میچ فکسنگ معاملہ میں کرکیٹرمحمدسمیع کوکلین چٹ

mohammed-shami
بی سی سی آئی کی اینٹی کرپشن یونٹ ( اے سی یو ) نے 22مارچ کو ٹیم انڈیا کے تیز گیند باز محمد سمیع کو میچ فکسنگ کے معاملہ میں کلین چٹ دیدی ہے۔ واضح رہے کہ تیز گیند باز محمد سمیع کی اہلیہ حسین جہاں نے ان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایک پاکستانی لڑکی علشبہ سے میچ فکسنگ کے لئے پیسے لئے تھے۔ان کی اہلیہ حسین جہاں نے سمیع پر میچ فکسنگ کے الزامات عائد کئے تھے۔ کلین چٹ دینے کے ساتھ ہی بی سی سی آئی نے گریڈ بی کنٹریکٹ میں سمیع کو شامل کرلیا ہے۔ اب محمد سمیع آئی پی ایل میچوں کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ بھی کھیل سکیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیں  کیجریوال سرکارکا’گرین بجٹ‘پیش

 

بی سی سی آئی سے کلین چٹ ملنے کے بعد سمیع نے میڈیا سے بات کی۔بی سی سی آئی کے اس فیصلہ پر سمیع کا کہنا ہے کہ ان کو پورا یقین تھا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کر لیں گے۔ ان کے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ، اس کا غصہ وہ اب کھیل کے میدان میں مثبت طریقہ سے اتاریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر بہت زیادہ دباو تھا ، لیکن بی سی سی آئی سے کلین چٹ ملنے کے بعد اب میں راحت محسوس کررہا ہوں ، میں ملک کے تئیں اپنی وفاداری پر سوال کئے جانے سے دکھی تھا ، لیکن بی سی سی آئی کی جانچ پر مجھے مکمل یقین تھا ، میں میدان میں واپسی کرنے کو لے کر بھی پرجوش ہوں۔سمیع نے کہا کہ گزشتہ 10۔15 دن میرے لئے کافی مشکل رہے ، خاص کر میچ فکسنگ کے الزامات کی وجہ سے مجھ پر کافی دباؤ آگیا تھا ، میں اپنے غصہ کو کرکٹ کے میدان پر مثبت طور پر نکالوں گا ، اس فیصلہ سے مجھے میدان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کیلئے ہمت اور ترغیب ملی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں   علیم الدین قتل معاملہ:سبھی 11ملزموں کوعمرقیدکی سزا

 

خیال رہے کہ معاملہ کی جانچ بی سی سی آئی کی اینٹی کرپشن یونٹ کررہی تھی۔ اس ٹیم کے سربراہ نیرج کمار نے کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرس ( سی او اے) کو اپنی پوری جانچ رپورٹ سونپ کر محمد سمیع کو سبھی الزامات سے بری قرار دیا ہے۔اس معاملہ میں نیرج کمار نے اپنی رپورٹ سی او اے کو سونپ دی ہے۔ بی سی سی آئی نے کرکٹر محمد سمیع کو ابھی الزامات سے بری کردیا ہے۔ اس معاملہ میں جب تک کوئی دیگر ذرائع نہیں ملتے ہیں اس وقت تک کنٹریکٹ جاری رہے گا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *