ناقابل فراموش ہیں دیویکارانی

devika-rani

اس دنیائے فانی میں ہمیشہ ہرشعبے میں مردوں کا بول بالارہاہے ۔اسی طرح بالی ووڈ میں بھی سماج کی طرح ہی ہمیشہ مردوں کا بول بالارہاہے لیکن کچھ اداکارائیں بھی ایسی رہی ہیں جنہو ںنے ایک نئی لکیرکھینچ کراپنی موجودگی کا احساس کرایا۔انہیں میں اداکارہ دیویکا رانی ہیں۔ دیویکا رانی ایک ایسی اداکارہ ہیں جنہیں بالی ووڈ کی پہلی اداکارہ کہاجاتاہے ۔دیویکانے اپنے دم پرسنیماکاچہرہ اورمعانی بدل کر رکھ دیاتھا۔ ان کے نام کے بناسنیماکا کوئی بھی باب کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔ دیویکارانی سینماکی پڑھائی کرنے کے بعد اداکارہ بننے والی پہلی خاتون رہی ہیں۔
بالی ووڈ کی لیجنڈ اداکارہ دیویکارانی کی ولادت 30مارچ 1908 کو آندھراپردیش کے وشاکھاپٹنم میں ہوئی تھی۔وہ عظیم شاعر وفلسفی رویندر ناتھ ٹیگورکے کنبہ سے تعلق رکھتی تھیں، ٹیگوران کے چچیرے پردادا تھے۔ دیویکا رانی کے والدکرنل ایم این چودھری مدراس (اب چننئی )کے پہلے’ سرجن جنرل ‘تھے ۔ان کی والدہ کانام محترمہ لیلاچودھری تھا۔جب دیویکا 9سال کی تھیں تب انہیں پڑھائی کیلئے انگلینڈ بھیج دیاگیا۔ پڑھائی پوری کرنے کے بعد دیویکا ہندوستان آئیں اورطے کیاکہ وہ فلموں میں کام کریں گی لیکن اہل خانہ سے اجازت نہیں ملی۔

 

 

 

کریئر کی ابتداء

انگلینڈ میں کچھ سال دیویکانے رائل اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹ میں باضابطہ اداکاری کی پڑھائی کی تھی، جس کے بعدانہو ںنے آرچی ٹیکچر میں ڈپلوماکیا تھا۔دیویکارانی کی ملاقات اس وقت فلم سازبوسربولف سے ہوئی اورانہوں نے ان کے فن تعمیرکے ہنرکی سراہناکی اوربطور ڈیزائنرمنتخب کرلیا۔اسی بیچ ان کی ملاقات فلم سازہمانشورائے سے ہوئی اوروہ ان کی خوبصورتی میں ڈوب گئے تھے۔یہ وہ وقت تھاجب خاموش فلموں کا دورختم ہورہاتھا اور سلور اسکرین پراداکارمکالمے کرتے ہوئے نظرآرہے تھے۔
ہمانشورائے نے جب سال 1933 میں فلم ’کرما‘بنائی تو انہوں نے اس فلم میں ہیروکا کردارخودہی ادا کیا اور اداکارہ کے طورپردیویکارانی کا انتخاب کیا ۔اس فلم میں رانی نے ہمانشورائے کے ساتھ تقریباً چارمنٹ تک لپ ٹولپ سین دے کراس وقت کے سماج کوحیران کردیا۔اس سین کیلئے رانی کوسخت تنقیدکا سامنا بھی کرناپڑا اورفلم پرپابندی لگادی گئی ۔اس کے بعد ہما نشورائے نے دیویکاسے شادی کرلی اوروہ ممبئی آگئے ۔ممبئی آنے کے بعد ہمانشورائے اور دیویکا رانی نے مل کر’بامبے ٹاکیز‘ بینر قائم کیا اورفلم ’جوانی کی ہوا‘ بنائی۔ سال 1935میں یہ فلم ریلیزہوئی اوریہ فلم کامیاب ثابت ہوئی۔ اس کے بعدرانی نے بامبے ٹاکیزکے بینر تلے بنی کئی فلموں میں اداکاری کی۔
خاص بات یہ ہے کہ ہندی سنیمامیں ’کرما‘پہلی انگریزی بولنے والی فلم تھی۔اس فلم میں دیویکارانی اورہمانشورائے کے بیچ 4منٹ کا بوس وکنارسین فلمایاگیاتھا جوہندی سنیماکیلئے بالکل نیا تھا۔ رانی نے ’لپ ٹولپ‘ سین دیکرسب کوچونکا دیا تھا۔ بعد میں اس کی بہت تنقیدیں بھی ہوئی تھی جس کے بعدہمانشونے دیویکا سے شادی کرلی تھی۔
دیویکارانی اوران کے شوہر ہمانشو رائے کی قائم کردہ ’بامبے ٹاکیز‘ اسٹوڈیوکی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان کے پہلے فلم اسٹوڈیو میں سے ایک ہے۔اشوک کمار، دلیپ کمار، مدھوبالاجیسے بڑے اسٹار بامبے ٹاکیزکے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ اچھوت کنیا، قسمت، شہید، میلا جیسی مشہورفلموں کی تعمیروہاں ہوئی۔ شوہرکے مرنے کے بعددیویکارانی کے اس اسٹوڈیوکی تقسیم ہوئی اور فلمستان نام ہوا۔
اچھوت کنیا (1936)، جیون پر بھات (1937) اوردرگا (1939) جیسی بہترین فلمیں کرنے والی دیویکا رانی نے اشوک کمار، راج کپور، دلیپ کمار کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ اپنے شوہرکی موت کے بعدوہ ٹوٹ گئیں ،اس وقت ان کی ملاقات سویتو سلاب رورک سے ہوئی ۔بعدمیں انہوں نے ان سے شادی کرکے فلم انڈسٹری کوالوداع کہہ دیاتھا۔
سال 1969میں جب دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کی شروعات کی گئی تواس کی سب سے پہلی فاتح دیویکارانی ہی تھیں۔دیویکاانڈسٹری کی پہلی خاتون ہیں جنہیں پدم شری سے نوازاگیا۔ فلموں میں اداکاراؤں کیلئے ایک راستہ بننے کا کام کرچکی تھیں اس لئے بھی ان کانام ہمیشہ عزت واحترام کے ساتھ لیاجاتارہے گا۔
سال 1936میں ریلیزہونے والی فلم ’اچھوت کنیا‘میں دیویکا نے گاؤں کی لڑکی کے کردارکوپردے پرپیش کیا۔’اچھوت کنیا‘ میں اپنی بہترین اداکاری سے دیویکانے شائقین کو اپنا دیوانہ بنادیا۔ فلم میں اشوک کمار ایک برہمن نوجوان کے رول میں تھے جنہیں ایک اچھوت لڑکی سے محبت ہوجاتی ہے۔سماجی پس منظرپربنی یہ فلم کافی پسندکی گئی اوراس فلم کے بعد دیویکارانی فلم انڈسٹری میں ڈریم گرل کے نام سے مشہورہوگئیں۔اچھوت کنیا‘ کی کامیابی کے بعد رانی کو ’فرسٹ لیڈی آف انڈیااسکرین ‘کے اعزازسے نوازاگیا۔
باکس

 

 

 

 

دیویکارانی کی اہم فلمیں

کرما (1933)، جوانی کی ہوا (1935)، ممتااورمیاں بیوی (1936)، جیوان نیّا (1936)، جنم بھومی (1936)، اچھوت کنیا (1936)، ساوتری (1937)، جیون پربھات (1937)، عزت (1937)، پریم کہانی (1937)، نرمالا (1938)، وچن (1938)، درگا (1939)، انجان (1941)، ہماری بات (1943)۔
اداکاراشوک کمارنے ایک بارفلم ’اچھوت کنیا‘ کویادکرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’پوچھومت اس جیسی ہیروئین کوچھولینے کی تمنالئے نہ جانے کتنے مرگئے۔اتناہی بالی ووڈ انڈسٹری میں اپنی دلکش اداؤں سے ناظرین کودیوانہ بنانے والی کئی اداکارائیں ہوئی اوران کی اداکاری کے ناظرین آج بھی قائل ہیں، لیکن پہلی ڈریم گرل دیویکا رانی کوبہت کم ہی لوگ یاد کرتے ہیں۔
فلم ’قسمت ‘ بامبے ٹاکیز‘ کے بینر تلے بنی فلموں میں سب سے کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ ’قسمت‘ نے باکس آفس کے سارریکارڈ توڑتے ہوئے کولکاتہ کے ایک سنیماہال میں تقریباً چار سال تک لگاتار چلنے کا ریکارڈ قائم کیا جوکافی وقت تک رہا۔
بقول رائٹرذوالفقار علی زلفی ، 1942 کا پر آشوب سال تھا جب پورے ہندوستان میں آزادی اور تقسیم کے نعرے گونج رہے تھے ,نوجوان یوسف خان اپنے والد کے ایک دوست کے ہمراہ شوٹنگ دیکھنے بمبئے ٹاکیز پہنچے۔ہندی سینما کی خاتون اول اور بمبئے ٹاکیز کی شریک سربراہ دیویکا رانی کو مردم شناس مانا جاتا ہے اور اس مردم شناس کی نظر شوٹنگ دیکھنے والے پشاوری نوجوان پر پڑی۔۔۔انہوں نے نوجوان سے پوچھا , کیا آپ کو اردو آتی ہے؟ ہاں میں جواب سن کر خاتون نے دوسرا سوال داغا ، اداکاری کروگے؟ نوجوان نے جو جواب دیا سو دیا مگر اس جواب کی گونج آج تک سنائی دیتی ہے اور نجانے کب تک سنائی دیتی رہے گی۔۔۔جب جب یوسف خان سے دلیپ کمار بنتے فنکار کی بات ہوگی تب تب دیویکارانی کا ذکر بھی آئے گا۔’جوارابھاٹا‘ فلم بامبے ٹاکیزکے بینرتلے بنی تھی اوردلیپ کمارنے فلمی کریئرکی شروعات اسی فلم کی تھی اوردلیپ کمارکوفلم انڈسٹری میں لانے کا کریڈٹ دیویکارانی دیا جاتا ہے۔
بہرکیف لیجنڈ اداکارہ دیویکارانی پردے پراپنی دلکش اداؤں سے بہت سے بہترین کردارنبھانے کے بعد 9 مارچ1994کو دنیاکوالوداع کہہ دیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *