بالی ووڈ کی چاندنی رخصت ہوئی

بالی ووڈکی مشہور و معروف اداکارہ سری دیوی 24 فروری کو دبئی میںانتقال کرگئیں۔ ان کی اچانک موت کی خبر سن کر نہ صرف فلمی دنیا میںرنج وغم کیلہر دوڑ گئی بلکہ ملک و بیرون ملک کے لوگ بھی اس لیجنڈ اداکارہ کی بے وقت موت سے سوگوار ہوگئے۔27 فروری منگل کی رات سری دیوی کے جسد خاکی کو دبئی سے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے ممبئی لایا گیا، جہاں فلم اداکارانل کپور اور دیگر لواحقین ہوائی اڈے پر پہلے سے ہی موجود تھے۔ 28 فروری کو ہندو مذہب کے رسم و رواج کے مطابق سری دیوی کو آخری وقت میںدلہن کی طرح سجایا گیا۔ صبح نو بجے ان کے جسد خاکی کو ممبئی کے سیلیبریشن کلب میںلایاگیا، جہاں بالی ووڈ کی چاندنی کے آخری دیدار کے لیے ان کے مداحوں کی بھیڑلگ گئی،فلمی دنیا کے سبھی ستارے ان کی آخری جھلک پانے کے لیے زمین پر اتر آئے۔ آخری رسومات کے دوران سری دیوی کے جسد خاکی کو سلامی دی گئی اور ان کی لاش کو ترنگے میںلپیٹا گیا۔ ولے پارلے سروس سوسائٹی شمشان اور ہندو سمیٹری میںسرکاری اعزاز کے ساتھ سری دیوی کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔
ہندی فلم انڈسٹری میں ’’ہوا ہوائی گرل‘‘ کے نام سے مشہور سری دیوی کی پیدائش 13اگست 1963 کو تامل ناڈو کے ضلع شیو کاشی میں ہوئی تھی۔ ان کا اصلی نام سری امّا اَیپن تھا۔ والد ایپّن تمل اور پیشے سے وکیل تھے جبکہ والدہ راجیشوریتیلگو تھیں۔ وہ آندھرا پردیش کی رہنے والی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ سری دیوی تمل اور تیلگو دونوں زبانیں جانتی تھیں۔ سری دیوی کی ایک بہن سری لتا اور دو سوتیلے بھائی آنند اور ستیش ہیں۔
1980 کے دوران سری دیوی اور متھن چکرورتی کے درمیان ’لو افیئر‘ ہوگیا تھا اور دونوں نے خاموشی کے ساتھ1985 میں شادی بھی کر لی تھی جو تین سال یعنی 1988 تک چلی۔اس کے بعد سری دیوی کی دوسری شادی 1996 میں بونی کپور سے ہوئی، جن سے جہانوی اور خوشی نام کی دو بیٹیاں ہیں۔ ان کے علاوہ سری دیوی کے خاندان میں ان کی ایک سوتیلی بیٹی انشولا اور بیٹا ارجن بھی ہے۔ گزشتہ دنوں وہ اپنے بھانجے موہت مارواہ کی شادی میں پورے خاندان کے ساتھ دبئی گئی ہوئی تھیں کہ ہوٹلکے باتھ ٹب میں ڈوبنے سے ان کی موت واقع ہوگئی اورفلم انڈسٹری ’لیڈی سپر اسٹار‘ کہی جانے والی ایک خوبصورت، چلبلی اور بہترین اداکارہ سے محروم ہوگئی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

سری دیوی نے تمل، تیلگو، ملیالم اور ہندی فلموں میںاپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ انھوں نے محض چار سال کی عمر میں 1967 میںتمل فلم ’کندن کرونی‘ سے بطور چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔ 1969 میںملیالم فلم ’کمار سنبھاون‘ اور 1977 میں تیلگو فلم ’بنگا رکّا‘ میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر کام کیا۔ سری دیوی نے 1975 میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر فلم ’جولی‘ میں کام کرکے بالی ووڈ میںانٹری کی۔ اس فلم میںانھوں نے ہیروئین کی بہن کا کردار ادا کیا تھا۔
جنوبی ہند میںکام کرنے کے بعد سری دیوی نے 1979 میںہندی فلم ’سولہواں ساون‘ میںمرکزی کردار کے طور پر فلمی کریئر کا آغاز کیا۔ 1980 کی دہائی کو ہندی فلموںمیں اداکارہ کے طور پر ’سری دیوی کی دہائی‘ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے فلم ہمت والا، تحفہ، مسٹر انڈیا، چاندنی اور نگینہ جیسی کامیاب فلمیں دے کر شائقین فلم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی اور انھیںلیڈی سپر اسٹار کہا جانے لگا۔ انھیں سب سے زیادہ مقبولیت فلم ’ہمت والا‘ سے ملی۔ اس کے بعد سری دیوی نے پیچھے مڑ کر نہیںدیکھا۔ 1986 میںریلیز ہونے والی فلم ’نگینہ‘ ان کے فلمی کریئر کی سپر ہٹ فلموںمیںشمار کی جاتی ہے ۔ اس فلم میں سری دیوی نے ایک ناگن کا رول ادا کیا تھا اور اس فلم کا نغمہ ’میں تیری دشمن، دشمن تو میرا‘ کافی مقبول ہوا تھا۔ 1987 میں فلم ’مسٹر انڈیا‘ نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے۔ یہ فلم بچوںاور بڑوں میں سبھی میںمقبول ہوئی۔
1989 میں سری دیوی کی فلم ’چالباز‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم میںانھوں نے ڈبل رول ادا کیا تھا۔ حالانکہ یہ کردار ان کے لیے کافی چیلنج بھرا تھا لیکن انھوں نے اپنی شاندار اداکاری سے اس کردار کو زندہ جاوید بنا دیا۔ یش چوپڑا کے ڈائریکشن میں بنی فلم ’چاندنی‘ میں انھوں نے اپنی اداکاری کے ایسے جوہر دکھائے کہ وہ اپنے مداحوںکی چاندنی بن گئیں۔ 1991 میں فلم ’لمحے‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم میںسری دیوی نے ماں اور بیٹی کا دوہرا کردار ادا کرکے فلم بینوں کے دل جیت لیے۔ فلم ’خدا گواہ‘ میں بھی سری دیوی اپنی اداکاری کے نقوش شائقین فلم کے دلوں پر چھوڑنے میں کامیاب رہیں۔ حالانکہ فلم کی کہانی امیتابھ بچن کے ارد گرد گھومتی ہے لیکن سری دیوی کے ماں بیٹی کے دوہرے کردار نے ناظرین کے دلوں کو جیت لیا۔سری دیوی نے 1996 میںفلم ساز و ہدایت کار بونی کپور سے شادی کرلی اور فلمی دنیا سے دوری اختیار کرلی۔ بطور ہیروئین فلم ’جدائی‘ ان کی آخری فلم تھی ۔ یہ فلم 1997میںریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میںانل کپور ہیرو تھے اور یہ فلم باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی تھی لیکن سری دیوی نے پھر فلمی دنیا سے فاصلے بنالیے۔ اس کے بعد انھوں نے 1998 سے 2011 کے درمیان ٹیلی ویژن سیریل پر ’جینا اسی کا نام ہے، مالینی ایئر اور کابوم جیسے سیرئل میں کام کیا۔ 2012 میںسری دیوی نے بالی ووڈ میں پھر واپسی کی اور فلم ’انگلش ونگلش‘ میں جاندار رول ادا کیا۔ یہ فلم بھی سپرہٹ رہی۔2017 میںسری دیوی کی فلم ’مام‘ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں پاکستانی فنکار عدنان صدیقی اور اداکارہ سجل علی نے بھی کام کیا تھا۔ یہ ان کی 300ویںاور آخری فلم تھی۔ 2018 میں ریلیز ہونے والی شاہ رخ خان کی فلم ’زیرو‘ میں بھی انھوں نے خصوصی رول ادا کیا ہے،لیکن افسوس کہ سری دیوی اسے پردہ سیمیںپر نہیں دیکھ سکیں۔
سری دیوی نے اپنے فلمی سفر میںکئی ایوارڈس حاصل کیے لیکن انھیں سب سے بڑا ایوارڈ حکومت ہند نے 2013 میں ’پدم شری‘ کے طور پر دیا۔ اس کے علاوہ انھیں پہلا ایوارڈ بطور چائلڈ اسپیشلسٹ 1977 میں فلم فیئر اسپیشل ایوارڈ ساؤتھ میںفلم ’ویاتھنلے‘ میںان کی بہترین اداکاری کے لیے دیا گیا۔ اس کے بعد 1982 میںانھیں ان کی تمل فلم کے لیے فلم فیئر ایوارڈ (تمل) دیا گیا۔ 1991 میںانھیںپھر تیلگو فلم کے لیے بیسٹ ایکٹریس (تیلگو) سے نوازا گیا۔ 1990 میں سری دیوی کو ان کی ہندی فلم ’چالباز‘ کے لیے فلم فیئر بیسٹ ایکٹریس سے سرفراز کیا گیا۔ 2013 میں انھیں ان کی ہندی فلم ’ناگن‘ اور فلم ’مسٹر انڈیا‘ کے لیے فلم فیئر اسپیشل ایوارڈ دیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بالی ووڈ میںہمیشہ ہیرو کا دبدبہ رہتا ہے اور ہیروئنوں کا کریئر عام طور سے پانچ دس سال میںختم ہوجاتا ہے لیکن اس تصور کو سری دیوی نے غلط ثابت کیا ۔ وہ پانچ سال نہیںبلکہ پچاس سال تک فلمی دنیا میںاپنا دبدبہ قائم کیے رہیں۔ اس دوران انھوں نے کمل ہاسن، رجنی کانت، امیتابھ بچن، دھرمیندر، سنی دیول، راجیش کھنہ، شاہ رخ خان، سلمان خان، اکشے کمار جیسے مقبول عام اداکاروں کے ساتھ کام کیا لیکن ان کی سب سے کامیاب جوڑی جتندر کے ساتھ رہی۔
سری دیوی کی بے وقت موت پر صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ملک و بیرون ملک کے لوگ بھی رنج و غم میںڈوبے ہوئے ہیں۔ سری دیوی کی اچانک موت پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کو وند نے ٹوئٹر پر اپنے تعزیتی پیغام میںکہا کہ ’’فلم اسٹار سری دیوی کی موت سے میں دکھی ہوں۔ وہ لاکھوں فینس کا دل توڑ کر گئی ہیں۔ ان کی لمحے اور انگلش ونگلش جیسی فلمیں دوسرے فنکاروں کے لیے تحریک ہیں۔ ان کے متعلقین اور قریبی لوگوں کے ساتھ میری تعزیت۔‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی سری دیوی کی اچانک موت پر دکھ کا اظہار کیا اور ایک ٹویٹ میںان کے خاندان اور مداحوں سے اظہار تعزیت کیا۔وزیر اعظم نے ٹویٹ کیا، ’’مشہور اداکارہ سری دیوی کی بے وقت موت کی خبر کافی دکھ پہنچانے والی ہے۔ وہ فلمی دنیا کی مشہور اور تجربہ کار ادکارہ تھیںانھوں نے اپنے طویل کریئر میں مختلف کردار ادا کرکے انھیں یادگار بنایا۔ میںاس دکھ کی گھڑی میں ان کے خاندان او رمداحوں کے ساتھ ہوں۔خدا ان کی روح کو سکون دے۔‘‘
پاکستان کے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بالی ووڈ کی نامور فنکارہ سری دیوی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سری دیوی ایک ورسٹائل اداکارہ تھیں، جنھوں نے فن اور اداکاری کے جوہر یادگار کرداروں کی صورت میںنبھائے اور ان کے انتقال سے پوری دنیا میںموجود ان کے مداحوںکو دلی افسوس ہوا ہے ۔ انھوںنے سوگواران سے دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
سری دیوی کی موت پر نہ صرف ہندوستانی فنکار بلکہ پاکستانی فنکار بھی افسردہ ہیں۔ پاکستان کی معروف اداکارہ سجل علی ، جنھوں نے سری دیوی کے ساتھ فلم ’مام‘ میںکام کیا تھا۔ فلم کی شوٹنگ کے دوران ہی سجل علی کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ تب سری دیوی نے سجل علی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ میںبھی تمہاری مام ہوں۔ چنانچہ سجل علی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ میںنے اپنی دوسری ماں بھی کھودی۔
ماہرہ خان نے لکھا ہے کہ سری دیوی ایک عظیم اداکارہ تھیںاور ہم ان کے لیے رو ر ہے ہیں۔ راحت فتح علی خان اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ وہ بونی کپور اور کپور خاندان کے غم میںبرابر کے شریک ہیں۔ عدنان صدیقی نے انسٹا گرام پر سری دیوی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دو روز قبل انھوں نے شادی میںبونی کپور اور سری دیوی سے ملاقات کی تھی اور اس طرح ان کی اچانک موت نے صدمے سے دوچار کردیا ہے۔
لندن کے میئر صادق علی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے دورے میںسری دیوی سے ملاقات ہوئی تھی۔ایک انتہائی باصلاحیت اداکارہ کے انتقال کی خبر سن کر انتہائی دکھ ہوا۔ انھوں نے ہندوستان کے دورے کے موقع پر سر ی دیوی سے ملاقات کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی۔بالی ووڈ کے سپر اسٹار امیتابھ بچن نے سری دیوی کی موت سے کچھ دیر قبل کئے گئے ٹویٹ میںلکھا تھا کہ نہ جانے کیوںعجیب سی گھبراہٹ ہورہی ہے۔ عامر خان نے سری دیوی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ میںتعزیت کی اور کہا کہ وہ اس حادثے سے کافی غمزدہ ہیں اور ان کے پورے کریئر کو سراہتے ہوئے اپنے آپ کو ان کا بڑا مداح قرار دیا۔اکشے کمار نے سری دیوی کے بچھڑنے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایسا دکھ ہے جس کے لیے کوئی الفاظ نہیں۔
ہیما مالنی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ سری دیوی کا اچانک بچھڑجانا ان کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں۔ فلم نگری میںان کا خلا کوئی پُر نہیںکرسکتا۔ وہ ایک بہترین اداکارہ تھیں۔ ان کے علاوہ بھی فلمی فنکاروںنے سری دیوی کی موت پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے چند لوگوںکے ٹویٹ اس طرح ہیں۔ رجنی کانت: وہ بہت زیادہ پریشان ہوگئے ہیں، انھوںنے ایک دوست کھودیا ہے جبکہ سری دیوی کی موت انڈسٹری کا بھی بڑا نقصان ہے۔ اہل خانہ کے ساتھ ادارکارہ کا کرب وہ محسوس کررہے ہیں اور وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیںگی۔
انوپم کھیر: وہ کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہے ہیں، یہ خبر بہت دردناک ہے۔ ایک قابل، خوبصورت اور بھارتی سنیما کی کوئین اور بہترین دوست اب نہیںرہیں۔ اداکارہ کے ساتھ بہت سی فلموںمیںکام کیا جو بہترین لمحات اور یادیں ہیں۔
کاجول: ابھی تک سری دیوی ان کے ذہن میںہنستی اور باتیںکرتی گھوم رہی ہیں۔ وہ اداکارہ نہیںبلکہ ایک ادارہ تھیں، جن کے گزرجانے کا یقین نہیں اور یہ انڈسٹری کا بڑا نقصان ہے۔
جیکلین فرنانڈیزنے کہا، بے شک وہ آئیکون تھیں، بہت جلدی چلی گئیں، بہت جلدی۔ جانی لیور: سری دیوی جی کے بارے میںسن کر انتہائی غمگین اور صدمے میںہوں۔ میری ان کے خاندان کے دعائیں اور تعزیت ہے۔
پر ینکا چوپڑہ: میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، ان سب سے تعزیت جو سری دیوی کو چاہتے تھے، یہ سیاہ دن ہے۔جاوید جعفری: حیران اور صدمے میںہوں۔ زبردست ٹیلنٹ اور میری پسندیدہ پرفارمر انتقال کرگئیں۔ صنعت کا بڑا نقصان ہے، آپ کو بہت یاد کریںگے۔
کمل ہاسن نے کہا کہ سری دیوی کو چھوٹی سی بچی سے ایک لیجنڈ خاتون بنتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان کی شخصیت معمولی نہیں تھی۔ سری دیوی کے ساتھ بہترین لمحات گزارے۔ ہم سب اداکار ہ کو بہت یاد کریںگے۔ رتیش دیش مکھ کا کہنا ہے کہ سری دیوی کے انتقال کی خبر ان کے لیے خوفناک ہے۔ اس خبر کے اظہار کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
کترینہ کیف کہتی ہیںکہ سری دیوی کی وہ بہت بڑی مداح تھیں جو بہت زیادہ ہمدرد بھی تھیں، میری تمام ہمدردی اور دعائیںان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
مادھوری دیکشت نے کہاکہ ان کی صبح اس خوفناک خبر سے ہوئی، میری دعائیں اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ دنیا نے ایک قابل انسان کو کھودیا ہے۔
پریتی زنٹا مغموم ہوکر بولیںکہ دل ٹوٹ گیا،میری سب سے پسندیدہ اداکارہ نہیںرہیں۔
سشمتا سین نے کہا کہ میڈم سری دیوی کے انتقال کاسن کر آنسو تھمنے کا نام نہیںلے رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *