ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست،عوام غصے میں 

Page-01
یوپی کے دو اور بہار کے ایک لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں۔ یہ پارلیمانی حلقے ہیں گورکھپور، پھولپور اور ارریہ۔ بہار کے دو دھان سبھا کے بھی ضمنی انتخاب ہوئے تھے لیکن اہم مدعا لوک سبھا کے ضمنی انتخابات ہیں۔ بی جے پی تینوںسیٹیںہار گئی۔ مودی، ان کے ساتھی امت شاہ اور ان کی ٹیم یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ووٹ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف اینٹی انکمبنسی کی وجہ سے پڑے۔ اسی طرح کی اینٹی انکمبنسی راجستھان میں وسندھرا راجے کے خلاف تھی۔ لیکن ایسا کہہ کر وہ اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیںسکتے ۔ لوگ لوک سبھا کے الیکشن میں وزیر اعلیٰ کے خلاف ووٹ کیوںڈالیںگے؟ وہ (مودی اور ان کی ٹیم) یہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کہ جن لوگوںکا آپ میںبے پناہ بھروسہ تھا اور آپ سے امیدتھی اور اس وجہ سے 2014 میںآپ کو اپنی حمایت دی، آج کیوںمایوس ہیں؟
2014 کے نتائج 
سنگھ پریوار سے جڑے اور ہندوتوا کی پیروی کرنے والے 18 فیصد ہندو ووٹ بی جے پی کا کور ووٹ ہے۔ بی جے پی کو 2014 میں31 فیصد ووٹ ملے تھے۔ باقی کے 13 فیصد ووٹ ان کے ووٹ تھے، جنھیں آپ سے امید تھی۔ کانگریس کے خلاف اینٹی انکمبنسی تھی ۔ لوگ کانگریس سے ناراض تھے۔ یہ لوگ محسوس کر رہے تھے کہ کچھ بھی نیا نہیں ہورہا ہے۔ انھیں لگا تھا کہ کافی تعداد میںنوکریاں پیدا نہیںہورہی ہیں۔ گھوٹالوںکی خبریں سن سن کر لوگ اوب گئے تھے۔ حالانکہ بعد میںوہ گھوٹالے ایک ایک کرکے عدالت میںثابت ہی نہیںہو پارہے ہیں۔ لیکن اس وقت کل ملا کر یہ ماحول بن گیا تھا کہ بدعنوانی کافی بڑھ گئی ہے۔ دوسری طرف، ایسے ماحول میںنریندر مودی آئے اور انھوںنے نئی امید کی بات کی، نئے نئے وعدے کیے۔انھوںنے نوکریوں کی بات کی۔ پاکستان کے خلاف مضبوط پالیسی بنانے کی بات کی۔ ایسے اور بھی کئی وعدے انھوںنے کیے۔ الیکشن ہوئے۔ نتیجہ آیا۔ بی جے پی کو 282 سیٹیںملیں۔ 1985 کے بعد پہلی بار کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت ملی تھی۔ اس سے پہلے راجیو گاندھی کو 400 سیٹیںملی تھیں۔
ظاہر ہے ، نریندر مودی سے توقعات بہت زیادہ تھیں اور یہ بھی سچ ہے کہ اتنی بڑی توقعات کو پورا کرنا کسی بھی لیڈر کے لیے مشکل ہے۔ چاہے وہ راجیو گاندھی رہے ہوںیا اب نریندر مودی ہوں۔ لیکن نریندر مودی چاہتے تو وقت کے ساتھ کام کرسکتے تھے۔ پہلے ، دوسرے ، تیسرے سال میںہم یہ یہ کام کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر بی جے پی نے اس طریقے سے کام کیا ہوتا تو آج وہ عوام کا بھروسہ نہیںکھوتی، جو 2014 میںبنا تھا۔ بدقسمتی سے انھوںنے (نریندر مودی) نہ تو اپنی پارٹی کو اعتماد میںلیا، نہ کبھی پارلیمنٹری پارٹی یا ورکنگ کمیٹی یا مارگ درشک منڈل سے بات چیت کی اور نہ ہی نوکر شاہی پر بھروسہ کیا۔ بیورو کریسی ضابطے سے بندھی ہوئی ہے۔ وہ اینو ویٹیو نہیںہوتی۔ وہ نئے پروجیکٹ کے بارے میںنہیںسوچ سکتی۔ اس کا کام یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ہر چیز صحیح ڈھنگ سے چلے۔ مودی سرکار کے پہلے ڈھائی سال میںکیا ہوا؟ مئی 2014 سے 8 نومبر 2016 کے بیچ کیا ہوا؟ سبھی چیزیںسسٹم میںچل رہی تھیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وزیر اعظم بور ہوگئے۔ مجھے نہیںمعلوم کہ انھیںکس نے یہ تجویز دی کہ جب تک آپ کچھ ڈرامائی کام نہیںکریںگے تب تک آ پ کے کھاتے میںکوئی بڑا کام نہیںگنا جائے گا۔ اس لیے 8 نومبر 2016 کو مودی جی نے نوٹ بندی کا اعلان کردیا۔ انھوںنے آر بی آئی سے بھی صلاح نہیںلی، جو ملک میںکرنسی کو کنٹرول کرنے والا اہم ادارہ ہے۔ آربی آئی کبھی بھی نوٹ بندی کی صلاح نہیںدیتا۔
نوٹ بندی سے جڑے سوالات 
نوٹ بندی سے جڑے تکنیکی سوال اب بھی زندہ ہیں؟ 31دسمبر تک پرانے نوٹ بدلنے کا وقت دیا گیا ۔ لیکن آر بی آئی کے پاس نئے نوٹ تیار ہی نہیںتھے۔ اس لیے، چار مہینوںتک ملک میںبھگدڑ کا ماحول بنا رہا۔ نوٹ پرنٹ ہورہے تھے۔ لوگ قطار میںلگے ہوئے تھے۔ صرف مالدار شخص ہی ان سب سے متاثر نہیںہوا۔ دولت مند آدمی لائن میں لگنے نہیںگیا۔ لائن میںغریب اور کسان تھے، جن کے لیے 100 روپے کی بھی بہت اہمیت تھی۔ عام پبلک کی زندگی کو اس فیصلے نے جھنجھوڑکر رکھ دیا۔ چار مہینے بعد کسی ذہین شخص کی طرح سرکار کو یہ احساس ہوگیا کہ نوٹ بندی نے کام نہیںکیا۔ اس کا مقصد کامیاب نہیںرہا۔ اسے لے کر مودی 146146بیڈ لوزر145145 ثابت ہوئے۔
اس کے بعد انھوںنے جی ایس ٹی لاگو کردی۔ ایک بار پھر سے مارکیٹ، بزنس، کرانہ دکانداروں، چھوٹے دکانداروں، انڈسٹری کے لیے مشکل وقت آگیا۔ کل ملا کر کہیں تو 8 نومبر 2016سے لے کرابھی تک کچھ نارمل نہیںہوا ہے۔ کوئی متفق ہو یانہ ہو،لیکن یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کو گوکھپور، پھولپور اور ارریہ کی سیٹ گنوانی پڑی۔ وہ متفق نہیںہوںگے۔ وہ کہیںگے کہ ہم میگھالیہ جیت گئے، ناگا لینڈ جیت گئے۔ تریپورہ جیت گئے۔ تریپورہ میںکمیونسٹ 25 سال سے اقتدار میں تھے۔ وہاںاینٹی انکمبنسی تھی۔ پھولپور اور گورکھپور کی آبادی میگھالیہ اور ناگا لینڈ کی مشترکہ آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ میگھالیہ جیتنا اور پھولپورہارنا، دونوںبرابر ہے۔ ناگالینڈ جیتنا اور گورکھپور ہارنا،دونوںبرابرہے۔ میگھالیہ میںپی اے سنگما کے بیٹے سی ایم بنے ہیں۔ ان کا بی جے پی سے کیا لینا دینا؟اور وہاں انتخابی مہم میںبی جے پی نے کیا کہا؟ کہا کہ یہاںبیف بین نہیںہوگا؟ کہاں گیا آپ کا گئورکشا دل، گئو رکشا ابھیان؟
خیر یہ ضمنی انتخابات بی جے پی ہار چکی ہے۔ آگے کرناٹک میں الیکشن ہے۔ مان لیجئے کہ بی جے پی کرناٹک کا الیکشن ہار جاتی ہے تو کیا ہوگا؟ سب سے پہلے تو یہ کہ 2019 کا میدان سب کے لیے کھل جائے گا۔ کوئی بھی یہ حساب لگا سکتا ہے ۔ تریپورہ اور ناگالینڈ سے کتنے ارکان پارلیمنٹ آتے ہیں۔ بی جے پی کو سرکار بنانے کے لیے 272 اراکین پارلیمنٹ چاہیے ۔بی جے پی نے بہت تیزی سے اپنی مقبولیت کھوئی ہے۔ 282 سیٹیںبی جے پی نے جیتی تھیں، آج وہ گھٹتے گھٹتے 274 کے آس پاس رہ گئی ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ ابھی سرکار کو کوئی خطرہ نہیںہے لیکن آگے کیا ہوگا؟ میںہمیشہ کہتا آرہا ہوں کہ محض الیکشن جیتنے اور سرکار بنانے سے کہیںبڑی ذمہ داری اس ملک کی ذمہ داری ہے۔ مودی اور امت شاہ خود کہتے تھے کہ ہم یہاں 15-20 سالوںکے لیے ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
ایک تتلی کی عمر ایک دن کی ہوتی ہے۔ ایک دن میں ہی وہ الگ الگ رنگ بکھیر کر اپنی خوبصورتی دکھا دیتی ہے۔یہ اہم نہیں ہے کہ کس کی عمر کتنی لمبی ہوتی ہے یا سرکار کتنے لمبے وقت تک چلتی ہے۔ فرد یا سرکار کیا کام کرتے ہیں ،یہ اہم ہوتا ہے۔ سرکار نے پچھلے چار برسوں میں عوام کو دیکھنے کے لئے کیا کام کیا ہے؟دراصل سرکار کے کام کرنے کی شروعات ہی غلط تھی۔ سرکار بنانے کے بعد وزیراعظم کا پہلا اعلان انتخاب میں کئے گئے وعدے نہیں تھے، بلکہ لالقلعہ سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے146 سوچھ بھارت ابھیان 145کا اعلان کیا تھا۔ 146سوچھ بھارت ابھیان 145ان کے انتخابی منشور کا حصہ نہیں تھا۔ انہوں نے 146کانگریس مکت بھارت145 کا بھی اعلان کیا تھا لیکن جب یہ ہوتا نہیں دکھائی دیا تو انہوں نے اپنی سہولت کے مطابق اسے کانگریس کے طریقہ کار سے مکت کا ابھیان کہہ دیا۔ہم نے اس کا استقبال کیا۔اگر کانگریس ایک ایسی پارٹی بن گئی ہو جو صرف پیسے پر چلتی ہو تو بیشک اسے ختم ہو جانا چاہئے لیکن اب بی جے پی کا طریقہ کار کانگریس سے بھی بد تر ہو گیا ہے۔ بی جے پی میں زیادہ بدعنوانی شامل ہو گئی ہے۔ یہاں آفیسر، وزیر، رکن پارلیمنٹ، ایم ایل اے ،سبھی پیسے لیتے ہیں۔ لیکن اسے ثابت کرنا مشکل ہوگا کیونکہ جنہوں نے پیسے لئے وہ یہ نہیں کہیں گے کہ ہم نے پیسے لئے اور جنہوں نے پیسے دیئے وہ نہیں کہیں گے کہ ہم نے پیسے دیئے۔ اس کے بھی ثبوت اتنے ہی ہیں جتنا سی اے جی نے 2 جی گھوٹالے کے بارے میں لکھا ہے۔
مقبولیت میں کمی کیوں ؟
سرکار چل رہی ہے۔ بی جے پی کے کچھ وزراء اعلیٰ ٹھیک کام کررہے ہیں،کچھ اوسط درجے کے کام کررہے ہیں۔ ایسا ہونا فطری ہے لیکن کل ملا کر وزیر اعظم کو سوچنا پڑے گا کہ ان کی مقبولیت کیوں کم ہو رہی ہے؟دراصل انکی مقبولیت اس لئے کم ہو رہی ہے کیونکہ انہوں نے الیکشن کے دوران جتنے بھی وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کر سکے۔نہ تو نئے روزگار پیدا ہو سکے اور نہ ہی نئی صنعت لگی۔ کسانوںکی آمدنی دوگنی کرنے کی بات بھول جائیے، انکی حالت بدتر ہے۔ ان کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہو رہا ہے۔ انہی وجوہات سے وزیر اعظم کی مقبولیت لگاتار گر رہی ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا انہیں ایک سال میں ٹھیک کیاجاسکتاہے؟اس کا جواب ہے ،نہیں۔انہیں اپنا پیغام بدلنا ہوگا۔وہ لوگوں سے اور زیادہ وقت مانگ سکتے ہیں ۔لیکن یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے کہ سرکار کامیاب رہی ہے۔ عوام اسے پسند نہیں کریں گے کیونکہ وہ بہت غصے میں ہیں۔
یہی نہیں بی جے پی کے حامی طرح طرح کی باتیں بناتے پھر رہے ہیں۔وہ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن جیتنے کے لئے ہم پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑ سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ الیکشن جیتنے کے لئے یہ جنگ کریںگے۔ فوجوںکو ماریںگے۔ اس سے زیادہ خطرناک، غیرذمہ دارانہ ، بے حس بات کچھ ہو ہی نہیں سکتی ہے۔ لیکن یہ کام نہیں کرے گا۔ ہندوستان کے لوگ اس طرح کے جھانسے میں نہیں آنے والے۔ گورکھپور ،پھولپور اور ارریہ کے نتائج نے ثابت کردیا ہے کہ وہ بہت سمجھدار ہیں۔ اس بات سے مجھے کوئی انکار نہیں ہے کہ 18فیصد ووٹ بی جے پی کا جو طے شدہ ووٹ ہے، وہ کسی بھی حالت میں اسے ملے گا۔یہ بندھا ہوا ووٹ ہے لیکن الیکشن جیتنے کے لئے یہ کافی نہیں ہے۔
دوسری طرف سی بی آئی کا داروغہ جو کبھی لالو یادو کے پیچھے لگتا ہے تو کبھی کارتی چدمبرم کے پیچھے یا ابھی مایاوتی کو گھیرنے کی کوشش کر سکتے ہیں،لیکن اس سے بی جے پی کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔اگر داروغہ الیکشن جیت سکتا تو وہ خود ہی وزیراعظم بن سکتا ہے۔ داروغہ کچھ نہیں کر سکتاہے۔ پارٹی اور وزیر عظم کو لوگوں سے اپیل کرنی پڑے گی۔لالو یادو کے معاملے میں کیا ہوا؟مجھے لگتا ہے کہ ان کا بیٹا بہار کا وزیراعلیٰ بنے گا اور وہ بھی بہت ہی مقبول وزیراعلیٰ بنے گا۔ وہ کیا کہہ رہا ہے؟وہ کہہ رہا ہے کہ یہ لوگ (بی جے پی کے لوگ) کیا کریںگے، میںاترپردیش میں رام مندر بنائوں گا ۔ایسا اس لئے کیونکہ رام مندر کی مخالفت کوئی مسلمان نہیں کرتا۔ ساتھ ہی کوئی ہندو یہ نہیں سوچتا کہ رام مندر کی تعمیر کے بعد سارے مسائل ختم ہو جائیںگے۔ رام مندر ملک کے ہندوئوں کے جذبات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے لیکن آر ایس ایس اور بی جے پی کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں رام مندر نہیں چاہئے۔انہیں مسلمانوں کے نفسیات کو چوٹ پہنچانی ہے۔ اگر مسلمان رام مندر بنانے کو تیار ہو جائیں تو انہیں رام مندر میں کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔ کیونکہ انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ رام کو کس لئے بھیجا گیا تھا۔ وہ ہندو شاستروں کو نہیں سمجھتے۔ انہیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ رام یہاں پیدا ہوئے تھے، کرشن یہاں پیدا ہوئے تھے۔
مریادا کے ساتھ حکومت 
دراصل رام مریادا پروشوتم تھے۔وہ ایک ایسے راجا تھے جو مریادامیں رہ کر حکومت چلاتے تھے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا آج ہمارے وزیر اعظم مریادا کے ساتھ حکومت چلا رہے ہیں؟وہ ایسے مذاق کرتے ہیں جو وزیراعظم کے عہدہ کے وقار کے مطابق نہیں ہوسکتاہے۔ مجھے ان سے کوئی ذاتی شکایت نہیں ہے۔ انہیں لمبی عمر ملے ،لیکن میرے لئے وزیر اعظم کا عہدہ انتہائی قابل قدر ہے۔ اس عہدہ سے کوئی بھی آدمی کچھ بولتا ہے تو وہ سب پر لاگو ہوتا ہے۔ کیا موجودہ وزیر اعظم اس بات کادھیان رکھ رہے ہیں َ؟۔رام کو بھول جائیے، رام نے ایک دھوبی کی شکایت پر اپنی بیوی کو اگنی پریکشا دینے کے لئے کہا تھا۔ یہاںان کی پارٹی کے ممبروں، پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ ،وزیروں پر دھاندلی کے الزام لگ رہے ہیں۔ اگنی پریکشا کی کون پوچھے ،سرکار انہیں تحفظ دے رہی ہے۔ تو کیا سرکار کو لگتا ہے کہ لوگ ان سب چیزوںکو نہیں دیکھ رہے ہیں۔یہ ساری چیزیں عوام کی نظر میں ہیں۔یہاںیہ بات صاف کر دوںکہ ہندوستان کے لوگوں کا بھگوان سے بہت لگائو ہے۔ انہیں چھوٹی سے چھوٹی بات سمجھ میں آتی ہے۔ وہ زمین پر کان لگا کر ارتعاش کو محسوس کر لیتے ہیں۔
دراصل ہوا سرکار کے خلاف ہے۔اگر وہ اسے نظر انداز کرنا چاہتی ہے تو اس کا انہیں ہی نقصان ہوگا۔ لیکن اگر وہ اسے نظر انداز بھی نہیں کرتی تو بھی ان کے متبادل بہت ہی محدود ہیں۔ بی جے پی کے پاس فی الحال جو اکلوتا متبادل ہے، وہ ہے دوسری پارٹیوں کو اپنا اتحادی بنانا۔ فی الحال ایسا نہیں لگ رہاہے کہ بی جے پی اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل کرلے گی لیکن اگر اتحادیوں کی ضرورت پڑتی ہے تو اسے اپنے اتحادیوں کی سننی پڑے گی۔انہیں ایڈجسٹ کرنا پڑیگا۔جیسے کوئی پارٹی گٹھ بندھن کے لئے تیار ہو جاتی ہے، ہندوستان میں پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اگر سنگھ چاہتاہے کہ وہ پورے ہندوستان کو اپنے اصولوں والے ہندوتو کا ماننے والا بنا لے گا تو یہ نہیں ہوسکتا۔ ہیڈگیوار، گولولکر کی جو تین کتابیں یہ پڑھتے ہیں ان میں کہاگیاہے کہ ہندوستان کے تین دشمن مسلم، عیسائی اور کمیونسٹ ہیں۔ ان واہیات باتوں میں کون یقین کرتاہے۔
اکلوتا آدرش الیکشن
یہاں جو کچھ بھی کہا جارہاہے اسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔ سرکار بھی دیکھ رہی ہے لیکن وہ اس پر کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ سرکار کا اکلوتا آدرش الیکشن ہے۔ الیکشن جیتنے کے لئیوہ کسی بھی سطح تک جاسکتے ہیں لیکن الیکشن کے بعد کیا ہوگا۔ الیکشن جیتنے کے چار سال بعد آپ نے ملک کے لئے کیا کیا ہے؟یہ نہیں بتا رہے ہیں۔ صنعتیں نہیں لگ رہی ہیں، لوگوںکو روزگار یا نوکریاں نہیں مل رہی ہیں۔ حالت تو یہ ہے کہ صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد تو صنعتیں بند ہورہی ہیں۔ کاروبار میں مندی آرہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جو لوگ روزگار سے جڑے ہوئے تھے، وہ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ اس کے لئے کون ذمہ دار ہے؟اس کا حساب کون کرے گا؟
تمل ناڈو میں ابھی ابھی سیاست میں آئے کمل ہاسن کہتے ہیں کہ ابھی بھی وقت ہے جی ایس ٹی کو کوڑے دان میں ڈال دیجئے۔میں اس پر کوئی ریمارکس نہیں کروں گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سرکار سدھار کرنے کے لئے تیار ہے؟ اس کا جواب منفی ہے۔ دراصل بی جے پی کے حامی یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ الیکشن سے ٹھیک پہلے 2000 اور 500 کے نوٹ بھی بند ہو جائیں گے ،کیوں؟کیونکہ بی جے پی نے ہزار روپے کے نوٹ جمع کئے ہوئے ہیں،اس کا اسے فائدہ ہو جائے گا اور اپوزیشن کے پاس جو 2ہزار اور 5سو کے نوٹ ہیں، وہ بیکار ہو جائیںگے۔ ہندوستان کو چلانے کا یہ بہت ہی بھونڈا طریقہ ہوگا۔
تمل ناڈو میں جے للیتا کی اتحادی رہی ششی کلا کے بھتیجا ، جو ابھی کسی بھی پارٹی میں نہیں ہیں، انہوں نے اے آئی اے ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے امیدوار کو ہرا دیا۔یہ ہندوستان ہے۔ آپ اسے کیسے کنٹرول کریںگے؟بی جے پی نے بھی یہاں الیکشن لڑا تھا۔ پتہ نہیں کس امید میں لیکن بی جے پی کے امیدوار کو نوٹا سے بھی کم ووٹ ملے ۔ یہ ملک اتنا سادہ نہیں ہے۔یہ کوئی ماریسس یا سنگاپور جیسے کچھ لاکھ لوگوں کا ملک نہیں ہے۔یہاں دنیا کی آبادی کا چھٹواں حصہ رہائش پذیر ہے۔اگر اس پر حکومت کرنا اتنا آسان ہوتا،جیسا کہ آر ایس ایس سمجھتی ہے تو ہندوستان میں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا۔یہاں اکثریت ہندوئوں کی ہے ۔صرف 18فیصد لوگ ہندوتوا کے نظریات سے متفق لوگ ہیں۔ باقی کے 82 فیصد ہندو صرف ہندو ہے،جو مسلمانوں سے نفرت نہیں کرتے،جو عیسائیوں سے نفرت نہیںکرتے، کمیونسٹوں کے خلاف جن کے من میں نفرت نہیںہے۔یہی اصل ہندو ہے۔ ہندو وسودیو کوٹومبکم میں یقین کرتا ہے، یعنی پوری دنیا ایک پریوار ہے ۔لیکن ہندوتو اس میں یقین نہیں کرتا۔ ہندوستان میں ہندوتو کا نظریہ نہیں چلے گا۔امیت شاہ ایک پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ ہم اگلے 25 سال تک حکومت کریںگے۔فی الحال تو ایسا نہیں لگتا ہے ۔یہ نہیں معلوم کہ اگلے الیکشن کا نتیجہ کیا ہوا۔ لیکن ابھی کے حالات سے یہ نہیں لگتا کہ بی جے پی ایک لمبی ریس کا گھوڑا ہے۔ مختصر طور پر بھلے بی جے پی کو شہرت ملی لیکن وہ اسے برقرار نہیں رکھ سکی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *