کابل میں عبوری حکومت ہند کے وزیر خارجہ مجاہد آزادی مولانا عبیدا للہ سندھی

مجاہد آزادی مولانا عبید اللہ سندھی 10مارچ 1872 کو سیالکوٹ کے قریب ایک گاؤں ’’چیانوالی‘‘ میں اپنے والد کی وفات کے چار ماہ بعد پیدا ہوئے۔مورخین نے ان کی تاریخ پیدائش 22مارچ 1872 بھی لکھا ہے۔ان کا پیدائشی نام بوٹا سنگھ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام عبید اللہ رکھا۔ دو سال کی عمر میں آپ کے دادا کا بھی انتقال ہو گیا تو ان کی والدہ انھیں لے کر اپنے والدین کے گھر جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان چلی گئیں۔ 1878 میں چھ سال کی عمر میں جام پور میں تعلیم کا آغاز ہوا۔ آپ نے اپنے تعلیمی عرصے میں ریاضی، الجبرا، اْقلیدس اور تاریخ ہند سے متعلق علوم بڑی دلچسپی سے پڑھے۔ 1884 میں بارہ سال کی عمر میں ایک نومسلم عالم عبید اللہ مالیرکوٹلی کی کتاب ’’تْحفۃ الہِند‘‘ پڑھی۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ نے اسلام قبول کیا اور اس کے مصنف کے نام پر آپ نے اپنا نام ’’عبید اللہ‘‘ رکھا۔
1888 میں انہوں نے سید العارفین حافظ محمد صدیق بھر چونڈی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حافظ صاحب نے ان کو اپنا بیٹا بنا کر توجہ باطنی ڈالی۔ اس اجتماعِ صالح کی برکت سے مولانا سندھی کے قلب میں معاشرتِ اسلامیہ راسخ ہوگئی۔ دو ماہ قیام کے بعد سید العارفین کے خلیفہ اوّل مولانا ابوالسراج غلام محمد کے پاس دین پور تشریف لے آئے۔ آپ کے اساتذہ کرام میں مولانا عبد القادر، مولانا خدا بخش، مولانا احمد حسن کانپوری (شاگرد مولانا محمد قاسم نانوتوی)، مولانا حافظ احمد مہتمم دار العلوم دیوبند، شیخ الہند مولانا محمود حسن، مولانا رشید احمد گنگوہی جیسے جید علمائے کرام شامل تھے۔ امتحان میں مولانا سید احمد دہلوی نے حضرت سندھی کے جوابات کی بڑی تعریف کی اور فرمایا کہ ’’اگر اس کو کتابیں ملیں تو یہ شاہ عبد العزیز ثانی ہوگا۔‘‘
دہلی سے سندھ میں بھرچونڈی شریف پہنچے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن سے درس و تدریس کا اجازت نامہ آگیا تھا۔ 1891 میں مولانا ابوالحسن تاج محمود امروٹی کے پاس امروٹ ضلع سکھر تشریف لے گئے اور وہیں آپ کی شادی ہوئی۔ 1897 تک امروٹ شریف میں کتب ِحدیث وتفسیر کی درس و تدریس اور مطالعہ کتب میں مصروف رہے۔ اسی دوران نشر و اشاعت کا ایک ادارہ ’’ محمود المطابع‘‘ قائم کیا اور اس مطبع سے سندھی زبان میں ایک ماہ نامہ ’’ہدایہ الاخوان‘‘ کے نام سے شروع کیا۔ 1897 میںشیخ الہند نے انھیں سیاسی کام کرنے کا حکم دیا۔ 1901 میں آپ نے صاحب العلم الثالث پیر رشیدالدین کے ساتھ مل کر حیدر آباکے قریب ’’پیرجھنڈا‘‘ میں ایک مرکز ’’دارالرشاد‘‘ کے نام سے قائم کیا اور سات سال تک آپ نے علمی اور سیاسی کام سرانجام دیے۔ 1909 میں سندھ سے آپ دیوبند منتقل ہوگئے اور ’’جمعیت الانصار ‘‘قائم کی جس میں دار العلوم دیوبند کے فاضلین کی تعلیم و تربیت کا نظام اور تحریک ِحریت پیدا کرنے کے لیے اجلاسات منعقد کیے گئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

1913 میں آپ نے قرآن حکیم کی تفسیر ’’الفوزالکبیر‘‘ کے اصولوں کی روشنی میںسمجھانے کے لیے دہلی میں ’’نظارۃ المعارف القرآنیہ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جس کی سرپرستی شیخ الہند، حکیم اجمل خان اور نواب وقار الملک نے کی۔1915 میں آپ شیخ الہند کے حکم سے کابل جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ سات سال کابل میں قیام پذیر رہے۔ اس دوران آپ نے ایک جماعت ’’جنود اللہ الربانیہ‘‘ کے نام سے قائم کی، جو ہندوستان، افغانستان کی آزادی کے لیے جدوجہد اور کوشش کرتی رہی۔ 1916 میں کابل میں ’’عبوری حکومت ِہند‘‘ قائم کی اوراس کے وزیر خارجہ کے طور پر کام کرتے رہے۔
1922 میں آپ نے ’کانگریس کمیٹی کابل‘ بنائی اور اس کے صدر مقرر ہوئے۔اس کا الحاق انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے اجلاس منعقدہ ’’گیا‘‘ میں منظور کیا۔ 1922 میں ترکی جانے کے لیے راستہ سے روس روانہ ہوئے۔ اس دوران ماسکو میں سات ماہ قیام فرمایا اور صدر عبوری حکومت راجہ مہندر پرتاپ اور وزیر اعظم برکت اللہ بھوپالی کے ساتھ کامریڈ لینن سے ملے جو ان لوگوںسے مل کر بے حد متاثر ہوئے۔ 1923 میں آپ انقرہ ترکی پہنچے۔ یہاں چار ماہ قیام فرمایا اور عصمت پاشا، رئووف بِک وغیرہ انقلابی رہنماؤں، نیزشیخ عبد العزیز جاویش سے ملاقاتیں ہوئیں۔ استنبول میں تین سال قیام فرماکر یورپ کی تاریخ کا بڑی گہری نظر سے مطالعہ فرمایا۔ 1924 کو ہندوستان کے مستقبل کے سیاسی اور معاشی اْمور کو حل کرنے کے لیے ’’آزاد برصغیر کا دستور ی خاکہ‘‘ جاری فرمایا۔ استنبول سے اٹلی اور سوئٹزرلینڈ تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ جدید اٹلی اور یورپ کی سیاسیات کا مطالعہ کیا۔ 1926 میں مکۃ المکرمہ تشریف لائے اور دینی تعلیمات کی روشنی میں قومی جمہوری دور کے تقاضوں کے مطابق ایک پروگرام ترتیب دیا۔
انڈین نیشنل کانگریس، جمعیت علمائے ہند، مسلم لیگ اور دیگر قومی جماعتوں نے مولانا سندھی کی ہندوستان واپسی کے لیے کوششیں شروع کیں۔ 1939 میں آپ کراچی کی بندرگاہ پر اْترے۔ حکومت ِسندھ کے وزیر اعظم اللہ بخش سومرو نے عمائدین کے ساتھ آپ کا استقبال کیا اور کراچی میونسپل ہال میں آپ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ جہاں آپ نے ایک اہم اور معرکہ آرا خطاب فرمایا۔ آپ کی واپسی پر جمعیت علمائے صوبہ بنگال کے اجتماع منعقدہ کلکتہ کا آپ کو صدر مقرر کیا گیا۔ آپ نے شاہ ولی اللہ کے فلسفے کو سمجھانے کے لیے دہلی، لاہور، کراچی، پیرجھنڈا اور دین پور میں بیت الحکمت کے مراکز کھولے جہاں نہایت سرگرمی سے نوجوانوں کی تربیت فرماتے رہے۔ 1944 میں بیماری کے باوجود سندھی کراچی سے حیدر آباد، میرپور خاص اور نواب شاہ ہوتے ہوئے گوٹھ پیرجھنڈا مدرسہ دار الرشاد میں قیام فرما ہوئے۔ آپ آخری دم تک پروفیسرمحمدسرور، مولانا غلام مصطفی قاسمی، مولانا بشیر احمد لدھیانوی اور اپنے دیگر نامور شاگردوں کو تاریخ، سیاست اور قرآنی علوم و معارف سے آراستہ کرتے رہے۔
انتقال سے دو روز قبل دین پور تشریف لائے اور 21 اگست 1944 بروز منگل وِصال فرمایا۔ آپ کا مزار حضرت غلام محمد دین پوری کے قریب دین پور کے قبرستان میں مرجع خلائق ہے۔
مولانا عبید اللہ سندھی پہلے سکھ مذہب سے تعلق رکھتے حافظ الملت محمد صدیق قادری بھرچونڈی شریف کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نگاہ کیمیاء اثر نے ان کے قلب کی ماہیت تبدیل کر دی۔ مشرف بہ اسلام ہوئے پیر کامل نے توجہ کی تو خرقہ صفا پہن کر بھرچونڈی شریف کے ہو کر رہ گئے۔عبید اللہ سندھی خود لکھتے ہیں کہ ’’میں سولہ برس کا تھا اور اردو میں میٹرک کے درجے تک تعلیم پا چکا تھا کہ میں مسلمان ہوا اور مجھے کلمہ توحید حضرت حافظ محمد صدیق بھر چونڈی والوں نے پڑھایا۔میں اپنے آپ کو ان کی جماعت کا ایک فقیر سمجھتا ہوں۔اللہ تعالی کی رحمت سے جس طرح ابتدائی عمر میں اسلام کی سمجھ آسان ہو گئی، اسی طرح کی خاص رحمت کا اثر یہ بھی ہے کہ سندھ میں حضرت حافظ محمد صدیق صاحب (بھرچونڈی والے) کی خدمت میں پہنچ گیا جو اپنے وقت کے جنید اور بایزید تھے ۔چند ماہ ان کی صحبت میں رہا ،اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اسلامی معاشرت میرے لیے اس طرح بیعت ثانیہ بن گئی جس طرح ایک پیدائشی مسلمان کی ہوتی ہے۔ ایک روز آپ نے میرے سامنے لوگوں کو مخاطب فرمایا اور کہا کہ عبید اللہ نے ہم کو اپنا ماں باپ بنایا ہے۔ اس کلمہ کی تاثیر خاص طور پر میرے دل میں محفوظ ہے، میں انہیں اپنا دینی باپ سمجھتا ہوں ،اس لیے سندھ کو اپنا مستقل وطن بنایا یا بن گیا۔ میں نے قادری راشدی طریقہ میں حضرت سے بیعت کر لی تھی، اس کا نتیجہ یہ محسوس ہوا کہ بڑوں سے بڑے سے بھی بہت کم مرعوب ہوتا ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *