ممنوعہ نوٹس آج بھی چل رہے ہیں پڑوسی ممالک میں

نوٹ بندی کے بعدرائج نوٹوں کی چلن پر لگائی گئی پابندی ، ہندوستانی سرکار کادکھاوا ہے۔ 500 اور 1000 کے ممنوعہ نوٹس آج بھی چل رہے ہیں۔کچھ پڑوسی ملکوں کے بینک ہندوستان کے ممنوعہ نوٹس اب بھی جمع کررہے ہیں۔ جن پڑوسی ملکوں سے ہندوستان کا سیدھا کارو بار ی رشتہ ہے اور جہا ں ہندوستانی کرنسی کا رواج ہے، ہندوستان میں نوٹ بندی لاگو ہونے کے بعد وہاں کے بینکوں میں 500 اور 1000 کے نوٹ جمع تو ہوئے لیکن ہندوستانی سرکارنے اس کا حساب و کتاب نہیں لیا۔ سارے نوٹس وہیں ڈمپ پڑے ہوئے ہیں۔ پڑوسی ملکوں کے بینکوں نے اس کا فائدہ اٹھایا اور ہندوستان کے لیڈروں، کاروباریوں، مافیائوں اور کالے دھن کے جمع خوروں سے ملی بھگت کرکے وہ من مانے ریٹ پر ممنوعہ نوٹ اپنے یہاں نامی بے نامی کھاتوں میںجمع کررہے ہیں۔ اس کام میں پڑوسی ملکوں کے مقامی کاروباریوں کے کھاتے بھی کام آرہے ہیں۔
نوٹ بندی سے کون ہوا مستفیض؟
نوٹ بندی کے دوران ہندوستانی بینکوں کے بدعنوان افسروں اور ملازموں نے جس طرح اناپ شناپ طریقے سے کالا دھن سفید کرکے مال کمایا،اسی طرح پڑوسی ملکوں کے بینک آفیسر بھی ہندوستان کی نوٹ بندی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔فرق یہ ہے کہ غیر ملکی بینکوں پر ہندوستان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے، لہٰذا وہ بے خوف ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے کچھ آفیسر یہ بھی کہتے ہیں کہ پڑوسی ملکوں کے بینکوں میں ڈمپ ممنوعہ ہندوستانی کرنسی کو نوٹ بندی کے سوا سال بعد بھی واپس لانے میں کوتاہی برتنا منصوبہ بند لاپرواہی ہے۔ اونچی پہنچ والے امیر زادوں کو کالا دھن سفید کرنے کی یہ سہولت بڑے ہی سوچے سمجھے طریقے سے مہیا کرائی جارہی ہے۔
ہندوستانی سرکار کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش ، سری لنکا ، برما، افغانستان ، بھوٹان، مالدیپ اور تھائی لینڈ سمیت جنوبی ایشیائی دوست ملکوں کے بینکوں میں کتنی ممنوعہ ہندوستانی کرنسی ڈمپ پڑی ہوئی ہیں۔ ہندوستانی سرکار جب اس کا حساب و کتاب لے گی، تب تک تو یہ دھندہ جاری رہے گا۔ نوٹ بدلی کا گورکھ دھندہ خاص طور پر ان دوست ملکوں کے بینکوں میں چل رہاہے، جہاں جانے کے لئے ویزہ لینے کا دستور نہیں ہے۔ نیپال اس میں اول ہے۔ نوٹ بندی کے بعد ممنوع ہوئے 500 اور 1000 کے نوٹوں کو مانیٹری مین اسٹریم میں چلانے کا جال اس قدر پھیل چکا ہے کہ اگر وہاں ڈمپ پڑے نوٹس ہندوستانی سرکار نے جلد واپس نہیں لئے تو یہ الگ طرح کے مالی عدم توازن کی صورت حال پیدا کر دے گا۔ ریزرو بینک آف انڈیاکے ریسرچ اینڈ انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ سے متعلق ایک آفیسر نے بتایا کہ نیپال کے ڈھائی درجن کمرشیل بینکوں کے علاوہ 36 وکاس بینک، 25 مالی ادارے اور تقریباً 50 مائیکرو کریڈٹ ڈیولپمنٹ بینکوں کے ذریعہ ممنوعہ ہندوستانی کرنسی کو چلانے کا کام ہو رہا ہے۔
صاف بات یہ ہے کہ ہندوستانی سرکا ر نے 500 اور2000 کے نئے نوٹوں کے رواج کو قانونی کرنے کے لئے غیر ملکی کرنسی فارن کرنسی ریگولیشن مینجمنٹ ایکٹ (فیما ) کے تحت نوٹیفکیشن تو آناً فاناً جاری کر دیا لیکن نیپال ، بھوٹان، بنگلہ دیش ، سری لنکا سمیت جنوبی ایشیائی دوست ملکوں کے بینکوں میں جو ہندوستانی کرنسی ،نوٹ بندی کے بعد سے ڈمپ ہیں،انہیں واپس لینے کا کوئی بندوبست آج تک نہیں کیا۔ ہندوستانی کرنسی کی واپسی کے طور طریقے پر دو طرفی اتفاق کیسے بنے، اسے لے کر کوئی قواعد نہیں ہو رہی ہے۔ واضح ہے کہ ہندوستانی سرکا ر یہ جان بوجھ کر کررہی ہے، تاکہ خاص خاص لوگوںکا کالا دھن سفید ہو سکے ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نیپال ممنوعہ نوٹوں میں ٹاپ
ہندوستان میں نوٹ بندی لاگو ہونے کے دو دن کے اندر ہی نیپال ریزرو بینک میں 33,600,000 (336لاکھ ) روپے جمع ہو گئے تھے۔ وزارت خارجہ کے نیپال ڈیسک کے آفیسر کہتے ہیں کہ اب تک یہ رقم ہزاروں کروڑ روپے ہو چکے ہوںگے۔ ممنوعہ ہندوستانی کرنسی آج بھی نیپال کے بینکوں میں جمع ہو رہے ہیں۔ ہندوستانی سرکار اور ریزروبینک آف انڈیا اس پر خاموش ہیں۔ آر بی آئی کے ایک آفیسر نے اس خاموشی یا لاپرواہی کی بھونڈی دلیل دے کر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور کہا کہ نیپال جالی کرنسی کا بڑا ذریعہ بنا رہا ہے اس لئے نیپال کے بینکوں میں جمع ہندوستانی کرنسی کو واپس لینے کے پہلے نقلی نوٹوں کی پہچان ضروری ہے جبکہ نیپال ریزرو بینک ( این آر بی ) یہ کہہ چکا ہے کہ آر بی آئی جو تکنیک سجھائے گا ،اسے وہ نیپال میں آزمانے کو تیار ہے، جس سے نقلی نوٹوںکی پہچان ہو سکے اور باقی نوٹوں کو ہندوستانی اتھارٹی کو سرکاری طریقے سے سپرد کیا جاسکے۔ این آر بی نے یہ بھی متبادل دیا تھا کہ آر بی آئی خود اپنے ماہرین کو بھیج کر نوٹوں کی پہچان کرا لے اور اپنی کرنسی واپس لے لے لیکن آر بی آئی نے نہ تکنیک سجھائی اور نہ اپنی ٹیم بھیجی، بس خاموشی اختیار کرلی ۔نیپال کا انحصار ان نیپالی مزدوروںپر بھی ہے جو ہندوستان میں کماتے ہیں اور چھٹیوں میں ہندوستانی کرنسی نقد لے کر نیپال جاتے ہیں۔یہ رقم اربوں میں ہوتی ہے۔ 2016 میں یہ رقم 42 ارب 36 کروڑ 35لاکھ 55 ہزار روپے تھی۔ فطری بات ہے کہ نوٹ بندی کے بعد اس کرنسی میں سے بھی 500 اور 1000 کا حصہ بینکوں میںڈ مپ ہوا ہوگا ۔
بھوٹان کی صورت حال
بھوٹان سے نقلی اور جعلی نوٹوں کی آمد انتہائی کم ہے ۔اس کے باوجود بھوٹان کے بینکوں میں ڈمپ ہندوستانی کرنسی اب تک واپس کیوں نہیں لی جاسکی؟اس سوال کا جواب ہندوستانی سرکار کے پاس نہیں ہے۔ بھوٹان میں ہندوستانی کر نسی کا چلن بھوٹانی کرنسی سے زیادہ ہے۔ لہٰذا نوٹ بندی کا اثر بھوٹان پر کاروباری طور پر پڑا۔ بھوٹان نے 500 اور 1000 کے ممنوعہ نوٹوں کو فوراً اپنے بینکوں میں جمع کرانا شروع کر دیا تھا لیکن ہندوستان ان نوٹوں کو واپس نہیں لے سکا ۔بھوٹان کی رائل مانیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اسکے پاس تین ہزار کروڑ روپے کی ہندوستانی کرنسی ریزرو میں ہے۔ اس کے علاوہ نوٹ بندی کے بعد جمع ہوئی ہندوستانی کرنسی بھی ہے ، جسے سرکاری طور سے ہندوستانی سرکار کو سپرد کرنا ہے۔
8نومبر 2016 کے نوٹ بندی حکم کے بعد خاص طور پر دو پڑوسی ملکوں نیپال اور بھوٹان کا بینکنگ نظام ہل گیا تھا۔ بھوٹان میں ہندوستانی کرنسی کے چلن کو سرکاری طور پر منظوری ملی ہوئی ہے اور نیپال میں ہندوستانی کرنسی کا چلن روایتی ہے ۔نوٹ بندی کے بعد ہندوستانی سرکار نے دونوں ملکوں کو کرنسی ایکسچنج کا کوئی کارگر راستہ نہیں دکھایا۔ ہندوستانی ریزرو بینک اور نیپال ریزرو بینک کے بیچ اب تک کوئی باضابطہ اتفاق کا راستہ نہیں نکل پایا جس سے نیپال کے بینکوں میں جمع ممنوعہ ہندوستانی کرنسی کا سچ مچ ایکسچنج ہوسکے اور وہ ہندوستان لوٹ سکے۔ یہی سوراخ کالے دھن کو سفید کرنے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
تحقیق کا کوئی میکنزم کیوں نہیں ؟
نیپال ریزرو بینک اور نیپال میں بینکوںکے علاوہ وہاں کے مالی اداروں اور نیپال کے شہریوں کے پاس بھی ہندوستانی کرنسی ہے۔ یہ کتنی ہے اور اس کی گنتی کیسے ہو، اس کا کوئی میکنزم اب تک نہیں ڈھونڈا جاسکا ہے ۔ انڈین ریزرو بینک نے نیپال سرکار کو ساڑھے چار ہزار روپے کی ہندوستانی کرنسی کا ایکسچنج کرنے کی صلاح دی تھی، لیکن نیپال سرکار نے ہر نیپالی شہری کو کم سے کم 25 ہزار روپے ہندوستانی کرنسی رکھنے کی منظوری پہلے سے دے رکھی تھی۔ سابق گورکھا فوج سمیت لاکھوں لوگوں کے پاس ہندوستانی سرکار کی طرف سے ملنے والے پنشن کی رقم ہندوستانی کرنسی میں ہی رکھی تھی۔ نیپال کے بینکوں میں ڈمپ ممنوعہ ہندوستانی کرنسی کی واپسی کے لئے نیپال ریزرو بینک کے فارن ایکسچنج مینجمنٹ کے چیف بھیشم راج دھنگنا اور آر بی آئی کے افسروں کے بیچ کئی رائونڈ کی میٹنگ ہو چکی ہے، لیکن ساری میٹنگیں بے نتیجہ رہیں۔ نیپال کے وزیر خزانہ اور ہندوستانی وزیر خزانہ کے بیچ بھی بات چیت ہوئی لیکن کوئی ٹھوس راستہ نہیں نکلا۔ ہندوستان کے وزیرخزانہ نے ایکسچنج سہولت دینے کا وعدہ بھی کیاتھا لیکن اپنے وعدے پر وہ قائم نہیں رہے۔
میانمار میں کروڑوں ممنوعہ نوٹس
ادھر میانمار (برما ) کے بینکوں میں بھی ممنوعہ نوٹوں کا ڈمپ ہندوستان واپس لوٹنے کا انتظار کررہا ہے۔ آر بی آئی کے آفیسر برما کے بینکوں میں محض 18 لاکھ ممنوعہ ہندوستانی کرنسی پڑے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ جانکار بتاتے ہیں کہ برما کے گولڈن پیگوڈا کو ہی عطیہ میں ملے کروڑوں روپے ڈمپ پڑے ہوئے ہیں۔ ممنوعہ ہندوستانی کرنسی میانمار اکانومک بینک اور میانمار فارن ٹریڈ بینک میں جمع ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان دونوں برمی بینکوںکے کولکاتہ کے یونائٹیڈ بینک آف انڈیا میں ’’ اوسٹرو ‘‘ اکائونٹ ہیں، اس کے باوجود وہ رقم ہندوستان ٹرانسفر نہیں ہو پا رہی ہے۔ میانمار اور ہندوستان کے بیچ کاروباری تعلقات ہیں۔ میانمار میں تامو الکٹرک مینجمنٹ امپھال سے بجلی خریدتا ہے۔ یو بی آئی کے ذریعہ پیسے کا لین دین ہوتا ہے لیکن ممنوعہ کرنسی برما میں ڈمپ پڑی ہوئی ہے۔ برما سرکار کی طرف سے لگاتار اس بارے میں لکھا جارہا ہے،لیکن کوئی سنوائی نہیں ہو رہی۔
بنگلہ دیش بھی کسی سے کم نہیں
بنگلہ دیش سرکار بھی اپنے بینکوں میں ڈمپ ممنوعہ ہندوستانی نوٹس ہندوستانی سرکار کو واپس نہیں کر پارہی ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام بینک، لیڈنگ بینک، روپالی بینک اور سونالی بینک میں ہندوستان کی ممنوعہ کرنسیاں ڈمپ پڑی ہوئی ہیں۔ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ سونالی بینک اپنی سلی گوڑی میں موجود برانچ کے ذریعہ ہندوستانی کرنسی بھیج سکتاہے لیکن وہ بھی التوا میں چلا گیا۔ جانکار بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیشی بینکوں کے ذریعہ بھی ممنوعہ ہندوستانی کرنسی کو سفید کرنے کا گورکھ دھندہ جاری ہے۔ پڑوسی ملکوں کے ساتھ کاروبار پر نوٹ بندی کا برا اثر پڑا ہے۔خاص طور پر افغانستان ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، مالدیپ ،نیپال ،پاکستان ، تھائی لینڈ اور شری لنکا کے ساتھ۔ یہاں کے بینکوں میںڈمپ پڑے ہندوستانی نوٹس کے ٹرانسفر کا کام اب تک نہیں ہونے سے غیر ملکی کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ ان ملکوں کے ساتھ ہندوستان کا کارو بار 2015-16 میں 2160 کروڑ ڈالر کا تھا، جو 2016-17 میں کافی گھٹ گیا۔
آخر یہ سب کچھ کیسے ؟
نوٹ بندی کے سواسال بعد بھی 500 اور 1000 کے ممنوعہ نوٹوں کی برآمدگی جاری ہے۔ سوال ہے کہ اتنی سختی اور پابندی کے باوجود لوگ اپنے پاس یہ نوٹ کیوں رکھ رہے ہیں؟اس کا جواب ہے کہ ممنوعہ نوٹوں کو سفید کرنے کے لئے نیپال ، بنگلہ دیش اور دیگر پڑوسی ملکوں کے بینکوں سے مدد لی جارہی ہے۔ ملک میں جو نوٹ برآمد ہو رہے ہیں اور جو نوٹ پڑوسی ملک کے بینکوں کے ذریعہ بدلے جارہے ہیں، ان کے وزن میں کافی فرق ہے۔ یہ خبر عوامی ہو چکی ہے کہ نیپال کے جوا خانوں اور ڈانس بار کے اڈوں پر بھی ہندوستان کے ممنوعہ نوٹس کھلے عام چل رہے ہیں۔ نیپال میں دو ہزار سے زیادہ کیسینو ( جوا خانے ) اور ڈانس بار ہیں۔ نیپال کے کیسینو میں500 کے پرانے ممنوعہ نوٹ کے بدلے تین سو سے چار سو نیپالی روپے ملتے ہیں جبکہ پانچ سو کے نئے نوٹ کے بدلے آٹھ سو نیپالی روپے ملتے ہیں۔ نیپال کے جوا گھروں اور ڈانس بار میں 500 اور 1000 کے ممنوعہ نوٹ زیادہ تعداد میں لے جانے پر ہی بدلے جارہے ہیں۔ کیسینو سے اس کے بدلے میں گراہکوں کو ٹوکن ملتے ہیں۔
جانکار کہتے ہیں کہ جوا گھروں اور ڈانس بار سے زیادہ مفید راستہ بینکوں کا ہے۔ نیپال کے ’’بچولئے‘ وہاں کے بینک افسروں سے ملواتے ہیں اور اونچے کمیشن پر ہندوستانی کرنسی جمع کر لی جاتی ہے۔ نیپال کے کیسینو کاروباریوں کے بینکوں سے لنک ہیں، کیسینو کاروباری بھی ممنوعہ ہندوستانی کرنسی بینکوں میں جمع کرا رہے ہیں۔ ہندوستان میں ممنوعہ نوٹوں کو نیپال میں کس طرح کھپایا جارہا ہے،اسے اس سرکاری انفارمیشن سے بھی سمجھا جاسکتاہے کہ ناگالینڈ کے وزیر داخلہ 9لاکھ روپے کے ممنوعہ نوٹ لے کر ایک شادی تقریب میں شریک ہونے کاٹھمنڈو گئے تھے۔ آپ یہ بھی دھیان میں رکھتے چلیں کہ نیپال کے جوا خانوں اور ڈانس بار پر ہند نژاد کاروباریوں کا ہی تسلط ہے۔ کاٹھمنڈو میں کئی بڑے کیسینو ہیں، جن میں ہوٹل سالٹے، ہوٹل یاک اینڈ یوٹی، ہوٹل حیات ریجنسی اور ہوٹل سنگریلا بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کاٹھمنڈو میں کچھ مینی کیسینو اور نیپال و ہند سرحد پر بھی کئی مینی کیسینوز ہیں۔ کیسینو کے لگ بھگ دو تہائی گراہک ہندوستانی ہی ہیں۔ اسی طرح مینی کیسینو میں 95 فیصد گراہک ہندوستانی ہی آتے ہیں۔ ایسے میں ممنوعہ ہندوستانی کرنسی کا ایکسچنج کتنا آسانی سے ہوتا ہوگا، اسے آسانی سے سمجھا جاسکتاہے۔
کیوں ٹالی جارہی رضامندی
ممنوعہ نوٹوں کو بدلنے کا موقع دینے کے لئے ہی نیپال سرکا ر اور ہندوستانی سرکار کے بیچ کرنسی ایکسچنج کو لے کر ہونے والی رضامندی لگاتار ٹالی جارہی ہے۔ سرکاری طور پر دونوں سرکاروں کو یہ نہیں پتہ ہے کہ کتنی کرنسی جمع ہے اور کن شرطوں پر اسے واپس لیا جانا ہے۔ جب رضامندی سرکاری شکل لے لے گی تب نیپال کے بینک جتنی کرنسی لوٹائیںگے، اتنی ہندوستان سرکار کو واپس لینی ہوگی۔ تب تک کالے دھن کے دھندے باز بہتی گنگا میں ہاتھ دھو چکے ہوںگے۔ نیپال کے سینٹر فار اکانومک اینڈ ٹیکنیکل اسٹڈیز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ہری ونش جھا کا کہنا ہے کہ ہندوستانی سرکار کی اپیل پر نیپال میں پہلے بھی 500 اور 1000 کے نوٹ پر پابندی لگی تھی۔جعلی نوٹوں کا رواج روکنے کے لئے ہندوستانی سرکار نے نیپال سرکار سے ایسا کرنے کی اپیل کی تھی۔ ہندوستان میں نوٹ بندی لاگو ہوتے ہی نیپال میں ان ہندوستانی نوٹوں کی آمد بے تحاشہ بڑھ گئی جو ہندوستان میں ممنوع کئے گئے تھے۔ 500 کے بدلے 400 نیپالی روپے پر ہندوستانی کرنسی سفید کی گئی۔ جبکہ نیپال میں ہندوستان کے 100 روپے کی قیمت 160 نیپالی روپے سے زیادہ ہے، لیکن نوٹ بندی میں نیپال میں بھی اس سے خوب کمائی کی گئی۔ جھا کہتے ہیں کہ نیپال میں جتنا ممنوعہ نوٹ جمع بتایا جارہاہے ،حقیقت اس سے کہیں زیادہ ہے۔
نیپال کے بینکوںمیں ہندوستانی کرنسی کے 40کروڑ روپے پہلے سے ڈمپ پڑے ہوئے ہیں، جب وہاںان نوٹوں کو پہلے دور میں ممنوع کیا گیا تھا۔ نیپال نے اسے ہندوستانی سرکار کو سپرد کرنے کی تجویز دی تھی لیکن اس پر بھی کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ آر بی آئی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ نیپال کے بینکوں میں ڈمپ پڑے پانچ سو اور ہزار روپے کے ممنوعہ ہندوستانی نوٹوں کے تبادلے کا فارمولہ نکالنے کے لئے 22فروری کو ایک اعلیٰ سطحی ٹیم نیپال بھیجی جانے والی تھی لیکن وہ ٹیم نہیں گئی۔ نیپال ریزرو بینک ہندوستانی ٹیم کا انتظار ہی کرتا رہ گیا ۔ اس سے یہ اطلاع پختہ ہوئی کہ بچے ہوئے ممنوعہ نوٹوں کی کھیپ کو نیپال میں کھپانے کے بعد ہی اب کوئی سرکاری پہل ہوگی۔
ممنوعہ نوٹوں کی واپسی پر آر بی آئی کا دعویٰ جھوٹا تو نہیں
پڑوسی ملکوں کے بینکوں میں جس طرح ہندوستان کی ممنوعہ کرنسی کے ڈمپ ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔اس سے یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد انڈین ریزرو بینک نے جتنے نوٹ جمع ہونے کا دعویٰ کیا تھا، وہ جھوٹا تو نہیں تھا؟ انڈین ریزرو بینک (آر بی آئی)نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ غیر قانونی اعلان کئے گئے نوٹوں میں 15.28 لاکھ کروڑ کی قیمت کے نوٹس واپس جمع ہو چکے ہیں۔ آر بی آئی کے مطابق جمع ہوئے نوٹس 500 اور 1000 کے کل چھپے نوٹس کا 99فیصد ہیں۔ پھر وہ نوٹس کس فیصد میںشامل ہوں گے جو نیپال ، بھوٹان، بنگلہ دیش، برما سمیت پڑوسی ملکوں کے بینکوںمیں جمع ہیںیا ہندوستان میں مختلف چھاپہ ماری میں برآمد ہو رہے ہیں؟آر بی آئی نے بتایا تھا کہ کل 15لاکھ 44ہزار کروڑ کے پرانے نوٹ ممنوع کئے گئے تھے۔ ان میں سے 15 لاکھ 28ہزار کروڑ کی رقم بینکوں میں لوٹ گئی۔ نوٹ بندی کے بعد پرانے 1000 روپے کے کل 632.6 کروڑ نوٹوں میں سے 8.9 کروڑ نوٹ اب تک نہیں لوٹے۔ یعنی ہزار کی نوٹ بندی کے 8900 کروڑ روپے بینک کے پاس واپس نہیں پہنچے۔ آر بی آئی کے مطابق نوٹ بندی کے بعد 1000 روپے کے 1.4 فیصد نوٹ چھوڑ کر اس نوٹ بندی کے باقی سبھی نوٹ بینکوںمیں واپس آگئے۔ آر بی آئی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ 2016-17 میں 7.62 لاکھ نقلی نوٹوں کاپتہ چلا۔ اس کے پہلے 2015-16 میں 6.32 لاکھ نقلی نوٹ پکڑے گئے تھے۔
آر بی آئی کے ان دعوئوں کے برعکس آپ کو یہ بتادیں کہ نوٹ بندی کے بعد پارلیمنٹ کی اسیس منٹ کمیٹی نے آر بی آئی کو نئے سرے سے رپورٹ کو غور کرکے اسے دوبارہ پیش کرنے کی صلاح دی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی نے یہ شکایت کی تھی کہ آر بی آئی نے 500 اور 1000 کے نوٹوں کا بیورا نہیں دیا تھا اور نوٹ بندی کے بعد کے حالات پر مکمل جانکاریاں نہیں دی تھی۔ آر بی آئی کے اس وقت کے گورنر اُرجیت پٹیل پارلیمانی کمیٹی کے سامنے دو بار پیش ہوئے تھے لیکن دونوں بار یہ نہیں بتا پائے کہ نوٹ بندی کے بعد کتنے ممنوع نوٹ بینکوں کے پاس واپس آئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہندوستانی سرکار اور ریزرو بینک کا رخ افسوسناک
نیپال اور دیگر پڑوسی ملکوں کے بینکوں میں جمع ممنوعہ ہندوستان نوٹوں کے بارے میں ریزرو بینک کو کچھ نہیں پتہ۔ ریزرو بینک کو یہ بھی نہیں پتہ کہ کالا دھن سفید کرنے والا بینک ایچ ایس بی سی کیا بلا ہے اور لنچسٹائن، پنامہ گیٹ، پیراڈائز اسکیم جیسے مہا گھوٹالے کیا ہیں۔جب آر بی آئی اتنی ’’ معصوم ‘‘ ہے تو ہندوستانی سرکار کی معصومیت تو اور بھی ریکارڈ توڑ ہوگی۔پھر ہندوستانی سرکار کو کیا پتہ ہوگا کہ اناج اور دوسرے سامانوں سے لدے ٹرکوں میں چھپا کر ممنوعہ نوٹس نیپال بھیجے جارہے ہیں۔
ہم آپ کو بتا دیں کہ اترپردیش اور بہار کو نیپال سے جوڑنے والے وسیع سرحدی علاقوں سے یہ گورکھ دھندہ خوب چل رہاہے۔ مغربی بنگال سے لگنے والی نیپال سرحد کے ذریعہ بھی یہ دھندہ چل رہاہے لیکن متعلقہ طورپر کم۔ مغربی بنگال سے ممنوعہ ہندوستانی کرنسی بنگلہ دیش جارہی ہے اور وہاں سے جعلی نوٹس ہندوستان آرہے ہیں۔ مغربی بنگال اس آمدو رفت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ادھر ارونا چل پردیش ،منی پور، میزورم اور ناگالینڈ سے کم مقدار میں ہندوستانی کرنسی برما جارہی ہے۔ لیکن ممنوعہ ہندوستانی کرنسی کے جانے کی رفتار آسام، میگھالے،میزورم اور تریپورا کی بہ نسبت بنگلہ دیش کی طرف تیز بنی ہوئی ہے۔ خفیہ ایجنسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ میانمار کے تامو اور ریہہ بارڈر کو منی پور سے جوڑنے والے مور اور میزورم کو جوڑنے والے جاکھتر بارڈر پر ممنوعہ ہندوستانی کرنسی پکڑی بھی جاچکی ہیں۔
نیپال ، برما یا بنگلہ دیش سرحد پر پکڑے جانے والے ممنوعہ ہندوستانی نوٹس کی تعداد کم ہے جبکہ نکل جانے والے نوٹوںکی تعداد کہیں زیادہ۔ نیپال میں جعلی نوٹوں کی بڑھت کے سبب 2011 میں جب ہندوستانی سرکار نے وہاں 500 اور 1000 کے نوٹ بَین کئے تھے ،تبھی تین کروڑ روپے سے زیادہ کے ہندوستانی نوٹ ضبط کئے گئے تھے، جبکہ کھاتوں میں باقاعدہ جمع کئے گئے ممنوعہ نوٹوں کی تعداد تقریباً 50 کروڑ تھی۔ یعنی پکڑا جانا صرف دکھاوا ثابت ہورہا ہے۔ ابھی پچھلے ہی دنوں نیپال میں پانچ کروڑ کے ہندوستانی نوٹوں کے ساتھ 15 لوگ پکڑے گئے تھے۔ پکڑے گئے لوگوں کے کہنے پر کاٹھمنڈو کے کالی ماتی سے 29 لاکھ 59 ہزار کے ہندوستانی نوٹ کے ساتھ کرشنا شریسٹھ اور کاٹھمنڈو کے بوڑھا نیل کانتھ علاقہ سے ہریانہ کے رہنے والے کرن ورما عرف سونی کو ساڑھے 50لاکھ کے ممنوعہ ہندوستانی نوٹس کے ساتھ پکڑا گیا تھا لیکن چھاپہ ماری اور برآمدگی کرنے والے آفیسر ہی بتاتے ہیں کہ نیپال کے مختلف سرکاری بینکوں کے ذریعہ سے کھپانے کے لئے کروڑوں کے ممنوعہ ہندوستانی نوٹس اسٹاک کئے گئے ہیں، اس میں دو چار کروڑ روپے کی برآمدگی کچھ بھی نہیں ہے۔
اب آتے ہیں سب سے دلچسپ لیکن افسوسناک حقیقت کی طرف۔ انڈین ریزرو ریزرو بینک نے یہ سرکاری طور پر قبول کیا ہے کہ اسے کالا دھن سفید کرنے کا دھندہ کرنے والے ہانگ کانگ اینڈ شنگھائی بینکنگ کارپوریشن ( ایچ ایس بی سی )، لنچسٹائن بینک، پنامہ گیٹ، پیرا ڈائز جیسے مہاگھوٹالوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ ۔غیر ذمہ دار انڈین ریزرو بینک کے سبب ہی ملک کا پیسہ وجے مالیہ یا نیرو مودی جیسے گھوٹالے باز کاروباریوں اور بدعنوان بینک افسروں کے ذریعہ غیر ملک جارہا ہے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ( آر ٹی آئی ) کے تحت سنجے شرما کے ذریعہ پوچھے گئے سوال پر آر بی آئی نے کہا ہے کہ ایچ ایس بی سی اور لنچسٹائن بینک کے کالے دھن کو سفید کرنے کے کاروبار کی جانچ کے لئے کیا کارروائی کی گئی اور کارروائی کا کیا نتیجہ سامنے آیا، اس کی اسے کوئی جانکاری نہیں ہے۔ آر بی آئی کو یہ بھی نہیں پتہ ہے کہ پنامہ پیپرس اور پیراڈائز پیپرس معاملہ میں کون لوگ اور کون ادارہ ملوث تھے۔ ملک کی معیشت کو متاثر کرنے والے گھوٹالوں اور کالے دھن سے جڑے بڑے معاملوں کے بارے میں آر بی آئی کا یہ رخ واقعی افسوسناک ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *