ملک کا ماحول مت بگاڑیئے

پنجاب نیشنل بینک کے معاملے سے ملک ابھی ابھر ہی رہا ہے کہ اسی بیچ نئی باتیں آگئی ہیں۔ ایک تو جان بوجھ کر دہلی سرکار کے ساتھ کنٹراڈیکشن کروایا جارہا ہے۔ کانگریس اور بی جے پی بری طرح ہاری تھی، 70 میں سے 67 سیٹیں آپ کو ملی تھیں۔ اس جھٹکے سے بی جے پی ابھی تک ابھر نہیں پائی ہے ۔کھیل میں تو ہارنا و جیتنا لگا رہتا ہے لیکن ابھی جو بی جے پی کی قیادت ہے ،وہ ہار سمجھتی نہیں ہے۔ وہ ہار گئی ،تو گھونسا مارنے لگ جائے گی، چاقو چلانے لگ جائے گی۔ کسی بھی طریقے سے ان کو جیتنا ہے۔یہ جمہوری طریقہ نہیں ہے۔
کجریوال کون ہیں،کیاہیں، مجھے اس سے مطلب نہیں ہے۔ وہ الیکشن جیتے ہیں اور اچھی اکثریت سے جیتے ہیں۔ آپ ان کو کام کرنے دیجئے۔ ایک ضلع کا سابق پولیس کمشنر تھا بخشی۔ میری جانکاری میں کوئی بھی آئی پی ایس آفیسر اتنا غیر ذمہ دار، اتنا گھمنڈی، اتنا غیر جمہوری اور غیر آئینی نہیں تھا ۔ وہ کھلے عام چیف منسٹر کو کہہ دیتا تھا کہ میں ان کے ساتھ ڈیبیٹ کرنے کو تیار ہوں۔ آپ ہیں کون؟آپ چوکیدار ہیں۔آپ کا جو کام ہے، آپ کیجئے۔ آپ ایل جی کے انڈر میں ہیں،ان کو رپورٹ کیجئے۔ منتخب چیف منسٹر سے مت لڑیئے ۔ یہ جمہوری طریقہ نہیں ہے۔ جس ملک میں یہ ہو اہے، اس ملک میں پبلک ریووشن کرتی ہے۔ آپ کس خطرے سے کھیل رہے ہیں؟بخشی سے جان چھوٹی ،پھر نیا کمشنر آگیا ۔اس نے سب ٹھیک کردیا ۔اس نے ایک بھی ناگوار بیان نہیں دیا۔ سب ٹھیک ہو گیا۔
اب یہ دوسری مصیبت آگئی ہے۔ چیف سکریٹری انشو پرکاش آئے۔ اب پہلی بات تو یہ غلط ہے کہ آپ ایم ایل اے کو سیدھے چیف سکریٹری سے ملا رہے ہیں۔ ایم ایل اے تو منسٹر سے شکایت کرے گا۔ پھر منسٹر چیف سکریٹری سے بات کرے گا۔ اروند کجریوال بھی رات کو ساڑھے گیارہ ،بارہ بجے میٹنگ بلا رہے ہیں۔ لیکن سوسائٹی کی پرابلم کیا ہے، جیسا کہ امبیڈکر صاحب نے کہا تھا کہ آئین طے کر دے گا کہ ایک ڈیموکریٹک پالیسی ، جمہوری سیاست آگے آئے ۔یہ جمہوری سماج نہیں ہے۔یہ نہیں چلے گا اور وہی ہوا۔ دہلی کے ایم ایل اے سے بات کرنا انشو پرکاش جی اپنی عزت کے خلاف سمجھتے تھے۔ وہ سیدھے سماج کی قیادت کرتے ہیں۔ ان کے علاقے میں راشن کی کمی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے تھوڑا پُرجوش ہوکر بولا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں چوروں چماروں سے بات کرنے میں اپنی بے عزتی سمجھتا ہوں۔ یہ تو پروینشن آف ایٹروسیٹیز ایکٹ میں کرمنل اوفنس ہے۔ آپ شیڈول کاسٹ کو گالی نہیں دے سکتے۔ وہ وہاں سے چلے گئے ۔پھر بی جے پی کا اشارہ، امیت شاہ یا اور اوپر سے ہوگا کہ ان پر کرمنل کیس فائل کیجئے۔یہ جو ایک ناپسندیدہ معاملہ تھا، اس کو سلجھا لینا چاہئے تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے معذرت کرلیں اور دوبارہ ایسا نہ کریں۔ اس میں بی جے پی کا کیا کام؟بی جے پی کا کام تو تب بنے گا جب سارے اقدار زیر زمین چلے جائیںگے۔ اس کی پوری کوشش ہورہی ہے۔ بخشی وہاں سے ہٹے اور دوسرے پولیس کمشنر بدتمیز تھے نہیں،انہوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ پہلے جو لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ تھے، وہ کچھ بولتے نہیں تھے۔ انیل بیجل نے آکر تھوڑا اس کو سنبھالا ۔وہ اچھے اور سمجھدار آفیسر ہیں۔ ابھی انیل بیجل نے ایک رپورٹ دی ہے۔ کیا بی جے پی دہلی میں ایل جی کے ذریعہ حکومت کرنا چاہتی ہے؟ الیکشن آپ جیت نہیں سکتے۔ پاور میں رہنے کا آپ کے پاس یہی طریقہ ہے۔ الیکشن کمشنر کو مینی پولیٹ کرو، گورنر کو مینی پولیٹ کرو، ایم ایل اے کو خریدو، اور کچھ نہیں ہو تو آرمی، پولیس کو کنٹرول کرو۔ لب لباب یہ ہے کہ اس سرکار کو چار سال ہونے کو آئے۔ چار سال میں جمہوریت کو تو صدمہ پہنچا ہے ۔چھوٹی چھوٹی چیزیں، لیکن مجموعی طور پر جمہوریت نفی میں گئی ہے۔ چار سال میں ہوا کیا ہے؟چار سال میں پلس کچھ نہیں ہوا ہے۔ زرعی پیداوار کم ہے، صنعتی پیداوار کم ہے، ایکسپورٹ کم ہے۔ ہر چیز میں اعدادو شمار ٹھیک نہیں ہیں،مارکیٹ کنڈیشن ایسی ہے ۔ٹھیک ہے میں سرکار کواس کے لئے مورد الزام نہیں ٹھہراتا ہوں۔ لیکن جب پلس کچھ نہیں ہے تو مائنس تو مت ہونے دیجئے ۔قیمتوں کو تو ٹھیک رکھئے۔ ہر جگہ آپ ٹکرا جاتے ہیں۔ ہر چیز میں جھگڑا ، ہر چیز میں آج سی بی آئی ہے۔سی بی آئی تو سرکار کا آلہ ہے۔ کوئی قانون تو ہے نہیں، جس کے ماتحت سی بی آئی چلتی ہے، وہ مرکزی سرکار کی ٹیرر پولیس ہے۔ اپنے سیاسی مخالفوں کو سی بی آئی کے ذریعہ آپ کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، کر لیجئے۔مگر الیکشن کے دن ووٹ سی بی آئی کو نہیں ملتا ہے ۔ووٹ اسی لیڈر کو ملتا ہے جو مقبول ہو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مجھے تعجب ہے کہ گجرات الیکشن کے بعد بھی سمجھے نہیں کہ یہ نہیں چلے گا۔ یو پی میں اتنی بڑی انوسٹمنٹ کانفرنس کررہے ہیں۔یو پی میں لاء اینڈ آرڈر کی حالت کیا ہے؟معیشت چرمرا گئی ہے۔ کوئی غیر ملکی سرمایہ کار یوپی میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ ایم او یو سائن کر دے گا۔ وزیراعظم کو خوش کرنے کے لئے فوٹو کھینچا لے گا ، کچھ بول دے گا لیکن ہوگا کچھ نہیں۔ کیونکہ ابھی جو صنعتیں لگی ہوئی ہیں۔ کبھی کسی کو اغوا کرلیتے ہیں، کسی کو چاقو مار دیتے ہیں۔لاء اینڈ آرڈر یوگی آدتیہ ناتھ کے بس میں تو ہے نہیں۔ اب ٹھیک ہے انوسٹمنٹ کانفرنس سے ہوگا بھی کیا؟ابھی سائن کیا، تو ابھی ایک سال میں دہلی میں الیکشن ہے۔ مئی 2019 کا جو الیکشن ہے، اگر وہ بی جے پی کے حق میں نہیں گیا ،خلاف میں جائے گا لیکن حق میں نہیں گیا تو بھی کل باقی ریاستوں کا کچھ نہیں ہوگا۔ ریاستی سرکار کے پاس پیسہ تو ہے ہی نہیں۔ مرکزی سرکار کے دم پر ہی تو کرتے ہیں جو کچھ بھی کرتے ہیں۔ مہاراشٹر میں میکنگ مہاراشٹر کرلیا۔ مہاراشٹر میں کانگریس اور این سی پی مل کر الیکشن لڑے گی تو دوبارہ بی جے پی سرکار یہاں بن نہیں سکتی ہے۔ شیو سینا ان سے چڑھی ہوئی ہے۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے مجموعی طور پر کوئی پلان ہے کیا، لیکن لگتا نہیں ہے۔ اب مجھے صاف ہوتا جارہا ہے کہ مودی جی کا جو بھی من تھا، اس میں منصوبے ہوتے ہیں ،میں یہ کر دوں گا،میں وہ کردوں گا،اس وقت ان سے کچھ ہوا نہیں۔2016 میں انہوں نے نوٹ بندی کی ۔ان کی لاکھ کوشش تھی کہ اس سے کچھ کمال ہوجائے گا۔ بلیک منی پر اٹیک کروں گا تو روپے آجائیںگے، ایسا ہوا نہیں۔پھر جی ایس ٹی ٹرائی کیا۔اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آج نوٹ بندی کے ڈیرھ سال بعد بھی صورت حال نارمل نہیں ہوئی ہے۔یہ تھیوری ہی غلط ہے کہ آپ پورے انڈیا کو فارمل اکانومی بنانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ ہوسکتا تو پہلے ہو جاتا ۔ انفارمل اکانومی اتنی کیوں چل رہی ہے، کیونکہ وسائل ہیں۔کارڈ سے کیسے کام چلے گا۔ جب بینک کا نزدیک کا برانچ ہی پانچ کلو میٹر دور ہے، اے ٹی ایم دس کلو میٹر دور ہے تو چلنے کی بات نہیں ہے، میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیسی بات کررہے ہیں۔ جو پرموٹر رہے ہیںمودی کے،یہ جانتے ہیں کہ گائوں گائوں کی کیا حالت ہے انڈیا میں۔ ابھی بھی ان کو سمجھنا چا ہئے کہ شہروں میں جہاں بینکنگ سسٹم ہے، اے ٹی ایم ہے،وہاں کوشش کریں ،لیکن آپ کو کوشش کرنی ہی نہیں ہے۔وہ اپنے آپ ہوتا ہے۔جہاں لوگوںکو سہولت ہے۔ آج کل فون ہے۔ بھاجی والا، سبزی والا ، ڈرائیور، نوکر سب سیل فون استعمال کررہے ہیں۔ سب ان کے سارے فیچرس سیکھ گئے ہیں۔کیوںکہ سہولت ہے اس کی۔ تو آپ اگر چاہتے ہیں کہ کیش سے کیش لیس بنیں تو سہولت دیجئے۔انڈیا ابھی تک اتنا میچوئور ، پختہ نہیں ہوا ہے کہ آپ مدر اکانوی امریکہ کی طرف اس کو لے جائیں۔ امریکہ والے بھی پچھتا رہے ہیں۔وہ الگ بائونڈری ہے، دنیا ہی انکی الگ ہے۔ اس میں اپنے کو پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنا سماج چلائیے جیسے چلتا ہے اور یہ ہندو سماج ہے، ہندوتو سماج نہیں ہے۔ ہندو سماج ہے جو شرافت سے چلتا ہے،یہاں سب چلتا ہے ، ہندو، مسلم،سکھ،عیسائی ،بودھ۔ جین سب چلتے ہیں۔ غیر ملکی آئیں، تو ان کا بھی استقبال ہے۔ اس سماج کو آپ توڑ رہے ہیں۔ اب کیا ہوگا؟ میں جانتا ہوں، کاس گنج آپ کا ٹرمپ کارڈ ہے۔ عام انتخابات نزدیک آرہے ہیں۔ گروتھ ہو نہیں سکتا تو ہر جگہ کاس گنج کی طرح دنگا فساد کرائیںگے آپ۔ اس سے کیا ہوگا؟پھر بھی آپ الیکشن نہیں جیتیں گے،ہاریں گے،کم ووٹوں سے ۔اس سے کیا، نقصان صرف سوسائٹی کو ہوا؟ ایک بابری مسجد کے مسئلہ نے ہندو مسلمان کی ہم آہنگی توڑ ،جو آج تک سمٹا نہیں ہے۔ اس بات کو آج پورے 25سال ہو گئے تو ایسی غلطیاں پھر نہیں کرنی چاہئے۔ جب آدمی پوزیشن میں ہوتا ہے تو اس کا فائدہ یہ ہے کہ لوگ لیجی ٹیمائز کرتے ہیں ۔آپ کا فوٹو اتارتے ہیں۔ آپ کی تعریف کرتے ہیں، لیکن آپ کو ذمہ داری سمجھنا ضروری ہے۔ جہاں میں بیٹھا ہوںِ ،وہاں سوا سو کروڑ لوگ ہیں۔ آپ کی دو آنکھیں ہیں۔ سوا سو کروڑ پر آپ نگاہ نہیں رکھ سکتے۔ لیکن سوا سو کروڑ کی ڈھائی سو کروڑ آنکھیں آپ کو دیکھ رہی ہیں۔ اس لئے یو آر انڈر چیک۔ آپ ہمیشہ اسکروٹنی میں ہیں۔ اس اسکروٹنی میں فیل ہو گئے ہیں آپ۔ گجرات کا رزلٹ دکھاتا ہے کہ لوگ پچھتا رہے ہیں۔
18فیصد آپ کا ووٹ ہے، وہ تو آپ کو ملے گا ۔وہ تو بھگت ہیں، اندھے بھگت ۔وہ تو سفید کو کالا ، کالا کو سفید بولنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن اگر آپ کو جوڑنا ہے ، نوجوان طاقت کو ، ویمن پاور کو، دلت پاور کو، اقلیت کو،تب یہ رویہ تو چلے گا نہیں اور اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا؟لوگ کہہ رہے ہیں کہ چیف سکریٹری کا جو یہ ہوا دہلی میں، یہ تو پنجاب نیشنل گھوٹالے سے نظر ہٹانے کے لئے کیاجارہا ہے۔یہ 14ویں وزیراعظم ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ 13وزراء اعظم میں سے کئی کمزور وزیر اعظم بھی رہے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں کیا۔ ایک تو ان کے پاس اکثریت ہے، کمزوری نہیں ہے۔ تو پھر یہ کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں؟ابھی بھی مسئلہ ہے۔ 15 مہینے ہیں، مرہم لگائیے ملک کو، ہم آہنگی بڑھائیے ۔ ہارنا ،جیتنا لگا رہے گا۔ ابھی بھی آپ کانگریس سے آگے ہیں۔تو اسی کو سنبھالئے ۔کم اکثریت بھلے رہے گی سرکار تو بن جائے گی آپ کی لیکن یہ آپ جو ملک کا ماحول بگاڑ رہے ہیں۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *