بی جے پی کا عروج ذمہ دار اپوزیشن پارٹیں

اپوزیشن نے بی جے پی کو اپنی پاری کھیلنے کے لئے کھلا میدان چھوڑ دیا ہے۔ اندرونی اختلاف نے کانگریس کو اور گپوڑبازی نے لیفٹ پارٹیوں کو ملک میں غیر موزوں بنا دیا ہے۔پالیسی اور تکڑم میں کانگریس اور لیفٹ فرنٹ دونوں ہی بی جے پی کے آگے فیل ثابت ہو رہے ہیں۔ اس مہارت میںکمزور ہونے کی وجہ سے ہی میگھالے میں 21 سیٹیں جیتنے کے باجودکانگریس پارٹی سرکار نہیں بنا پائی اور محض دو سیٹیں پانے والی بی جے پی اپنے گٹھ بندھن کے ساتھ وہاں سرکار بنانے میں کامیاب ہو گئی۔
قابل رحم حالت میں کانگریس
تریپورا اور ناگا لینڈ میں تو کانگریس اس بار کھاتہ بھی نہیں کھول پائی۔ تریپورا میں بی جے پی نے اپنے بل بوتے سرکار بنا لی اور ناگا لینڈ میں گٹھ بندھن کے دم پر بی جے پی کی ’راشٹریہ جن تانترک گٹھ بندھن‘ کی سرکار بن گئی۔ یعنی صرف میزورم چھوڑ کر شمال مشرق سے کانگریس کا پتہ کٹ گیا ہے۔ تریپورا میں ہار کے بعد لیفٹ شمال مشرق میں کہیں باقی نہیں رہے۔ تریپورا ،میگھالے اور ناگا لینڈ میں ابھی ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد اب شمال مشرق کی 6ریاستوں پر بی جے پی قیادت والے راشٹریہ جن تانترک گٹھ بندھن کا قبضہ ہو گیاہے جبکہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے پہلے تک شمال مشرق کی 7 ریاستوں میں کانگریس کا ہی تسلط قائم تھا۔
آزادی کے بعد جمہوری ہندوستان کے اقتدار پر سب سے زیادہ وقت تک حکومت کرنے والی کانگریس پارٹی کا دائرہ سمٹ کر آج تین ریاستوں اور ایک مرکزکے زیر ریاست تک رہ گیا ہے۔ تین ریاستوں میں سے بھی کرناٹک اور میزورم میںاسی سال کے آخر میں الیکشن ہونے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب اور مرکز کے تحت پونڈیچری میں کانگریس کی حکومت بچی ہے۔ میگھالے میں بی جے پی کے بساط پر دھند لگی کانگریس نے اگر اپنی پالیسی پختہ نہیں بنائی تو پورا شمال مشرق صاف ہو جائے گا۔
پچھلے لوک سبھا الیکشن میں ہار کے بعد کانگریس پارٹی کو ایک دو ریاست چھوڑ کر ہر اسمبلی انتخابات میں ہار کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2014 تک کانگریس کے پاس 13ریاستوں میں سرکار تھی۔ شمال مشرق کی تین ریاستوں کے نتیجے میزورم اور کرناٹک کے اسمبلی انتخابات پر ضرور اثر ڈالیں گے۔ گجرات الیکشن میں کانگریس کے اطمینان کا مظاہرہ اور مدھیہ پردیش کے ضمنی انتخاب میں کانگریس کو جیت ملنے سے جو ماحول بنا تھا، کانگریس کے لیڈر اس ماحول کو کیش کرانے میں پوری طرح ناکام رہے۔
کانگریس کے نئے نیشنل صدر راہل گاندھی نے اب اگر میزورم اور کرناٹک کو وقار کا موضوع نہیں بنایا تو مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بنا بنایا ماحول ختم ہو جائے گا۔ میگھالے سے کانگریس کو شدید زخم لگا لیکن پھر بھی سبق لینے کا کوئی اثر کانگریس لیڈروں کے چہرے پر نظر نہیں آرہا ہے ۔ سبق لینے کے بجائے الزام تراشی کا دور مزید تیز اور بھدا ہو گیا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں کے انچارج و سینئر کانگریسی لیڈر سی پی جوشی کانگریس کے شامیانے میں عوامی تنقید کے نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ میگھالے کانگریس کے لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ موکول سنگما بھی کانگریس میں چل رہے مذمتی مقابلہ میں نشانے پر ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

کانگریسیوں کو یہ نہیں سمجھ میں آرہا ہے کہ آسام میں الیکشن جیتنے کے بعد سے بی جے پی نے اس دھاردار کو بنائے رکھنے میں کوئی کسرکیوں نہیں چھوڑی ،جبکہ کانگریس اپنی ہی سیٹیں گنواتی چلی جارہی ہے۔ ناگالینڈ کے کانگریس صدر کے وے کھاپ تھیری نے تو صاف صاف کہا بھی کہ کانگریس قیادت شمال مشرق سے بھاگ کھڑی ہوئی ہے۔ اس طرح کے بیانوں سے یہ صاف لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی کا اندرونی ماحول میزورم کے الیکشن کا ماحول خراب کرے گا۔
دوسری طرف شمال مشرق میں تسلط قائم کرنے والے بی جے پی گٹھ بندھن نے تریپورا میں 25 سال پرانا لیفٹسٹوں کا’ لال قلعہ‘ منہدم کر دیا۔ لال سلامیوں کو مغربی بنگال ،کیرل اور تریپورا پر فخر رہا ہے۔ دھیرے دھیرے ان کا لال سلام کیرل میں سمٹ گیا۔ تریپورا سے لیفٹ کا اقتدار سے جانا کافی اہم سیاسی واقعہ ہے، کیونکہ گزشتہ 25 برسوں سے مانک سرکار کی قیادت میں تریپورا لیفٹ پارٹیوں کا لال قلعہ بنا ہوا تھا۔ تریپورا میں بی جے پی نے واضح اکثریت حاصل کی اور 60 میں سے 43 سیٹوںپر جیت حاصل کی۔ ان میں 35 سیٹیں اکیلے بی جے پی کی ہیں اور باقی دیگر اتحادی پارٹیوں کی ۔ پچھلے اسمبلی انتخابات میں اتحادیوں سمیت 50 سیٹیں جیتنے والے لیفٹ مورچہ کو اس بار کے الیکشن میں محض 16 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی۔ تریپورا میں بی جے پی کے بپلو کمار دبے کی قیادت میں راجگ کی سرکار بنی ہے۔
شمال مشرق کی تین ریاستوں میں بی جے پی گٹھ بندھن کی جیت کے ذریعہ ہم اپوزیشن کی ہار کا سیاسی تجزیہ کریں تو پاتے ہیں کہ تریپورا کا لال قلعہ ڈھانے میں کانگریس نے بالواسطہ طور سے بی جے پی کی ہی مدد کی۔ 40لاکھ سے زیادہ آباد ی والے تریپورا میں ووٹروں کی تعداد 25 لاکھ ہے۔ ان میں سے تقریباً 74فیصد ووٹروں نے اس بار اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ چھوٹی سی اس ریاست میں ہو رہے الیکشن پر دنیا بھر کے اخباروں اور نیوز چینلوں کی نگاہ تھی۔ یہ دور رس سیاسی منظر تھا کہ 25سال میں پہلی بار برسراقتدار مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی ( سی پی ایم ) کو کانگریس کے بجائے بی جے پی سے سیدھی ٹکر مل رہی تھی۔
بی جے پی نے اس الیکشن میں تریپورا کی صاف ستھری اور ایماندار لیفٹ سرکار کو پانی، سڑک اور روزگار جیسے ترقی کے بنیادی ایشوز پر گھیر لیا اور ان مسئلوںپر عوام نے بی جے پی کا ساتھ دیا۔ کسی نے سوچا نہیں تھا کہ پچھلے اسمبلی انتخابات میں جس بی جے پی کے 50 میں سے 49 فیصد کی ضمانت ضبط ہو گئی تھی، وہی پارٹی اگلے ہی الیکشن میں ماکپا جیسی سیاسی پارٹی کو شکست دے دے گی۔ شمال مشرق کے معاملوں کے جانکار سیاسی تجزیہ کار جیوا نند بوس کہتے ہیں کہ تریپورا میں بی جے پی نے ٹھوس سیاست تو بنائی ہی،لیکن لیفت پارٹیوں کے کام سے زیادہ بے معنی مباحثے پر زیادہ توجہ دی اور کانگریس کی لچر پالیسیوں اور ڈھیلے پن نے بی جے پی کو زیادہ مضبوطی دی۔
2013 کے الیکشن میںتریپورا میں کانگریس نے 10سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔ اس الیکشن میں کانگریس کو 36.53 فیصد ووٹ ملے تھے ۔ حیرت کی بات ہے کہ اس بار کے الیکشن میں کانگریس کا ووٹ شیئر گھٹ کر محض 1.8 فیصد رہ گیا۔ دوسری طرف بی جے پی کا ووٹ فیصد ڈیڑھ سے بڑھ کر 43فیصد تک پہنچ گیا۔ یعنی پچھلے پانچ سال میں لیفت سرکار کو چیلنج دینے اور اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے بجائے اندرونی اختلاف میں گھری اور بیوقوفی سے بھرے تصور میںرہنے والی کانگریس لگاتار اپنی مقبولیت کھوتی چلی گئی۔بی جے پی نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
جیوا نند بوس کہتے ہیں کہ کانگریس کا حال تو یہ رہا کہ اس نے اپنی لنگوٹ بچانے پر بھی دھیان نہیں دیا۔ 2013 کے الیکشن میں 10 سیٹیں جیتنے والے کانگریسی ایم ایل ایز میں سے6 لیڈر پہلے ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔ بعد میں وہ بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ پچھلے سال دسمبر میں ایک دیگر کانگریسی ایم ایل اے رتن لال ناتھ بھی بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ بی جے پی نے ریاست میں مقامی لیڈروں کو اہم ذمہ داریاں دے کر ان کا وقار بڑھایا جبکہ کانگریس اپنے مقامی لیڈروں کی اندیکھی کرتی رہی اور سارے کانگریسی لیڈر اپنی الگ الگ ڈفلی بجاتے رہے اور اپنا الگ الگ راگ گاتے رہے۔ کانگریس اعلیٰ کمان نے اس پر کوئی دھیان ہی نہیں دیا۔
الیکشن ہارنے کے بعد ایک دوسرے کو کوسنے والے کانگریسیوںکو ریاست کے پرانے کارکنوں کی شکایتیں یاد نہیں ، جب وہ کانگریس اعلیٰ کمان کے ذریعہ تریپورا کی اندیکھی کئے جانے کے بارے میں لگاتار کہہ رے تھے۔ شمال مشرق کے انچارج سی پی جوشی دو تین بار ہی ریاست کے دورے پر گئے اور کانگریس صدر راہل گاندھی تو بالکل آخری وقت پر تریپورا پہنچے، جب جہاز ڈوبنے کے قریب ہو چکا تھا۔ دوسری طرف بی جے پی لیڈروں نے الگ الگ معاملے میں لگاتار اپنی موجودگی بنائے رکھی۔ بعد میں وزیراعظم نریندر مودی، قومی صدر امیت شاہ اور یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا زبردست دورہ ہوتا رہا۔
کانگریس کا رویہ وہی پرانا
تریپورا کے عام لوگ بھی کانگریس کے تریپورا رویے کو لے کر مذمتی قرارداد ہی جاری کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تریپورا میں کانگریس ہمیشہ لیفٹ پارٹیوں کے دبائو میں رہی ہے۔ تریپورا کے لوگ 1993 کے اس واقعہ کو اب بھی یاد کرتے ہیں جب اس وقت کے وزیراعظم نرسمہا رائو نے مرکز میں لیفٹ پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے تریپورا کی سمیر رنجن برمن کی سرکار برخاست کر دی تھی۔ اس فیصلے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے ہی الیکشن میں وہاں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی سرکار بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ کانگریس اس وقت جو وہاں سے اکھڑی ، اس کے بعد وہاں پیر نہیں جمع پائی۔تریپورا کے لوگوں نے کانگریس کو اس کی بے جا اور ڈھلمل پالیسیوں کی سزا دی۔ اپنے ہی وزیر اعلیٰ سمیر رنجن برمن کی توہین کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ برمن کا بغاوتی رخ لگاتار کانگریس کو نقصان پہنچاتا رہا۔ پچھلے الیکشن میں کانگریس کے ٹکٹ پر جیت حاصل کرنے والے ان کے بیٹے سودیپ رائے برمن بھی کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ سودیپ رائے برمن اس بار کے الیکشن میں اگرتلہ اسمبلی سیٹ پر بی جے پی کے ٹکٹ سے الیکشن جیتے ہیں ۔غیر لیفٹ پارٹیوں کے غیر مطمئن لیڈروں کو اپنی پارٹی میں عزت کے ساتھ شامل کرنے کی بی جے پی کی پالیسی بھی سیاست کی بساط پر کارگر ثابت ہوئی۔
ناگالینڈ
اسی طرح ناگالینڈمیں بھی بی جے پی گٹھ بندھن نے شاندار مظاہرہ کیا۔ وہاں زیادہ سیٹیں برسراقتدار ناگا پیپلس فرنٹ ( این پی ایف )نے جیتی۔ ناگا پیپلس فرنٹ نے پہلے ہی تجویز پیش کر کے بی جے پی گٹھ بندھن میں رہنے کا اعلان کردیا تھا ۔وہاں نیفیو ریو کی قیادت میں سرکار بنی۔ میگھالے میں 21سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی کا تمغہ لینے کے بعد بھی کانگریس وہاں سرکار نہیں بنا پائی اور دو سیٹیں پانے والی بی جے پی نے اپنے گٹھ بندھن پارٹیوں کے ساتھ نیشنل پیپلس پارٹی ( این پی پی ) لیڈر کانراڈ سنگما کی قیادت میں سرکار بنالی ۔
میگھالے
این پی پی نے میگھالے میں 19 سیٹیں جیتی ہیں۔ شمال مشرق کی تین ریاستوں میں سرکار بنانے کے بعد اب ملک کی کل 21ریاستوں میں بی جے پی گٹھ بندھن کی سرکار ہو گئی ہے۔ شمال مشرق سے شروع کریں تو ارونا چل پردیش، سکم، ناگالینڈ میگھالے،منی پور، آسام، تریپورا، بہار، جھارکھنڈ، اترپردیش، اتراکھنڈ ،مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، ہریانہ،ہماچل پردیش، مہاراشٹر، آندھرا پردیش،گجرات، گوا اور جموں و کشمیر جنتانترک گٹھ بندھن کی چھتری کے نیچے آچکے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہار کے باوجود بی جے پی موضوع بحث
مدھیہ پردیش اور راجستھان کے ضمنی انتخاب میں کانگریس کو ملی کامیابی کے باوجود متوقع عوامی حمایت نہ ملنے کی وجہ سے راجستھان میں الور اور اجمیر کی دو لوک سبھا اور مانڈل گڑھ (بھیلواڑ ) کی ایک اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات میں کانگریس نے جیت حاصل کی۔ اس جیت کا ریاست میں جو میسیج گیا ،وہ کانگریس کی جیت سے زیادہ بی جے پی کی ہار کا تھا۔ یعنی ہار کے باجود بی جے پی ہی چرچا کے مرکز میں رہی ۔کانگریس اس جیت کی مارکیٹنگ کرنے کے بجائے اشوک گہلوت بنام سچن پائلٹ میں ہی پھنسی رہی۔ راجستھان کے سینئر سیاسی تجزیہ کار بھی راجستھان ضمنی انتخاب کے نتائج کو کانگریس کی جیت سے زیادہ بی جے پی کی ہار کے انگل سے دیکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جس طرح شمال مشرق میں بی جے پی نے سیاسی رفو گری کی، ویسا ہی ہوم ورک اگر راجستھان میں بھی کر لیا تو اس کا فائدہ مل سکتاہے۔ حالانکہ راجستھان میں وسندھرا راجے سندھیا کے دور کار میں چوپٹ ہوئی ’وکاس یاترا‘ کی وجہ سے لوگوں میں بہت ناراضگی کو بی جے پی کی کلاکاری کتنا کم کر پائے گی، اس بارے میں سیاسی ماہرین ابھی کچھ نہیں کہہ پارہے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ راجستھان کے ضمنی انتخانات میں کانگریس کی جیت کانگریس کی پالیسی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ووٹروں کی بی جے پی سے ناراضگی کی وجہ سے ہوئی۔
تینوں سیٹوں پر عام ووٹر کانگریس کے ساتھ دکھنے کے بجائے بی جے پی کے خلاف کھڑے دکھ رہے تھے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے ساتھ ساتھ مقامی ایشوز، مثلاً انفراسٹرکچر بدحالی، سڑکوں کی خراب حالت، کسان مخالف پالیسی، کھاد بیج کی سبسڈی کاٹنا، ملازموں کی اندیکھی۔ پانی کی بدنظمی، بدعنوان وزیروں اور افسروں کو بچانے کے لئے کالے قانون کی سفارش، اسکولوں ، بسوں،اسپتالوں کی بری حالت جیسے جڑے لازمی سرکاری کام کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے فارمولے سے جوڑنے جیسے بے جا سرکاری فیصلوں نے بھی راجستھان کے ووٹروں کو بی جے پی سے دور کیا ہے۔
زیادہ تر ماہرین اور جانکار ریاست کی ترقی کی طرف سندھیا سرکار کی اندیکھی اور پارٹی کی ریاستی اکائی میں مچی اندرونی تنازع کو اس ہار کی بنیادی وجہ بتاتے ہیں۔الور میں پہلو خاں کے قتل پر قانونی کارروائی میں ڈھیلائی برتنے، میو طبقہ کی اندیکھی کرنے، راجسمند میں بزرگ کے قتل پر خاموشی لگانے میں ،مذہبی افراتفری پھیلانے ،اجمیر میں باہو بلی آنند پال کو فرضی انکائونٹر میں مارنے اور راجپوتوں کی مخالفت کے باجود پدماوتی فلم کی نمائش کو منظوری دینے جیسے کئی اہم مقامی ایشو بھی وسندھرا سرکار کے خلاف گئے ہیں۔
راجدھانی جے پور میں وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ اور سرکار کا کوریج کرنے والے کئی سینئر صحافیوں نے بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ سمیت کئی بی جے پی لیڈروں پر اقتدار کا نشہ حاوی رہا، جس سے عام آدمی کے ساتھ ساتھ کارکنان بھی بدک گئے۔ ناراضگی اس حد تک پہنچ گئی کہ ضمنی انتخاب کے نتائج پر بی جے پی کے کارکنان بھی خوش نظر آئے۔ کانگریس خیمے سے ہی یہ بات بھی نکل کر آئی کہ اجمیر میں کئی بوتھوں پر بی جے پی کے کارکنوں نے اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ ڈلوائے۔ ایک بوتھ پر تو بی جے پی کے حق میں ایک بھی ووٹ نہیں پڑا۔ دوسرے ایک بوتھ پر بی جے پی کو محض ایک ووٹ ملا۔ اس سے بی جے پی کے خلاف لوگوں کی ناراضگی صاف طور پر سمجھی جاسکتی ہے۔ صورت حال اتنی برعکس ہے کہ ان ضمنی انتخابات سے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ نے بھی خود کو الگ ہی رکھا۔ سنگھ سے جڑے ایک سینئر سوئم سیوک نے بتایا کہ الیکشن میں جب سنگھ کے کارکن ہی باہر نہیں نکلے تو وہ ووٹروں کو کیسے باہر نکالتے۔ اجمیر میں تو پارٹی کی میٹنگ میں سنگھ کے عہدیداروں نے ریاستی بی جے پی کے لیڈروں کے ساتھ بیٹھنے سے ہی انکار کر دیا تھا۔
مدھیہ پردیش ضمنی انتخاب
مدھیہ پردیش میں بھی دو اسمبلی حلقوں کولا رس اور مونگاولی میں کانگریس کی جیت نے کانگریس حامیوں اور کارکنوں میں جوش بھر دیا۔ لیکن یہ جوش جیوتی رادتیہ سندھیا، کمل ناتھ اور دگ وجے سنگھ کے تین خیموں میں کھینچ کر منتشر ہو گئی۔ اسمبلی کی محض دو سیٹوں پر ملی جیت کی بنیاد پر کانگریس کا کوئی لیڈر جیوتی رادتیہ کو مستقبل کا وزیر اعلیٰ بنائے دے رہا ہے تو کوئی کمل ناتھ کو۔ کانگریس لیڈر دگ وجے کے پر کترے جانے کی چوپال چرچا میں لگے ہیں اور یہ نہیں سمجھ رہے ہیں کہ اس کا اثر فائنل میچ کے نتائج پر پڑے گا۔ ضمنی الیکشن کے نتائج آنے کے بعد سے یہ چرچا بھی گرم ہے کہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں مدھیہ پردیش کی ذمہ داری کمل ناتھ سنبھالیں گے یا پھر جیوتی رادتیہ۔ دونوں لیڈروں کے حامی اپنے اپنے طریقے سے دعویداری پیش کررہے ہیں اور دگ وجے سنگھ خیمہ خاموشی لگائے ہوئے اس دو دھاری دعویداری کے سوراخ تلاش کررہا ہے۔
مدھیہ پردیش کی کانگریسی پالیسی میں دگ وجے سنگھ کو ویلن ثابت کرنے کی مہم چل پڑی ہے۔ ضمنی الیکشن میں ویسے تو دگ وجے کا کردار حاشئے پر رہا لیکن مستقبل میں دگ وجے پھر نہ اٹھ کر کھڑے ہو جائیں، اس کے لئے ابھی سے پیش بندی ہو رہی ہے۔ ریاستی کانگریس کمیٹی کے ذریعہ اندور ضلع ورکنگ کمیٹی بھنگ کئے جانے کا مسئلہ بھی وقار کا موضوع بناہو اہے۔ دگ وجے سنگھ اور ان کے ایم ایل اے بیٹے جے وردھن سنگھ کی سفارش پر ضلع کمیٹی میں کی گئی تقرریوں کے علاوہ کانگریس سے برخاست کملیش کھنڈیلوال کے کہنے پر بورنگ کے لئے دگ وجے کے ذریعہ اپنے ایم پی فنڈ سے دس لاکھ روپے دینا بھی جنجال بنا ہوا ہے۔ وارڈ الیکشن میں محمد غوری کو دگ وجے سنگھ کا سپورٹ ملنا اور دگ وجے کے بیٹے جے وردھن کے ذریعہ کانگریس کے باغی اقبال خاں کے بیٹے شاہ نواز کو شہر کانگریس کا مہا منتری بنوا دینا آفت کا سبب بن گیا۔
کانگریس قیادت کا لاچار چہرہ
لب لبا ب یہ ہے کہ کانگریس پارٹی میں بد نظمی بنائے رکھنا بھی پارٹی قیادت کے لئے بڑے چیلنج کا موضوع بن گیاہے۔ ریاستی اکائیوں میں مچی افراتفری کے بیچ کانگریس اعلیٰ کمان کا چہرہ بے حد کمزور دکھ رہا ہے ۔اس کمزوری کا اثر مختلف ریاستوں کے الیکشن پر پڑ رہا ہے۔ مرکزی لیڈروں کے ذریعہ ریاست کی اکائیوںپر بے وجہ دادا گری کرنے کے الزام بھی سطح پر آرہے ہیں۔ ایسی ہی دادا گری کے سبب بہار کانگریس کے سابق صدر اشوک چودھری کانگریس چھوڑ کر جنتا دل (یو ) میں شامل ہو گئے۔ ان کے ساتھ چار لیجسلیٹیو کونسل کے ممبر بھی جنتا دل یو میں چلے گئے۔ اشوک چودھری نے کانگریس لیڈر سی پی جوشی پر گٹ بازی کا الزام لگایا اور کہا کہ کانگریس کا اندرونی انتظام بالکل لچر ہے۔ کانگریس کے کئی اور لیڈروں کے بی جے پی، جنتا دل یو یا راشٹریہ جنتا دل میں جانے کا امکان ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے سی پی جوشی کے کہنے پر ہی اشوک چودھری کو بہار کانگریس کے صدر عہدہ سے ہٹا دیا تھا۔ اشوک چودھری بہار کے سینئر لیڈر مہاویر چودھری کے بیٹے ہیں۔ سی پی جوشی مغربی بنگال، آسام اور شمال مشرق کے بھی انچارج رہے ہیں۔ شمال مشرق میں پارٹی کی درگت سے جوشی کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ ارونا چل پردیش کے بعد اب ناگا لینڈ میں کانگریس مخالفت پر اتارو ہے۔ اندرونی اختلاف کے سبب کانگریس اترکھنڈ اور ہماچل پردیش میں اپنی درگت پہلے ہی دیکھ چکی ہے۔
بہر حال کانگریس کی ریاستی اکائیوں کو مضبوط کرنے اور موثر ریاستی صدور کی تقرری کرنے کی مانگ تیزی سے بڑھی ہے۔ کانگریس کے کارکنوں کا ماننا ہے کہ کمزور قیادت کی وجہ سے ہی آپس کا جھگڑا بڑھا ہے اور ہاتھ کی سیٹیں بھی ہارنی پڑی ہیں۔ راہل گاندھی کے نیشنل صدر بننے کے ٹھیک پہلے ان کے تحت ہماچل پردیش اور گجرات کا چیلنج تھا اور نیشنل صدر بننے کے فوراً بعد شمال مشرق کے تین ریاستوں کا چیلنج سامنے آیا۔ دونوں چیلنجوںمیں کانگریس پاس نہیں ہوئی۔ گجرات میں کانگریس کو حوصلہ افزا سیٹیں تو ملیں لیکن سرکار نہیں بن پائی۔ ہماچل میں کانگریس کے ہاتھ سے اقتدار نکل گیا۔ یہی حال شمال مشرق میں ہوا۔ اب راہل گاندھی کے تحت کرناٹک پھر مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان اسمبلی الیکشن کا چیلنج سامنے کھڑا ہے۔ اسمبلی الیکشن میں لگنے کے ساتھ ہی تنظیم کو نئے سرے سے کھڑی کرنے اور پھر پارٹی کو 2019 کے لوک سبھا الیکشن کے لئے تیار کرنے کی ذمہ داری بھی سر پر ہے۔
کیسے ہوا لیفٹ کمزور
شمال مشرق سے لیفت پارٹی کا پتہ صاف ہو گیا ۔مغربی بنگال کی ’کال جئی ‘ لیفٹ مورچہ سرکار کو اس کے پہلے ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس اکھاڑ چکی ہے۔ 2011 میں مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں لیفٹ پارٹیوں کو 41 فیصد ووٹ ملے تھے۔ 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں لیفٹ پارٹیوں کا ووٹ فیصد 29.6 رہ گیا۔ 2016 کے اسمبلی الیکشن میں لیفٹ پارٹیوں کو 26.1 فیصد ووٹ ہی حاصل ہوئے۔ یعنی گراوٹ لگاتار ہوتی رہی۔ مغربی بنگال ہی کیوں جہاں جہاں بھی لیفٹ کی کوئی بھی پارٹی وجود میں رہی ہے، وہاں وہاں سے اس کا صفایا ہوتا گیا۔ اب کیرل ہی لیفٹ پارٹیوں کا اکیلا مرکز ہے۔ اس ’پتن یاترا ‘کی وجہیں بھی صاف دکھائی دیتی ہیں۔ لیفٹ پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت عام شہریوں کے نظریہ سے بالکل ہی الگ نظریہ پر قائم رہتی ہے۔ کبھی وہ سرجیکل اسٹرائک کے ثبوت مانگنے لگتہ ہے تو کبھی کشمیر کے پتھر بازوں کے تئیں عوامی ہمدردی ظاہر کرنے لگتی ہے۔ پاکستان اور چین کے اکسائو پر خاموشی لگا لیتی ہے تو نیپال کے مسئلے پر ہندوستان مخالف بیان جاری کرنے لگتی ہے۔ لیفٹ لیڈروں کے ایسے بیانوں نے انہیں عوام سے دور کر دیا اور دھیرے دھیرے لیفٹ پارٹی ملک کی سیاست سے غیر متعلقہ ہوتی چلی گئی۔ لیفٹ کی پالیسیوں ، پروگراموں اور نظریات کو عوام نے ایک طرح سے خارج ہی کر دیا۔ انڈین کمیونسٹ پارٹی (مارکسواد ) ہو یا انڈین کمیونسٹ پارٹی ( سی پی آئی ) یا کوئی دیگر لیفٹ پارٹی، کسی نے بھی عام آدمی کے مسئلے کو زمینی سطح پر حل کرنے کے وسیع بندوبست نہیں تلاش کئے ، صرف نظریاتی بلندی پر پتنگ بازی کرتے رہے۔ اسی وجہ سے سیاسی آسمان سے لیفٹ پارٹیوں کی پتنگ کٹ گئی ۔کبھی اتر پردیش میں بھی لیفٹ پارٹیوں کی اچھی پکڑ رہی ہے لیکن آج ا ن کا حال جھک مارنے سے بھی بدتر ہوگیا ہے۔ یوپی کے اسمبلی انتخابات میںپہلی بار ، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)اور مالے نے مل کر 100 سیٹوں پرمشترکہ امیدوار اتارے تھے۔ بائیںبازو کے مشترکہ امید واروں کی انتخابی مہم میںبائیںبازو کی پارٹیوں کے سبھی اسٹار پرچارک سیتا رام یچوری، ڈی راجہ، ورندا کرات، دیپانکر بھٹاچاریہ سمیت درجنوںقد آور لیڈران انتخابی جلسوں میںنبرد آزما رہے لیکن ووٹ نہیںدلا پائے۔ بائیں بازو کی پارٹیوں کے لیڈروں کو پھر بھی یہ سمجھ میںنہیںآیا کہ سیاست کی کس تصوراتی زمین پر کھڑ ے ہیں۔ 100 امیدواروں کے لیے ملک کی سبھی بائیںبازو کی پارٹیاں مل کر بھی ڈیڑھ لاکھ ووٹ نہیںجٹا پائیں۔
امیدواروںکو اپنا ووٹ دینے کے بجائے ’ان میںسے کوئی نہیں‘ (نوٹا) کا بٹن دبانے والے ووٹروں نے بھی بائیںبازو کی پاریٹوں کے سو امیدواروں کے کل ووٹ سے کہیںزیادہ ’نوٹا‘ کے ووٹ ڈالے۔ بائیںبازو کی پارٹیوں کے امیدواروں کو کل ایک لاکھ 38 ہزار 763 ووٹ ملے جبکہ ’نوٹا‘ کے کھاتے میں7 لاکھ 57 ہزار 643 ووٹ پڑے۔
یوپی کے اسمبلی انتخابات میںبائیںبازو کی پارٹیوں کی بری حالت کا مختصر جائزہ اس سے بھی مل جائے گا کہ اجودھیا میںبائیںبازو کی پارٹیوں کے مشترکہ امیدوار سی پی آئی کے سوریہ کانت پانڈے کو محض 1353 ووٹ حاصل ہوئے۔ مظفر نگر فساد کے گرم توے پر سیاست کی روٹی سینکنے والی بائیںبازو کی پارٹیوں کے مشترکہ امیدوار سی پی آئی (ایم) کے مرتضیٰ سلمانی کو محض 491 ووٹ ملے۔ اعظم گڑھ میںبائیںبازو کی پارٹیوں کے مشترکہ امیدوار سی پی آئی (ایم) کے رام برکش کو 1040 ووٹ ملے اورغازی آباد کے صاحب آباد میں بائیں بازو کے مشترکہ امیدوار سی پی آئی (ایم) کے جگدمبا پرساد کو 1087 ووٹ مل پائے۔ بائیںبازو کی پارٹیوں کے سبھی مشترکہ امیدوار اپنی اپنی ضمانتیں بھی نہیںبچا پائیں۔
آپ سمجھ سکتے ہیںکہ ملک میں بائیںبازو کی پارٹیاں کس حالت میںپہنچ گئی ہیں۔ پھر بھی وہ مان نہیں رہے ہیں اور نہ ہی اپنی پالیسیوں میںوقت کی مانگ کے مطابق پھیر بدل کر رہے ہیں۔1991 کے پارلیمانی انتخاب میںبائیںبازو کی پارٹیوں نے 9 ریاستوں میںجیت درج کی تھی۔ آج لیفٹ پارٹی ایک ریاست میںسمٹ گئی ہے۔ سی پی آئی (ایم) نے مغربی بنگال میں 1977 سے لے کر 2011 تک راج کیا۔ سی پی آئی (ایم) لیڈر جیوتی بسو سب سے طویل مدت تک مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ رہے۔ لیکن آج سی پی آئی (ایم) کی حالت زار سیاسی تاریخ کا عجیب و غریب نمونہ ہے۔ ملک کے نوجوانوں نے بائیںبازو کی پارٹیوں کو پوری طرح خارج کردیا ہے۔ اب بائیںبازو کی پارٹیاں بوڑھوںکی پارٹیاں ہو کر رہ گئی ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کے کل ارکان میںمحض ساڑھے چھ فیصد ارکان 25 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔
ضرورت احتساب کی لیفٹ کے لیے
بائیں بازو پارٹیوںکے لیڈروں نے ذاتی ایمانداری تو برتی لیکن جن ریاستوں میںوہ حکومت کرتے رہے، انھیںترقی کی دوڑ میںکافی پیچھے دھکیل دیا۔ ترقی کی فائلیںبائیںبازو راج میںرکی رہیں۔ لیفٹ لیڈر ترقی کی فائلوںکو انڈے کی طرح سیتے رہے لیکن ایک چوزہ بھی کیوںنہیںنکال پائے، ترقی میںکافی پیچھے رہ گئے تریپورہ کے لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں۔ گزشتہ 25 سال میںبڑھی غریبوںکی وجہیں وہ ایماندار مانک سرکار کی بائیںبازو سرکار سے جاننا چاہتے ہیں۔ 13 ویں فنانس کمیشن کے تحت ملے 25,396 کروڑ روپے کے بڑے فرق نے بھی تریپورہ کے لوگوںکو سیاسی طور پر محتاط کرنے کا کام کیا۔ تریپورہ کے لوگ بائیں بازو پارٹیوںسے 18 ہزار کروڑ روپے کی اضافی رقم کا حساب مانگ رہے تھے، حساب نہیں ملا تو لوگوںنے اپنی ناراضگی کو لیفٹ مخالف ووٹ میںتبدیل کردیا۔
بہار میں مہا گٹھ بندھن سے الگ ہونے والی سماجوادی پارٹی کے ساتھ اترپردیش میںہاتھ ملانے والی کانگریس اب بی ایس پی کو لے کر پھنس گئی ہے۔ سماجوادی پارٹی نے بہوجن سماج پارٹی جیسی بیری پارٹی سے تال میل کر لیا ہے۔ اب کانگریس کو طے کرنا ہے کہ 2019 سے قبل وہ یوپی میںایس پی – بی ایس پی کے ساتھ تکڑی میںشامل ہوتی ہے یا اپنا الگ راستہ اختیار کرتی ہے، جیسا اس نے اس بار یوپی کے دو ضمنی انتخاب کو لے کر اپنا الگ راستہ اختیار کیا۔ کانگریس نے ایس پی کو ایک ایک سیٹ پر الیکشن لڑنے کی تجویز دی تھی لیکن ایس پی نے انکار کردیا۔ ایس پی کو بی ایس پی سے گٹھ جوڑ پسند آیا۔ حالانکہ ایس پی -بی ایس پی کا اتحاد بھی 2019 کے پارلیمانی انتخابات تک شاید ہی چل پائے۔ 23 سال بعد ملے ہاتھ جلدی ہی الگ بھی ہوسکتے ہیں۔
مایاوتی نے ایسے اشارے بھی دیے ہیں۔ بہرحال، ابھی گورکھپور اور پھول پور کی پارلیمانی سیٹوں پر ہو ر ہے ضمنی انتخاب میںمایاوتی کی پارٹی ایس پی امیدوار کی حمایت کرے گی۔ سیاسی پنڈت اسے موقع پرستی بتا رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مایاوتی نے راجیہ سبھا میںاپنی ایک سیٹ پکی کرنے کے لیے ایس پی سے ہاتھ ملایا ہے۔ بی ایس پی اپنے دم پر راجیہ سبھا میںایک بھی نمائندہ نہیںبھیج سکتی تھی۔ بی ایس پی نے کانگریس کو بھی یہ کہہ کر اپنے جال میںپھنسایا ہے کہ کانگریس اگر مدھیہ پردیش میںراجیہ سبھا الیکشن جیتنا چاہتی ہے تو اسے یوپی کے راجیہ سبھا انتخاب میں کانگریس کے سات اراکین اسمبلی کے ذریعہ بی ایس پی کو ووٹ دینا ہوگا۔ مدھیہ پردیش میںبی ایس پی کے چار اراکین اسمبلی ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایس پی- بی ایس پی سمجھوتے کو ’سانپ چھچھوندر قرار‘ کہا ہے۔ بی ایس پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بعد ایس پی نے دن میںخواب دیکھنا شروع کردیے ہیں۔ ایس پی کے قومی نائب صدر کرنمے نندا کہتے ہیںکہ ایس پی اور بی ایس پی کے ایک ہونے سے پھول پور اور گورکھپور کے ضمنی انتخاب میںفرقہ پرست طاقتوں کو مات ہوگی کیونکہ بی جے پی دونوں ضمنی انتخاب ہارنے جارہی ہے۔ نندا یہ بھی کہتے ہیںکہ پھول پور ضمنی انتخاب 2019 کی انتخابی سمت اور حالت کو طے کرے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بی ایس پی- اتحاد
راجیہ سبھا پہنچنے کے لیے سیٹوں کی ریاضی بی ایس پی کے راستے میںرکاوٹ ڈال رہی تھی۔ 19 اراکین اسمبلی کے دم پر بی ایس پی کے کسی نمائندے کا راجیہ سبھا میںپہنچ پانا مشکل تھا۔ اس لیے بی ایس پی نے ایس پی کا ہاتھ تھام لیا۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کہا بھی کہ ایس پی راجیہ سبھا میںبی ایس پی کی حمایت کرے گی اور بی ایس پی، ایس پی کی ودھان پریشد میں مدد کرے گی۔ اس سے ایس پی کو وھان پریشد میںایک سیٹ کا فائدہ ہو جائے گا۔ گزشتہ سال جولائی میںمایاوتی نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ مایاوتی کی خالی سیٹ سمیت راجیہ سبھا کی یوپی سے 10 سیٹوں پر 23مارچ کو الیکشن ہوگا۔ ایس پی چھوڑ کر کوئی بھی اپوزیشن پارٹی اپنا ایک بھی امیدوار راجیہ سبھا میںبھیجنے کی حالت میںنہیںہے۔ ایس پی- بی ایس پی قرار ہوجانے کے بعدمشترکہ امیدوار کے طور پر بی ایس پی کا ایک ممبر راجیہ سبھا پہنچ جائے گا۔ راجیہ سبھا میںپہنچنے کے لیے کم سے کم 37 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ نمبروںکے حساب سے بی جے پی اپنے آٹھ امیدواروں کو راجیہ سبھا پہنچا دے گی۔ ایس پی کے پاس 47 اراکین اسمبلی ہیں۔ مایاوتی کے 19 اراکین اسمبلی کو ملا کر یہ تعداد 66 ہوجائے گی۔
ایس پی -بی ایس پی کا ساتھ دینے کے علاوہ سات اراکین اسمبلی والی کانگریس پارٹی کے پاس دوسرا کوئی متبادل نہیںہے۔ بی ایس پی کا ساتھ ملنے سے 12 سیٹوں کے لیے اپریل میں ہونے والے ودھان پریشد کے الیکشن میںایس پی ایک اور سیٹ حاصل کر لے گی۔ ودھان پریشد کی ایک سیٹ کے لیے 32 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ لہٰذا تعداد کے دم پر بی جے پی 10 سیٹیںحاصل کرلے گی۔ گورکھپور اور پھول پور لوک سبھا کے ضمنی انتخاب اور راجیہ سبھا اور ودھان پریشد کے انتخاب ایس پی -بی ایس پی کے مستقبل کے تال میل کا بھی تعین کریںگے۔
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ تال میل کے ذریعہ ایس پی اور بی ایس پی دونوں نے مل کر کانگریس کو دباؤ میںلیا ہے۔ ضمنی انتخاب میںکانگریس نے اپنا امیدوار اتارا ہے لیکن اس کی مجبوری یہ ہے کہ لوک سبھا انتخابات میںبی جے پی سے بھڑنے کے لیے وہ ایس پی، بی ایس پی، بائیںبازو کی پارٹیوں او راین ڈی اے مخالف چھوٹی جماعتوںکے ساتھ رہے۔ ایس پی کے آبزروروں کا یہ ’تصور‘ ہے کہ ضمنی انتخاب میںاگر ایس پی کا کوئی امیدوار جیتا تو بی جے پی کے خلاف بڑا گٹھ بندھن تیار کرنے میںاکھلیش یادو کا ہاتھ اوپر رہے گا۔ گورکھپور اور پھول پور کے ضمنی انتخاب میںنشاد پارٹی اور پیس پارٹی نے ایس پی کی حمایت کی ہے۔
ایس پی نے نشاد پارٹی کے صدر ڈاکٹر سنجے کمار نشاد کے بیٹے پروین کمار نشاد کو گوکھپور سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ پھول پور سے ایس پی نے ناگیندر پٹیل کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ پھول پور سے آزاد امیدوار کے طور پر مافیا سرغنہ عتیق احمد کے کھڑے ہونے اور کانگریس کے ذریعہ برہمن امیدوار منیش مشر کو اتاردیے جانے سے ایس پی کا راستہ مشکل اور بی جے پی کے لیے آسان ہوگیا ہے۔ گورکھپور میںبھی کانگریس کے ذریعہ مسلم امیدوار مشہور ڈاکٹر سرہتا کریم کو امیدوار بنانے سے ایس پی کے سامنے اڑچن کھڑی ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر سرہتا کریم سماجوادی پارٹی کے ووٹ میںاثردار نقب لگا سکتی ہیں۔
اترپردیش کا معاملہ
گزشتہ ڈھائی دہائی میںاترپردیش نے سیاسی ریاضی کو بنتے اور بگڑتے ، ٹوٹتے اور بکھرتے دیکھا ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد 1993 میںہوئے اسمبلی انتخاب میںبی جے پی 177سیٹیںجیتی تھی۔ ایس پی کو تب 109 سیٹیںحاصل ہوئی تھیں۔ بی ایس پی کو 67 اور کانگریس کو 28 سیٹیںملی تھیں۔ 177 سیٹیںجیت کر بھی بی جے پی سرکار نہیںبنا پائی تھی اور ایس پی- بی ایس پی گٹھ بندھن نے کانگریس سے حمایت لے کر ملائم سنگھ یادو کی قیادت میںسرکار بنا لی تھی۔ اتحاد میںشامل ہونے کے باوجود مایاوتی کے ذریعہ عوامی اسٹیجوںسے ملائم کی مذمت کیے جانے سے تلخی بڑھتی گئی۔ 2 جون 1995 کو ہوئے گیسٹ ہاؤس کیس کے بعد مایاوتی بی جے پی کی حمایت سے وزیر اعلیٰ بنیں۔ سیاسی حالات نے ایسی کروٹ بدلی کہ گیسٹ ہاؤس کیس کی ملزم پارٹی کے ساتھ تال میل کرنے سے مایاوتی نے پرہیز نہیںکیا۔ سیاست اسی موقع پرستی کا نام ہے۔
ہم یہاں تین انتخابات کا ذکر کر رہے ہیں۔ 1993 کا اسمبلی انتخاب ، 2014 کا لوک سبھا انتخاب اور 2017 کا اسمبلی انتخاب۔ ان تینوںانتخابات کے نتائج اور اس کے بعد کے حالات نے اترپردیش کی سیاست میںبھونچال لانے کا کام کیا ہے۔ 1993 کے الیکشن کے منظر آپ نے دیکھ ہی لیے۔ اب آتے ہیں 2014 کے لوک سبھا انتخاب پر۔ لوک سبھا کے اس الیکشن نے اترپردیش کی سیاست کے سارے اعداد و شمار اور حساب کتاب منہدم کرڈالے۔
2014 کے الیکشن میںبی جے پی کو 71 سیٹوں پر جیت ملی۔ ریاست میںسرکار میںہونے کے باوجود ایس پی کو محض پانچ سیٹیں حاصل ہوئیں اور بی ایس پی صفر پر پہنچ گئی۔ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی اپنی سیٹیںبچا لے گئے۔ دو سیٹیںپاکر کانگریس نے اپنی عزت بچائی۔ اس کے بعد 2017 کے اسمبلی الیکشن میںبھی ایسا ہی ہوا۔ بی جے پی نے ریکارڈ توڑ جیت حاصل کرتے ہوئے اکیلے 312 سیٹیں اپنے کھاتے میںکرلیں۔ بی جے پی اتحاد کو 325 سیٹیںملیں، جس میںاپنا دل کو 9 اور بھارتیہ سماج پارٹی (سہیل دیو) کی 4 سیٹیںشامل ہیں۔ سرکار پر بیٹھی ایس پی کو 47 سیٹیںمل پائیں۔ بی ایس پی کو 19 اور کانگریس کو محض 7 سیٹوں پر اطمینان کرنا پڑا۔ آزاد ہندوستان کی جمہوری تاریخ میںایسا کبھی نہیںہوا۔ لوک سبھا الیکشن میں71 سیٹوں پر جیت اور اسمبلی الیکشن میں312 سیٹوں پر بی جے پی کی جیت نے مستقبل کی ساری ریاضی گڈمڈ کردی۔اسی میںساری اپوزیشن پارٹیاں پریشان ہیں۔
تکڑم رچنے کی عادت ہے تو اپنے گھر میںبھی تکڑم سے باز نہیں آتے بی جے پی کے لیڈر۔ ہماچل الیکشن سے لے کر گجرات اور نارتھ ایسٹ تک الیکشن جیتنے کے لیے بی جے پی اعلیٰ کمان نے اترپردیش کے فائر برانڈ اور آنیسٹ برانڈ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا پور ا استعمال کیا لیکن گورکھپور لوک سبھا کے لیے ہونے والے ضمنی انتخاب میںیوگی آدتیہ ناتھ کی پسند کا امیدوار نہیںدیا۔ اجودھیا کے ایک سنیاسی نے بی جے پی کے اعلیٰ لیڈر کے اس کردار پر اس بچھو کی کہانی سنائی جو اس کی جان کی حفاظت کرنے والے سادھو کی ہتھیلی پر بیٹھا تھا اور انھیںلہو لہان بھی کر رہا تھا۔ گورکھپور سے یوگی آدتیہ ناتھ کی پسند کا امیدوار نہیںدینے کافیصلہ کرنے والے لیڈر کا سادھو کے ہاتھ میںبیٹھے بچھو سے موازنہ بالکل ٹھیک ہے۔ گورکھپور پارلیمانی سیٹ کے لیے اوپیندر شکلا کو ٹکٹ دیے جانے کا فیصلہ یوگی کو ڈنک مارنے جیسا ہی ہے۔ امت شاہ نے اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے سامنے ایسی شاطرانہ بساط بچھائی ہے کہ جیتے تب بھی گئے اور ہارے تب بھی گئے۔ گورکھپور لوک سبھا سیٹ یوگی آدتیہ ناتھ کی روایتی سیٹ رہی ہے۔ وہاںسے یوگی کی پکڑ کو کمزور کرنے کے لیے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے اوپیندر شکلا کو امیدوار بنایا۔ گورکھپور سیٹ سے ہمیشہ راجپوت امیدوار انتخابی میدان میںاترتا ہے اور جیتتا رہا ہے، لیکن اس بار شاہ نے برہمن کو سامنے کرکے راجپوت کے غلبہ کو ختم کرنے کا تانا بانا بن دیا ہے۔ گورکھپور سیٹ سے یوگی آدتیہ ناتھ گزشتہ پانچ بار سے الیکشن جیتتے آئے۔ ان کے وزیر اعلیٰ بننے سے یہ سیٹ خالی ہوئی۔ 30 سال بعد گورکھپور پارلیمانی سیٹ کے لیے کوئی برہمن امیدوار بی جے پی کے ٹکٹ سے الیکشن لڑنے جارہا ہے۔ امت شاہ نے اس امیدوار کے ذریعہ گورکھپور پارلیمانی سیٹ پر قائم گورکھ دھام کے اثر کو کم کرنے اور یوگی کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیاست کی ساری ریس جیت لینے کا دم بھرنے والے بی جے پی لیڈر نے ٹائر میںسوئی چبھولی ہے، اس کا احساس انھیں بعد میں ہوگا۔
چھوٹی اور علاقائی پارٹیاں
بدلتے دور میںچھوٹی اور علاقائی پارٹیاں بھی اپنا جواز کھوتی چلی گئیں۔ 1980 کی دہائی میںاتر پردیش میں جب نسلی سیاست اور علاقائیت سر پر چڑھ کر بول رہی تھی، اس وقت چھوٹی اور علاقائی پارٹیاں بھی اثردار طریقے سے ابھر رہی تھیں۔ حالانکہ چھوٹی اور غیر منظور شدہ پارٹیوں کے انتخابی میدان میںاترنے کی شروعات 1962 میںہی ہوچکی تھی، جب دلت نواز رپبلیکن پارٹی اور مذہب پرست ہندو مہا سبھا اور رام راجیہ پریشد انتخابی میدان میںاتری تھیں۔ اس وقت رپبلیکن پارٹی کو آٹھ سیٹیں اور ہندو مہا سبھا کو دو سیٹیںملی تھیں۔ 1969 کے الیکشن میںچودھری چرن سنگھ کے بھارتیہ کرانتی دل کو98 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی اور وہ پارٹی اترپردیش کی 425 ممبروں والی اسمبلی میںکانگریس کے بعد سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی۔
1985 میںبی ایس پی نے کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد اپنا دل، راشٹریہ سوابھیمان پارٹی، انڈین جسٹس پارٹی، لوک جن شکتی پارٹی جیسی کئی سیاسی پارٹیاںسامنے آتی گئیں ۔ بعد کے دور میںشیو سینا او رعلماء کونسل نے بھی یوپی میںالیکشن داؤںکھیلے۔ اسی میں پیس پارٹی نے بھی اپنے کچھ اراکین اسمبلی جتا کر اپنی شناخت درج کرالی۔ یعنی 1985 کے بعد چھوٹی پارٹیوںکی تعداد لگاتار بڑھی۔
2007 میںاسمبلی الیکشن لڑ نے والی چھوٹی پارٹیوںکی تعداد 111 تک پہنچ گئی لیکن تعداد میںاضافے کے ساتھ ساتھ ان کا جواز بھی کھوتا چلا گیا۔ 1991 کے اسمبلی الیکشن میں34 چھوٹی پارٹیوں نے کل 645 امیدوار کھڑ ے کیے تھے، جن میںصرف دو ہی جیت سکے اور 641 کی ضمانت ضبط ہوگئی۔
حالانکہ 1993 میںگراف بڑھا اور 59 چھوٹی پارٹیوں کے 1205 امیدواروںمیںسے 110 امیدوار جیت گئے۔ ملائم سنگھ یادو غیر منظور شدہ سماجوادی پارٹی (ایس پی) نے 109 سیٹیں جیتی تھیں۔ پھر یہ گراف نیچے گرا اور 1996 کے اسمبلی الیکشن میں61 چھوٹی پارٹیوں کے 1102 امیدواروںمیںمحض 11 ہی جیت پائے۔ 2002 کے اسمبلی الیکشن میں58 چھوٹی پارٹیوں نے 1332 امیدوار اتارے، جن میں سے 29 جیتے۔ 2007 کے اسمبلی الیکشن میں111 چھوٹی پارٹیوں نے 1356 امیدواراتارے لیکن ان میںسے محض سات جیت پائے اور 1329 امیدواروںکی ضمانت ضبط ہوگئی۔
2012 کے اسمبلی الیکشن میںچھوٹی پارٹیوں نے بڑی ریاضی کو ڈسٹرب کرنے کا کھیل ضرور کیا۔ پیس پارٹی اور مہان دل جیسی چھوٹی پارٹیاںتمام سیٹوں پر چوتھے، پانچویں اور چھٹے نمبر پر ضرور رہیں لیکن ان پارٹیوںنے ایس پی، بی ایس پی، بی جے پی اور کانگریس جیسی بڑی پارٹیوںکا کئی سیٹوںپر توازن بگاڑ دیا۔ 2012 کے اسمبلی الیکشن میںراشٹریہ لوک دل نے جو نو سیٹیںجیتی تھیں، ان میںسے آٹھ سیٹوں پر بی ایس پی کے امیدوار ہارے تھے۔ پیس پارٹی نے جو چار سیٹیںجیتی تھیں، ان میںسے تین پر بی ایس پی ااور ایک سیٹ پر ایس پی کو ہرایا تھا۔ نو سیٹوںپر اپنا دل دوسرے نمبر پر او ر23 سیٹوں پر تیسرے نمبر پر آئی تھی۔ پیس پارٹی تین سیٹوں پر دوسرے نمبر پر ، آٹھ سیٹوں پر تیسرے اور 24 سیٹوں پر چوتھے نمبر پر رہی تھی۔
2012 کے الیکشن میںاتحاد ملت کونسل نے بریلی کی بھوجی پورہ سیٹ جیت کر سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اس نے بریلی شہر ، کینٹ اور بتھری چین پور سیٹ پر سماجوادی پارٹی کا کھیل بھی بگاڑ دیا تھا۔ ان تینوںسیٹوں پروہ تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ کونسل نے بریلی کی چھ اسمبلی سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے۔ 2017 کے اسمبلی الیکشن میںاپوزیشن خیمے کی ساری چھوٹی پارٹیاںہوا میںاڑ گئیں۔ بی جے پی اتحاد کے ساتھ رہا اپنا دل (سونے لال ) کو نو سیٹیںملیں اور بھارتیہ سماج پارٹی (سہیل دیو) کو چار سیٹیں ملی۔ بی جے پی اکیلے ہی 312 سیٹوںپر جیت گئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *