آئی پی ایل:کونسی ٹیم بنے گی 2018کی چمپئن ؟

ipl2018

انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل ) سیزن 11کی نیلامی کے بعد اب میچ شیڈیول جاری کردیا گیاہے ۔ آئی پی ایل 7اپریل سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ٹورنامنٹ میں ملکی وغیرملکی کھلاڑی دم دکھانے کوتیار ہیں۔ اپریل کا مہینہ اسکول ،کالجز اور یونیور سٹیوں میں ایگزام کا ہوتا ہے۔ ایسے میں انٹرٹین آئی پی ایل کرکٹ شائقین وناظرین طلباکیلئے امتحانات کے باعث میچ کامزہ لینے میں دشواریاں بھی ہوسکتی ہیں۔ہاں کچھ طلباکے دیگر شائقین بھرپور لطف اٹھائیں گے۔ ایسابھی نہیں ہے کہ طلباامتحانات میں میچ نہیں دیکھیں گے اوراپنے فین کھلاڑی کاسپورٹ اورہمت افزائی ضرورکریں گے۔
آئی پی ایل کے گیارہویں سیزن کا افتتاح 7اپریل کو ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں ہوگا۔پہلا یعنی افتتاحی میچ موجودہ چمپئن ممبئی انڈینس اور دوبار کے چمپئن چننئی سپر کنگس کے بیچ کھیلاجائے گا۔بی سی سی آئی کے مطابق، آئی پی ایل کے مقابلے 7اپریل2018سے 27 مئی اور51دنوں تک 9جگہوں پر کھیلے جائیں گے۔آئی پی ایل ویب سائٹ پرجاری پروگرام کے مطابق 48میچ رات کوکھیلے جائیں گے جبکہ 12میچ دوپہرکے بعدہوں گے۔
عیاں رہے کہ آئی پی ایل کا آغاز 2008میں ہواتھا۔2008 کے فائنل مقابلہ چنئی سپرکنگس اور راجستھان رائلس کے دوران ہواتھا اور راجستھان نے چنئی کو3وکٹ سے ہرا کرسیریزپرقبضہ کیا تھا۔2009میں دکن چارجرس اورروائل چیلنجرس بنگلوروکے بیچ مقابلہ ہواتھا اورفائنل میںدکن چارجرس نے بنگلوروکو6رن سے شکست دیکرسیریزاپنے نام کیا ۔ 2010 میں دوسری بارچنئی سپرکنگس کی ٹیم فائنل میں پہنچی اوران کا فائنل مقابلہ ممبئی انڈینس کے ساتھ ہوا۔چنئی سپرکنگس نے ممبئی انڈینس کو22رن سے ہراکر خطاب اپنے نام کیا۔ 2011 میں چنئی سپرکنگس اورروائل چیلنجرس بنگلورو کی ٹیم فائنل میں پہنچی تھی اورچنئی سپرکنگس نے رواٹ کوہلی کی ٹیم بنگلورو کو58رن سے ہراکرآئی پی ایل سیزن چارپرقبضہ کیا۔
2012میں بالی ووڈ سپراسٹارشاہ رخ اوراداکارہ جوہی چاولہ کی ٹیم کولکاتہ نائٹ رائڈرس (کے کے آر) فائنل میں پہنچی تھی اوراس کے ساتھ آئی پی ایل چمپئن سپرکنگس چنئی کا مقابلہ ہوا۔فائنل مقابلے میں شاہ خان کی ٹیم کولکاتہ نائٹ رائڈرس نے چنئی سپر کنگس کو5وکٹ سے کراری شکست دے کرآئی پی ایل 2012 چمپئن بنی تھی۔

 

 

 

 

2013میں ماسٹربلاسٹرسچن تیندو لکرکی قیادت والی ٹیم ممبئی انڈینس اورمہندرسنگھ دھونی کی کپتانی میں چنئی سپرکنگس کی ٹیم فائنل میں پہنچی تھی۔ مگرممبئی انڈینس ٹیم نے چنئی سپرکنگس ٹیم کو23رنوں سے ہرایا دیا اورممبئی انڈینس نے سیریزپرقبضہ کرلیا۔
2014میں ایک بارپھرشاہ رخ کی ٹیم کولکاتہ نائٹ رائڈرس فائنل مقابلے میں پہنچی۔خاص بات یہ ہے کہ شاہ خان کی ٹیم کا یہ مقابلہ کسی اورسے نہیں ہوابلکہ بالی ووڈ کی مشہوراداکارہ ڈمپل گرل پریتی زنٹاکی ٹیم کنگس الیون پنجاب سے ہوا۔ کولکاتہ نائٹ رائڈرس نے فائنل میں کنگس الیون پنجاب کو3وکٹ سے شکست دیکرسیریزپرقبضہ کرلیا اورشاہ رخ خان کی ٹیم دوبارہ آئی پی ایل چمپئن بن گئی۔
2015میں چمپئن ممبئی انڈینس ٹیم ایک بارپر پھرچمپئن بننے کیلئے فائنل مقابلے میں انٹرماری۔2015 میں ممبئی انڈینس کا مقابلہ کسی اورسے نہیں بلکہ مہندرسنگھ دھونی کی قیادت والی ٹیم چنئی سپرکنگس سے ہوا۔ممبئی انڈینس نے چننئی سپرکنگس کو41رن سے شکست دیکردوبارہ سیریزپرقبضہ کیا تھا ۔ مہندرسنگھ دھونی کی ٹیم کوہار کا سامنا کرناپڑا۔
2016میں رواٹ کوہلی کی ٹیم روائل چیلنجرس بنگلوروتیسری بار فائنل میں پہنچی اوران کا مقابلہ سن رائزرس حیدرآبادسے ہوا۔حیدرآبادکی ٹیم بنگلورکی ٹیم کو8رن سے ہراکر سیریز پرقبضہ کیا اورحیدرآبادکی ٹیم آئی پی ایل 2016چمپئن بن گئی اور رواٹ کوہلی کوروائل چیلنجرس بنگلوروکی قیادت کرتے ہوئے تیسری بھی چمپئن بننے سے قاصر رہ گئیں۔

 

 

 

2017میں دوبارچمپئن ممبئی انڈینس ٹیم نے ایک بارپھرفائنل میں انٹری لی۔اس سیریزمیں ممبئی انڈینس کا مقابلہ رائزنگ پنے سپرجائنٹ سے ہواتھا۔اس میچ میں ممبئی انڈینس کوکافی دقتوں کا سامناکرنا پڑا کیونکہ کانٹے کی ٹکر ہواتھا ۔ممبئی انڈینس نے محض ایک رن سے رائزنگ پنے کوہرایا تھا۔ اسلئے یہ سیریزرائزنگ پنے کے کھلاڑیوں نے آسانی سے جیتنے نہیں دیا۔بہرکیف ممبئی انڈینس کی ٹیم 2017میں تیسری آئی پی ایل چمپئن بنی تھی اورموجودہ چمپئن بھی ممبئی انڈینس ہی ہیں۔
بہرکیف آئی پی ایل سیزن 11 بڑے ہی دھوم دھام اورجوش وخروش کے ساتھ شروع ہونے جا رہا ہے ۔7اپریل کوپہلامقابلہ موجودہ چمپئن ممبئی انڈینس اوردوبارکے چمپئن چننئی سپرکنگس کے درمیان ہوگا۔اب دیکھنا یہ ہوگاکہ آئی پی ایل سیزن گیارہویں سیزن 2018میں کونسی ٹیم آئی پی ایل چمپئن 2018بنے گی یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا۔
آئی پی ایل 2018سیزن گیار ہویں کاایک بھی میچ اس باراترپردیش میں نہیں کھیلاجائے گا۔حالانکہ آئی پی ایل 9اور10کے دوران دودومیچ کانپورکے گرین پارک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تھے۔بتایاجارہاہے کہ اس بارگرین پارک اسٹیڈیم کوایک بھی میچ کی میزبانی نہیں ملی ہے۔لیکن اترپردیش کے سینئرکھلاڑی ٹورنامنٹ میں دم دکھانے کوتیارہیں۔ان میں کئی انڈین کرکٹ ٹیم کا حصہ ہیں توکئی نوجوان کھلاڑی اپنادم خم دکھائیں گے اوربہترین کارکردگی کا مظاہرہ بھی کریں گے۔ مگریہ بات ضرورہے کہ اترپردیش کواس بارمیزبانی کرنے کا موقع ملاہے تو یوپی کے کرکٹ ناظرین کوجھٹکالگاہے اورمایوسی بھی ہوئی ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *