ہندو دلت خاتون پاکستانی سینیٹ کی رکن منتخب اچھا اور مثبت پیغام

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینٹ کے حالیہ انتخاب میں چاروں صوبوں سے آٹھ خواتین مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئی ہیں۔ منتخب ہونی والی بعض خاتون جہاں پہلی مرتبہ سینیٹ کی رکن بنی ہیں، وہیں ماسوائے کرشنا کوہلی کے باقی سب کا تعلق بڑے سیاسی گھرانوں سے ہے۔کرشنا کوہلی ایک ہندو دلت ہیں۔ان کے انتخاب سے یقینا یہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان میںصرف ہندو چیف جسٹس ہی نہیں ہوسکتا بلکہ ہندو اقلیتی کمیونٹی کی ایک غریب خاتون ایوان بالا کی رکن بھی ہوسکتی ہیں۔
آزاد امیدوار کے طور پر پاکستان کے ایوان بالا میں خواتین کے لیے مخصوص نشست پر پنجاب سے منتخب ہونے والی بیریسٹر سعدیہ خاقان عباسی پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ ہیں۔ سعدیہ عباسی اس سے پہلے 2003 سے 2009 تک بھی مسلم لیگ (ن)کے ٹکٹ پر سینیٹر رہی ہیں۔ تاہم 2009 میں سینیٹ میں اپنی مدت مکمل ہونے سے چند دن پہلے ہی انھوں نے استعفیٰ دیا تھا جس کی وجہ ان کو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ٹکٹ نہ ملنا بتایا جاتا ہے۔ انھوں نے 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔
پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی دوسری سینیٹر نزہت صادق اس سے پہلے 2012 سے پاکستان مسلم لیگ (ن )کے ٹکٹ پر ایوانِ بالا کی رکن ہیں۔ اس سے پہلے وہ خواتین کی مخصوص نشست پر ہی قومی اسمبلی کی رکن تھیں تاہم 2012 میں سینیٹ کے لیے منتخب ہونے کے بعد انھوں نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ڈاکٹر مہر تاج روغانی کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے مردان سے ہے۔ وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی پہلی خاتون ڈپٹی اسپیکر بنیں اور اب پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹ کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔شعبہ طب میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے ساتھ منسلک رہیں اور پشاور کے لیڈی ریڈنگ ٹیچنگ اسپتال، خیبر میڈیکل کالج اور خیبر ٹیچنگ اسپتال میں تعینات رہی ہیں۔ وہ 2000 میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں میں صوبائی وزیرِ صحت جبکہ 2007 میں نگراں وزیر صحت رہیں۔ انھوں نے 2007 میں باضابطہ طور پر پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

عابدہ عظیم دوتانی کا تعلق پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے۔ ان کے والد اسی پارٹی کے مرکزی جنرل سکریٹری رہے ہیں جبکہ ان کے شوہر عظیم دوتانی بھی اسی پارٹی سے منسلک ہیں۔ اس سے پہلے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی ہی گل بشری اس وقت سینیٹ کی رکن ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد کا تعلق خیبر پختونخوا کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد سید ظفر علی شاہ (مرحوم) اور بھائی سید ظاہر شاہ کا خیبرپختونخواہ کی سیاست میں اہم کردار رہا ہے۔روبینہ خالد 2012 میں سینیٹ کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور وہ مختلف موضوعات پر کھل کر بات کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ وہ دوسری بار بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ہی ایوانِ بالا کی رکن منتخب ہوئی ہیں
قرۃ العین مری پاکستان کے صوبہ سندھ کے بڑے سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والی ہیں۔ا ن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ پہلی بار ایوانِ بالا کے لیے منتخب ہوئی ہیں۔ ان کی بہن شازیہ مری اس وقت قومی اسمبلی کی سرگرم رکن ہیں۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سانگھڑ سے تعلق رکھنے والی قرۃ العین مری کہتی ہیں کہ وہ اٹھارہ برس کی عمر میں باقاعدہ طور پر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، جبکہ ان کے مطابق وہ پیپلز پارٹی میں آخری نوجوان خاتون تھیں جن کی تربیت اور رہنمائی خود بینظیر بھٹو نے کی۔
نئی اراکینِ سینیٹ کی اس فہرست میں کرشنا کوہلی وہ واحد رکن ہیں جن کا تعلق کسی سیاسی گھرانے سے نہیں۔ بلکہ تھر کے ضلع نگرپارکر کے غریب گھرانے سے ہے۔ان کے والد جگنو کوہلی ایک زمیندار کے ہاں مزدوری کرتے تھے اور کام نہ ہونے کے باعث اکثر مختلف علاقوں میں کام کی تلاش میں جایا کرتے تھے۔کرشنا کوہلی کیشو بائی کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کی شادی 16 سال کی عمر میں کردی گئی تھی ۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر ان کی پڑھائی میں مددگار ثابت ہوئے۔انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا ہے اور پچھلے 20 سال سے تھر میں لڑکیوں کی تعلیم اور صحت کے لیے جدوجہد کررہی ہیں ۔ کرشنا کماری اپنی برادری کے لوگوں اور خاص طور پر خواتین کے لیے کچھ کرنے کے عزم سے سرشار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیونکہ وہ جنرل سیٹ سے منتخب ہوئی ہیں اس لیے وہ زیادہ مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہیں۔
ثنا جمالی کا تعلق بلوچستان سے ہے اور وہ پہلی بار خواتین کی مخصوص نشست پر سینیٹ کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔ دیگر خواتین ارکان کی طرح ان کا تعلق بھی اہم سیاسی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد جان محمد جمالی بلوچستان کے وزیر اعلی، اور دو بار سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین رہے ہیں۔
یہ تمام خواتین سیاسی جماعتوں کی حمایت اور نامزدگی سے ایوان تک پہنچی ہیں، لیکن عام نشست پر کسی کو نہ تو نامزد کیا گیا اور نہ ہی منتخب کروایا گیا۔ اس سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کب تک خواتین مخصوص نشستوں تک ہی محددو رکھی جائیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *