فاریسٹ رائٹ ایکٹ کو نظرانداز کرنا مقامی آبادی کو اجاڑنا ہے

ایک طویل لڑائی کے بعد فاریسٹ رائٹ ایکٹ (ایف آر اے) نافذ ہوا تھا۔ مقصد جل، جنگل اور زمین پر وہاںکے اصل باشندوںکو پہلا حق دینا تھا۔ سرکار، کارپوریٹ کو بھلا یہ کہاںہضم ہوتا، لہٰذا اس قانون کو کمزور کرنے کی سازش 2016 سے شروع کردی گئی۔ اسی کے تحت کیمپا اور سی اے ایف بل منظور کیا گیا۔ اس کے تحت سرکار کارپوریٹ کے مفاد کے لیے گرام سبھا اور آدیواسیوں کے حق کو فضول بتاتے ہوئے انھیںان کی مقامی جگہ سے بے دخل کرسکتی ہے۔ ۔۔ چوتھی دنیا کی خاص رپورٹ۔
ایسا لگتا ہے کہ سرکاروں نے جل، جنگل اور زمین سے آدیواسیوںکو بے دخل کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ انھیںملنے والے حقوق کو الگ الگ بہانوںسے کمزور کیا جائے یا ان حقوق کو سرے سے ہی ختم کردیا جائے۔ گزشتہ دنوں جھارکھنڈ کی ایک خبر سرخیاں بننے سے رہ گئی تھی۔ یہاں جادو ٹولہ گاؤں کے باشندوں نے الزام لگایا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کے الزام میںانتظامیہ نے ان پر اس لیے مقدمے ٹھوک دیے ہیں تاکہ وہ اپنی زمین پر ضمنی طور پر افاریسٹیشن کی اجازت دے دیں۔ اسی سے ملتی جلتی کہانی اوڈیشہ کے کندھمال ضلع کے جنگلوں میںبسے ایک چھوٹے سے گاؤں بلوبرو کی ہے۔ یہاںکے باشندے اپنا پیٹ بھرنے کے لیے زمین کے جس ٹکڑے پر قندمول، پھل، باجرہ وغیرہ اگاتے تھے، وہاں محکمہ جنگلات نے ساگوان کے درخت لگا دیے۔ ظاہر ہے ان کی روزی روٹی کا ذریعہ جان بوجھ کر چھین لیا گیا۔ 2016 میںچھتیس گڑھ کے سرگوجہ ضلع کے پرسا ایسٹ اور کیٹی بیسن کول بلاکس میںکانکنی کی مخالفت کررہے دیہاتی لوگوں سے نمٹنے کا یہ طریقہ نکلا کہ گھاٹ برّا کے دیہی لوگوں کو ہی ان کی روایتی زمین سے بے دخل کردیا گیا، یعنی ان سے ایف آر اے (2006)کے اختیارات چھین لیے گئے۔
دراصل ایک لمبی لڑائی کے بعددسمبر 2006 میںشیڈولڈ ٹرائب اور دیگر روایتی جنگل کے باشندے (ریکوگنیشن آف فاریسٹ رائٹس) ایکٹ 2006- یا فاریسٹ رائٹ ایکٹ 2006-(ایف آر اے) پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کرایا گیا تھا۔ یہ قانون جنگل کے وسائل اور جنگلی علاقوں پر ان لاکھوںلوگوں کے حق کو یقینی بناتا ہے، جس سے یہاںانھیںسیکڑوں سالوںسے محروم رکھا گیا تھا۔ یہ قانون پورے ہندوستان میںجنگل کی زمین اور جنگل کے وسائل پر ذاتی یا اجتماعی حق دیتا ہے۔ ایف آر اے 1 جنوری 2008 کو نافذ ہوا تھا۔ اس قانون کو جنگلاتی علاقوںمیںرہنے والے لوگوں پر ہو رہی تاریخ ناانصافی کو ختم کرنے کا ایک بڑا ہتھیار مانا گیا۔ ایف آر اے منظور ہونے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ اس سے لوکل سیلف گورننس کو بھی مضبوطی ملے گی اور لوگوں کی روزی روٹی کا مسئلہ بہت حد تک حل ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی قدرتی وسائل کو تحفظ حاصل ہوگا اور جو جنگلی علاقے تشدد کا شکار ہیں ، وہاںتشدد میںکمی آئے گی۔ لیکن اب یہ حق خطرے میںنظر آرہا ہے۔ وجہ ہے کمپنسیٹری افاریسٹیشن فنڈ (سی اے ایف)۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کمپنسیٹری افاریسٹیشن فنڈ
فاریسٹ (کنزرویشن ) ایکٹ 1980کے ایک قانون کے مطابق صنعت، کارخانوں اور دوسرے غیر جنگل کے استعمال کے لیے کاٹے گئے جنگلوں کے بدلے نئے درخت لگانے اور کمزور ہو رہے جنگل کو گھنا بنانے کا پروویژن تھا۔ اس کام کے لیے جنگل کی زمین کا استعمال کرنے والی کمپنیوں اور اداروں کو معاوضہ دینا پڑتا ہے۔ 2002میں جنگل (تحفظ) ایکٹ 1980 کو لاگو کرنے کے بارے میں ٹی این گوڈا برمن تھرومولپاد کی عرضی پر سنوائی کرتیہوئے سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ اس مد میںجمع فنڈ یا تو خرچ نہیںہورہا ہے یا پھر بہت کم خرچ ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار سے کیمپا (پریڈیٹری افاریسٹیشن فنڈ مینجمنٹ اینڈ پلاننگ اتھارٹی) تشکیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے فوری اثر سے ایک غیر رسمی (ایڈ ہاک) کیمپا تشکیل کرنے کا حکم دیاتھا۔ کیمپا 2009 سے ریاستوںکو اس فنڈ سے پیسہ تقسیم کر رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، آج تک اس فنڈ میں50 ہزار کروڑ روپے جمع ہیں لیکن اب تک اس فنڈ سے صرف 15 ہزار کروڑ روپے ہی تقسیم ہوئے ہیں۔
ایف آر اے کو کیا گیا نظر انداز
کیمپا اور سی اے پی ایکٹ کے پارلیمنٹ کے دونوںایوانوںسے منظور ہوجانے کے بعد مرکزی وزارت برائے ماحولیات نے سی اے پی کو لاگو کرنے کے لیے قانون کا ایک مسودہ جاری کیا ہے۔ اس مسودے پر نہ صرف آدیواسی تنظیموں کی طرف سے مخالفت ہورہی ہے بلکہ خود سینٹرل ٹرائبل معاملوں کی وزارت نے بھی اعتراض کیا ہے۔ ٹرائبل معاملوں کی وزارت کا اعتراض مسودے میں گرام سبھا کی تعریف کو لے کر ہے۔ وزارت کے افسروں کا دعویٰ ہے کہ قانون کا مسودہ تیار کرتے وقت ان کی صلاح نہیںلی گئی تھی جبکہ آدیواسی جنگلی علاقے کے تحفظ اور افاریسٹیشن کے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں ۔ دراصل ایف آر اے (2006)کے تحت گرام سبھا کے افسروں کو جو توسیع دی گئی تھی، اسے اس مسودے میںنظرانداز کیا گیا ہے۔
یہاںاس حقیقت کا ذکر کردینا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ جب کیمپا بل (2016) راجیہ سبھا میںپیش ہو رہا تھا، اسی وقت فاریسٹ رائٹ میں کام کرنے والی ملک بھر کے 45 سول سوسائٹی اداروں نے راجیہ سبھا کو ایک میمورنڈم دے کر اس بل پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے اپوزیشن پارٹیوںسے راجیہ سبھا میںاس بل کو اس کے موجودہ فارمیٹ میںمخالفت کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان تنظیموں کا کہنا تھا کہ کیمپا بل کے تحت کمپنسیٹری افاریسٹیشن پروگرام میں گرام سبھا کی رضامندی کا کلاز شامل نہ کرکے فاریسٹ رائٹ ایکٹ ( ایف آر اے) کے ان پروویژنس کو بے اثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس میںشیڈولڈ ٹرائبس اور روایتی طورپر جنگل میںرہنے والے لوگوں کا جنگل پر حق یقینی بنایا گیا ہے۔ کانگریس سمیت سبھی اپوزیشن پارٹیاں اس بل میں ایف آر اے کے تحت گرام سبھا کو دیے گئے حقوق کے مطابق گرام سبھا کی رضامندی کے کلاز کو شامل کرانا چاہتی تھیں۔ اس بارے میں کانگریس رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ترمیمی تجویز پیس کی تھی، جس کے جواب میں اس وقت کے وزیر ماحولیات آنجہانی انل مادھو نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اپوزیشن کے ذریعہ اٹھائے گئے اعتراضات کو اس ایکٹ کے تحت بنانے والے قوانین میں شامل کرلیا جائے گا۔ ا سکے بعد جے ر ام رمیش نے اپنی ترمیمی تجویز واپس لے لی تھی اور مذکورہ بل راجیہ سبھا سے بھی منظور ہوگیا تھا۔
گرام سبھا سے الرجی کیوں؟
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر وزارت ماحولیات اس قانون میںگرام سبھا کی اس تعریف کو شامل کیوں نہیںکرنا چاہتی جو ایف آر اے 2006- میںدی گئی ہے۔ دراصل اس کے جواب کے لیے پچھلے کچھ سالوں پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ایف آر اے کے تحت گرام سبھا کو بڑی پاور دی گئی ہے۔ ان ہی پاورز کا استعمال کرکے نیام گری (اوڈیشہ) کی گرام سبھا نے ویدانتا کو نیام گیری میں باکسائٹ کی کانکنی سے روک دیا تھا۔ جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور اوڈیشہ کے کندھمال ضلع کے واقعات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ سرکاریں منرل ریسورسیز سے مالا مال جنگلی علاقوں سے ہر حال میں آدیواسیوں کو بھگانا چاہتی ہیں تاکہ ان کی بڑی کمپنیوںکو بنا روک ٹوک قدرتی وسائل کا دوہن کرنے کا موقع ملتا رہے اور نام نہاد ترقی کی راہ میںرکاوٹ بنے آدیواسیوں کو ان کے روایتی مسکن سے دور بھاگنے پر مجبور کیا جاسکے۔ اگر اس قانون میں ایف آر اے کے ذریعہ دی گئی گرام سبھا کی تعریف کو شامل کرلیا جاتا ہے تو یہ کام مشکل ہوجائے گا۔
دراصل ڈیولپمنٹ اینڈ انڈسٹریلائزیشن کی وجہ سے ملک اور دنیا میںجنگلات کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے۔ نتیجتاً پوری دنیا آب و ہوا کی تبدیلی سے نبردآزما ہے۔ آلودگی اپنے عروج پر ہے۔ اس پس منظر میںکمزور جنگل کو گھنا بنانے، کٹے ہوئے جنگل کی برابر کی زمین پر دوبارہ ون لگانے اور بے گھر جانوروں کی بازآباد کاری وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن بلوبرو گاؤں میں ساگوان کے پلانٹیشن ، سرگوجہ کے آدیواسیوں سے ایف آر اے کے حق چھیننے ، جادوٹولہ میںگاؤں والوں پر مقدے، ماضی میںمرکزی سرکار کی دو وزارتوں کے بیچ ایف آر اے سے گرام سبھا کی رضامندی کا کلاز ہٹانے کے بارے میںہوئی خط وکتابت اور اب سے اے پی کے تحت جاری کیے گئے قانون کے مسودے میں ایف آر اے کے تحت کی گئی گرام سبھا کی تعریف کو شامل نہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ کیمپا اور سی اے پی فاریسٹ رائٹس کو اپنی منمانی کرنے کا پورا رائٹ دے دے گا۔ اس کے ذریعہ ایف آر اے کے ذریعہ دیے گئے اس حق کو کمزور کردیاجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی بولبرو کی کہانی بار بار دوہرائی جائے گی۔ آدیواسی اس قانونی مسودے کو لے کر جگہ جگہ مظاہرے کررہے ہیں لیکن گونگی بہری سرکار اور یہاں تک کہ اپوزیشن کو بھی ان کی آواز سنائی نہیںدے رہی ہے۔ آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ جنگل لگانے کے نام پر آدیواسیوں کوان کی زمین اور ان کے پشتینی علاقوں سے بے دخل کرنے کے لیے بلوبرو گاؤں جیسا حربہ اپنایا جاتا رہے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

دو وزارتوں کی رسہ کشی پر’ چوتھی دنیا‘کی دو سال پرانی رپورٹ
چوتھی دنیا نے 20 جون 2016 کے شمارے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی، جس میں جون 2015 اور دسمبر 2015 کے درمیان وزارت کے درمیان سینٹرل ٹرائبلس معاملوں کی وزارت اور مرکزی ماحولیات، منسٹری آف فاریسٹ اینڈ کلائمیٹ چینج کے افسروں کے بیچ کی خط و کتابت تھی۔ این ڈی اے سرکار کی دو وزارتوں کے بیچ ہوئی خط و کتابت کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ کیسے سرکار ایف آر اے کے تحت آدیواسیوں اور جنگل میںرہنے والے لوگوں کے حق کو چھیننا چاہتی ہے۔ ان خطوط میںقبائلی معاملوں کی وزارت نے اپنا رخ واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگل کی زمین کو کسی پروجیکٹ کے لیے الاٹ کرنے سے پہلے ایف آر اے کے تحت اس علاقے کی گرام سبھا کی رضا مندی لازمی ہے۔ وہیں، وزارت ماحولیات اس گرام سبھا کی رضا مندی کے کلاز ہٹانے کی بات کررہی تھی۔ ایف آر اے کی اجازت والے کلاز کو لے کر ان دو وزارتوں کے بیچ رسہ کشی کے دوران مرکزی سرکار نے کیمپا بل پیش کیا تھا اور اس بل میںگرام سبھا کی رضامندی کا کلاز شامل نہیں تھا۔ اب جب سی اے پی کے تحت قانون بنایا جارہا ہے اور اس میں گرام سبھا کی وہی تعریف دی گئی ہے جو آئین کی دفعہ 243(ای) میںدی گئی ہے۔ ایف آر اے کی تعریف کو نظرانداز کردیا گیا ہے ، اس لیے سرکار کی نیت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *