بی جے پی كی 2019كی انتخابی پالیسی كیا هوگی؟

ائوس میں وزیراعظم نریندر مودی نے جو تقریر کی، اس کی چاروں طرف تعریف ہورہی ہے ۔لوگ بس اتنا کہہ رہے ہیں کہ اس تقریر کا اسٹیج صحیح نہیں تھا۔ وہ تقریر اگر ہندوستان میں یا کسی ویدک سمینار میں ہوتی تو زیادہ متعلقہ ہوتی۔دراصل دائوس میں جو لوگ اکٹھا ہوئے تھے، وہ وزیراعظم سے اقتصادی ترقی کا روڈ میپ جاننا چاہتے تھے۔ لیکن وزیراعظم مودی نے جو طے کیا، اسے ہی ماننا چاہئے کہ یہ ہندوستان کا اگلے سال بھر کا نقطہ نظر ہے۔ اس رپورٹ میں وزیراعظم نریندر مودی سے جڑے ہوئے ایشو زیادہ اس لئے آئیں گے کیونکہ ملک کے چلانے کا اکلوتا سمبل خود وزیراعظم مودی ہیں۔ چاہے ہماری خارجہ پالیسی کا تعین ہو یا پھر خارجہ پالیسی کو لیکر انٹرنیشنل دورے ہوں، ہر جگہ وزیر اعظم مودی نظر آتے ہیں۔کہیں پر بھی وزارت خارجہ یا وزیرخارجہ سشما سوراج کا چہرہ نظر نہیں آتا ہے۔ اب اقتصادی سوالوں کو لے کر روڈ میپ ہو، ہندوستان میں ترقی کے اعدادو شمار ہوں، نوکریوں کا جال ہو یا اپوزیشن کے اوپر طنز ہو،اسکویڈ ہو، ان سب کے اعلیٰ رہنما خود وزیر اعظم نریندر مودی ہیں ۔ اسی لئے’ گجرات کے بعد بی جے پی نے کیا سیکھا‘ ، اس رپورٹ کے سینٹر میں امیت شاہ نہیں، بلکہ خود وزیراعظم مودی ہی دکھائی دیں گے۔ امیت شاہ صرف وزیر اعظم مودی کے دیئے ہوئے سبق یا سمت و احکامات کو کامیابی کے ساتھ عملی جامہ پہنانے والے ان کے بھروسہ مند مانے جائیںگے۔
حکومت ہند لوک سبھاانتخابات کی تیاریوں میں لگ گئی ہے۔ اس کا آغاز گجرات سے ہوا۔ جہاں گجرات میں ایک مہینے سے زیادہ مکمل مرکزی کابینہ، ریاستوں کے وزراء اعلیٰ ، ریاستوں کے اہم وزیر اور بی جے پی کے تمام لیڈر ، جن میں اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے لوگ شامل نہیں ہیں، یہ سب گجرات میں دن رات محنت کرتے دکھائی دیئے۔ شاید اس کے پیچھے یہ وجہ رہی ہو کہ خفیہ ایجنسیوں نے جانکاری دی ہوگی کہ لوگوں کا غصہ بی جے پی سے کچھ زیادہ بڑھ گیاہے اور انہیں کم سیٹیں مل سکتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم مودی کارکن کی طرح گجرات کے قصبے قصبے میں گھومے۔ انہوں نے فلائی اُوور تک کے افتتاح کئے۔ گجرات کا الیکشن 2019 کے لوک سبھا الیکشن کی طرف پہلا قدم مانا جاسکتا ہے۔ گجرات میں بی جے پی کو 99سیٹیں ملیں۔ بی جے پی نے اسے اپنی عظیم کامیابی کی شکل میں دکھایا۔ اسی وقت اترپردیش میں مہانگروں کے انتخابات ہوئے۔ احمد آباد میں جو میئر جیتے ، ان کا یک گرانڈ ویلکم ہوا۔ یہ الیکشن کئی سارے سوال چھوڑ گئے لیکن ہندوستان کے لگ بھگ سارے ٹیلی ویژن چینل اور اخبارات اس الیکشن کو مستقبل کے بڑے اشارے کی شکل میں دیکھنے لگے ۔

 

 

 

 

 

 

 

2018 کا سب سے عظیم انٹرویو
اس الیکشن کے بعد وزیراعظم مودی نے کچھ اعلانات کئے۔ ان اعلانات میں ایک اہم اعلان یہ تھا کہ ان کا تخمینہ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کی بنیاد پر نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک میں وکاس کی جو بنیادیں رکھی ہیں، اس کی بنیاد پر ان کاتخمینہ ہونا چاہئے۔ ماہرین اقتصادیات کو لگا کہ شاید وزیر اعظم نریندر مودی نے جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کو لے کر اپنی غلطی قبول کی ہے۔ وزیراعظم مودی نے پھر کہا کہ انہوں نے لوگوں کو لگ بھگ دس کروڑ روزگار دیئے ہیں۔ انہوں نے ایک ہندی ٹیلی ویژن چینل کو اپنا مشہور انٹرویو یہ کہہ کر دیا کہ اس ٹیلی ویژن چینل کے دفتر کے سامنے جو پکوڑے بیچتا ہے،کیا وہ روزگار نہیں ہے؟جو لوگ گھروں  میں اخبار پھینکتے ہیں، کیا وہ روزگار نہیں ہے؟ایسے کئی کام انہوں نے سرکار کی حصولیابیوں میں گنا دیئے ۔ اس انٹرویو کو 2018 کا سب سے عظیم انٹرویو کہا گیا۔ ایک انگریزی ٹی وی چینل کو دیئے انٹرویو میں وزیراعظم مودی نے جس طرح سوالوں کے جواب دیئے، اس سے لگا کہ دونوں ٹیلی ویژن چینلوں کو سوالوں کی فہرست پہلے تھما دی گئی تھی۔ دونوں ٹیلی ویژن چینل مشتہر کرتے نظر آئے کہ وہ ملک میں ہندی اور انگریزی کے اکیلے ٹیلی ویژن چینل ہیں، جنہیں وزیر اعظم مودی نے 2018 کا سب سے اہم انٹرویو دیاہے۔ اب یہ صحافیوںکو طے کرنا ہے کہ وہ دونوں انٹرویو وزیراعظم مودی کے جواب نہیں ہیں۔ وہ صحافیوں کے ذریعہ پوچھے جانے والے سوالوں کی بنیاد پر ہمیں طے کرنا ہے کہ کیا ان میں کوئی صحافیانہ خوبی یا تیور ہے۔ لوگوں نے تو شاید طے کر لیا ہے ،اس لئے ان دونوں انٹرویو کے پیش کرنے والے صحافی ملک میں صحافیوں کی نظر میں سب سے مضحکہ پوزیشن میں ہیں۔ جب آپ انٹرویو کلیپنگ دیکھیں گے تو وہ چاہے ہندی کے ہوں یا انگریزی کے، دونوں صحافیوں کے چہرے ان کے موقع کی نزاکت کا اظہار کررہے ہیں۔
صحافی صرف سرکار کی تعریف کریں
بی جے پی 2019 کا الیکشن جیتنے کے لئے کیا پالیسی بنا رہی ہے، یہ سوال آج اٹھنا لازمی ہے۔ ہندوستانی سرکار یا بی جے پی یہ نہیں بتا رہی ہے کہ پچھلے چار سالوں میں انہوں نے لگ بھگ 50 اعلانات کئے تھے۔ ان 50 اعلانات میں ہم کہاں تک پہنچے؟شاید بی جے پی اور سرکار کا یہ ماننا ہے کہ جب انہوں نے اعلانات کر دیے تو اس کے اوپر عمل بھی ہوا ہے اور اس پر عمل کو دیکھنے کی ذمہ داری اب صحافیوںکی نہیں ہے۔ صحافیوں کی ذمہ داری صرف ان قدموں کی تعریف کرنے کی ہے اور انہیں ملک کی تاریخ میں حیرت انگیز قدم بتانے کی ہے ۔انہیں دیکھنے کی ذمہ داری عوام کی ہے۔ اگر عوام کے پاس آنکھیں ہوں، تو وہ اپنے آپ دیکھ لیں کہ وہ وکاس کے کتنے عظیم دور میں پہنچ گئے ہیں جنہیں یہ دکھائی نہ دے، انہیں یہ مان لینا چاہئے کہ ان کی نفسیاتی بیماری سرحد پار کر گئی ہے۔انہیں ان لوگوں کے کوڑے سہنے پڑیںگے جو لوگ سرکار کے بتائے قدموں کی تنقید کرتے ہیں۔
ایک راشٹر ، ایک الیکشن کا سیاسی مقصد
بی جے پی کا 2019 کا کیا انتخابی ایشو ہوگا؟بی جے پی کے چکر ویوہ میں اپوزیشن کس طرح پھنسے گا؟یہ سارے سوالات ہیں، جن کا جواب ہم اس مضمون میں تلاش کریں گے۔ ایک چیز کا سچ سامنے آیا ہے کہ اس ملک میں ایک ساتھ لوک سبھااور اسمبلی کے الیکشن ہوں، تو اس سے خرچہ بھی کم ہوگا اور چھپے معنی میں بی جے پی کو فائدہ بھی ملے گا۔ چاہے ریاستی سرکاروں کے کاموں کو لے کر غصہ ہو یا مرکزی سرکار کے کاموں کو لے کر شک ہو ۔ ،اس کا اثر بی جے پی کے مستقبل پر نہیں پڑے گا۔ اب وزیراعظم نے بھی کھلے عام کہہ دیا ہے کہ اس ملک میں ’ایک راشٹر ایک الیکشن‘ ہوناچاہئے۔ اس کے لئے شاید آئین میں ترمیم کرنا پڑ سکتی ہے، اسے بھی بی جے پی کرنا چاہے گی۔جمہوری یا پارلیمانی نظام میں اگر نامعلوم اسباب سے پارلیمنٹ یا ریاستوںکی اسمبلیاں معطل ہوتی ہیں تو معطل ہونے کے 6 مہینے کے اندر دوبارہ الیکشن ہونا چاہئے۔ ملک کی تمام اسمبلیوں میںاگر دو یا تین اسمبلی پارٹی بدلنے کی وجہ سے یا 356 لگنے کے سبب سرکاریں جاتی ہیں اور کوئی سرکار نہیں بن پاتی ہے تو اس صورت میں ازسر نو الیکشن ناگزیر ہے ۔اب ممکنہ طور پر ترمیم کرنا پڑ سکتا ہے کہ چاہے جب بھی کسی ریاست کی اسمبلی معطل ہو تو وہاں الیکشن نہیں ہوں گے چاہیجتنی بھی مدت باقی رہے ، چاہے وہ چار سال یا ایک سال کی مدت ہو،تو اس مدت میں اسمبلی الیکشن نہیں ہوں گے۔ وہاں صدر راج چلے گا۔ مرکز صدر راج کے نام پر ان ریاستوں کی حکومت چلاتا رہے گا۔ ’ایک ملک ایک الیکشن‘ ایک بار تو ہو سکتا ہے لیکن ہم یہ گارنٹی کیسے دے سکتے ہیں کہ کسی ریاست کی اسمبلی معطل نہیں ہوگی یا ایم ایل ایز کے درمیان ایسی حالت کبھی نہیں بنے گی کہ دوبارہ الیکشن کی نوبت آئے ۔نیپال میں یہ دستور ہے کہ وہاں راشٹر پنچایت کا چنائو چھ سال میں گا ۔اس بیچ چاہے جو صورت حال بنے ، راجا حکومت چلائے گا یا صدر راج چلائیں گے ۔ نیپال کے اسمبلی کے حساب سے چھ سال سے پہلے الیکشن نہیں ہوں۔شاید بی جے پی بجٹ سیشن میں وہی حالت ہندوستان میں لانے کی کوشش کرسکتی ہے۔
90 فیصد اراکین پارلیمنٹ کو ٹکٹ نہیں
بی جے پی نے لگ بھگ یہ طے کر لیا ہے کہ موجودہ لوک سبھا کے ان کی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو اس بار لوک سبھاکا ٹکٹ نہیں دیا جائے گا ۔یہ بات کچھ لیڈروں کے اندازے میں آگئی ہے۔ اسی وجہ سے پچھلے لوک سبھا سیشن کے دوران وہپ کے باوجود پارلیمنٹ میں100 اراکین بھی نہیں پہنچے اور بی جے پی کی قیادت ان 100 اراکین کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔
بی جے پی پورے ملک میں چانکیہ سروے ایجنسی کے ذریعہ ایک سروے کرا رہی ہے،جس سے وہ اندازہ لگاناچاہتی ہے کہ کون رکن پارلیمنٹ جیتے گا اور کون نہیں جیتے گا۔ چانکیہ کے ذریعہ کئے جانے والے سروے کی کچھ لوگوں سے یہ خبر ملی ہے کہ کہ بی جے پی کے زیادہ تر اراکین کے خلاف مرکزی سرکار کے ذریعہ کئے جارہے کاموں پر عمل نہیںہونا اور ان کے ذریعہ بڑی بڑی توقعات کے اندازے لگانا اراکین کے خلاف غصے کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔ شاید اسی لئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ 90 فیصد اراکین کو ٹکٹ نہ دیئے جائیں۔
الپیش اور امیت شاہ کی خفیہ میٹنگ
اس وقت بی جے پی کے سامنے جو اہم سوال ہے اور جس طریقے سے بی جے پی کا راشٹریہ سنگٹھن چل رہاہے ، وہ اس نئی قیادت کے طریقہ کار کا نتیجہ ہے۔ ہمارے پاس ایک حتمی جانکاری آئی ہے جسے ہم آپ سے شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ گجرات الیکشن میں دو لوگ الیکشن لڑے جس کا الیکشن میں بہت چرچا ہوا ۔ان میں ایک الپیش ٹھاکور اور دوسرے جگنیش میوانی ہیں۔ ہاردک پٹیل کی عمر نہیں تھی، اس لئے وہ الیکشن نہیں لڑ پائے۔ الپیش ٹھاکور کانگریس کے پاس کیسے پہنچے اور انہیں ٹکٹ کیسے ملا ،یہ کہانی سو فیصد سچ ہے۔ اسے ہم آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ دراصل الپیش ٹھاکور بی جے پی میں شامل ہونے گئے تھے۔ وہ بی جے پی صدر امیت شاہ کے گھر بھی پہنچے۔ امیت شاہ نے انہیں عزت سے بٹھایا۔ انہوں نے وہاں بیٹھے ایک آدمی سے ان کاتعاورف کروایا اور کہا کہ یہ بھوپندر یادو ہیں۔یہ اتنے طاقتور ہیں کہ گجرات کے راجا ہیں۔ یہ اتنے طاقتور ہیں کہ وزیراعظم بھی ان کی جانکاری کے بغیر گجرات نہیں جاسکتے۔ الپیش ٹھاکور نے انہیں سلام کیا ۔صدر امیت شاہ نے الپیش ٹھاکور کوبھوپندر یادو کی دانشمندی ، ان کی سمجھ اور پورے گجرات کے الیکشن کو آپریٹ کرنے کے بارے میں بہت زیادہ تعریف کی۔ الپیش ٹھاکور کو لگا کہ انہیں اگر بی جے پی میں شامل ہونا ہے تو انہیں امیت شاہ کے اشارے کے حساب سے بھوپندر یادو کے اشاروں پر کام کرنا پڑے گا۔ انہوں نے من ہی من اسے قبول بھی کر لیا۔ 10منٹ کے بعد امیت شاہ نے بھوپندر یادو سے کہا ، بیٹا اندر آئو اور ہمارے لئے چائے اور بسکٹ لے آئو، بھوپندر یادو آرام سے اٹھے اور بسکٹ اور چائے لانے چلے گئے۔ الپیش ٹھاکور کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا؟انہوں نے امیت شاہ سے پوچھا کہ ابھی تو آپ اتنی تعریف کررہے تھے کہ یہ راجا ہیں، یہ سمجھدار ہیں۔ ان کی اجازت کے بغیر وزیراعظم بھی گجرات نہیں جا سکتے ہیں اور ابھی آپ نے کہا کہ چائے اور بسکٹ لے آئیں۔ امیت شاہ مسکرائے ، انہوں نے کہا کہ الپیش، یہ تمہاری اور میری طرح لیڈر نہیں ہیں۔یہ سارے لوگ اسی سطح کے ہیں۔ اس واقعہ نے الپیش ٹھاکور کے دماغ میں سنسناہٹ پیدا کر دی ۔وہ یہ سوچنے لگے کہ مجھے نائب وزیراعلیٰ بنانے کا وعدہ کرنے والے امیت شاہ بی جے پی میں شامل کرنے کے بعد اگر مجھ سے فرش پر پونچھا لگوا لیں تو وہ بھی کوئی تعجب کرنے والی بات نہیں ہوگی۔ وہ چائے پی کر وہاں سے نکلے اور پھر انہوں نے معلوم کیا کہ وہ کانگریس کے لوگوں کے ساتھ کیسے مل سکتے ہیں۔ وہ راہل گاندھی سے ملنا چاہتے تھے۔ ان کے پاس راہل گاندھی سے ملنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ تب انہوں نے اپنے ایک تیسرے دوست سے بات کی۔ اس نے کہا کہ آپ راہل گاندھی سے سیدھے ملنے کی جگہ اشوک گہلوت سے ملئے۔ الپیش ٹھاکور نے وہی کیا۔ وہ اشوک گہلوت سے ملے۔ جہاں سے ان کی کانگریس میں جانے کی کہانی اور کانگریس کے ساتھ مل کر کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی تیاری شروع ہوئی۔ بی جے پی سے جڑے زیادہ تر اراکین پارلیمنٹ اور لیڈر بی جے پی کے پچھلے صدور، چاہے وہ مرلی منوہر جوشی کا دورِ کار ہو، چاہے اڈوانی جی کا یاپھر راجناتھ سنگھ کا ، کے ادوار کو یاد کرتے ہیں۔ اس دوران پارٹی کا ان کے تئیں رویہ اور موجودہ صدر کے وقت ان کے ساتھ سلوک میں انہیں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔
آپسی رضامندی سے ہوتی ہے ہند-پاک جنگ
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پا کستان کے ساتھ محدود جنگ ہو سکتی ہے؟اعلیٰ سطحی ذرائع کے مطابق جب جب ہندوستان اور پاکستان میں جنگیں ہوئی ہیں،تب تب ہندوستان بھی اپنے مسائل سے نمٹنے میں جزوی طور پر کامیاب رہا ہے، کیونکہ اس کے اصل مسائل پس پردہ چلے جاتے ہیں اور ملک آگے ۔ اس کے بعد جو بھی مسائل ہیں،وہ جنگ کے سر گئے اور پاکستان سرکار نے بھی اپنے مسائل سے اپنے کو آسانی کے ساتھ الگ کر لیا ۔ کچھ پالیسی اور غیر ملکی معاملوں کے جانکاروں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ جتنی بھی جنگیں ہوتی ہیں، وہ دونوں سرکاروں کی ملی بھگت کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ اس بار اگر یہ رائے پاکستان یا ہندوستان کے کچھ لیڈروں کے دماغ میں آئی کہ اگر جنگ ہو جاتی ہے اور اگر دس دنوں کی محدود جنگ ہوتی ہے تو دونوں ملک اپنے مسائل سے الگ جاکر دوبارہ اپنی اپنی سرکار قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیںگے لیکن اس میں ایک پینچ سامنے آیا اور وہ پینچ تھا چین۔ اگر چین نے پاکستان کو اکسا دیاکہ تم دس دن کی جگہ 23 دن کی جنگ کر لو تو ہندوستان کی معیشت کو اس سے بڑا دھکا لگ سکتا ہے۔ دوسرا اس بار پوری دنیا کی دہشت گرد تنظیمیں کہیں پاکستان کے پہلو میں نہ کھڑی ہو جائیں، یہ بھی خطرہ تھا۔ اس لئے اس تجویز کو مسترد کر دیاگیا۔ اب ایک نئی پالیسی پر کام ہورہا ہے ۔شاید وہی پالیسی 2019 کے لو ک سبھا الیکشن میں بی جے پی کے لئے رام بان کا کام کرنے والی ہے۔
2019 سے پہلے ہوگا رام مندر کا فیصلہ
سپریم کورٹ میں رام مندر کو لے کر ایک فروری سے ہر دن سنوائی ہو رہی ہے۔ سرکار کا اندازہ ہے کہ ستمبر میں رام مندر پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے گا۔ فیصلہ آنے کے پندرہ دن کے اندر لوک سبھا الیکشن کرانے کا فیصلہ لے لیا جائے گا۔ملک میں ایک ایسی سرکار پھر سے چننے کی مہم ہوگی جس نے ایودھیا میں رام مندر بنانے کا ناممکن کام کردکھایا ۔ اس وقت ہندوستان کے 60فیصد سے زیادہ لوگ بی جے پی کے ساتھ کھڑے ہوںگے۔یہ سوچ بی جے پی کے عظیم پالیسی سازوں کی ہے اور شاید وہ صحیح ہیں۔ کچھ اشارے بی جے پی کے اندر سے آرہے ہیں، جن میں ایک سبرامنیم سوامی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بی جے پی کے خیالات کے حساب سے رام مندر کے حق میں ہی آئے گا اور شاید وہ غلط نہیں سوچ رہے ہیں۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا اسی کے ساتھ دفعہ 370 اور کامن سول کوڈ کا آرڈیننس بھی ہندوستانی سرکار لے آئے گی۔ آرڈیننس لانے کے ساتھ ہی وہ ملک کے لوگوں سے کہے گی کہ اگر انہیں ’ون نیشن اینڈ ون لاء ‘ چاہئے اور اگر کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بنانا ہے تو انہیں اس آرڈیننس کو آئین میں بدلنے والی سرکار لانی ہوگی اور انہیں پورا یقین ہے کہ ملک کے لوگ بی جے پی کو ہی دوبارہ چنیںگے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ روزگار چھیننے والی معیشت ہے۔
اہم ایشو رام مندر اور دو دیگر اہم ایشوز ،جن میں دفعہ 370 اور کامن سول کوڈ شامل ہیں،یہ بی جے پی کے لئے پورے اپوزیشن کو تباہ کرنے والے ایشوز لگ رہے ہیں ۔انہی کے اوپر بی جے پی کے اندر دن رات کام ہو رہا ہے۔ شاید وہ اس لئے بھی ہو رہاہے کیونکہ پچھلے سال بھر کے اندر بے روزگاری بہت بڑھی ہے اور امکان یہ بھی ہے کہ 2018 میںبے روزگاری اور بڑھے گی۔ ٹیکسٹائل اور کنسٹرکشن سیکٹر سے نکلے ہوئے بے روزگار بہت بے حال ہیں۔ ان میں زیادہ تر ہندوستان کے دیہی علاقوں سے آتے ہیں ۔ اندازہ یہ ہے کہ لگ بھگ ایک کروڑ لوگ اس سال آئی ٹی سیکٹر سے بھی نکالے جائیںگے۔ بنیادی طور پر انڈین آئی ٹی کمپنیوں نے چھٹنی کی شروعات کر دی ہے۔ آئی ٹی سیکٹر سے نکلے ہوئے لوگ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں نہیں ، بلکہ شہری علاقوں میں پریشانی پیدا کریںگے۔ ہندوستانی سرکار کے دعوے کے باوجود منظم یا غیر منظم سیکٹر میں لوگوں کو روزگار نہیں مل رہے ہیں۔ ہماری معیشت لوگوں کو روزگار دینے والی نہیں ہے بلکہ روزگار چھیننے والی بن رہی ہے اور نیو لبرل اکانومی کا تازہ اسٹیک مثال بنی ہوئی ہیں اسی لئے معیشت اور ترقی کے سوال پر نہیں، بلکہ رام مندر ،دفعہ 370 اور کامن سول کوڈ کے سوال پر الیکشن لڑ اجائے گا۔ بی جے پی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ لگ بھگ یہ طے ہو چکا ہے کہ یہی اس صورت حال سے بچنے کا اکلوتا طریقہ بن رہا ہے۔
اہم لوگوں کی خفیہ میٹنگ
کچھ اور خبریں آئی ہیں، اس کی کبھی توثیق نہیں ہوگی۔ اسی لئے ہم نام نہیں لکھ رہے ہیں۔ ہماری جانکاری 100 فیصد صحیح ہے کہ 22دسمبر کی رات لگ بھگ 11بجے ملک کا سب سے اہم آدمی،ملک کے دوسرے سب سے اہم آدمی سے ان کے گھر جاکر ملا۔ ان سے کہا کہ ہم نے پچھلے تین سال آپسی ترشی میں گزار دیئے ۔اب آنے والا وقت ہمیں تھوڑا سا پیار محبت میں گزارنا چاہئے۔ جس دوسرے اہم آدمی سے یہ آدمی ملنے گئے،ان کے بیٹے اور بیٹی دس منٹ کے اندر اس ملاقات میں شامل ہو گئے، کیونکہ ملاقات طے نہیں تھی۔ بیس منٹ پہلے فون پر یہ ملاقات طے ہوئی۔ دونوں آدمیوں کے گھروں پر جو رجسٹر ہیں، ان رجسٹروں میں اس ملاقات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔نہ آنے کاذکر ہے نہ جانے کا ذکر ہے۔ایسا ملک کی پالیسی میں ہوتا ہے ۔ سرکار چاہے تو رجسٹر بدل دے ۔ سرکار چاہے تو کہیں پر انٹری نہ ہو، سرکار چاہے تو جانچ بھی صحیح ہوتی ہے، سرکار چاہے تو جانچ بھی غلط ہوتی ہے۔ لیکن ان میں اس واقعہ کو مستقبل کے لئے اچھا اشارہ مانتا ہوں
توگڑیا کے مشن سے بی جے پی ہوشیار
اس بیچ میں ڈاکٹرپروین توگڑیا کے خلاف راجستھان اور گجرات پولیس کا مشترکہ مشن چلا۔ توگڑیا نے پریس کانفرنس میں روتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ دہلی میں بیٹھے ہوئے سب سے بڑے اقتدار کے حامل فرد نے انہیں مارنے کی سازش کی ہے۔ اس بیان کے بعد پروین توگڑیا نے صرف وشو ہندو پریشد سے ، بلکہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ سے بھی الگ ہونے کا فیصلہ لے لیا۔ ہندو مہاسبھا کے قومی صدر سوامی چکرپانی اور توگڑیا کی ملاقات میں یہ طے ہوا ہے کہ دونوں لیڈر مل کر ملک میں رام مندر ، گئو رکشا اور کسانوں سے کئے ہوئے دھوکے کے خلاف ملک بھر میں مشن چلائیںگے۔ توگڑیا کے ذریعہ چلائے جانے والے اس مشن کی خبر بی جے پی کے پاس پہنچ چکی ہے اور اسی لئے اس سال کے آخری مہینوں میں ہونے والے لوک سبھا کے ممکنہ الیکشن پر فیصلہ لے لیا گیاہے۔
وکاس کا فائدہ چند خاندانوںتک محدود
موجودہ مودی سرکار کی اقتصادی پالیسی کے کچھ نتائج کافی خطرناک اشارے دیتے ہیں۔ یہ اعدادو شمار خود ہندوستانی سرکار کے اعدادو شمار ہیں کہ 2016 میں ملک کی 58 فیصد جائیداد ایک فی صد لوگوںکے ہاتھ میں تھی اور ابھی 20 دن پہلے ہندوستانی سرکار کے اعدادوشمارمیں کہا گیا ہے کہ ملک کی 73 فیصد جائیدادیں ملک کے ایک فیصد لوگوںکے ہاتھ میں ہیں ۔یہ اشارے بتاتے ہیں کہ ملک میں وکاس کی اسٹریم اس ملک کے دلت، اقلیت،مزدور اور کسان کے پاس نہیں پہنچ رہی ہے۔ وکاس کا سارا فائدہ ملک کے چند خاندانوں کے پاس سمٹتا جارہاہے۔ ہر دو دن میں ایک آدمی کروڑ پتی سے ارب پتی بن رہا ہے۔ 2016 میں 58 فیصد اور 2017 میں ایک سال کے اندر ایک فیصد لوگوں کے ہاتھوں میں 73 فیصد جائیداد کا اکٹھا ہونا ،کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ اس سے ملک میں آنے والے پانچ سال میں وکاس کی رفتار کیسی ہوگی، اس کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ سرکاری اعدادو شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ 67 کروڑ لوگ غریبی ریکھا کے نیچے ہیں۔ شاید یہی امیروںسے غریبوں کے لئے لڑنے کے اعلان کرنے والی سرکار کا سچ ہے کہ اس کے دور کا رمیں 58 فیصد کے بیچ ملک کی املاک ایک فیصد لوگوںکے ہاتھ میں چلی گئیں۔ یہ تشویش صرف ماہرین اقتصادیات کی نہیں ہے،یہ تشویش بی جے پی کے لئے دن رات کام کرنے والے دانشوروں کی ہے۔ ممکنہ طور پر اسی لئے وزیراعظم مودی کی قیادت میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ ہمیں الیکشن کے ایشو صاف کر لینے چاہئیںاور ستمبر میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی الیکشن کرا لینا چاہئے۔ اس کے بعد ملک کے وکاس کے بارے میں سوچنا چاہئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *