آئی او ایس کی 30 ویں تاسیسی تقریبات تعلیم، قانون اور تاریخ کے ذریعہ ہی بہتر مستقبل ممکن

ہندوستان میںمسلم تنظیموںو اداروں کی بہتات ہے۔ کچھ ایک سو برس سے بھی زائد پرانی ہیں تو کچھ آزادی کے بعد قائم ہوئی ہیں۔ یہ تمام مسلم کمیونٹی میںکسی نہ کسی انداز سے متحرک ہیں۔ یہ سب کی سب حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہیں اور ان میںسے بعض تحریک آزادی میںبھی فعال رہی ہیں اور جانی و مالی قربانیاںدی ہیں۔ یہ تمام ملک و ملت کی تعمیر نو میں مصروف ہیں۔ ان کی خدمات گرانقدر ہیں مگر آزادی کے بعد اس کمیونٹی میںایک ایسے ادارہ کی ضرورت تھی جو کہ تجزیہ کے ساتھ ساتھ رجحان اور پالیسی سازی میںترقی یافتہ ممالک کی مانند تھنک ٹینک کا اہم کردار ادا کرسکے۔ اس لحاظ سے آئیڈیا لاگ اور ماہر اقتصا د یات ڈاکٹر محمد منظور عالم کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میںاپنی طالب علمی کے دور میں اس طرح کے ایک ادارہ کا ایک خواب دیکھا اور پھر تعلیم سے فراغت اور چند برسوں تک سعودی عرب میںٹیچنگ اور اقتصادی مشیر کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد وطن واپس لوٹ کر اپنے خواب میںرنگ بھرنے کے لیے ٹھوس قدم اٹھایا۔
دراصل اس طر ح ہندوستان میں مسلم کمیونٹی کا پہلا اور واحد تھنک ٹینک 1986 میں وجود میںآیا۔ جب یہ قائم ہوا تو اس وقت ملک میںعمومی طورپر کام کر رہے متعدد تھنک ٹینک موجود تھے مگر ان میںمسلمانوں و دیگر حاشیہ پر رہ رہی کمیونٹیوں میں کام کررہا کوئی مخصوص تھنک ٹینک نہیںتھا۔ مسلم کمیونٹی سے ابھرا یہ تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) ہے۔ اس نے گزشتہ 32 برسوں میںزندگی کے مختلف شعبوںمیںتجزیاتی اور رجحان و پالیسی سازی کے کام کیے۔
آئی او ایس اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کی غرض سے وقتاً فوقتاً کبھی تاسیس کے دس برس تو کبھی 25 برس (سلور جوبلی) یا کبھی 30 بر س کے موقع پر ملک و ملت کی ترقی و بہبود اور ملک کی اساس جس آئین پر ہے، اس کے حوالے سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔ درحقیقت اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قومی راجدھانی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میںاس کی 30 سالہ تقریبات کا سہ روزہ اختتامی پروگرام تھا جو کہ 16 تا 18فروری 2018 کو منعقد ہوا۔ اس موقع پر ایک برس سے چل رہی تقریبات کا موضوع تھا ’ہم عصر ہندوستان میں بہتر مستقبل بنانے کے لیے مساوات، انصاف اور اخوت کی جانب رواں دواں‘۔ یہ موضوع اس لحاظ سے بڑا اہم تھا کہ یہ ہمارے ملک ہی نہیں، دنیا کے ہر ملک کے آئین میں بنیادی حقوق کے طور پر موجود ہوتا ہے۔ یہ بلاشبہ ہمارے ملک کے آئین کی روح ہے۔ اس موضوع کی اس وقت اہمیت بہت بڑھ گئی جب اس کے افتتاحی اجلاس میںدو ایسی اہم و غیر معمولی شخصیات بیک وقت جلوہ گر ہوگئیں جو کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہیں اور جنھیں ملک کے آئینی قانون کے ماہرین کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان دونوں نے اس موقع پر جو کچھ اظہار خیال کیا، وہ موجودہ حالات میں بہت ہی بروقت اور موزوں کہا جاسکتا ہے۔ جسٹس اے ایم احمدی نے گزشتہ دنوں ملک بھر میںگئو رکشا کے نام پر کیے جانے والے تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو آئین کے چوتھے چیپٹر کے آخری حصہ میں موجود آرٹیکل 32 کا استعمال کرنے کا حوصلہ دکھانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے پاس بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہونے کی صورت میںاسے تحفظ فراہم کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار آرٹیکل 32 ہے لیکن اس نے اس ہتھیار کا استعمال ٹھیک سے نہیںکیا ہے اور اس ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہوئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے اکثر معاملوں کو ہائی کورٹوں میں بھیج دیا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ ہائی کورٹ کے اختیارات کافی محدود ہیں۔ انھوں نے واضح الفاظ میںکہا کہ اگر سپریم کورٹ نے آرٹیکل 32 کا استعمال کرنے میںہمت دکھائی ہوتی تو گئو رکشا کے نام پر معصوم لوگوں کی جانیں نہیں گئی ہوتیں اور اس پر ہمیشہ کے لیے روک لگ جاتی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اسی طرح جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر نے بھی مساوات، انصاف اور اخوت کی صورت حال پر بولتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو آزاد ہوئے 70 برس ہوچکے ہیں لیکن پسماندوں او رمحروموں کی حالت میںبہت زیادہ بہتری نہیں آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آزادی سے قبل جو لوگ حاشیہ پر تھے، اتنے ہی 70 برس بعد آج بھی حاشیہ پر ہیں۔ منڈل کمیشن کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین نے ہندوستان کے دلتوں اور پسماندوں کے لیے صرف 50 برس تک کے لیے ریزرویشن کا انتظام کیا تھا تاکہ ان طبقات کو معاشرے کے دیگر طبقات کے برابر لاکر کھڑا کیا جاسکے لیکن انصاف کے اس نابرابری والے سلوک کی وجہ سے آج 70 برس تک ریزرویشن ملتے رہنے کے باوجود ان طبقات کو سماج میںبرابری حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور ڈالا کہ باہمی ہم آہنگی کے بغیر انصاف اور مساوات کا تصور بے معنی ہے۔ انقلاب فرانس کا ذکر کرتے ہوئے انھو ں نے یہ بھی کہا کہ یہ پوری جنگ مساوات، انصاف اور اخوت کے لیے ہی لڑی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان کی طرف سے لڑی جانے والی یہ تمام جنگ دراصل ایک باوقار زندگی حاصل کرنے کی کوشش ہے لیکن ہمارے ملک میںآئین و قانون کی موجودگی کے باوجود معاشرے میںاس کی عکاسی نہیں ہو پارہی ہے۔
آئی او ایس کی اس اختتامی بین الاقوامی کانفرنس میں ملک کی سب سے بڑی عدالت کے دونوں سابق چیف جسٹسز کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ماہر آئینی قانون اور حیدر آباد کی مشہور نلسار لاء یونیورسٹی کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے اسی سہ روزہ کانفرنس کے آخری دن اختتامی اجلاس میںکہا کہ آئین میں درج مساوات، انصاف اور اخوت کو حاصل کرنے کے لیے ملک کی ریزرویشن پالیسی پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی زور ڈالا کہ کوٹا دینے کے کرائٹیریاکا تجزیہ ہونا چاہیے اور پھر سماجی طور پر ملک کو شمولیاتی یا انکلوشیو بنانا چاہیے۔ ان کے خیال میں مالیاتی طور پر قابل عمل ، تعلیمی طور پر امپاورڈ اور سماجی طور پر شمولیاتی یا انکلوشیو سماج بنانے کے بجائے موجودہ حکومت سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے پرسنل لاء میں مداخلت کی کوشش کررہی ہے جس میںوہ کامیاب بھی نہیں ہوپارہی ہے ۔
آئی او ایس کی اس سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس میںافتتاحی اور اختتامی اجلاس کے علاوہ ایک خصوصی اجلاس بعنوان ’ہم عصر ہندوستان میںمذہب کا کردار‘ اور مختلف موضوعات پر 16 بزنس اجلاس ہوئے۔ یہ تمام 16 بزنس اجلاس کے موضوعات اصل موضوع مساوات، انصاف اور اخوت کی مناسبت سے تھے جن میں اندرون و بیرون ملک کے ماہرین و دانشوران نے شرکت کی اور تبادلہ خیال کیا۔ ان موضوعات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ 30 ویں تاسیسی تقریبات کی یہ اختتامی بین الاقوامی کانفرنس کتنی اہم اور غیر معمولی تھی۔ پہلے بزنس اجلاس کا موضوع ’آئین ہند کی روشنی میںاقلیتوں کے لیے مساوات، انصاف اور اخوت کے تصورات کی نظریاتی اساسیں‘،دوسرے کا ’قومی تناظر میںآفاقی خاندان کے لیے پلیس منٹ اور اعلیٰ تعلیم کا کردار‘ ، تیسرے کا ’اقوام متحدہ و دیگر اداروں کی تشویشات کی روشنی میں اقلیتوں کے لیے مساوات، انصاف اور اخوت کے تصورات کی نظریاتی اساسیں‘ ، چوتھے کا تعلیم کے عالمی تناظر میں آفاقی خاندان کے تصور کو عام کرنے کے لیے پلیس منٹ اور اعلیٰ تعلیم کا کردار‘ ، پانچویں کا ’پبلک ہیلتھ سمیت مختلف شعبوں میںتبدیلی کے پیٹرنز اور ایجنٹس‘ ، چھٹے کا ’بین الاقوامی تعلقات کے تناظر خاص کر خارجہ پالیسی کو متاثر کرتے ہوئے مساوات،

 

 

 

 

 

 

 

 

 

انصاف اور اخوت کے اقدار کا کردار‘ ، ساتویں کا ’ٹیکنالوجی اور ترقیاتی ماڈلز سمیت مختلف شعبوں میں تبدیلی کے پیٹرنز اور ایجنٹس‘ ، آٹھویں کا ’بین الاقوامی تعلقات میں حاوی پیٹرنز سمیت بین الاقوامی تعلقات کے شعبوں کو متاثر کرتے ہوئے مساوات، انصاف اور اخوت کے اقدار کا کردار‘ ، نویں کا ’قومی قانونی نظام کے تناظر میں مساوات، انصاف اور اخوت کے حوالے سے جدید گلوبلائزڈ دنیا میں قومی و بین الاقوامی قانون کا کردار‘ ، دسویںکا ’گلوبلائزیشن کے دور میں بین الاقوامی قانون کے تناظر میں مساوات، انصاف اور اخوت کے حوالے سے جدید گلوبلائزڈ دنیا میں قومی و بین الاقوامی قانون کا کردار‘ ، گیارہویں کا ’اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمہ میںقومی سطح پر ان اقدار کا کردار‘ ، بارہویں کا ’مساوات، انصاف اور اخوت کے اقدار کو فروغ دینے میں قومی و علاقائی میڈیا کا کیریکٹر او رکردار‘ ، تیرہویں کا ’اقتصادی ترقی او رغربت کے خاتمہ میں ان اقدار اور بین الاقوامی کمٹ منٹس کاکردار‘ ، چودھویں کا ’مساوات، انصاف اور اخوت کے اقدار کو فروغ دینے میں بین الاقوامی میڈیا کا کیریکٹر اور کردار‘ ، پندرہویںکا ’امن، مساوات، انصاف اور اخوت کے فروغ میں اسلام کا کردار‘ اور سولہویں بزنس اجلاس کا موضوع ’امن ، مساوات، انصاف اور اخوت کے فروغ میںدیگر مذاہب کا کردار‘ تھا۔
سہ روزہ کانفرنس کے تمام اجلاسوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آئی او ایس کس طرح ایک تھنک ٹینک کے طور پر قومی و بین الاقوامی تناظر میںتجزیہ اور رجحان سازی میںمصروف عمل ہے۔ اس کے گزشتہ 32 برسوں میں سماجی اور قومی وبین الاقوامی طور پر مثبت اثرات مرتب ہونے شروع ہوچکے ہیں اور اس حیثیت سے پالیسی ساز دیگر ادارے و شخصیات اسے سنجیدگی سے لینے لگے ہیں۔ دراصل یہی اس کا کامیابی کی جانب بڑھتا ہوا قدم ہے۔ آئی او ایس کے بانی چیئرمین ڈاکٹرمحمد منظور عالم نے ’چوتھی دنیا‘ اردو سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 30ویںتقریبات کے اس اختتامی اجلاس میں نئی نسل کے نمائندوں و دیگر ماہرین و دانشوروں کی زبردست دلچسپی سے اس بات کا حوصلہ ملا ہے کہ آنے والا کل روشن اور محفوظ ہے اور اس سے امید افزا توقعا ت وابستہ ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *