اسلام اپنے اخلاق وکردار سے پھیلا ہے:مفتی حرم

ahle-hadeec-conference
ہماراپیغام امن عالم کو عام کرناہے، اسلام کے معنیٰ امن وسلامتی کے ہیں یہی پیغام تمام مسلمانوں کو بحیثیت خیرامت عام کرنا فرض ہے۔ ہم اہلحدیث ،عالمی اخوت وبھائی چارہ اور قومی یکجہتی کے علبردار ہیں۔ اہلحدیثوں نے دیش کی آزادی سے لیکر آج تک تعمیر وترقی میں اپنا کردار نبھایا۔ ہندو ،مسلم، سکھ ،عیسائی ، شیعہ سنی بھائی بھائی کا نعرہ وہ آج بھی لگاتی ہے۔ اور وہ کام جس سے نفرت کو ہوا ملے، دہشت گردی کو شہ ملے، اہل حدیث اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔وطن عزیز میں سب سے پہلے ہم ہی نے مختلف اسٹیج سے دہشت گردی کا اجتماعی وانفرادی فتویٰ ریلیز کیا، بحیثیت مسلم تنظیم ہم آلودگی ،شراب نوشی اور تمام طرح کی انسانیت کے لیے نقصاندہ چیزوں سے بچنے کی تلقین ، وطن سے محبت اور اس پر مرمٹنے کی عملی وقولی ترغیب وتعلیم ہم نے دی اور آج بھی ہم اس کے علبردار ہیں۔ ہماری دینی جمعیتیں،جامعات ومدارس،علماء اور طلبہ اور ائمہ اللہ کی رضا کے لئے حب الوطنی اور انسان دوستی کا پیغام دیتے ہیں۔ کسی طرح ظلم حتی کے جانوروں اور جمادات ونباتات کے ساتھ میں فساد کو روانہیں سمجھتے۔ شکم مادر میں بچیوں کو مارنا زندوں کے مارنے کے برابر جرم ہے۔
ہم کسی بھی قیمت پر بے راہ روی ،لسانی ،علاقائی اور عنصری عصبیات، جنسی تشدد، عریانیت و فحاشی اور بے حیائی و بے شرمی ، جمہوری اقدار کی پامالی ، عورتوں کی اہانت ، لڑکی ہونے کی وجہ سے شکم مادر میں جنین کشی، شراب نوشی ، منشیات کی کثرت اور آلودگی کا پھیلاؤ جیسی برائیوں کووقو ع پذیرنہیں ہونے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کیا، موصوف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام 9مارچ رام لیلا میدان میں ’’قیام امن عالم اور تحفظ انسانیت‘‘ کے عنوان پر منعقدہ دور روزہ عظیم الشان آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں خطبہ صدارت دے رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وحشت و بربریت اور دہشت گردی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔سودخوری، شراب نوشی اور دیگر منشیات کا استعمال عام ہے۔قماربازی، شادیوں کی بے جا رسوم اور جہیز کی لعنت سے انسانیت کراہ رہی ہے، انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں رہ گئی ہے، قانون بنتے ہیں، مظاہرے ہوتے ہیں، سڑکیں جام ہوتی ہیں،مجرم کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا جاتا ہے لیکن کچھ دنوں کے بعد قانون کے نرم گوشوں کا سہارا لے کر مجرم جیل سے باہر ہوتا ہے۔ ان سب جرائم کے مقابلے میں ہم کو اصلاح اور سماج سدھار کی کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ امن و شانتی کے پیغام کو عام کرنے پر قائم رہیں۔ دین سے اپنا رشتہ استوار رکھیں۔استقامت اختیار کریں کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل پیراہوں۔ بزرگوں کے احترام کرنے میں اپناکردار اداکرتے رہیں۔ امامان دین کی عزت وتوقیر کریں۔ تزکیہ واحسان،اخوت وبھائی چارہ انسان کو فتنوں اور شر و فساد کا مقابلہ کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ اتحاد ویکجہتی کے بغیر دہشت گردی اور دیگر سماجی برائیوں کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔ اپنے اسلاف کی طرح دین ووطن کے لئے قربانی اور خدمت پیش کرتے رہیں۔
اس موقع پر فضیلۃ الشیخ مفتی حرم مسجد نبوی ابراہیم بن ابراہیم الترکی حفظہ اللہ نے نماز جمعہ کی امامت کی ۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اسلام دین رحمت ہے، یہ تشدد کا دین نہیں ہے ۔ اسلام اپنے اخلاق وکردار سے پھیلا ہے۔ وہ انسانی جان و مال اور عزت وآبرو کا محافظ ہی نہیں ہے بلکہ وہ چرند و پرند کے حقوق کا بھی نگہبان ہے۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ ہندوستان کو امن کا گہوارہ بنائے۔ اور تمام شہریوں کی حفاظت فرمائے۔
قبل ازیں صدر مجلس استقبالیہ مولانا عبدالرحمن عبید اللہ رحمانی نے اپنا خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند حسن کارکردگی میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے، اس کی حصولیابیاں لائق تحسین ہیں، مختلف میدانوں میں اس نے کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں۔ میں جب دہلی آیا تو محسوس کیا کہ جمعیت میں حرکت ونشاط ہے تمام جہات میں موجودہ قیادت نے کافی پیش رفت کی ہے، اور نازک سے نازک حالات میں بھی ہم سب کی رہنمائی کی ہے، خواہ طلاق کا قضیہ ہو ، مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا معاملہ ہو یا بابری مسجد، قضیہ فلسطین ہو، دیگر اہل مذاہب کے نظریات اور مسالک کے ساتھ عادلانہ واعتدال پسندانہ رویہ اپنایا ہے ،جو لائق تعریف ہے۔ دہشت گردی و دیگر عالمی، ملکی ، ملی و جماعتی مسائل میں مختلف ذرائع سے صحیح رہنمائی اور بروقت اعتدال پسندانہ کارروائی سے شاد کام فرمایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی فرض قرار دیا ہے اور ان کی طرف بار بار مختلف اندازاور اسلوب میں توجہ مبذول کرائی ہے اور ان پراجر و ثواب کی بشارت سنائی ہے نیز ان حقوق کی عدم ادائیگی پر وعید اور عذاب کی دھمکی د ی ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر ودیگرذمہ داران اس عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد اورموضوع کے انتخاب پر پوری جماعت وملت وملک اورانسانیت کے شکریہ کے مستحق ہیں۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمدہارون سنابلی نے افتتاحی خطاب میں ملک وبیرون ملک سے تشریف لائے تمام علماء کرام،عمائدین ملک وملت ،ذمہ داران وافراد جماعت اوربرادران ملت کا استقبال کرتے ہوئے ان کا شکریہ اداکیا اور کہاکہ آج پوری انسانیت کو امن وآشتی کی ضرورت ہے ۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اس کانفرنس کے ذریعہ اسلام کے اسی پیغام کو عام کرنا چاہتی ہے۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندالحمدللہ ہر میدان میں مثبت طور پر سرگرم عمل ہے اور ملک وملت وانسانیت پر اس کے اچھے نتائج برآمد ہورہے ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ان دنوں ہمارا ملک بڑے مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ بعض طاقتیں دوسروں کو محروم کرنا چاہتی ہیں، لیکن ان کو معلوم نہیں کہ یہ آزمائشیں ہمیں مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ بخشتی ہیں ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو امن وانسانیت کے عنوان پر عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس میں شرکت کو باعث سعادت سمجھتا ہوں اور اس کی کامیابی کی دعا کرتاہوں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *