رپورٹر تھا۔ہمارے ایڈیٹر سریندر پرتاپ سنگھ نے ہمیں ٹاسک دیا تھا کہ ہم ریکھا جی کا انٹرویو کریں۔ ان دنوں ریکھا سب سے مشہور اداکارہ تھیں۔ بلکہ یوں کہیں کہ ہندوستانی سنیما کی پہلی بڑی سپر اسٹار تھیں۔ ان کے پاس ہیروئن اور اسٹار دونوں کا اسٹیٹس تھا۔ نرگس جی جیسی بڑی اداکارائیں ان سے پہلے اگر جاچکی تھیں۔1980 کی دہائی میں سب سے بڑا نام ریکھا جی کا تھا۔ کوئی صحافی ان کا انٹرویو نہیں لے پاتا تھا۔ سریندر پرتاپ سنگھ نے مجھے کہا کہ کیا تم ریکھا کا انٹرویو لا سکتے ہوں؟ایک اچھے صحافی کا فرض ہوتا ہے کہ ایڈیٹر کے ذریعہ دیئے گئے ٹاسک کو جی جان سے پورا کرے۔ صحافی پورا نہ کرپائے، وہ الگ بات ہے، لیکن پورے طور سے کوشش ضرور کرے۔میں نے کوشش کی اور ریکھا جی کا تین چار بار انٹرویو لینے میں کامیاب رہا۔ اس بیچ میں ریکھا جی کا تھوڑا قریبی بھی ہو گیا تھا۔ میرے کہنے پر ریکھا جی نے ایک کمال کر دیا۔ انہوں نے شبانہ اعظمی کے گھر پر جاکر ان کا انٹرویو لیا۔ شبانہ جی کہیں باہر گئی ہوئی تھیں۔ ریکھا جی نے اس ٹاسک کو پورا کرنے کے لئے ایک گھنٹہ شبانہ جی کے گھر پر انتظار کیا۔ اس وقت شبانہ جی جانکی کوٹیر، جوہو میں رہتی تھیں۔ اب وہ دوسری جگہ رہتی ہیں۔ اس وقت ایک چھوٹا فلیٹ تھا، جس میں ان کی ماں شوکت اعظمی اور کیفی اعظمی بھی رہتے تھے۔ بابا اعظمی، جو مشہور فوٹو گرافر ہیں، وہ بھی اسی فلیٹ میں رہتے تھے۔میں اور ریکھا جی وہاں ایک ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کرتے رہے۔ پھر شبانہ جی آئیں۔ شبانہ جی کو میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ریکھا جی نے شبانہ جی کا انٹرویو لیا۔ بہر حال ریکھا جی سے جڑے ہوئے بہت سارے واقعات ہیں۔ دہلی میں ہم ایک ساتھ کار میں گھومے۔بسنت کے موسم میں سوکھے پتوں پر گاڑیوں کے پہیوں کے گزرنے کی آواز ۔ایسی کئی یادیں ہیں، لیکن ابھی موضوع شری دیوی جی کا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پہلی ملاقات میں شری دیوی کو پہچان نہیں سکا
میں ریکھا جی کا انٹرویو یا شاید بات چیت کرنے کے لئے سیٹھ اسٹوڈیو گیا تھا۔ممبئی میں سیٹھ اسٹوڈیو بہت اچھا اسٹوڈیو مانا جاتا تھا ۔میں اور ریکھا جی بات کر رہے تھے کہ تبھی ایک چلبلی سی لڑکی پھدکتی ہوئی اندر آئی۔ شاید ڈانس سیکوینس کی وجہ سے لڑکی فل میک اپ اور فلمی ڈریس میں تھی۔ ریکھا جی نے اسے پاس بلوایا۔ ان دنوں میں زیادہ فلمیں نہیں دیکھتا تھا، اس لئے شری دیوی کو پہچان نہیں سکا۔ لیکن مجھے وہ بہت اچھی لگیں۔ شری دیوی جی آئیں۔ریکھا جی کے گال پر انہوں نے ایک بوسہ لیا ۔ریکھا جی نے بھی دو گنے جوش سے ان کے گال پر بوسہ دیا ۔ پھر شری دیوی جی نے پوچھا کہ کیا میں تھوڑی دیر انتظار کروں؟ریکھا جی نے کہا نہیں تم بیٹھو ،یہ اپنے ہی ہیں۔ شری دیوی وہاں بیٹھ گئیں۔ اس وقت شری دیوی اور ریکھا جی کی بات چیت ہو رہی تھی اور میں مدہوش ہوکر سن رہا تھا۔ بعد میں مجھے سمجھ میں آیا کہ ان کی تو میں کئی فلمیں دیکھ چکا ہوں۔یہ شری دیوی جی ہیں۔ ریکھا جی نے میرا بھی ان سے تعارف کرایا۔ میری ان سے آمنے سامنے کی بس اتنی ملاقات ہے۔
مونا کپور نے شری دیوی یا بونی کے خلاف کچھ نہیں بولا
اس کے بعد 2000 میں ہندوستان کا پہلا اردو چینل پلان ہوا۔ سی ایم ابراہیم، جو دیو گوڑا جی کی سرکار میں ایوی ایشن منسٹر تھے اور مسلمانوں کے بڑے لیڈر ہیں، انہوں نے اردو چینل پلان کیا۔ انہوں نے مجھے اس چینل کا سی ای او بنایا۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے اس چینل کی پبلیسٹی اتنی ہو گئی کہ بہت سارے لوگ مجھ سے کئی چیزوں جیسے جاب یا پروگرام کے سلسلہ میں ملنے آنے لگے۔ اس دوران بونی کپور جی کی پہلی بیوی مونا کپور مجھ سے ملنے دو بار دہلی آئیں۔ اس وقت تک ان کی علاحدگی ہو چکی تھی۔ ان کے پاس کئی ساری سیریل کی فہرست تھی۔ مونا جی نے اپنا پروڈکشن ہائوس شروع کیا تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ فلک چینل پر جو سیریل آئے، اس میں ان کو زیادہ جگہ ملے۔ اسکرپٹ بہت اچھی تھی۔ مونا کپور کا بڑا نام تھا۔ اب میرے اندر کا جو صحافی تھا، وہ کلبلا گیا۔ میں نے دونوں بار ان کو کریدنے کی کوشش کی اور ان کے سامنے بونی کپور کی برائی بھی کی۔ میں نے کہا کہ آپ جیسی خوبصورت اور تجربہ کار خاتون کے ساتھ بونی کپور نے یہ کیا کر دیا؟مونا کپور نے ایک بھی لفظ بونی کپور کے خلاف نہیں کہا، نہ طرزو انداز سے اور نہ ہی الفاظ سے۔ وہ دوبارہ آئیں، تو میں نے پھر اس بات کو گھماکر چھیڑا۔میں نے کہا دیکھئے یہ کیسے لوگ ہوتے ہیں؟جہاں تھوڑا گلیمر ملا، وہ بدل جاتے ہیں۔ مونا جی نے پھر کوئی بات نہیں کی۔ مونا جی کے جانے کے بعد مونا جی کے والد ،بونی کپور کے سسر صاحب بھی سات ،آٹھ بار میرے پاس آئے۔ کنٹریکٹ فارم لائے، اس میں کچھ سدھار ہوا۔ انہوں نے اپنی اسکرپٹ ہم کو بھیجی ۔مجھے کیا پتہ تھا کہ آج یہ دن دیکھنا پڑے گا۔ ہم وہ اسکرپٹ سنبھال کر رکھتے۔ فلک کی فائلوں میں ہی ان کی سات ، آٹھ اسکرپٹ کہیں پڑی ہوںگی۔ بہت اچھا سیریل تھا۔ میں نے ان سے بھی بونی کپور اور شری دیوی جی کو لے کر کئی سوال کئے۔ ان دونوں نے بونی کپور کے خلاف ایک بھی لفظ نہیں کہا۔ یہ دو واقعات میں آپ کو اس لئے بتا رہا ہوں، کیوںکہ مونا جی کے من میں بہت کچھ رہا ہوگا لیکن انہوں نے نہ کبھی اس کے لئے شری دیوی کو ذمہ دار ٹھہرایا ،نہ ہی بونی کپور کو۔ اب شری دیوی جی ہمارے بیچ میں نہیں ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شری دیوی کی موت پر میڈیا کا تخیل
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی اپنی اکیلی فوج کے اکیلے سربراہ اور کمانڈو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شری دیوی کا قتل ہوا۔ ان کے پاس کیا ثبوت ہیں،پتہ نہیں۔کئی اور لوگ بھی یہ مان رہے ہیں کہ شری دیوی جی کی موت فطری نہیں ہے۔ کچھ تو اس میں غیر فطری ہے۔ لیکن یہ کہہ کر ہم دبئی پولیس پر الزام لگا رہے ہیں۔ میں نے دبئی میں گلف ٹائمس اور خلیج ٹائمس میں اپنے ذرائع سے بات کی۔ اے آر وائی ٹیلی ویژن چینل کے جو لوگ دبئی میں ہیں،ان سے بھی بات چیت کی۔ ممبئی میںبھی لوگوں سے بات چیت کی۔ اس کے باوجود جومیں نے پہلے کہا تھا، میں اب بھی اس پر قائم ہوں کہ شری دیوی جی کی موت ایک حادثہ تھا۔ یہ ہمارے ہندوستانی صحافی دوست ہیں،جنہوں نے اس میں نقطے نکالے ہیں،جنہوں نے اس میں شبہ نکالا ہے، جنہوں نے اس میں اپنا تخیل شامل کیا ہے۔ ان کا سیڈسپلیزر یہ تھا کہ انہوں نے بونی کپور کو اشاروں اشاروں میں قاتل ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔جس طرح کے سوال ٹیلی ویژن چینل دکھا رہے تھے، مجھے تو ان کے ایڈیٹروں پر حیرانی ہوتی تھی۔ وہ کیسے ایڈیٹر ہیں، جو سامنے آئی اسکرپٹ میں سے سچ نہیں تلاش سکتے یا یہ نہیں تلاش سکتے کہ اس میں کہاں مرچ مسالہ ملا ہوا ہے۔ آپ ہندوستانی عوام کو، ہندوستان کے ناظرین کو وہ دے رہے ہیں جو نہیں دینا چاہئے۔یہ صرف سماجی ذمہ داری کی بات نہیں ہے، یہ صحافتی ذمہ داری کی بات ہے کہ جو سچ نہیں ،اسے آپ سچ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کو یہ تحریک دے رہے ہیں کہ آپ دودھ پینے کے بجائے شراب پئیں۔ بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے۔
بونی کو راکھی باندھنے کا معاملہ تصوراتی ہے
دوسرا سیڈسپلیزر جن لوگوں نے لیا، ان کے گھر میں لگتا ہے کہ کبھی کوئی مرا نہیں یا کبھی سماجیت نہیں دیکھی۔مرنے والے کی شان میں نازیبا لفظ نہیں کہے جاتے ہیں۔ مرنے والے کو گالیاں نہیں دی جاتی ہیں۔ جب شری دیوی جی مر گئیں، تو اس سوال کو بار بار اٹھانے کا کیا مطلب ہے کہ شری دیوی کی متھن چکرورتی کے ساتھ خفیہ طریقے سے شادی ہو گئی یا ا ن کے ساتھ ان کا نام جڑا تھا۔ اس حقیقت کو اس وقت اجاگر کرنے کا کیا مطلب ہے کہ متھن چکرورتی کی موجودگی میںسری دیوی نے بونی کپور کو راکھی باندھی تھی اور پھر بونی کپور نے سری دیوی جی کے ساتھ شادی کر لی۔ یہ راکھی باندھنے والا مسئلہ ایک تخیل ہے۔ یہ ان زرد صحافت کرنے والوںکے دماغ کی پیداوارہے، جسے ہندوستان کے نام نہاد نیشنل نیوز میڈیا اور چینلز نے ثابت کیا اور ایک مردہ روح کو گالیاںدیں۔
سری دیوی جی کی والدہ امریکہ میںبری طرح بیمار تھیں۔ سری دیوی کے آس پاس کوئی نہیںتھا۔ اس وقت بونی کپور نے سری دیوی جی کی مدد کی تھی۔ ان کے ہر مسئلے کو بونی کپور نے خود نمٹایاتھا۔ یہ صرف عورتیں سمجھ سکتی ہیںکہ جب ایسی صورت حال ہو تب لوگ کس طرح سے انہیں پریشان کرتے ہیں۔ ایسے وقت چاہے وہ کوئی لڑکی ہو یا لڑکا، اسے ساتھ کی بہت ضرورت ہوتی ہے کیونکہ آدمی خاص طور سے ایسی پریشانی میںسبھی مسائل خود نہیںنمٹا سکتا۔ بونی کپور نے سری دیوی جی کی وہاںمدد کی۔ اور جب وہ ہندوستان لوٹے، تب سری دیوی بھی بدل چکی تھیں۔
نرگس جی کا نام بھی کسی اور سے جوڑا جاتا تھالیکن جس دن نرگس جی ’مدر انڈیا‘ کے سیٹ پر آگ میںگھریں، انھیںآگ سے نکالنے کا کام جس بہادری کے ساتھ سنیل دت جی نے کیا، وہ بہادری نرگس جی کے دل میںگھر کر گئی۔ وہی بہادری دھیرے دھیرے نرگس جی کی چاہت اور پیار میںبدل گئی اور انھوںنے سنیل دت جی سے شادی کرلی۔ یہاں پر بھی بونی کپور نے امریکہ میں جس طرح سے سری دیوی کا ساتھ دیا تھا، اس نے سری دیوی جی کو موہ لیا۔یہی ان کے رشتے کی بنیاد بنا۔ یہ ذہنیت یا دل کی کیفیت وہ نہیںسمجھ سکتے، جن کے پاس من نہیں ہے۔ یہ وہی سمجھ سکتے ہیں، جن کے پاس دل و دماغ ہے۔جن لوگوں نے بھی یہ دونوں سوال اٹھائے کہ ان کی شادی متھن چکرورتی سے ہوچکی تھی اور متھن چکرورتی کے سامنے انھوں نے بونی کپور کو راکھی باندھی،یہ بیمار ذہن کے لوگ ہیں۔ فلمی رسائل کی گپ شپ کو انھیںسچ نہیںبنانا چاہیے۔ میںتو کہتا ہوںکہ سچ یہ رہا بھی ہو تو اس وقت نہیںاٹھانا چاہیے۔
ونگ کمانڈر کی شہادت پر میڈیا خاموش
ہندوستان کے عوام کے بارے میںضرور ایک بات کہنا چاہوںگا ۔ پچھلی 15 فروری کو حکومت کا ایک فائٹر جیٹ حادثے کا شکار ہوگیا،جس میں ونگ کمانڈر وتس اور ونگ کمانڈر جیمس دونوں کی موت ہوگئی۔ ونگ کمانڈر وتس کی بیوی میجر کسم ڈوگرا نے پانچ دن پہلے ہی اپنے بچے کو جنم دیا تھا۔ جب ان کے شوہر ونگ کمانڈر کی لاش آئی تو انھوں نے پوری ڈریس پہن کر پانچ دن کے بچے کو ساتھ لے کر اپنے شوہر کی شہادت کا خیرمقدم کیا۔ آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں بہا۔ لیکن ہمارے ٹیلی ویژن نیوز چینلوں کو یہ حادثہ نہیں دکھائی دیا۔ اس واقعہ کو لے کر 5 منٹ کا فوٹیج بھی نہیں چلا۔ یہ ٹیلی ویژن چینلوں کی ذہنیت ہے۔ اخباروں میں بھی اس خبر کو کوئی مقام نہیںملا۔
ہم صرف حب الوطنی کا ڈھونگ کرتے ہیں۔ پاکستان اور چین سے جنگ کرنے کا حوصلہ دکھاتے ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں کی حب الوطنی ڈھونگ ہے۔ ونگ کمانڈر وتس کی لاش پڑی تھی اور ان کی بیوی میجر کسم ڈوگرا ہاتھ میںپانچ دن کا بچہ لیے ہوئے ان کی لاش کے پاس کھڑی تھی۔ لوگ رو رہے تھے لیکن وہ بہادر عورت اپنے شوہرکو شان سے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ ہمارے نیوز چینلوں کو یہ واقعہ نظر نہیں آیا۔ سری دیوی جی کی موت کی خبر میں6 دن لگ گئے۔
ہمارے ہیرو اداکار ہیں
آخر میںایک بات اور ۔ ہمارے ملک کے دو و وزرائے اعظم ، جن کی موت ہم لوگوں کے دور میںہوئی، شری وشو ناتھ پرتاپ سنگھ اور شری چندر شیکھر جی تھے۔ان دونوں کی موت بھی ٹیلی ویژن چینلوں پر کہیںدکھائی نہیںدی۔ اخباروں کو بھی نہیں دکھائی دی۔ انھوںنے ان کی موت کو اپنے یہاںجگہ نہ دے کر اپنی طرف سے نفرت انگیز خراج عقیدت دیا۔ ہمارے ٹیلی ویژن چینل اور پرنٹ میڈیابھی ایک طریقے سے صحافت نہیں کرتے ، مذاق کرتے ہیں۔ عوام نے بھی اس پر غصے کا اظہار نہیں کیاکہ دو وزرائے اعظم تھوڑے وقت کے وقفہسے اس دنیا سے چلے گئے اور انھیں میڈیا نے کیوں جگہ نہیںدی؟ افسوس کی بات ہے۔ یہ عوام کا اپنا ایسا کام ہے، جس کی مذمت نہیں ہوسکتی۔ یہ شاید اس لیے ہے کہ ہم نے اپنی نسل کے سامنے یا ہندوستان کے عوام کے سامنے آزادی کے سپاہیوں کا، آزادی کے بعد جنھوں نے ہندوستان کے عوام کو کچھ دیا، جنھوں نے تاریخ بدلنے کی کوشش کی، ان لوگوں کو ہم نے ہیرو نہیںبنایا۔ ہم نے ہیرو بنایا سلمان خان، سنجے دت کو۔ ہم نے ان لوگوں کو ہیرو بنایا، جن کے نقش قدم پر چل کر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہاں، انٹرٹینمنٹ تو ہوسکتا ہے۔ اب یہ دو حصے ہیں۔ ایک طرف سری دیوی جی کے تئیں لوگوں کا پیار اور وہ زیادہ تر اس لیے گئے تاکہ وہ ان کے ساتھ آئے ہوئے زندہ اداکاروں یا اداکاراؤںکو دیکھ سکیں۔ ابھی میںٹیلی ویژن چینل پر دیکھ رہا تھا۔لوگ سری دیوی جی کے بار ے میںبات نہیںکرر ہے تھے۔ وہ بات کررہے تھے ، وہ دیکھو، وہ فلاناں ہے، وہ دیکھو، وہ آگئی۔ اس نے کیسے سفید نہیں ، آف وہائٹ پہنا ہے وغیرہ۔ ہم نے ملک میںجو ماحول بنا دیا ہے، اس ماحول میںہم سوچیںکہ ہمیںدیش بھکت نوجوان ملیںگے، تو مجھے نہیںلگتا ہے کہ ایسا ہوگا۔ اس کی ساری ذمہ داری ہمارے سیاستدانوںپر ہے، جنھوںنے اس ملک کے لوگوںکو ہیرو نہیںبنایا، بلکہ ان لوگوںکوہیرو بنایا، جن کا ملک اور سماج سے سیدھا سروکار نہیں رہا ہے۔ ایک حصے کو انھوں نے متاثر کیا لیکن ملک کو متاثر نہیںکیا۔ اس لیے آج کی صورت حال تھوڑی سی بدقسمتی کی ہے۔ میڈیا تو نہیںسوچے گا، عوام کو تو سوچنا چاہیے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *