کیا اثر پڑے گا شام میں ترکی کے ایکشن کا؟

ترکی افواج شامی سرحد کو عبور کرتے ہوئے عفرین ریجن میں داخل ہو گئے ہیں۔ ترک وزیر اعظم کے مطابق یہ کارروائی انقرہ کی طرف سے شامی کرد ملیشیا ’وائی پی جی‘ کے خلاف شروع کیے گئے عسکری آپریشن کا حصہ ہے۔شامی میڈیا میں ایسی تصاویر اور ویڈیو نشر کی گئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ترک ٹینک اور فوجی گاڑیاں آگے بڑھ رہی ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ شام میں کرد باغیوں کے خلاف اس نئی کارروائی میں کتنے ترک فوجی میدان میں اترے ہیں۔
انقرہ اس کرد ملیشیا کو’کردستان ورکرز پارٹی‘ سے وابستہ قرار دیتی ہے، جسے ترک حکومت ’دہشت گرد‘ قرار دے چکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو ترکی کی سا لمیت اور خودمختاری کے لیے ایک خطرہ ہیں۔ صدر اردگان کا کہنا ہے کہ ترک فوجی دستوں کی شام میں مسلح کارروائیوں کا ہدف صرف ترک سرحد کے قریب شامی شہر الباب ہی سے ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے جہادیوں کا خاتمہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی ہدف رقہ سمیت شام کے ترکی کے ساتھ تمام سرحدی علاقوں سے داعش کے جنگجوؤں کا خاتمہ ہے۔
ترکی نے شام میں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہت جلد اس میں کامیاب ہو جائے گا۔قابل ذکر ہے کہ ترکی کی فوج نے شام کی سرحد کے اندر پانچ کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے۔ترکی کے میڈیا کے مطابق عفرین میں داخلے کے بعد انہیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم وائی پی جی کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو ترک ٹینک تباہ کر دیے ہیں اور پیش قدمی رک گئی ہے۔
جہاں تک اس حملے میں جانی خسارے کی بات ہے تو انقرہ کا کہنا ہے کہ اس دوران کسی شہروں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ کم سے کم 18 شہری مارے گئے ہیں۔نیٹو میں ترکی کے نمائندے احمد بیرات کہتے ہیں کہ نیٹو اراکین ترکی کی جانب سے اس حملے کی حمایت کریں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اگر ترکی کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں تو انہیں نیٹو کے لیے اپنی رکنیت پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف وائی پی جی کو اتحادی بنانا ترکی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

دوسری طرف کرد ملیشیا وائی پی جی کا کہنا ہے کہ انھوں نے عفرین شہر میں ترک افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور وہ ترکی کے سرحدی علاقوں پر گولہ باری کر رہی ہے۔خیال رہے کہ ترک وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جبکہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اس تنظیم کو امریکی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچاؤ کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرے۔ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ ترکی کی زمینی افواج شام کے شمالی حصے میں داخل ہو گئی ہیں جس کا مقصد سرحدی علاقے سے کرد جنگجوؤں کا انخلا ہے۔ترکی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بن علی یلدرم نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد شام کے اندر 30 کلو میٹر گہرا ’محفوظ زون‘ قائم کرنا ہے۔ترکی شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوؤں کا انخلا چاہتا ہے جو کہ 2012 سے کردوں کے کنٹرول میں ہے۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اناتولو‘ کے مطابق اس کی افواج نے پہلے ہی شام کے علاقے میں پانچ کلومیٹر پیش قدمی کی ہے تاہم 30 کلومیٹر محفوظ زون کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ وائی پی جی کے ایک ترجمان نوری محمدی کا کہنا ہے کہ ان کے گروپ نے ترکی کی افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور ’انھیں واپس جانے پر مجبور کر دیا ہے۔دوسری جانب ترکی کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اتوار کو فضائی اور زمینی کارروائی میں 45 اہداف کو نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بیان میں شام میں موجود کرد جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ کردستان ورکرز پارٹی کو کچلنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے جنگی جہازوں نے بمباری شروع کر دی اور اب وہاں زمینی آپریشن جاری ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ وائی پی جی عفرین سے فرار ہو رہے ہیں۔ ہم ان کا پیچھا کریں گے۔ خدا جانتا ہے ہم اس آپریشن کو بہت جلد مکمل کریں گے۔ادھر شام کے صدر بشار الاسد نے ترکی کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے جبکہ فرانس کے وزیرِ خارجہ ڑاں ایو دریاں نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلائیں گے۔
اس سے پہلے ترکی کی فوج نے کہا تھا کہ اس کے جنگی طیاروں نے شام کے شمال میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ترکی شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوؤں کا انخلا چاہتا ہے جو کہ 2012 سے کردوں کے کنٹرول میں ہے۔ترکی نے اس سے پہلے کردوں کے خلاف ایک مکمل فوجی آپریشن کی دھمکی بھی دی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *