رام لیلا میدان میں اناہزارپھربھوک ہڑتال پربیٹھے

anna
سماجی کارکن انا ہزارے ایک بار پھر 7سال بعد رام لیلا میدان میں انہیں مطالبات کو لے کرلوٹ آئے ہیں جو انہوں نے مرکز کی یوپی اے کی حکومت کے دوران کئے تھے۔ اس بار ان کے مطالبات میں کسانوں کے مدعے بھی شامل ہیں۔اس بار ان کی تین مانگیں ہیں خودکفیل کسان، مضبوط لوک پال اور انتخابی اصلاح۔ انا ہزارے کے منچ پر کوئی نہیں ہے۔ منچ کے نیچے کسان اور دیگر تنظیموں کے رہنما اپنے اپنے مسائل رکھ رہے ہیں۔ منچ کے ساتھ ایک دیگر منچ بھی بنایا گیا ہے جس میں غیر میعادی بھوک ہڑتال کولے کر انا کے ساتھی انہیں کی طرح انشن پر بیٹھے ہیں۔
اس بار گذشتہ تحریک کے مقابلہ تعداد کم ہے۔ تحریک جن مدعوں کو لے کر چلی تھی ، اس کے برعکس اب کسانوں پر زیادہ توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ یہاں پر آئے زیادہ تر لوگ کسی نہ کسی کسان تنظیم سے وابستہ ہیں۔ حالانکہ تحریک کی شکل پہلے جیسی ہی دکھائی دے رہی ہے۔ اس بار بھی لوگ ترنگا لہراتے، سر پر سفید ٹوپی جس میں ستیہ گرہ، انا ہزارے اور میں انا ہوں، لکھا ہے۔ اس بار انا نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کا تعاون نہیں لیں گے۔ انا جمعہ کی صبح 9بجے دہلی کے مہاراشٹر بھون سے مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت دینے پہلے راج گھاٹ پہنچے۔ اس کے بعد فیروز شاہ کوٹلہ سے ملحق شہیدی پارک ہوتے ہوئے تحریک گاہ رام لیلا میدان دوپہر میں پہنچے۔
اس سے پہلے سماجی کارکن انا ہزارے نے مرکزی حکومت پر بے توجہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تحریک کے راستہ میں رخنہ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک گاہ پر لوگوں کو پہنچنے سے روکنے کے لئے حکومت نے ٹرین منسوخ کردی ہے۔ حکومت نے ان کی سیکورٹی میں کافی تعداد میں پولس فورس تعینات کیا ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ انہیں پولس سیکورٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ تحریک جیسے آگے بڑھے گی ، یہاں آنے والوں کی تعداد بھی بڑھے گی۔ 14کسان تنظیمیں اس تحریک کو حمایت دے رہی ہیں۔ انا پہلے ہی اپنی کسانوں سے متعلق مطالبات کو واضح کرچکے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *