سعودی تاریخ میں پہلی میراتھن دوڑ

سعودی عرب میںتبدیلی رونما ہورہی ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ تبدیلی سطحی امور پر ہورہی ہے اور جن معاملات میں تبدیلی ہونی چاہیے وہ معاملات پہلے کی طرح ہی ہیں۔سعودی عرب میں گزشتہ 23تاریخ کو قومی دن منایا گیا اور اس مناسبت سے ایک محفل موسیقی منعقد کی گئی یعنی’’سنگنگ شو‘‘اس شو میں پہلی مرتبہ خواتین کو شرکت کی اجازت دی گئی اور خواتین نے اس شو کے دوران رقص بھی کیا جو سعودی عرب میں عام بات نہیں ۔علاوہ ازیں سعودی عرب میں اب خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دے دی گئی جو کہ ایک انتہائی بڑااقدام ہے کیونکہ سعودی عرب کے فقیہ حضرات دہائیوں سے خواتین کی ڈرائیونگ کو حرام قرار دیتے آرہے ہیں۔ سعودی عرب میں حال ہی میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حکم پر ’’انٹرٹینمنٹ کونسل ‘‘نام ادارہ تشکیل دیا گیا ہے تاکہ ملک میں انٹرٹینمنٹ کو فروغ دیا جائے۔دوسری جانب بن سلمان نے ہی چند روز قبل ملک کے سب طاقتور دینی ادارہ ’’سینئر علماء کونسل ‘‘کو فارغ کرنے کا حکم دیا ہے جو کہ سعودیوں کیلئے حیران کن تھا۔
یہ تمام اقدامات ایک ہی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ سعودی عرب ایک سخت گیرمذہبی ریاست سے سیکولر ریاست میں تبدیل ہونے جارہا ہے اور اس تبدیلی میں کسی اور کا نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید کا کردار قابل ذکرہے کیونکہ وہ بن سلمان کے قریبی دوست ہیں اور بن سلمان انہی کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں، یہی نہیں بلکہ کچھ عرصہ قبل امریکہ میں متعین اماراتی سفیرناصر العتیبہ نے امریکہ میںہونے و الی ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح لفظوں میں کہا تھا کہ امارات آئندہ دس سالوں میں خلیج ریاستوں کو سیکولر ریاستوں کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
سعودی عرب کا ماحول بہت جلد امارات والے ماحول جیسا ہوجائیگا یعنی ریاض ،جدہ ،دمام اور باقی سعودی شہروں میں وہ سب کچھ ہوگاجو ابو ظہبی ،دبئی ،شارجہ جیسے اماراتی شہروں میں ہورہا ہے اور سعودی میںجو انتہائی پابندیاں ہیں ان میں کمی ہوں گی۔سعودی عرب میں سیکولر ازم ہو یا پھر سخت گیر نظام ، اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں البتہ یہ ضرور ہونا چاہیے کہ ملک میں مذہبی آزادی ہو، سیاسی پابندیاں نہ ہوں، جیلیں مظلوم اور بے قصور شہریوں سے بھی بھری نہ ہوں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں خواتین کے تعلق سے کی جانے والی اصلاحات و تبدیلی کے مثبت نتائج سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں۔ان اصلاحات کا ہی نتیجہ ہے کہ پہلے انہیں ڈرائیونگ کی اجازت ملی، پھر کھیلوں کو دیکھنے کے لئے اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت ملی،اس کے بعد ریاض میں ایک مقابلہ حسن ہوا اور اب میرا تھن۔سعودی عرب میں ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین کی میراتھن دوڑ کے مقابلے کا اہتمام کیا گیا۔ اس مقابلے میں ایک مقامی خاتون مزنہ النصار نے دوڑ جیت کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے النصار نے اپنی جیت سے متعلق بتایا کہ مخصوص خوراک اور مسلسل ورزش اس کی تیز رفتاری کا راز ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مزنہ النصار کا کہنا تھا کہ اس کے اہل خانہ کی طرف سے میراتھن میں حصہ لینے پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی رکاوٹ کھڑی کی گئی۔میراتھن میں حصہ لینے والی تمام خواتین شرعی پردے کی مکمل طور پر پابند تھیں۔ان کامزید کہنا تھا کہ وہ 2020 میں اولمپک کھیلوں کے دوران میراتھن میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سعودی عرب میں میراتھن کا اہتمام کیا گیا جس میں امریکا، تھائی لینڈ اور دیگر ملکوں کی خواتین سمیت 1500 خواتین نے حصہ لیا۔سعودی عرب میں آئے روز ہونے والی اقتصادی تبدیلیوں سے تو سب ہی واقف ہیں اور اس بات سے بھی واقف ہیں کہ سعودی عرب میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ مارکیٹ و دفاتر میں کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں 5 سعودی لڑکیوں نے بے روزگاری سے جان چھڑانے کے لیے اپنے ذاتی کاروبار شروع کرکے غربت کو شکست دی ہے۔روان الیامی نے مشرقی زون میں الامیر سلطان فنڈ کی جانب سے پیش کیے جانے والے ہنر پروگرام میں حصہ لے کر کمپیوٹر شاپ قائم کیا۔اشراق الروقی، ھیا الغریب، موضی الحمیدی، انوار المون نے اعلی ڈگریوں کے باوجود چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کرکے روزگار کا بندوبست کیا۔ان لڑکیوں کا کہنا ہے کہ ملازمت سے انہیں وہ سب کچھ حاصل نہیں ہوگا جس کی وہ خواہشمند ہیں اور معاشرے میں ا ن کی قدر میں اضافہ ہو ۔البتہ وہ اپنا کاروبار کرکے معاشرے میں اپنا نام روشن کرسکتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *