ذات برادری کی نئی لڑائی کو روکئے

8مارچ کو یوم خواتین تھا ۔اسی دن آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے اعلان کیا تھا کہ وہ این ڈی اے میں بنے رہیںگے لیکن سرکار سے اپنا ناطہ توڑ رہے ہیں۔ ان کے دو وزیروں نے اسی دن استعفیٰ دے دیا تھا۔بی جے پی کے وزیر بھی آندھر اپردیش کی سرکار سے ایسا ہی کررہے ہیں۔ یہ دونوں ہی اہم واقعات ہیں لیکن اس سے بھی بڑا ایک اور واقعہ ہے جو کہ ملک میں پیدا کیا جارہا ہے یا پیدا ہورہا ہے ۔اسے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے سینئر لیڈر اور ان کے پالیسی ساز بھارتیہ جنتا پارٹی کے مہا منتری رام مادھو نے پیدا کیاہے ۔رام مادھو نے لینن کی مورتی کو توڑے جانے کو اچھا قدم بتاتے ہوئے ملک بھر میں اپنے کارکنوں کو پیغام دیا ہے کہ ان سبھی کی مورتیاں جو سنگھ نظریہ کے نزدیک نہیں ہیں،انہیں توڑ دیا جائے اور ویسا ہی شروع ہو بھی گیا۔ لیکن میرے خیال سے یہ ایک طرح سے آگ سے کھیلنا ہوگا۔ وزیر اعظم جو ملک کے کسی بھی مسئلے کے اوپر نہیں بولتے ہیں،وہ من کی بات میں بولتے ہیں، انہوں نے مورتی توڑنے کے رویے کے خلاف میں بیان دیا ہے۔ لیکن بی جے پی کو جس طریقے سے ری ایکٹ کرنا چاہئے ،وہ ری ایکٹ نہیں کر رہی ہے ،صرف مذمت کررہی ہے۔
دو رخی پالیسی
ایک طرف تو یہ ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے اوپر اگر وزیراعظم مودی پر ایک چھوٹا ریمارکس ہو ، کوئی کارٹون بنے تو وہ آدمی گرفتار کر لیاجاتاہے لیکن دوسری طرف تمل ناڈو میں وہاں کی بی جے پی کے سینئر لیڈر راجا جو ٹویٹ کر کے مورتیاں توڑنے کی وکالت کرتے ہیں اور ان کی وکالت کے بعد ہی پیری یار کی مورتی توڑی جاتی ہے، وہ صرف اپنا ٹویٹ ہٹاتے ہیں ان کے اوپر پارٹی کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے۔ پارٹی ہو یا قانون، تمل ناڈو بی جے پی کے لیڈر راجا کو فوراً گرفتار کرنا چاہئے اور بی جے پی کو چاہئے کہ انہیں فوراً نکال دے لیکن بی جے پی نے یہ قدم نہ اٹھا کر اور سرکار کے اوپر دبائو نہ ڈال کر اے آئی اے ڈی ایم کی سرکارسے کہا کہ وہ انہیں گرفتار کرے۔ اس طرح یہ پیغام دیا جارہاہے کہ ہم صرف لیپا پوتی کررہے ہیں اور اس مورتی توڑو مہم کی حمایت کررہے ہیں ۔ آج کنور میں گاندھی جی کی مورتی کا چشمہ توڑا گیا۔ شیاما پرساد مکھرجی کی مورتی کے اوپر کولکاتا میں جو حملہ ہوا ، وہ تریپورا کا ری ایکشن تھا لیکن اس کے آگے جو بھی ہو رہا ہے امبیڈکر کی مورتیاں توڑنا، پیر یار کی مورتیاں توڑنا، گاندھی جی کی مورتیاں توڑنا اور ایسے سبھی لوگوں کی مورتیاں توڑنا جو سنگھ نظریہ کے نزدیک نہیں ہیں یا بی جے پی کے نزدیک نہیں ہیں،یہ ایک نئی طرح کی تشویش پیدا کرتا ہے۔
مجھے بہار الیکشن یاد آرہا ہے۔ بہار الیکشن میں ایک ٹیسٹ کیا تھا سنگھ چیف موہن بھاگوت نے۔انہوں نے ریزرویشن کے خلاف بیان دیا تھا۔ اس بیان نے بی جے پی کو ان سیٹوں سے بھی کم سیٹوں کے اوپر لا دیا جو وہ پچھلے الیکشن میں جیتی تھی ۔شاید یہ بیان اس لئے تھاکیونکہ وہاں وزیر اعظم مودی نے تقریبا 30اجلاس کئے تھے جس سے یہ لگ رہا تھا کہ بی جے پی کی لینڈ سلائڈ وکٹری ہوگی لیکن اس وقت لالو یادو اور نتیش کمار کے گٹھ جوڑ نے وہ نہیں ہونے دیا اور بی جے پی کی ہار ہوئی۔شاید یہ سوچا گیا تھاکہ اگر بی جے پی جیت جائے گی تو ہم ریزرویشن کو ختم کریں گے اور یہ بی جے پی کا شروع سے اسٹینڈ ہے۔ سنگھ کا یہ اسٹینڈ تو ہے ہی کہ ریزرویشن سماج کو بانٹا ہے، ریزرویشن سب کو برابری کا حق نہیں دیتا، ،آزادی کے ستر سال ہو چکے ہیں، اب سب کو برابری کا حق ملنا چاہئے۔ اسی طریقے سے ان تمام علامتی مجسموں کو توڑنے کی کوشش کرنا جن کا نظریہ تعاون باہمی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جن کا نظریہ سیکولرازم اور غریبوں کو سہولتیں دینے کے ساتھ جڑا ہوا ہے یا انہیں خصوصی سہولت دینے کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔کیونکہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ سماج میں برابری کی دوڑ میں سب کے ساتھ برابر دوڑ سکیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

علامتی مورتیوں کا توڑا جانا
یہ الگ بات ہے کہ جتنی سرکاریں آئیں،انہوں نے اس روایت کے اوپر صحیح طور پر عمل نہیں کیا اور ریزرویشن میں بی جے پی کا یہ الزام ہے کہ ایک نیا طبقہ بن گیا ہے جو ایک بار اس کا فائدہ لے لیتا ہے وہ فائدہ لیتا رہتا ہے۔لیکن یہ نظریہ ریزرویشن کے تحت آنے والے چاہے دلت ہوں یا بیک ورڈ ہوں ،ان سے وہ مواقع چھین لیتاہے جن سے ان کے آگے بڑھنے کا امکان رہتاہے۔ اسی لیے شاید اب سارے ملک میں علامتی مورتیاں جو کہ زیادہ تر بیک ورڈ لیڈروں یادلت لیڈروں کی ہیں، کو توڑ کر ایک ٹیسٹ کیا جارہاہے کہ کیا ملک ریزرویشن کے خلاف یا ان سارے لیڈروں کے خلاف ہے جو اب تک دلت سماج یا بیک ورڈ سماج کی قیادت کرتے رہے ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ بی جے پی کی قیادت بھی پوری طرح بیک ورڈ ہے اور اسے کہنے میں بی جے پی کے لیڈر ہچکچاتے بھی نہیں۔وہاں تو روایتی طورسے برہمن سماج یا اعلیٰ سماج کا تسلط بی جے پی کی قیادت میں تھا لیکن اب وہاں چاہے وہ وزیر اعظم ہوں یا دوسرے لیڈر ، زیادہ تر بیک ورڈ کی لیڈر شپ ۔بی جے پی میں اور دوسری طرف جن لوگوں نے بیک ورڈ کی لڑائی لڑی یا جن لوگوں نے دلتوں کی لڑائی لڑی ان کے خلاف یہ مہم چل رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نئے طریقے کا پولرائزیشن کرنے کی کوشش ہورہی ہے اور یہ ٹٹولنے کی کوشش ہورہی ہے کہ اس ملک میں ہم سنگھ کے نظریہ کے کتنے نزدیک اس چار سال میں آئے ہیں اور یہ اندازہ کرلیا جائے تو پھر ہم اپنے ایشو اگلے لوک سبھا الیکشن کے لئے طے کریںگے۔
اب اس میں جو پریشانی ہے، وہ یہ ہے کہ جتنے بھی ملک میں بیک ورڈ لیڈر ہیں یا دلت لیڈر ہیں ،وہ خاموش ہیں لیکن تمل ناڈو میں جس طرح سے پیر یار کی مورتیاں توڑی گئیں، امبیڈکر کی مورتیاں توڑی جارہی ہیں اور میں آپ کو بتائوں کہ آپ اپنے شہر سے گائوں کے کسی بھی خطے میں سفر کریںگے تو آپ کو کسی نہ کسی بستی میںڈاکٹر امبیڈکر کی ایک ہاتھ میں آئین کی کتاب پکڑے ہوئے اور دوسرا ہاتھ اٹھائے ہوئے مورتی مل جائے گی۔
سپریم کورٹ کی ہدایات
جیسا کہ تمل ناڈو کورٹ نے کہا کہ’ لیڈروں کی مورتیوں کو سیکورٹی دے سرکار‘۔لیکن سرکار نہیں دے سکتی ہے ، سماج ہی انہیں سیکورٹی دے سکتا ہے یا انہیں توڑ سکتاہے۔ کیونکہ سرکار کے پاس جب لوٹ،قتل ،اغوا کے معاملے میں اپنے عوام کو بچانے کے وسائل نہیں ہیں یا سیکورٹی فورسیز نہیں ہیں تو ہر مورتی کے آس پاس وہ سیکورٹی فورس کیسے لگا ئے گی؟آپ خود اندازہ لگائیے کہ اگر کوئی گروپ اسپانسرڈ طریقے سے ان مورتیوں کو توڑنے ،ان کو منہدم کرنے ،ان کے چشمے توڑنے، ان کی ناک توڑنے،ان کے ہاتھ توڑنے کا طے کر لے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
ہاں اس کا دور رس نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ ملک پانچ ہزار سال سے ایک تھا، اس میں سبھی لوگ مل کر ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے اور جو کمیاں تھیں، ان کمیوں کے خلاف سماج سدھار آندولن کے لیڈروں نے اورجو سیاسی لیڈر نہیں تھے ،انہوں نے لوگوں کو بیدار کیا اور اس طرح دھیرے دھیرے سماج میں بدلائو آرہا تھا۔ وہ طبقہ اس بدلائو کی مخالفت کر رہاتھاجس کا اب تک سماج کے اوپر غلبہ رہا ہے لیکن اس کے باوجود بات چیت کے ماحول میں چیزیں بدل رہی ہیں۔
ہم آزادی کے بعد سے ان لیڈروںکا اگر نام لیں جنہوں نے سماج سدھار کی وکالت کی یا سماج بدلنے کی وکالت کی تو ان میں80 فیصد لیڈر وہ تھے جو دلت سماج اور بیک ورڈ سماج سے نہیں آتے تھے۔ان لوگوں نے سماجی بدلائو کی وکالت کی لیکن اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ بیک ورڈ س کے لیڈر خاموش ہیں،دلتوں کے لیڈر خاموش ہیں،لیکن دلت سماج اور پچھڑا سماج ناراض ہے۔انہیں لگ رہا ہے کہ انہیں ان کے مساوات کے اوپر ان مورتیوں کو توڑے جانے سے ظلم ہو رہاہے، ان کے نظریہ کی توہین ہو رہی ہے، انہیں جو ملا ہے اس کو چھیننے کی کوشش ہورہی ہے۔ اور اسی چیز کو شاید بی جے پی یا ان کے لیڈر نہیںسمجھ رہے ہیں۔
تمل ناڈو میں جتنا زیادہ سنسیشن ہے، جتنا زیادہ تنائو ہے، جتنا زیادہ لوگ پیر یار کی مورتی کو توڑے جانے سے دکھی ہیں وہ خبریں دہلی میں نہیں آرہی ہیں اور اچانک پچھلے دو تین سال میں ملک بھر میں جس طرح سے دلت اور پچھڑے سماج کے اوپر کچھ طبقے نے جن کی شناخت نہیں ہو سکی ہے، جس طریقے سے حملے کئے ، عصمت دری کی ، گھر جلائے اور قتل کئے ہیں،وہ اس علاقے کے لوگوںکو دکھی کئے ہوئے ہے۔
دہلی سے چلنے والے ٹیلی ویژن چینل اور اخبار ان خبروں کی رپورٹنگ نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ان خبروں کو صرف دبانے کی کوشش ہوتی ہے لیکن اگر آپ ضلعوںکے اخباروں کو پڑھیں، خاص طور پر انٹر نیٹ کے اوپر جو اخباروں کی اطلاعات ہیں، اگر آپ نکال کر دیکھیں گے تو پائیں گے کہ 60 فیصد خبریں وہاں پر دلت اور پچھرے سماج کے لوگوں کے اوپر مظالم کی، ان کے بچیوں سے عصمت دری کی، ان کو پیٹے جانے کی، ان کو جلائے جانے کے واقعات سے بھری پڑی ہیں لیکن یہ چیزیں چونکہ ضلعوں میں واقع ہورہی ہیں لہٰذا اس ریاست کی راجدھانی کے اخباروں کی سرخیاں بھی نہیں بن پاتی ہیں اور جو ٹیلی ویژن ہیں ان کی تو بات ہی کرنا بے کار ہے۔
نتیجے کے طور پر سب سوچ رہے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے لیکن سچ تو یہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں چل رہاہے۔ ہماری یہ گزارش ہے بی جے پی سے کہ وہ فوراً اپنے کارکنوںکو اس سے روکے اور جو لوگ اس میں پائے جاتے ہیں ،جس میں پہلی شروعات تمل ناڈو کے راجا سے ہونی چاہئے ، ان کی گرفتاری ہونی چاہئے اور انہیں پارٹی سے فوری طور پر نکال دینا چاہئے۔ اگر نہیں نکالیں گے تو پیغام یہ جائے گا کہ ہم اس طرح کی کرتوت کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ ایک خطرناک صورت حال ملک میں پیدا ہو رہی ہے جسے روکنے کیذمہ داری سیاسی پارٹیوں کی ہے لیکن سیاسی پارٹیوں کی قیادت یہاں ہے ہی نہیں۔ جو سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے کانگریس ،اس کے لیڈر سنگا پور میں گھوم رہے ہیں۔ وہاں طلباء کو خطاب کررہے ہیں جبکہ انہیں ملک میں ہونا چاہئے۔ یہ فیصلہ کرنا بہت ضروری ہوتاہے کہ ہم کس وقت کہاں رہیں اور کس وقت کیا بولیں۔ملک کو توڑنے کا الزام لگانا تو آسان ہے لیکن اس کا سامنا کرنا مشکل ہے۔مگر کوئی سیاسی پارٹی سامنا نہیں کررہی ہے۔ خود دلتوںکی سب سے بڑی لیڈر مانی جانے والی مایا وتی خاموش ہیں۔ مایا وتی اگر ان ساری چیزوں کو لے کر کچھ کرتی ہیں تو میرا خیال ہے کہ اس کا استقبال ہوگا۔ ان کے سماج کو حوصلہ ملے گا لیکن وہ بھی ابھی خاموش ہیں۔ وہ بھی شاید جائزہ لے رہی ہیں۔ وہ بھی گورکھپور میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج کا انتظار کررہیہیں۔ لیکن تب تک اس ملک میں جو محبت و ہمدردی کا دھاگہ جڑا ہوا ہے ،وہ دھاگہ ٹوٹ جائے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

امریکہ کا ہوم لینڈ سیریل
آپ انٹرنیٹ پر ہیں، یوٹیوب پر ہیں ۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ میں اس وقت ایک سیریل چل رہاہے ہوم لینڈ۔ اس ہوم لینڈ کا جو موضوع ہے وہ ملک میں جو سیریل بنانے والے ہیں،ان کے لئے بھی سوچنے کی بات ہے۔یہ اس میں ہر ہفتہ ایسی چیز دکھاتے ہیں جو سماج میں ہورہی ہے ۔ ا س میں ایک ایپی سوڈ میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ملک کا صدر بہت ہی سخت گیر اور بے حس بن جاتاہے۔ وہاں کا میڈیا صدر کی حمایت میں واہ واہی کرتا ہے۔
اس ہوم لینڈ سیریل میں دکھایا گیا ہے کہ وہاں لوگ چھوٹے چھوٹے ریڈیو اسٹیشن چلاتے ہیں جسے بڑی تعداد میں لوگ سن سکیں ۔ان ریڈیو اسٹیشن کو لوگ ’اپنی بات‘ کہنے لگتے ہیں۔کیونکہ صدر تو سنتا نہیں ہے،پریس سنتا نہیں ہے تو لوگ اس ریڈیو اسٹیشن سے ہی اپنی بات کہتے ہیں جن کو لوگ روز آٹھ لاکھ، دس لاکھ، بیس لاکھ، پچیس لاکھ کی تعداد میں سنتے ہیں ۔ امریکہ میں لوگوں کے لئے ہوم لینڈ سیریل کے حساب سے اظہار کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔
ہمارے ملک میں بھی یہ صورت حال ہو گئی ہے کہ لوگوں کو لگ رہاہے کہ سرکار ان کی بات نہیں سن رہی ہے، لہٰذا سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بات کہہ رہے ہیں۔ بہت سارے لوگوںکے چینل، چھوٹے چھوٹے اخبار آپ دیکھیں توپائیں گے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنی بات کہتے ہیں اور دیکھتے ہیں،لیکن ایک بڑی تعدادنہیں پڑھنے والوں کی ہے کیونکہ وہ طریقہ انہیں نہیں آتا ہے کہ پورے سوشل میڈیا سے جڑیں اور انہیں پڑھیں۔ لیکن وہ جتنی کوشش اپنے پروموشن کی کر رہے ہیں،جتنے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں ،اس سے ان کے دل کی بات آرہی ہے۔ وہ جو سوچتے ہیں ،وہ ایک الگ طریقے سے ظاہر ہورہا ہے اور لوگوں تک کمیونیکیٹ ہورہا ہے۔
سرکار کوشش کررہی ہے کہ سوشل میڈیا پر جو لوگ بولتے ہیں ،بات کرتے ہیں،ان کو کسی طرح سے کنٹرول کریں۔اپوزیشن پارٹی بھی شاید یہی سوچتی ہوںگی لیکن ابھی سپریم کورٹ کی ہدایات کی وجہ سے سوشل میڈیا ایک سیف زون ہے۔ وہاں پر عوام اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔ لہٰذا لوگ اپنی بات کہہ رہے ہیں۔ چاہے وہ بے روزگاری کی بات ہو ،چاہے وہ اپنی بات کہہ رہے ہوں یا دوسرے کی بات کہہ رہے ہوں لیکن وہ بات ظاہر ہورہی ہے۔
ہوم لینڈ سیریل کا ایک حصہ یہ ہے کہ نریندر مودی ،ویسے وزیر اعظم نہیں ہیں جتنا ہوم لینڈ سیریل میںوہاں کے صدر کو دکھایا گیاہے۔ لیکن جو صورت حال یہاں کی ہے، جس طرح میڈیا لوگوںکے جذبات کو نظر انداز کررہا ہے ،اسے اندیکھا کررہا ہے ،اسے اپنے یہاں جگہ نہیں دے رہا ہے، یہاں بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ ان چھوٹے چھوٹے ریڈیو اسٹیشنوں کی طرح سے لوگ اپنی بات کہہ رہے ہیں ، پڑھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں۔
بروقت توجہ کی ضرورت
میں صرف ملک کے لیڈروںسے، برسراقتدار پارٹی کے لیڈروں سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ قدم اٹھائیں ورنہ اگر پسماندہ سطح کے لوگوںپر تعصب بڑھا تو یہ ایک ایسی آگ میں بدل سکتا ہے جس کو کنٹرول کرنا شاید سرکار کے لئے مشکل ہوگا ۔کیونکہ ایک چیز جس کو سرکار اچھی طرح سمجھ رہی ہے کہ اس کی مالی پالیسیوں کی وجہ سے بکھرائو ہورہاہے اور لوگ ترقی کے دائرے سے دور جارہے ہیں۔ پٹرول اگر اس آگ میں مل گیا جو ذات برادری کی لڑائی کی شکل میں سامنے آرہا ہے تو ملک ایک نئے بحران میں پھنس جائے گا۔
میری گزارش ملک کے تمام لیڈروں ، ماہرین ،برسراقتدار پارٹی ؍اتحاد سے ہے کہ وہ ان باتوں پر فوراً نوٹس لے جو ملک میں دلت اور پچھڑے طبقوںکے مسائل سے لوگوں کا دھیان ہٹا کر اور ان طبقوں کو اس طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرکے ہو رہی ہے تاکہ الیکشن جیت سکیں، تو وہ ایک خطرناک کھیل ہو سکتاہے۔ خطرناک کھیل نہ، ہو اس کی کوشش سب کو کرنی چاہئے ۔ یہی میں آپ سے شیئر کررہا ہوں کہ آپ بھی اگر بلاگ لکھتے ہیں ،آپ بھی اگر سوشل میڈیا پر کچھ کرتے ہیں تو اس آگ کو روکنے کے لئے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کریں،لیکن وہ قدم مستقل ہو جاتا ہے جب ایک ٹیلی ویزن چینل اسے نشر کرتا ہے۔میںنے اس نظریہ کے لوگوں کی جن کی مورتیاں توڑنے کا ذکر کیا ،ان میں مہاتما گاندھی بھی ہیں، پیر یار بھی ہیں ،امبیڈکر بھی ہیں اور شیاما پرساد مکھرجی بھی ہیں لیکن وہ چینل صرف یہ نشر کر رہا ہے کہ شیاما پرساد مکھرجی کی مورتی توڑنے سے کیا کیا نقصان ہو سکتا ہے ؟
اب دماغ کا دیوالیہ پن دیکھئے ۔ آپ سارے لیڈروں کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ آپ صرف شیاما پرساد مکھرجی کا نام لے رہے ہیں اور اس میںجو سنگھ کے یا بی جے پی کے ترجمان ہیں، وہ جو بولیں گے اس سے برسراقتدار پارٹی کے کارکنان کو یہ پیغام جائے گا کہ تم آگے ایسا ایسا اور کرو ۔یہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اسی لئے سوشل میڈیا میں جو لوگ بھی موجود ہیں، جو لوگ اپنی بات کہتے ہیں،ان لوگوںکو چاہئے کہ وہ اس کو کنٹرول کریں۔ اگر نہیں کنٹرول کریں گے تو ملک کے سامنے ایک اور بھیانک صورت حال آنے والی ہے۔ ملک ایک نئی ذات برادری کی لڑائی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اسے اس میں ملوث ہونے سے روکئے۔یہ میری گزارش ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *