ہندومہاسبھاکامتنازعہ کلینڈر، کعبہ سمیت کئی مسلم عمارتوں کومندربتایا

Aligarh-Hindu-Mahasabha-Cal
علی گڑھ میں اکھل بھارتیہ ہندومہاسبھانے ہندونئے سال کے موقع ایک کلینڈرجاری کیاہے، جس کولیکرتنازعہ کھڑا ہوگیاہے۔ تاج محل کوتیجومہالیہ اورمکہ کومکیشور مہادیوبتانے کے بعد ہندومہاسبھانے اپنا نیاہندوایئرکلینڈرجاری کیاہے۔ اتناہی نہیں کیلنڈرمیں قطب مینار کووشنواستنبھ بتایاگیاہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق، یہ کلینڈر ہندومہاسبھاکی علی گڑھ شاخ نے اتوارکوجاری کیاہے۔ خبروں کے مطابق، اس پہلے ہندومہاسبھانے ہفتہ کوایک اورکلینڈر جاری کیاتھا۔
اس کلینڈرمیں مغل دورکے سات مسجدوں اوریادگاروں کوہندومندر بتایاگیا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ تاج محل کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام مکہ یعنی کعبہ کوبھی ہندومندر بتایاگیاہے۔اس کے علاوہ اس کیلنڈر میں مدھیہ پردیش کے کمل مولامسجدبھوج شالہ اورکاشی کی گیان ویاپی مسجدکووشوناتھ مندر بتایاگیاہے۔اس کے علاوہ اٹالامسجد کواٹالا دیوی مندراوربابری مسجدکورام جنم بھومی بتایاگیاہے۔
نیوزپورٹل’پل-پل انڈیا‘کے مطابق، اس کلینڈرکے بارے میں ہندومہاسبھاکے قومی جنرل سکریٹری پوجاشکون پانڈیہ کاکہناہے کہ ہندونئے سال کا استقبال ان لوگوں نے ہون کے ساتھ کیاہے۔اس موقع پرہندونئے سال کا کلینڈرجاری کیاگیاہے اورمطالبہ کیاگیاہے کہ ملک کوہندوراشٹرقراردیاجائے۔پوجاشکون پانڈیہ نے کہاہے کہ یہ سبھی نام واشرنے کالج علی گڑھ کے اتہاس کے ریٹائرڈ پروفیسر بی پی سکسینہ کے ذریعہ تصدیق شدہ ہیں۔وہیں پروفیسر سکسینہ نے کہاہے کہ یہ ساتوں وراثت ہندوؤں کی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں    برطانوی ٹیچر کو ہندوستان کے فاؤنڈیشن کا اعزاز
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *