بدعنوانی اور امیر و غریب کے درمیان دوری بڑھی

بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی اپنانے کا وعدہ کرنے والی مودی سرکار کے تمام دعوے تین سال میں ہی ہوا ہوائی ثابت ہو گئے ہیں۔ ’’نہ کھائوں گا اور نہ کھانے دوں گا‘‘ کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم خود بھلے پاک و صاف ہوں، لیکن ان کی سرکارکی مہربانیوں کی بدولت سرمایہ داروں کے کارنامے جیسے جیسے اجاگر ہو رہے ہیں، اس سے یہ تصویر صاف ہو گئی ہے کہ کچھ لوگ کھا بھی رہے ہیں اور بینکوں کا پیسہ کھاکر ملک کے باہر بے روک ٹوک جا بھی رہے ہیں۔
’ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل ‘‘ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدعنوانی کے معاملے میں ہندوستان 2016 کے مقابلے 2پائیدان نیچے کھسک کر 81 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔’’ ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل‘‘ نے دنیا کے 180 ملکوں کے بیچ سرکار اور عوامی زندگی میں پھیلی بدعنوانی کی سطح کی جانچ کی ہے، اس کے پہلے ہندوستان بد عنوان ملکوں کی ریکنگ میں 2016 میں 76ویں اور 2017 میں 79ویں مقام پر تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مودی سرکار کے دور حکومت میں بھی بدعنوانی کی جڑیں اور گہری اور وسیع ہوتی جارہی ہیں۔
آپ کو بتا دیں کہ’’ ٹرانسپرینسی انٹر نیشنل‘‘ کے ذریعہ عوامی زندگی میں بدعنوانی کو لے کر کئے گئے سروے میں ہندوستان نے 100 میں سے 40 نمبر پاکر 81 واں درجہ حاصل کیا ہے، جبکہ نیوزی لینڈ اور ڈنمارک اس رینکنگ میں بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔ بدعنوانی کے معاملے میں جہاں صومالیہ، سوڈان اور شام سب سے نچلے پائیدان پر ہیں، وہیں ہندوستان 43 کے اوسط نمبر سے بھی نیچے ہے۔
اس سروے میں ایک اور چونکانے والی بات سامنے آئی ہے۔وہ یہ کہ ہندوستان اب بدعنوانی میں ہی نہیں، بلکہ میڈیا کے استحصال ، غربت، ناانصافی اور عوامی حقوق کو لے کر لڑنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو کچلنے میں بھی تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ اقتدار کے خلاف کرنے والوں پر حملے ہورہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میںہر ہفتہ اوسطاً ایک صحافی یا سماجی کارکن ان حملوں کے شکار ہورہے ہیں۔
مذہبی تعصب کے معاملے میں بھی ہندوستان کی صورت حال کافی خراب بتائی جاتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق 198ملکوں کی صورت حال کا جائزہ لینے پر ہندوستان چوتھا سب سے خراب مذہبی تعصب والا ملک پایا گیا ہے۔ اس معاملے میں وہ شام، نائیجریااور عراق جیسے گنے چنے ملکوں سے ہی بہتر ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ ایک سچائی ہے کہ ’’ ساری دنیا میں ایک کنبہ اور پرامن ہم آہنگی ‘‘کی بے نظیر تاریخی مثال پیش کرنے والے اس ملک میں گزشتہ تین سالوں میں مذہبی جنون اور دلت تشدد کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2016 میں دلت تشدد کے 40ہزار سے زیادہ معاملے درج کئے گئے۔ گئو کشی کے نام پر سینکڑوںاقلیتووں کو نہ صرف سرے عام پیٹا گیا، بلکہ کئی لوگوں کی تو دردناک طریقے سے قتل کر دیا گیا۔ اترپردیش، راجستھان ، مدھیہ پردیش، پنجاب اور جھارکھنڈ میں بے لگام گئو رکشکوں نے جم کر شیطنت کی۔لیکن ملک کے چوکیدار آنکھیں بند کئے رہے۔یہی نہیں بلکہ نظریاتی اختلافات کو بھی راشٹروِرودھ قرار دے دیا گیا۔ کل برگی، دابھولکر ، شاتنو بھومک اور گوری لنکیش کے قتل اس کی شرمناک مثالیںہیں۔ان واقعات نے دنیا میںہندوستان کی جم کر فضیحت کرائی۔
ایک اور سروے کے مطابق ہندوستان، طرز زندگی اور کام کرنے کے لحاظ سے دنیاکے دس سب سے خراب ملکوں میں سے ہے۔ دنیا کے 65 ملکوں میں کرائے گئے اس سروے میں ہندوستان کا درجہ 57واں ہے، جبکہ 2016 میں یہ آٹھویں پائیدان پر تھا ۔انسانی حقوق کے لئے لڑنے والی تنظیم ’’ واک فری فائونڈیشن ‘‘کے مطابق گلوبل سلیوری انڈیکس میں بھی ہندوستان کی حالت شرمناک ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں تقریباً 4 کروڑ 60 لاکھ لوگ آج بھی خستہ زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے ایک کروڑ 83 لاکھ لوگ اکیلے ہندوستان میں ہیں، جو بھیک مانگنے یا جسم فروسی جیسے پیشوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

خواتین کی سیکورٹی کے لحاظ سے بھی ہندوستان اب بہت بھروسہ مند ملک نہیں ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں عورتوں سے عصمت دری کے یومیہ 106 سے زیادہ معاملے درج ہو رہے ہیں۔ 2015 میں ملک میں عورتوں سے عصمت دری کے 34210 معاملے سامنے آئے، جو کہ 2016 میں بڑھ کر 38947 ہو گئے۔ خوفناک بات یہ ہے کہ ان میں سے 2167 حادثات اجتماعی عصمت دری کے ہیں۔ اجتماعی عصمت دری کی شکار بننے والی 837 لڑکیاں 12سال سے کم عمر کی ہیں۔ ا س سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ’’بیٹی بچائو – بیٹی پڑھائو‘‘ کے مشن والے ملک میں ہم کس بھدے ، بربریت اور قدیم زمانے میں جی رہے ہیں۔پچھلے دنوں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر دنیا کو اور چونکا دیا کہ ہندوستان غیر ملکی خاتون سیاحوں کے لئے محفوظ ملک نہیں ہے۔
اب ہم بات کرتے ہیں ایک دوسری رپورٹ کی۔یہ رپورٹ وزیراعظم کے اس دعوے کو کہ ان کی سرکار غریبوں کو وقف سرکار ہے، پوری طرح خارج کرتی ہے۔ غیر سرکاری تنظیم ’’ اوکس فیم ‘کے ذریعہ حال میں جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں ہندوستان میں امیر اور غریب کے درمیان کی دوری بڑھی ہے۔ امیر اور زیادہ امیر، جبکہ غریب زیادہ غریب ہوتے جارہے ہیں۔ وزیراعظم کا ’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کا نعرہ جھوٹا اور دھوکہ ثابت ہورہا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ملک کی کل جی ڈی پی کا 15 فیصد حصہ گنے چنے ارب پتیوں کے پاس ہے۔ پانچ سال پہلے ان سرمایہ داروں کے قبضے میں جی ڈی پی کا صرف 10فیصد حصہ تھا۔
دائوس میں پچھلے دنوں ہوئی ورلڈ اکانومک فورم کی میٹنگ کے دوران یہ خلاصہ ہوا تھا کہ ملک کے ایک فیصد امیروں کے پاس ملک کی 73فیصد دولت ہے۔ سال 2017 میں ہی ملک میں 101 نئے ارب پتی بنے ہیں۔یعنی مٹھی بھر لوگ ملک کی دولت سے اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں تو دوسری طرف لاکھوں غریب، بے روزگار او مجبور کسان بھکمری اور قرض کے بوجھ سے خود کشی کررہے ہیں۔ آخر ہم یہ کیسا ہندوستان بنا رہے ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *