بینکوں کی معیشت سنگین موڑ پر پہنچ گئی ہے

بینکوں کے نیشنلائزیشن کو امیروں اور امریکہ کے ایجنٹ ہی غلط کہہ سکتے ہیں
کمپنیوں کی نیلامی سے نہیں، انہیں بچانے سے ملے گا روزگار ۔ملک میں صنعتوں اور بینکوں کی حالت بہت سنگین ہو گئی ہے۔ پچھلے دنوں پنجاب نیشنل بینک نے اعلان کیا کہ ان کے 11ہزار کروڑ روپے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ یہ پیسے بینک نے ایک کاروباری کو دیئے تھے۔ اب یہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ بینک کو اچانک یہ پتہ چلا یا اس دن کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے ان کو یہ اعلان کرنا پڑا۔ دوسری حالت کا امکان اس لئے زیادہ ہے کیونکہ یہ خود ہی کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ 2011 سے چل رہا ہے۔یعنی انہیں معلوم ہے۔یہ تمام سازش پی چدمبرم کو پھنسانے کے لئے ہے۔ 2011 کا ذکر کرنے کا مطلب ہے کہ چدمبرم نے یہ عمل شروع کیا ہے۔
انتخاب کے بعد آپ اقتدار میں آتے ہیں تو اگر کوئی غلط عمل چل رہا ہے تو اسے بند کر دیجئے۔ سی بی آئی نے جو چارج شیٹ تیار کی ہے، اس میں لکھا ہے کہ 2017-2018 میں سارے لیٹر آف اندر ٹیکنگ رینیو ہوئے ہیں۔ یہ صاف ہے کہ بینکوںکے مینجمنٹ میں گھوٹالہ ہوا ہے۔بھلے ہی یہ یو پی اے کے وقت سے شروع ہوا ہوگا، لیکن ابھی تک جاری ہے ۔جو بینک کے سی ایم ڈی ( چیئر مین مینجنگ ڈائریکٹر ) ہوتے ہیں وہ ذمہ دار ہیں۔پرائیویٹ کمپنیوں میں اگر کوئی گھوٹالہ ہو جائے تو سب سے پہلے مینجنگ ڈائریکٹر کو روانہ کیا جاتا ہے۔ پبلک سیکٹر میں تو یہ اور بھی ضروری ہے۔ پہلا کام یہ ہونا چاہئے تھا کہ سنیل مہتا جو سی ایم ڈی ہیں، ان سے استعفیٰ مانگنا چاہئے تھا لیکن انہوں نے ایک پریس کانفرنس کی اور ہندی میں کی تاکہ ہندی اخباروں کو اپنے حق میں لے لیا جائے۔ خبریں آرہی ہیں کہ سی بی آئی ان سے ایک ملزم کی طرح نہیں بلکہ ایک گواہ کی طرح سوال پوچھ رہی ہے۔ اگر ان کی دیکھ ریکھ میں یہ دھاندلی ہوئی ہے تو وہ تو ملزم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو پاور فل لوگوں کا تحفظ حاصل ہے۔ اس کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو لوگ نیشنلائزیشن کے خلاف ہیں ،انہوں نے بولنا شروع کر دیا ہے کہ ساری بیماری نیشنلائزیشن میں ہے۔ یعنی اس کی شروعات 1969 میں بینکوں کا نیشنلائزیشن کرکے اندرا گاندھی نے کی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پرائیویٹ بینکوں میں این پی اے اور گھوٹالے نہیں ہیں؟یہ یکدم غلط ہے۔ وہاں بھی وہ سبھی بیماریاں ہیں جو پرائیویٹ بینکوں کی ہیں لیکن بدنامی سے بچنے کے لئے پرائیویٹ بینک اپنا بندوبست کرلیتے ہیں۔
اب اس سوال پر آتے ہیں کہ اقتصادی پالیسی پر اس کا کیا اثر ہوگا؟دراصل اس کا بہت سنگین اثر ہوگا۔ مان لیجئے آج کوئی کاروباری ایک ہزار کروڑ کی صنعت لگانا چاہتا ہے۔ پہلے جو طریقہ تھا اس میں کچھ روپے کیپٹل مارکیٹ سے لاتا تھا اور کچھ بینک دیتے تھے۔ آج کون سا بینک اس کو روپیہ دینے کے لئے تیار ہے؟کوئی نہیں ؟کیوںکہ جو ترقی کے لے بینک تھے، جیسے آئی ڈی بی آئی، آئی ایف سی آئی، ان کو کمرشیل بینکوں میں کنورٹ کر دیا گیا ہے۔ آج ملک میں کوئی ادارہ نہیں ہے جو نئے صنعتکاروں کو قرض دینے کے لئے تیار ہو۔ تو روپیہ کہاں سے آئے گا؟ہاں، جو آج کل کا فلیور ہے اس کے حساب سے بیرون ملک سے پیسہ آئے گا۔یعنی ملک کے جو انٹرپرائزیز اور کامیاب لوگ ہیں جو انڈسٹری لگا سکتے ہیں ،ان کو آپ روپیہ نہیں دیں گے۔ فی الحال جو نیرو مودی کا معاملہ سامنے آیا ہے ان کی تو کوئی انڈسٹری ہی نہیں تھی۔ تو پھر انہیں روپیہ کیوں دیا گیا؟یہ تو ہیرے کے کاروباری تھے۔جس دن یہ معاملہ اجاگر ہوا ،اس دن آپ نے کہا کہ ان کے پانچ ہزار کروڑ کی جائیداد ضبط کرلی گئی۔ ہیرا ایسی چیز ہے جس کی قیمت طے کرنے میں مہینوں اور سالوں لگتے ہیں۔ آپ نے ایک دن میں قیمت طے کرکے اس کا اعلان بھی کر دیا۔ اوپر سے 11 ہزار کروڑ روپے کے قرض کو پانچ ہزار کروڑ روپے کر دیا۔ نیرو مودی کے وکیل وجے اگروال صاحب ٹی وی پر آکر کہتے ہیں کہ سی بی آئی نے ان کو نوٹس ہی پانچ ہزار کروڑ روپے کا دیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کل ملا کر دیکھیں تو یہ کہا جاسکتاہے کہ ہم افراتفری کی طرف جارہے ہیں۔ پنجاب نیشنل بینک نیشنلائزڈ بینک ہے۔ نیشنلائز بینک وزارت خزانہ کے سکریٹری فائننشیل سروسز راجیو کمار کی دیکھ ریکھ میں کام کرتے ہیں۔ وہ وزیر خزانہ اور وزیر اعظم تو نہیں ہیں۔ آپ ذمہ داری جھٹک کیوںرہے ہیں؟ جو کرنا ہے وہ کرتے کیوں نہیں؟سوال نیرو مودی کے ہندوستان سے بھاگنے اور ان کے پاسپورٹ کا نہیں ہے۔ سوال ہے پہلے سرکاری پیسے کی واپسی کا۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ پہلا پیسہ واپس آنا چاہئے اور دوسرا جو قصوروار ہیں انہیں سزا ہونی چاہئے۔ اس میں بھی ترجیح پیسہ وصولنے کو ملنی چاہئے۔یہ غلطی منموہن سنگھ کے وزیر خزانہ رہتے ہرشد مہتا کے وقت ہوئی تھی۔ کسی کو قصوروار ٹھہرانا اور اسے بدنام کرنا ایک بات ہے ۔دراصل یہ معاملہ تو پیسے کا ہے۔ پی این بی کا جو پیسہ قرض دیا ہے ، وہ ڈپازیٹرز کا پیسہ ہے۔ سرکار کا پیسہ نہیں ہے۔ بینکنگ بھی ایک کاروبار ہے۔ ڈپازیٹرز سے پیسے لیتے ہیں اور قرض داروںسے اس کا سود لیتے ہیں۔ آج سرکار کی پالیسی؟ اپوزیشن نیرو مودی کوچھوٹا مودی کہے گا اور یہ بھی کہے گا کہ مودی کا انھیںتحفظ حاصل ہے۔ برسراقتدار پارٹی کہے گی کہ کانگریس کے دور سے ہی یہ سب چل رہا ہے۔ یعنی ملک کی فکر کسی کو نہیں ہے۔ یہ ایک دوسرے پر چھینٹاکشی کرتے رہیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کا پیسہ کیسے ریکور ہو؟ اس کا راستہ نکالا جائے۔ نیرو مودی کے وکیل یا ان کے لوگوںکے ساتھ بیٹھیے ۔ ان سے کہیے کہ ہمیںنیرو مودی کے بجائے ہمارا پیسہ کیسے واپس آئے، اس میںدلچسپی ہے۔ قانون اپنا کام کرے گا۔ ہرشد مہتا کیمعاملے میںبھی یہی ہوا تھا۔ وہاںشیئر تھے تو شیئر ضبط کرکے دھیرے دھیرے ریکور کر لیا گیا۔ یہاںتو کچھ نہیں ہے آپ کے پاس۔ ہیرے ضبط کرنے سے روپے ضبط ہو جائیںگے، یہ اتنا آسان نہیں ہے۔
پھر جو ملک میںصحافت ہے، وہ الگ ہے۔ 60 کار ضبط کرلیں۔ اگر ایک کار کی قیمت ایک کروڑ بھی ہوگی تو 60 کروڑ روپے ہوگئے۔ یہ مذاق آپ کس کے ساتھ کر رہے ہیں؟ عوام کے ساتھ، ملک کے ساتھ یا دنیا کے ساتھ، یہ سمجھ سے باہر ہے۔ کوئی ذمہ دار افسر ہے یانہیں؟ یہ کام ریزرو بینک کے کسی آفیسر کو سونپئے کہ بینکوںکے روپے کی ریکوری ان کی پہلی ترجیح ہے۔ کون قصوروار ہے اور کو ن قصور وار نہیںہے، یہ دیکھنا بینک کا کام ہے۔ روپے وصول کرنا اہم ہے، جو نہیں ہورہا ہے۔
صرف امیراور امریکہ کے ایجنٹ ہی کہہ سکتے ہیںکہ بینکوںکا نیشنلائزیشن کرنا غلط تھا۔ 1969 میںمیں23 سال کا تھا۔ اس سے پہلے بھی میںبزنس سمجھتا اور سنبھالتا تھا۔ کاروباریوںکو اس سے کوئی فرق نہیںپڑتا کہ بینک کا مالک کون ہے؟ لیکن جو لوگ بینکوں کے نیشنلائزیشن کے خلاف ہیں، انھیںسرکاری اعداد و شمار دیکھنے چاہئیں کہ 1969 کے بعد کتنے ٹیکسی والے، رکشہ والے اور ٹرک والے اپنے ٹرک، ٹیکسی اور رکشہ کے مالک بن گئے۔ 19 جولائی 1969 کو 14 بینک کا نیشنلائزیشن ہوا تھا۔ یہ بینک 14 گھرانوں کے ہاتھ میںتھے۔ وہ پیسہ غریبوں کو نہیںدیتے تھے۔ وہ اپنے بھائی بندھو کے صنعتی دھندوںکو دیتے تھے۔ اندرا جی نے ایک جملہ استعمال کیا تھا:
ایکسپینشن آف انٹرپرینر شپ۔ تو انٹرپرینر شپ کی توسیع ہوئی۔ بعد میںکرپشن ہوا، وہ ہر جگہ ہوتا ہے، اس کی بات میں نہیںکررہا ہوں ۔ میںپالیسی کی بات کررہا ہوں۔ اگر پالیسی تھی کہ اگر ملک میںچھوٹے طبقے تک ڈیولپمنٹ پہنچنا ہے تو روپیہ ان تک پہنچنا چاہیے۔ قرض بھی پہنچنا چاہیے، مدد بھی پہنچنی چاہیے۔ اب آج ایک دوسرا المیہ شروع ہوگیا ہے۔ آج جو کامیاب کاروباری ہیں، سرکار ان کے پیچھے لگ گئی ہے۔ ہر ایک کے لیے این سی ایل ٹی کھول دیا ہے۔ اس میںجاکر ان کی کمپنی کی نیلامی ہورہی ہے۔ دراصل1991 سے پہلے جو صورت حال تھی، اس حالت میںجانے کی ضرورت ہے۔
اب میںجو کہہ رہاہوں، وہ سنگین بات ہے۔ 1991 سے پہلے این پی اے (نان پرفارمنگ ایسیٹ) لفظ ہندوستانی لغت میںنہیںتھا۔ 1991 سے پہلے جو لون دیے جاتے، بینک کے افسر اس کی جانکاری ہر تین مہینے میںلیتے تھے کہ کمپنی کیسے چل رہی ہے؟ بینک کے افسر کمپنی کے بورڈ کی میٹنگ میںبیٹھتے تھے۔ جہاں انھیںلگتا تھا کہ گڑبڑ ہورہی ہے، تو وہ مالک سے کہتے تھے کہ کوئی راستہ نکالو۔ مالک اپنے اقدام اٹھاتا تھا اور کمپنی دھیرے دھیرے سدھر جاتی تھی۔ اگر پھر بھی حالت نہیںسدھرتی تھی تو اسے بعد میںدیکھا جاتا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ اب این سی ایل ٹی کا پہلا متبادل ہے کہ اسے نیلام کر دو۔ اگر ایک انڈسٹری کی حالت خراب ہے تب تو ساری یونٹ نیلام ہوجائے گی۔
ایک ایم ایس ساہو صاحب ہیں جو انسالوی کمشنر ہیں۔ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ جو ابھی کے پروموٹر ہیں، ان کے بارے میںآپ کہتے ہیں کہ یہ اپنی کمپنیاں نہیںخرید پائیں گے تو پھر کمپٹیشن کیسے ہوگا؟ تو کہتے ہیںکہ نہیں نہیں غیر ملکی کمپنیاں اے پی اے کمپنی خریدنے میںدلچسپی دکھا رہی ہیں۔ کیا ہماری یہی پالیسی اب ہے کہ 50-60 سال جس انڈسٹری میںدھیمی رفتار سے ہوئے ڈیولپمنٹ کی تنقید کرتے ہیں، اس کو بھی آپ غیرملکیوںکے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ غیر ملکی آکر نئی کمپنی لگائیں ،وہ الگ بات ہے۔ اسٹارٹ اَپ ، میک اَپ انڈیا، میڈ اِن انڈیا کی جو بات ہے، وہ تو ہو نہیںرہی ہے۔ آج جو بھی لگی لگائی محنت ہے، وہ بھی غیر ملکیوںکے حوالے کرنے کی تیاری ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ٹاپ لیول پر اس بات کے لیے ان کا کوئی نقطہ نظر ہی نہیںہے۔ موجودہ سرکار دکھانا چاہتی ہے کہ کانگریس غلط تھی، ہم صحیح ہیں۔ لیکن کر وہی رہی ہے،جو کانگریس کیا کرتی تھی۔ کانگریس کی غلط روایتوںکو آپ الٹ دیں ، صحیح کردیں، میںآپ سے متفق ہوں۔ جو صحیح روایتیںہیں، ان کو بھی الٹا کررہے ہیں۔ اس کا کوئی فائدہ نہیںنکلنے والا ہے۔
آپ چاہتے ہیںکہ نوکریاںبڑھیں۔ نوکریاں تو تب بڑھیںگی جب صنعتیں لگیںگی۔ جو صنعتیںہیں، ان میںڈیولپمنٹ ہوتب بڑھیں گی۔ جو بند ہونے کی کگار پر ہیں، انھیںروکیںگے تو بڑھیںگے۔ جو پالیسی اپنائی جارہی ہے، اس سے ر وزگار کے بجائے بے روزگاری بڑ ھے گی۔ میںسمجھتا ہوںکہ معیشت سنگین موڑ پر پہنچ گئی ہے، جسے لوگ جلد سمجھیں گے۔ این سی ایل ٹی میںبڑی بڑی کمپنیوںکی نیلامی ہورہی ہے۔ خریدار ڈھونڈے جارہے ہیں۔ نیلامی کے بعد کیا ہوگا؟ مالک بدل جائے گا۔ بینک وہی، کمپنی وہی، ورکر وہی، پروسیجر وہی۔ تو اگر یہ آپ کی پالیسی ہے تو صاف کہہ دیجئے کہ پچاس سال سے جن لوگوں نے محنت کی ہے، ہم ان کو سزا دینا چاہتے ہیں او رنئے لوگوںکو لانا چاہتے ہیں۔
مجھے خوشی ہے ارون جیٹلی کے بیان سے کہ نیشنلائزڈ بینکوںکے پرائیویٹائزیشن کرنے کی ابھی کوئی تجویز نہیں ہے۔ یہ سن کر مجھے بہت راحت ملی۔ ایک دن ورنہ پتہ چلتا کہ پنجاب نیشنل بینک کو ہی نیرو مودی نے خرید لیا۔ یہ کھلواڑ نہیںہے۔ پودھے کو سینچ کر بڑی مشکل سے کوئی بڑا کرتا ہے ، جو ایک آندھی میںٹوٹ سکتا ہے، اسے روکئے۔ عقل مند لوگ چاہے ورلڈ بینک میںہوں چاہے انڈیا میںہوں یا جہاں کہیں بھی ہوں، ان کی صلاح لینے میںکوئی شرم کی بات نہیںہے۔ این سی ایل ٹی کا جو روڈ رولر آپ نے چلا دیا ہے، اس کو روکیے۔ این سی ایل ٹی سے پہلے بی آئی آر ایف تھا، جس کے بارے میںارون جیٹلی نے کہا، وہ فیل ہوگیا۔ بی آئی آر ایف کا مقصد کمپنیوں کو نئی زندگی دینا تھا۔ کسی کمپنی کو بچانے کے لیے تھوڑا تیاگ بینک کرے، تھوڑا پروموٹر کرے او رورکر بھی اس میں شامل ہوں۔ این سی ایل ٹی کو بیچ میںلانا ٹھیک نہیںہے۔ این سی ایل ٹی کا کام یہ ہے کہ روپیہ وصول کر لو، چاہے ان کے لیے نیلامی ہو جائے۔ اگر یہ دلیل چلی تو امریکہ بول دے گا کہ انڈیا کو نیلام کرو۔ ان کو ہندوستان سے کوئی مروت نہیں ہے لیکن ہمیںتو ہے۔ 125 کروڑ لوگ یہاںرہتے ہیں، ہم کوتو اس کو چلانا ہے۔ یہ ہمارا گلستاں ہے۔ سرکاریںتو آتی ہیں، جاتی ہیں۔ یہ سرکار چار سال سے چل رہی ہے۔ چار سال میںایک بھی حصولیابی نہیںبتا سکتے ہیں کہ ملک کا ہم نے یہ فائدہ کیا۔پہلے سے جو اسکیم چل رہی ہے، وہ چل رہی ہے۔ موجودہ سرکار یہ بات کر رہی تھی کہ ہم ثقافت بد ل دیںگے، سیاسی ثقافت بدل دیںگے۔ ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔
یہ این سی ایل ٹی کیا ہے؟ 2003 میںجب ارون جیٹلی کارپوریٹ منسٹر تھے، تب انھوںنے اسے ڈرافٹ کیا تھا۔ پھر 2004 سے 2014 تک کانگریس سرکار تھی۔ 2013 میںسچن پائلٹ نے بغیر سوچے سمجھے اسے منظور کرایا تھا اور اب پھر ارون جیٹلی اسے یہ لاگو کررہے ہیں۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ بھاری نقصان ہوا ہے اور زیادہ نقصان ہونے جارہا ہے۔ جہاںتک اقتصادی حالت کا سوال ہے تو سب سے پہلے صنعتوں کی تباہی کو روکئے۔ جو نوکریاںبچی ہیں، انھیں سنبھالیے۔ ہاںیہ ضرور ہوسکتا ہے کہ اگر کمپنی ٹھیک نہیںچل رہی ہے تو اس میںدو ڈائریکٹر اور بٹھا دیجئے لیکن کل ملاکر ملک کا مفاد کمپنی بند کرنے میں نہیں ہے، نہ نیلام کرنے میں، یہ سمجھنا ضروری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *