شام کی بمباری میں معصوم بچوں اور خواتین کی ہلاکت

ملک شام کا مشرقی صوبہ غوطہ کے تمام علاقے زمیں بوس کر دیے گئے ہیں اور باغیوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے کیے جانے والے حکومتی حملوں میں ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔حکومت کے اتحادی روس کی جانب سے انسانی بنیادوں پر روزانہ چند گھنٹوں کے لیے جنگ روکنے کے حکم کے باوجود ان آبادیوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اور ہسپتال، اسکول، دکانیں بھی فضائی اور زمینی بمباری کی زد میں ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز نے کہا کے وہاں لوگ دنیاوی جہنم میں جی رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ حکومتی فورسز نے مشرقی غوطہ میں باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ اس سے پہلے ہی اس علاقے کا محاصرہ کرلیا گیا تھا، جس کے باعث وہاں لوگ محصور ہوگئے۔ باغیوں کے زیر قبضہ اس علاقے میں شامی فورسز کی کارروائی کی وجہ سے متعدد افراد ہلاک تو ہوئے ہی ہیں لیکن ساتھ ہی ہزاروں افراد بنیادی خوراک اور طبی امداد سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ مشرقی غوطہ کی لڑائی کو شام کی 7 سالہ خانہ جنگی کی بدترین جنگی مہم قرار دیا جارہا ہے۔ عالمی طاقتوں نے دمشق اوراس کے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عسکری کارروائی کو روکا جائے تاہم شامی صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ یاد رہے کہ بشار اسد کی حکومت کے مخالف تمام فورسز کو ہی ہشت گرد قرار دیتی ہے ۔ایک ماہ سے جاری اس شدید لڑائی کے نتیجے میں کم سے کم 700 شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق مشرقی غوطہ میں بمباری کی وجہ سے بے شمار رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شام میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ لاکھ پہنچ چکی ہے جن میں ہزاروں خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں۔ 2012 سے جاری جنگ کے سبب دسمبر 2017 تک یہاںمہلوکین کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ تھی۔یہ اعدادو شمار اقوام متحدہ، سیرین آبرویٹری فار ہیومن رائٹس ، ایمنیسٹی انٹرنیشنل جیسے اداروںکے ہیں۔ ایس او ایچ آر کے مطابق جولائی 2017 تک شام میں 19 ہزار سے زائد بچے اور 12 ہزار سے زائد خواتین ماری گئی تھیں۔ ان کے علاوہ جو ہلاکتیںہوئی ہیںان میں دسمبر 2017 تک 118140 حکومتی فورسز، 121241 حکومت مخالف افواج اور 101429 عام شہری شامل ہیں۔ یہاں کی نصف آبادی اپنے گھر چھوڑ کر ہجرت کرچکی ہے۔ شامی جنگ کے سبب وہاں کی املاک کی تباہی کا جو اندازہ عالمی بینک نے لگایا ہے ،وہ 226 بلین امریکی ڈالر ہے۔یہ تباہی نصف جولائی 2017 تک کی تھی۔
غوطہ میں جنگ اور حملے جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد کے باوجود مشرقی غوطہ میں دھماکے ہورہے ہیں جس کے سبب بہت سے لوگوں کو کلورین گیس کا شکار ہونا پڑرہا ہے۔شام کی سرزمین پر جو جنگ و جدل اور خونریزی ہے اور جس طرح مغربی طاقتیں امریکا اور روس اس پر قبضے کی جنگ لڑ رہے ہیں، اسی طرح مسلم امّہ کی دو طاقتیں سعودی عرب اور ایران بھی وہاں اپنے غلبے کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ امریکا اور روس کھل کر اعلان کرتے ہیں کہ یہ ہمارے اس خطے میں مفادات کی جنگ ہے، لیکن سعودی عرب اور ایران اسے مسلک کا لبادہ اوڑھا کر منافقت کرتے ہیں اور اپنے علاقائی ایجنڈے کو حق و باطل کی جنگ بنا کر پیش کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ نہ شیعہ کی لڑائی ہے اور نہ سنی کی، یہ وہ قتل و غارت اور خانہ جنگی ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مارچ 2011 میں شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف بھی ویسی ہی عوامی تحریک اٹھی تھی جیسی مصر، تیونس، مراکش، لیبیا اور یمن میں تحریکیں اٹھیں۔ پہلی جماعت جس نے بشارالاسد کے خلاف تحریک سے جنم لیا اسے حساّن عبود ابو عبداللہ نے منظم کیا، جسے حرکتِ احرار الشام الاسلامیہ کہتے ہیں۔ 11 نومبر 2011 کو اس نے اپنے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کسی عالمی جہادی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ اس دوران بشارالاسد کے مظالم اس قدر شدید ہو گئے کہ لاکھوں لوگ ہجرت کر گئے اور بھوک کا عالم یہ تھا کہ لوگ مردہ جانوروں کا گوشت تک کھا کر زندہ رہنے پر مجبور ہو گئے۔
اس ظلم کے ردعمل میں بشار حکومت کے خلاف ہر علاقے میں جہادی گروہوں نے جنم لینا شروع کیا۔ سعودی عرب نے اپنے ایک عالمِ دین امیر زہران علوش کو مکمل امداد کے ساتھ وہاں بھیجا جس نے جیش الاسلام کے نام سے تنظیم بنائی۔ یہ غوطہ شہر پر قابض ہیں اور انھوں نے دمشق پر حملہ کرنے کے لیے درجنوں سرنگیں کھود رکھی ہیں۔ چند ماہ قبل انھوں نے شام کے وزیرِ انصاف کو دمشق کے ریڈ زون سے اغوا کیا اور بدلے میں پانچ سو قیدیوں کو چھڑایا۔ 22 نومبر 2013 کو حسان عبود نے ان تمام تنظیموں کو اکٹھا کیا اور گیارہ جماعتوں کے اتحاد کے بعد ‘‘الجبہالاسلامیہ’’ کا اعلان کردیا۔
اس اتحاد میں کردوں کی بہت بڑی تنظیم الجبھۃ الاسلامیہ کردیہ بھی شامل تھی۔ یہ وہ موڑ تھا جس سے عالمی طاقتوں کو اس کھیل میں کودنے کا موقع ملا۔ سعودی عرب کی جیش الاسلام کی حمایت کے بعد ایران ویسے تو بشارالاسد کی پہلے سے ہی مدد کر رہا تھا، لیکن اب وہ کھل کر سامنے آ گیا۔ اپنے پاسداران اور بسیج کے نوجوانوں کو وہاں لڑنے کے لیے بھیجا اور دنیا بھر میں اسے حق و باطل کا معرکہ قرار دے کر لوگوں کو وہاں لڑنے کے لیے اکسایا۔ اس وقت وہاں ایران کی مدد سے تین ملیشیا لڑ رہے ہیں جو کہتے ہیں ہم اپنے مقدس مقامات کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اس وقت شام کا شہر غوطہ روسی بمباری کے نتیجے میں جہنم بناہوا ہے ۔ روس، عراق اور ایران کے اتحاد اور امریکی حکمتِ عملی کی وجہ سے یہ جنگ بہت طویل بھی ہو سکتی ہے کیونکہ یہ سب طاقتیں مل کر بشارالاسد کو مستحکم اور مضبوط بنا دیں گی۔ یہ جنگ جسے ایران اور سعودی عرب نے حق و باطل کی جنگ بنا کر مسلم امّہ کو ہیجان میں مبتلا کیا ہے،پوری امت مسلمہ کے لئے جانی و مالی خسارے کی بدترین مثال ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *