خون کے آخری قطرے تک ہم شامی مسلمانوں کے ساتھ ہیں:مولانا سید انظر شاہ قاسمی

maulana-anzar-shah
علماء کرام نے حدیث شریف کے حوالے سے لکھا ہے کہ شر کے دس حصے ہیں، ایک حصہ ملک شام میں پھیلا ہے اور باقی نو پوری دنیا میں اور خیر کے دس حصے ہیں، نو ملک شام میں پھیلے ہیں اور ایک پوری دنیا میں ملک شام انبیاء کرام کی سر زمین ہے، بیت المقدس کی سرزمین ہے، معراج کی سرزمین ہے۔ہزاروں رحمتیں، برکتیں، کارنامے ملک شام سے جڑی ہیں۔دجال جو دنیا کا سب سے خطرناک اور آخری فتنہ ہوگا اس کا بھی خاتمہ ’مقام لد‘ملک شام میں ہوگا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ السلام اسلام مسلمان دشمنوں کے خلاف جو علم جہاد بلند کریں گے وہ یہی ملک شام سے کریں گے۔’ غوطہ‘ شہر جس کی تعریف نبی کریم ﷺ نے خود کی ہے آج وہاں یہ وقت کا فرعون بشار الاسد، سنی مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے، لاکھوں مسلمان اب تک شہید ہو چکے ہیں، ہمارے چھوٹے چھوٹے معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے مسل دیا جارہا ہے۔ لیکن آج مسلمان سب کچھ رکھتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کیا ہوا ہے۔ان باتوں کا اظہار خیال شام کے موجودہ حالات کے پیش نظر مسجد قمر ،قمر نگر چندرا لے آؤٹ بنگلورمیں منعقد اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے شیر کرناٹک شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
شاہ ملت نے فرمایا کہ آج اگر فرعون، نمرود، ہٹلر موجود ہوتے تو وہ بھی بشار الاسد کے کمینے پن کو دیکھ کر شرم محسوس کرتے۔مولانا نے فرمایا کہ ہمارے اکابرین چیخ چیخ کر یہ کہتے رہے کہ شیعہ کافر ہے لیکن ہم نے انکی بات نہیں مانی لیکن آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ شام میں مظلوم مسلمان پر شیعہ کس طرح ظلم ڈھا رہا ہے۔ مولانا نے کہاکہ ان شہیدوں کی موت کو ذلت کی موت کہنے والے کان کھول کر سن لیں شہید مرتا نہیں ہے، زندہ رہتا ہے۔ یہ لوگ مرے نہیں ہیں بلکہ انہوں نے شہادت کا تاج پہن لیا ہے،جنت میں داخل ہوگئے ہیں، انکی لڑائی کوئی ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ اسلام کا مسئلہ ہے۔نیز انہو ں نے کہاکہ شامی مظلوم مسلمانوں سے ہمارا رشتہ اخوت اسلامی کا ہے،خون کے آخری قطرے تک ہماری ہمدردیاں انکے ساتھ وابستہ ہیں ،ان پر ڈھائے جارہے ظلم پر مسلم ممالک کی خاموشیاں افسوس ناک ہیں ۔مولانا نے فرمایا کہ آج مسلمانوں کے دماغ میں یہ سوال وائرس کی طرح پھیل گیا ہے کہ جس ملک کے بارے میں اتنی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں لیکن اس کا انجام کیا ہورہا ہے؟ مولانا نے فرمایا کہ مسلمان احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ، کسی قوم پر حالات، آزمائشیں آتی ہیں تو وہ صرف انکے درجات بلند کرنے کیلئے اور زندہ قوموں پر ہی حالات آتے ہیں اور مسلمان ہی ایک زندہ قوم ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *